اللہ کے شیر

intelligent086

Active Member
Nov 10, 2010
349
110
1,143
Lahore,Pakistan
حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی بھی تھے اور داماد بھی۔ بچپن میں وہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پاس رہتے تھے۔ اس لیے بھی آپ کو ان سے بہت محبت تھی۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ بہت بہادر تھے۔ اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے تھے۔ ان کی بہادری کا ایک واقعہ تو یہ ہے کہ جب پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف چھوڑ کر مدینہ شریف جارہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: آج رات تم میرے بستر پر سونا اور صبح لوگوں کی امانتیں واپس کرکے مدینہ چلے آنا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا کہ آج رات بہت سے کافر مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوتے میں قتل کرنا چاہتے ہیں مگر آپ رضی اللہ عنہ ڈرے نہیں، بے خوف ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر سوگئے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بہادری کا ایک واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے جنگ خندق کے موقع پر ایک ایسے کافر کو مارا تھا جو ایک ہزار انسانوں کے برابر طاقت رکھنے والا کہلاتا تھا۔ اس کا نام عمرو ابن عبدود تھا۔
ہوا یہ تھا کہ مکہ کے کافروں نے ہزاروں کے لشکر کے ساتھ مدینہ شریف پر حملہ کردیا تھا۔ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بچائو کے لیے مدینہ کی تین طرف (بہت گہری اور چوڑی نالی) کھودی تھی۔ ایک دن عمرو بن عبدود اپنے گھوڑے کو چھلانگ لگوا کر خندق کے اس طرف آگیا اور کہنے لگا: ہے کسی میں ہمت جو میرے سامنے آئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس مقابلے کی اجازت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی جانتے ہو یہ عمرو بن عبدود ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں جانتا ہوں۔ پھر آگے بڑھے اور تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا خاتمہ کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بہادری کی وجہ سے انہیں اسد اللہ یعنی اللہ کا شیر کہا کرتے تھے۔
 
Top
Forgot your password?