اسلام میں تعلیم و تربیت کی اہمیت ،تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,515
8,454
1,313
Lahore,Pakistan
اسلام میں تعلیم و تربیت کی اہمیت ،تحریر : مولانا محمد یونس پالن پوری
حضرت ابو ہریرہ ؓکہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :

’’ ہر بچہ اپنی فطرت (یعنی اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا مجوسی یا نصرانی بنا دیتے ہیں ‘‘۔ (صحیح البخاری )فطرت سے مراد اللہ پاک کی تو حید اور اسلام کے بلند مرتبہ اصول و مبادی ہیں کیونکہ یہ دین فطرت انسانی اور عقل سلیم کے عین مطابق ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ہر بچہ عقائد و اعمال کا ذہن لے کر دنیا میں آتا ہے ، اگر والدین اس کی اچھی تربیت اور ذہن سازی کریں تو یہ بلند پایہ اوصاف پر وان چڑھتے ہیں اور یہ انسان ایک بہترین مسلمان بن کر معاشرہ کا مفید فرد بن جاتا ہے لیکن اگر صورت حال اس کے برعکس ہوئی تو والدین کی غلط تربیت اور ماحول کے بد اثرات سے اس کے افکار و اعمال بھی بگڑتے جاتے ہیں۔ جیسے ہم عملی طور پر دیکھتے ہیں کہ مسلمان گھرانوں کے بچے عیسائیوں کے مشنری اسکولوں یا دیگر غیر مسلموں کے مذہبی تعلیمی اداروں میں داخل کرا دیئے جاتے ہیں اور پھر وہ ان کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں ، اور اسلام کے فطری اور عقلی نظریات اور اعمال سے بے گانہ ہو جاتے ہیں، بچے کی اس رو حانی اور اخلاقی تباہی و بربادی میں والدین برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنی اولاد کو دین اسلام کے مطابق تعلیم و تربیت کریں تاکہ وہ اعلیٰ مفید اور مثالی مسلمان بن سکیں۔

علم کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے ، آج کے اس عہد میں تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ زندگی کے لیے سانس کی آمدورفت۔ ایک بچہ کے لیے ماں کی گود سب سے پہلا مدرسہ ہوتا ہے۔ ایک نومولود جب اس دنیا میں آتا ہے تو وہ بالکل معصوم اور فرشتے کی طرح ہر گناہ سے پاک ہوتا ہے۔ تمام دنیاوی امور اور مسائل سے آزاد ہوتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وہ اپنی زندگی کے ابتدائی مراحل کو طے کرتے ہوئے اپنی طفلانہ زندگی کا آغاز کرتا ہے‘ ہر شیٔ لاشعوری طور پر اس کے سامنے آتی ہے ۔سماجی نقطۂ نظر سے ایک بچہ کا سماج اس کا گھر ہوتا ہے اور بچہ اپنے اس ماحول کے تمام طور طریقوں سے مطابقت کرنا سیکھتا ہے یا والدین اسے سکھاتے ہیں۔ اس میں مرکزی کردار ماں کا ہوتا ہے۔

ماں کی گود کے بعد اور اسکول میں داخلے سے پہلے ایک بچے کا جو مکتب ثانی ہوتا ہے وہ اس کا گھر اور آس پاس کا ماحول ہوتا ہے۔ گھر کے باہر کا ماحول بھی بچے کو اتنا ہی متاثر کرتا ہے جتنا کہ اندر کا۔ عموماً بچے گھر کے باہر نازیبا کلمات اور گالی گلوچ سیکھتے ہیں اور اس کا ردعمل کم یا زیادہ گھر میں بھی نظر آتا ہے۔ بھائی بہن کی لڑائی میں ان کی زبان سے یہ کلمات نہ چاہتے ہوئے بھی ادا ہوتے ہیں۔ یہ بچوں کی عادت ہوتی ہے کہ بیرونی ماحول سے اپنے ہم عمر بچوں سے سننے والی باتیں وہ جلد قبول کرتے ہیں۔ تجربات اور مشاہدات یہ ثابت کرتے ہیں کہ بچوں کا ذہن و دماغ ایک کورے کاغذ کی طرح ہوتا ہے‘ بچپن میں جو باتیں یا عادتیں انہیں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں وہ ان کے دماغ میں ثبت ہو جاتی ہیں اور عمر کے ساتھ ساتھ ان میں پختہ بھی ہو جاتی ہیں۔ہمیں اپنے معاشرے کو صحت مند بنانے کے لیے اس قول کو اہمیت دے کر ایک بچے کو آنے والے کل کا ایک بہترین انسان بنانا ہو گا تاکہ وہ ایک اچھا اور سمجھدار انسان بن سکیں۔ جس طرح ایک سمجھدار انسان ایک چھوٹے سے بچے سے بہت ساری باتیں سیکھتا ہے بعینہ ایک بچہ بھی اپنے بڑے بزرگوں سے بہت ساری نہیں بلکہ تمام باتیں سیکھتا اور قبول کرتا ہے۔

بچے فطرتاً نقال ہوتے ہیں۔ اس لیے گھر کے افراد کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو بھی حرکات و سکنات ان سے سر زد ہوں گی بچہ اسے فوراً قبول کر لے گا‘ اس لیے بچوں کے سامنے لغویات اور فضولیات سے پرہیز کرنا‘ والدین اور دیگر بڑوں کی اخلاقی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر ہم ایسا کرتے ہیں تو ہم ان بچوں کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے انہیں ایک صالح‘ صاف ستھرے ماحول کی تشکیل کے لیے فضاء سازگار کرتے ہیں۔بچے مستقبل کا سرمایہ ہیں۔ اس لیے یہ بات نہایت ہی اہم ہے کہ ان کی پرورش کے لیے گھر کا ماحول خوشگوار اور صحت مند رکھیں۔ کیونکہ ایک بچہ اپنے گھر میں والدین کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر افراد کے ساتھ بھی وقت گزارتا ہے۔ ایک نیک اور صالح بچہ جب گھر کے باہر قدم رکھتا ہے تو سماج میں مختلف لوگوں سے اس کا سابقہ پڑتا ہے۔ متعلقہ افراد بچے کے عادات و اطوار اور کردار و گفتار سے یہ اندازہ کر لیتے ہیں کہ اس بچے کے گھر کا ماحول کس طرح کا ہے۔ماحول دینی ہو تو اس کا اثر بچے کے ذہن کو متاثر ضرور کرتا ہے ورنہ عموماً نئی نسل اپنے مذہب اور دین سے کوسوں دور نظر آ تی ہے۔ اس کمی کے لیے بھی والدین اور گھر کے افراد ہی ذمہ دار ٹھہرائے جائیں گے۔ بچے قدرتی طور پر معصوم ہوتے ہیں اور ان کی اس معصومیت میں آنے والے کل کا مستقبل پوشیدہ ہوتا ہے۔ بالخصوص ایک ماں کی گود میں بچے کی تقدیر پلتی ہے جو کہ اس مصرعے کی غَمَّاز ہے:

تیری گود میں پلتی ہے تقدیر امم

قرآن کریم انسان کو سیدھے راستہ اور اعتدال پر قائم رکھتاہے اور افراط وتفریط سے محفوظ رکھتا ہے، او ر صراط ِ مستقیم کی حضرت رسول اللہﷺ نے ایک مثال پیش فرمائی کہ ایک لمبا خط کھینچا ، اس کے دائیں اور بائیں طرف سارے خطوط کھینچے اور فرمایا یہ سب کے سب گمراہی اور شیطان کے راستے ہیں جو ان میں پڑے گا گمراہی میں مبتلا ہو جائے گا، اور جوان سے بچے گا وہ سیدھے راستہ پر قائم رہے گا اور جولمبا خط کھینچا ہے اس کے بارے میں فرمایا یہ صراط مستقیم ہے اسی پر تمہیں قائم رہنا ہے اور بعض روایات میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ صراط مستقیم وہی ہے جو قرآن وحدیث کے مطابق ہے اسی پر حضرات صحابہ کرامؓ، خلفائے راشدینؓ ، ائمہ مجتہد ین ثابت قدمی سے چلے آرہے ہیں اور اسی کی بقاء اور اسی کی تبلیغ کے لیے مدارس اسلامیہ کا قیام ہوا ہے او را ن مدارس کے اندر قرآن وحدیث اور فقہ کی جو تعلیم دی جاتی ہے وہ صراطِ مستقیم کے مطابق ہے ۔

قرآن کریم کے علوم سے کبھی ختم نہیں ہوتے ۔ قرآن کریم میںجتنا غور کرتے جائو اس کے اسرار ورموز بڑھتے جاتے ہیں تو ان کی تشنگی بھی بڑھتی جاتی ہے ، وہ کبھی آسودہ نہیں ہوتے ۔ آج پندرہ سوسال سے علماء قرآن کریم کے اسرار ورموز پر اور اس کے مطالب کی گہرائی پر غور کرتے رہے اور ہزاروں اور لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں کتابیں لکھی جاچکی ہیں مگر قرآن کے علوم اور اس کے اسرار ورموز کے ہزارویں حصہ تک بھی رسائی نہ کرسکے اور نہ ہی رسائی ہوسکتی ہے۔

مسلمانوں کی پستی کے اسباب

جیسے جیسے دنیا ترقی کر تی جا رہی ہے ویسے ہی اخلاقی قدروں کا معیار گر تا جا رہا ہے۔ جس طرح آج کا انسان تہذیب و تمدن کی بنیادوں کو کھو کھلا کر رہا ہے اس سے خطرہ یہ ہے کہ معا شرہ تباہی و بربادی کی گہری کھائی میں گر جائے گا جس طرف بھی نگاہ دو ڑا ئیے تو شرافت و اخلاق کا جنازہ نکلا جا رہا ہے۔ تعلیم کے حصول کو مشکل سے مشکل بنانے کی سعی کی جارہی ہے۔ مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں۔ آخر کیوں ؟ کیا مسلمانوں کے اندر طاقت کا ذخیرہ ختم ہو گیا ہے ؟ کیا مسلمان صرف نا م کا مسلمان رہ گیا ہے؟ کیا مسلمانوں کا ضمیر مردہ ہو گیا ہے ؟ کیا مسلمانوں کے اندر ایمانی طاقت بالکل ناپید ہوگئی ہے ؟ کیا ہم پھر سے جہالت کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں ؟ نہیں ہر گز نہیں ! اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ آج کے اس پر فتن دور میں ہم نے سب کچھ اس دار فانی (دنیا ) کو سمجھ لیا ہے۔ آج مسلمانوں کے اندر ایمان کی دولت کم اور مال کی دولت بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ آج ہم نے مخلوق سے محبت کو اپنے اوپر لازم کر لیا اور خالق کو یکسر فرا موش کر دیا۔ ایمانی قوت ہی مومن کا سب سے بڑا ہتھیار ہے اور اسی سے ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی ملے گی۔ چند کھنکتے ہوئے سکوں اور ہرے نو ٹوں کے عوض ایمان کو بیچ دینا مسلم معا شرے کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ جب ان سارے کاموں میں مسلمان پیش پیش رہیں گے تو بھلا بتائیے کہ آخر کیسے ہم دنیا و آخرت میں کامیاب رہیں گے ؟ کس طرح مسلم معا شرہ عروج تک پہنچے گا ؟ کیسے مسلمان دشمنان اسلام کا خاتمہ کر سکے گا ؟ کس طرح ایمان کو بچایا جائے گا ؟ مسلمان تو ایسا ہوتا ہے کہ اس کی نگاہ سے باطل تھر تھرا اٹھتا ہے اس کے قدم جہاں بھی پڑتے ہیں اخوت و محبت کا دریا رواں ہو جاتا ہے۔ اس مسلمان کا ہر کردار غیروں کے لیے مشعل راہ ہے اور اسی مسلمان کے لیے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ ؎

ایک ایسی شان پیدا کر کہ باطل تھر تھرا جائے

نظر تلوار بن جائے نفس جھنکار ہوجائے

اس لیے مسلمانو ! ہو ش میں آ ؤ، اپنے آپ کو پہچانو اور غیروں کو اپنے اخلاق وکردار سے اپنی طرف راغب کرو۔ مسجدوں کو آباد کرو ، قرآن کی تعلیمات کو عام کرو ، نیک اعمال کرو ، بد اعمالیوں سے پرہیز کرو۔ اللہ کے مقدس رسولؐ کی سنتوں پر خود بھی عمل کرو اور دوسروں کو بھی تلقین کرو۔ برائیوںسے بچو اور دوسروں کو بھی بچا ؤ۔ غرباء و مساکین کی اعانت کرو ، یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرو۔ اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق کو ادا کرنے میں تساہلی سے کام مت لو۔

اگر ہم نے مندرجہ بالا باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کی تو یہ ہمارے لیے باعث نجات ہے اور ہماری دنیا و آخرت کے سنورنے کی بشارت ہے۔ ورنہ اگر ہم عمل کرنے کے بجائے اسی راہ پر گامزن رہے تو ہماری تباہی و بربادی کے ذمہ دار ہم خود ہوں گے۔ پھر ہمارا کوئی پر سان حال نہ ہو گا۔ پھر سے مسلمانوں کے خون سے خدا کی زمین کو رنگین کیا جائے گا ، مسجدوں کو نذر آتش کیا جائے گا ، ماؤں بہنوں کی عصمت کو پامال کیا جائے گا اور ہم مسلمان صرف تما شائی بن کر رہ جائیں گے۔شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ ؎

وطن کی فکر کر نا داں مصیبت آنے والی ہے

تیری بربادیوں کے مشورے ہیںا ٓسمانوں میں

نہ سمجھو گے تو مٹ جا ؤ گے اے ہندوستان والو !

تمہاری داستان تک نہ ہو گی ، داستانوں میں

رسول پاک ؐ نے فرمایا : ’’ سب سے اچھے انسان وہ ہیں جن کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔ ‘‘ یہ فرماتے ہوئے آپؐ نے مسلمان ہونے کی شرط بھی نہیں رکھی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اخلاق کا درجہ کس قدر بلند ہے۔ آج افرا تفری کے اس دور میں والدین کو بچوں کی طرف توجہ دینے کے لیے وقت نہیں ہے۔ اس ذمہ داری کو وہ اسکول پر اور اساتذہ پر چھوڑدیتے ہیں جو سرا سر غلط ہے۔

ماں کی گود بچے کی پہلی در سگاہ ہے ، اسی لیے اخلاق و آداب کا درس دینا اس کی ذمہ داری ہے۔ اگر ماں خوش اخلاق ہے تو بچے بھی خود بخود خوش اخلاق ہوجائیں گے۔ پھر بھی کچھ باتوں کی عادت ڈالنا از حد ضروری ہو تا ہے۔ کسی سے ملا قات ہو تو سلام کے لیے پہل کرنا ، بڑوں کا احترام اور ان کی عزت کرنا ، چھوٹوں سے شفقت اور نرمی سے پیش آنا، کسی نے کوئی احسان کیا ہو تو شکر گزار ہونا۔ اگر کسی نے کوئی چیز طلب کی تو اسے دے دینا۔ اگر آپ کے پاس وہ چیز موجود نہ ہو تو خوش اخلاقی سے معذرت کرنا ، چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رکھنا وغیرہ۔ بظاہر یہ تمام چیزیں معمولی سی لگتی ہیں مگر ان تمام چھوٹی چھوٹی باتوں سے انسان خوش اخلاق بنتا ہے اور خوش اخلاق انسان ہر کسی کا دل جیت لیتا ہے۔ زبان کے ذریعے انسان سب سے زیادہ خوش اخلاق بن جاتا ہے اور اسی زبان سے بد کلامی ، غیبت ، چغل خوری اور گالی گلوچ کرکے بداخلاقی کے سب سے نچلے درجے تک پہنچ جاتا ہے۔ زبان انسان کو شاہی تخت پر بٹھا سکتی ہے اور زبان ہی انسان کو گدھے پر سوار کر ا سکتی ہے۔ اکثر گناہ کبیرہ زبان کے ذریعہ ہی سر زد ہوتے ہیں اور جھوٹ ان میں سر فہرست ہے۔

اگر بچہ خوش اخلاق ہو گا تو علم حاصل کر کے اونچے سے اونچے مدارج طے کرتا چلا جائے گا۔ کیونکہ اس کی زبان اس سلسلے میں اس کی مدد گار ثابت ہو گی۔ کئی مرتبہ دولت سے جو کام نہیں ہو پا تا وہ خوش کلامی سے ہو جاتا ہے۔ خندہ پیشانی سے ملنے والا انسان ہر دلعزیز ہوتا ہے اور مارکیٹنگ کی دنیا میں اس طرح کے لوگوں کی کافی مانگ ہے۔ آج کا دور ہی مارکیٹنگ کا دور ہے اور اگر کامیابی حاصل کرنا ہے تو خوش اخلاقی کو اپنانا بہت ضروری ہے۔ زندگی کے ہر مرحلے میں خوش اخلاقی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک بچہ جسے والدین نے بہتر تربیت اور خوش اخلاقی کے جذبے سے سر فراز کیا ہے۔ وہ بچہ صبح اٹھتے ہی بزرگوں کو سلام کرے گا اور بزرگ اسے دعائیں دیں گے۔ پھر وہ ضرور یات زندگی کے لیے میٹھی زبان سے گفتگو کر ے گا تو جو اس سے چھوٹے ہیں وہ بھی اس کی تقلید کریں گے۔ خوش اخلاقی بچہ نہ کبھی کھلونوں کے لیے ضد کرے گا نہ دو ستوں سے لڑے گا اور نہ بری عادتیں اپنائے گا۔ اسکول میں وہ استاد کی خاص توجہ کا مستحق ہو گا۔ غرض وہ جہاں جہاں اور جس کسی سے مخلصانہ برتا ؤ کرے گا اور خوش اخلاقی سے پیش آئے گا۔ لوگ اس کے خاندان اور اس کے والدین کے بارے میں مثبت رائے قائم کریں گے۔ لڑکیوں میں خوش اخلاقی کا ہونا بہت ضروری ہے۔ جن گھروں کی لڑکیوں میں خوش اخلاقی اور سلیقہ مندی ہوتی ہے لوگ ان کی عزت کرتے ہیں اور اسی خو ش اخلاقی کی بدولت والدین کے لیے ان کی لڑکیوں کے رشتے بہت جلد اچھے گھر انوں میں طے پاتے ہیں۔

سلیقہ مند اور خوش اخلاق عورت اپنے شوہر اور سسرال والوں کے دلوں میں ایسا مقام بنا لیتی ہے جس کی مثالیں لوگ دیتے ہیں۔ خوش اخلاق اور سلیقہ مند بیوی کا شوہر جب تھکا ماندہ گھر لو ٹتا ہے تو وہ اپنی رفیق حیات کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر اپنی تھکن بھول جاتا ہے اور اسے ایک الگ طرح کا سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ مگر اب یہ تمام باتیں تو اگلے وقت کی داستان بن کر رہ گئی ہیں۔ ازدواجی زندگی گھریلو ناچاقیوں سے پر ہیں۔ ایک طو فان بد تمیزی ہے جس کا گھر شکار ہے۔ کچھ بد اخلاقی ہم نے اس جادو کے پٹارے سے سیکھ لی ہے جسے ہم ٹی وی کہتے ہیں اور کچھ بد اخلاقیاں ہمیں بھاگتی دوڑتی زندگی نے سکھا دی ہیں۔ پہلے لوگ جب کسی کے گھر جاتے تھے تو ساتھ چھوٹا سا تحفہ بھی لے جاتے تھے کچھ کھانے پینے کی اشیاء یا بچوں کے لیے کھلونے وغیرہ۔ اس طرح نہ صرف تعلق ، اپنائیت اورتال میل پروان چڑھتا تھا۔ بلکہ بچے بھی کھلونے یا چاکلیٹ پاکر خوش ہوجایا کرتے تھے۔ آج یہ اخلاق کم ہی کم نظر آتے ہیں۔ تحفہ تو چھوڑیئے ہم اپنے چہرے پر مسکراہٹ کے پھول بھی میز بان کو تحفتاً دینے کے رو ا دار نہیں ہیں ، جس پر کچھ خرچ بھی نہیں ہوتا۔

آج ہمارے اخلاق اس قدربگڑ چکے ہیں کہ ہم اپنے مذہب کو اپنے اخلاق کی بدولت بدنام کر رہے ہیں۔ لہجے میں تو سختی جیسے ہماری پہچان بن چکی ہے۔ آج اپنے اخلاق ہی ایسے ہیں جن کی بدولت ہم بہت ساری کامیابیوں سے محروم ہیں۔ انسان کی کامیابی اور اس کی اپنی شنا خت کا معاملہ اس کے اخلاق پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں اپنا اور اپنے بچوں کا نئے سرے سے جائزہ لینا بہت ضروری ہے تاکہ ہم اور ہمارے بچے خوش اخلاقی کو اپنا کر دنیا اور آخرت دونوں میں سر خرو ہوں۔ اس کے علاوہ ہمیں بچوں کو جدید ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بھی بچانے کی ضرورت ہے جیسے موبائل پر فضول وقت کا ضیاع کرنا ، ہر وقت انٹرنیٹ کا منفی استعمال بھی بچوں پر برا اثر ڈالتا ہے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
4,206
4,395
213
تعلیم اور اخلاقیات کو موضوع بناتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں خوبصورت مضمون
جزاک اللَّهُ خَيْرًا
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?