History امام اعظم ابو حنیفہؒ

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
نعمان نام، ابو حنیفہ کنیت اور امام اعظم آپ کا لقب ہے۔ خطیب بغدادیؒ نے شجرۂ نسب کے سلسلہ میں امام صاحبؒ کے پوتے اسماعیل کی زبانی یہ روایت نقل کی ہے کہ "میں اسماعیل بن حماد بن نعمان بن ثابت بن نعمان بن مرزبان ہوں۔ ہم لوگ نسلِ فارس سے ہیں اور کبھی کسی کی غلامی میں نہیں آئے۔ ہمارے دادا ابو حنیفہ 80ھ میں پیدا ہوئے۔ ہمارے پر دادا ثابت بچپن میں حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے، حضرت علیؓ نے ان کے لئے بر کت کی دعا کی، اللہ نے یہ دعا ہمارے حق میں قبول فرمائی۔

امام صاحبؒ عجمی النسل تھے۔ آپؒ کے پوتے اسماعیل کی روایت سے اس قدر اور ثابت ہے کہ ان کا خاندان فارس کا ایک معزز اور مشہور خاندان تھا۔ فارس میں رئیسِ شہر کو مر زبان کہتے ہیں جو امام صاحبؒ کے پر دادا کا لقب تھا۔

اکثر مورخین فرماتے ہیں کہ آپ 80ھ میں عراق کے دارالحکومت کوفہ میں پیدا ہوئے۔ اُس وقت وہاں صحابہ میں سے عبداللہ بن ابی اوفیؓ موجود تھے، عبد الملک بن مروان کی حکومت تھی اور حجاج بن یوسف عراق کا گورنر تھا۔

یہ وہ عہد تھا کہ رسول اللہﷺ کے جمالِ مبارک سے جن لوگوں کی آنکھیں روشن ہوئی تھیں (یعنی صحابہؓ) ان میں سے چند بزرگ بھی موجود تھے جن میں سے بعض امام حنیفہؒ کے آغازِ شباب تک زندہ رہے۔ مثلاً انس بن مالکؓ جو رسول ﷺ کے خادمِ خاص تھے 93ھ میں انتقال کیا اور ابو طفیل عامر بن واثلہؓ 110ھ تک زندہ رہے۔ ابن سعد نے روایت کی ہے۔ جس کی سند میں کچھ نقصان نہیں۔ کہ امام ابو حنیفہؒ نے انس بن مالکؓ کو دیکھا تھا حافظ ابن حجر نے اپنے فتاویٰ میں لکھا ہے کہ امام صاحبؒ نے بعض صحابہؓ کو دیکھا تھا۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
جائے ولادت
کوفہ جو امام ابو حنیفہؒ کا مولد و مسکن ہے، اسلام کی وسعت و تمدن کا گویا دیباچہ تھا۔ اصل عرب کی روز افزوں ترقی کے لئے عرب کی مختصر آبادی کافی نہ تھی۔ اس ضرورت سے حضرت عمرؓ نے سعد بن وقاصؓ کو جو اس وقت حکومتِ کسریٰ کا خاتمہ کر کے مدائن میں اقامت گزیں تھے، خط لکھا: "مسلمانوں کے لئے ایک شہر بساؤ جو ان کا دارالہجرت اور قرار گاہ ہو" سعدؓ نے کوفہ کی زمین پسند کی۔

17ھ میں اس کی بنیاد کا پتھر رکھا گیا۔ اور معمولی سادہ وضع کی عمارتیں تیار ہوئیں۔ اسی وقت عرب کے قبائل ہر طرف سے آ کر آباد ہونے شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ تھوڑے دنوں میں وہ عرب کا ایک خطہ بن گیا۔

حضرت عمرؓ نے یمن کے بارہ ہزار اور نزار کے آٹھ ہزار آدمیوں کے لئے جو وہاں جا کر آباد ہوئے روزینے مقرر کر دیئے۔ چند روز میں جمعیت کے اعتبار سے کوفہ نے وہ حالت پیدا کی کہ جنابِ فاروقؓ کوفہ کو "رمح اﷲ، کنز الایمان، جمجمۃ العرب" یعنی خدا کا علم، ایمان کا خزانہ، عرب کا سر، کہنے لگے۔ اور خط لکھتے تو اس عنوان سے لکھتے تھے "الیٰ رأس الا سلام، الی رأس العرب۔" بعد میں حضرت علیؓ نے اس شہر کو دارالخلافہ قرار دیا۔

صحابہؓ میں سے ایک ہزار پچاس اشخاص جن میں چوبیس وہ بزرگ تھے جو غزوۂ بدر میں رسول اﷲﷺ کے ہمرکاب رہے تھے، وہاں گئے اور بہتوں نے سکونت اختیار کر لی۔ ان بزرگوں کی بدولت ہر جگہ حدیث و روایت کے چرچے پھیل گئے تھے اور کوفہ کا ایک ایک گھر حدیث و روایت کی درسگاہ بنا ہوا تھا۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
بشارتِ نبویﷺ
ایک حدیث میں نبیﷺ نے فرمایا: لوکان الا یمان عند الثریا لاتنالہ العرب لتناولہ رجل من ابناء فارس۔

اگر ایمان ثریا ستارہ کے پاس بھی ہو اور عرب ا س کو نہ پا سکتے ہوں تو بھی اس کو ایک فارسی آدمی پالے گا۔

جلیل القدر عالم و حافظ علامہ جلال الدین سیوطیؒ اس حدیث سے قطعی طور پر امام ابو حنیفہؒ کو مراد لیتے ہیں اس لئے کہ کوئی بھی فارس کا رہنے والا امام صاحبؒ کے برابر علم والا نہیں ہو سکا۔


شکل و صورت
خطیب بغدادیؒ نے امام ابو یوسفؒ سے روایت کیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ متوسط قد، حسین و جمیل، فصیح و بلیغ اور خوش آواز تھے، دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ امام صاحبؒ خوبصورت داڑھی، عمدہ کپڑے، اچھے جوتے، خوشبودار اور بھلی مجلس والے رعب دار آدمی تھے۔ آپ کی گفتگو نہایت شیریں، آواز بلند اور صاف ہوا کرتی تھی۔ کیسا ہی پیچیدہ مضمون ہو نہایت صفائی اور فصاحت سے ادا کر سکتے تھے۔ مزاج میں ذرا تکلف تھا۔ اکثر خوش لباس رہتے تھے، ابو مطیعانؒ کے شاگرد کا بیان ہے کہ "میں نے ایک دن ان کو نہایت قیمتی چادر اور قمیص پہنے دیکھا جن کی قیمت کم از کم چار سو درہم رہی ہو گی۔


بچپن کا زمانہ
امام صاحبؒ کے بچپن کا زمانہ نہایت پر آشوب زمانہ تھا۔ حجاج بن یوسف، خلیفہ عبد الملک کی طرف سے عراق کا گورنر تھا۔ ہر طرف ایک قیامت برپا تھی۔ حجاج کی سفاکیاں زیادہ تر انہیں لوگوں پر مبذول تھیں جو ائمہ مذاہب اور علم و فضل کی حیثیت سے مقتدائے عام تھے۔

خلیفہ عبد الملک نے 86ھ میں وفات پائی اور اس کا بیٹا ولید تخت نشین ہوا۔

اس زمانہ کی نسبت حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ فرمایا کر تے تھے۔ "ولید شام میں، حجاج عراق میں، عثمان حجاز میں، قرہ مصر میں، واللہ تمام دنیا ظلم سے بھری تھی۔"

ملک کی خوش قسمتی تھی کہ حجاج 95ھ میں مر گیا۔ ولید نے بھی 96ھ میں وفات پائی۔ ولید کے بعد سلیمان بن عبد الملک نے مسندِ خلافت کو زینت دی جس کی نسبت مورخین کا بیان ہے کہ خلفاء بنو امیّہ میں سب سے افضل تھا۔ سلیمانؒ نے اسلامی دنیا پر سب سے بڑا یہ احسان کیا کہ مرتے دم تحریری وصیت کی کہ میرے بعد عمر بن عبد العزیزؒ تخت نشیں ہوں۔ سلیمان نے 99ھ میں وفات پائی اور وصیت کے موافق عمر بن عبد العزیزؒ مسندِ خلافت پر بیٹھے جن کا عدل و انصاف اور علم و عمل معروف و مشہور ہے۔

غرض حجاج و ولید کے عہد تک تو امام ابو حنیفہؒ کو تحصیلِ علم کی طرف متوجہ ہونے کی نہ رغبت ہو سکتی تھی نہ کافی موقع مل سکتا تھا۔ تجارت باپ دادا کی میراث تھی ا س لئے خز (ایک خاص قسم کے کپڑے) کا کارخانہ قائم کیا اور حسنِ تدبیر سے اسکو بہت کچھ ترقی دی۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
تعلیم و تربیت
سلیمان کے عہدِ خلافت میں جب درس و تدریس کے چرچے زیادہ عام ہوئے تو آپ کے دل میں بھی ایک تحریک پیدا ہوئی، حسنِ اتفاق کہ ان ہی دنوں میں ایک واقعہ پیش آیا جس سے آپ کے ارادہ کو اور بھی استحکام ہوا۔

امام صاحبؒ ایک دن بازار جا رہے تھے۔ امام شعبیؒ جو کوفہ کے مشہور امام تھے، ان کا مکان راہ میں تھا، سامنے سے نکلے تو انہوں نے یہ سمجھ کر کہ کوئی نوجوان طالب علم ہے بلا لیا اور پوچھا "کہاں جا رہے ہو؟" انہوں نے ایک سودا گر کا نام لیا۔ امام شعبیؒ نے کہا "میرا مطلب یہ نہ تھا۔ بتاؤ تم پڑھتے کس سے ہو؟" انہوں نے افسوس کے ساتھ جواب دیا "کسی سے نہیں۔" شعبیؒ نے کہا "مجھ کو تم میں قابلیت کے جوہر نظر آتے ہیں، تم علماء کی صحبت میں بیٹھا کرو۔" یہ نصیحت ان کے دل کو لگی اور نہایت اہتمام سے تحصیلِ علم پر متوجہ ہوئے۔


علمِ کلام کی طرف توجہ
علمِ کلام زمانۂ ما بعد میں اگر چہ مدون و مرتب ہو کر اکتسابی علوم میں داخل ہو گیا۔ لیکن اس وقت تک اس کی تحصیل کے لئے صرف قدرتی ذہانت اور مذہبی معلومات درکار تھیں۔ قدرت نے امام ابو حنیفہؒ میں یہ تمام باتیں جمع کر دی تھیں۔ رگوں میں عراقی خون اور طبیعت میں زور اور جدت تھی۔ امام ابو حنیفہؒ نے اس فن میں ایسا کمال پیدا کیا کہ بڑے بڑے اساتذۂ فن بحث کر نے میں ان سے جی چراتے تھے۔

تجارت کی غرض سے اکثر بصرہ جانا ہوتا تھا جو تمام فرقوں کا دنگل اور خاص کر خارجیوں کا مر کز تھا۔ اباضیہ، صغزیہ، حشویہ وغیرہ سے اکثر بحثیں کیں اور ہمیشہ غالب رہے۔ بعد میں انہوں نے قانون میں منطقی استدلال اور عقل کے استعمال کا جو کمال دکھایا اور بڑے بڑے مسائل کو حل کرنے میں جو شہرت حاصل کی وہ اسی ابتدائی ذہنی تربیت کا نتیجہ تھا۔


علم فقہ کی تحصیل کا پسِ منظر
شروع شروع میں تو امام صاحبؒ علمِ کلام کے بہت دلدادہ رہے لیکن جس قدر عمر اور تجربہ بڑھتا جاتا تھا ان کی طبیعت رکتی جاتی تھی خود ان کا بیان ہے کہ "آغازِ عمر میں اس علم کو سب سے افضل جانتا تھا، کیونکہ مجھ کو یقین تھا کہ عقیدہ و مذہب کی بنیاد انہی باتوں پر ہے۔ لیکن پھر خیال آیا کہ صحابہ کبارؓ ان بحثوں سے ہمیشہ الگ رہے۔ حالانکہ ان باتوں کی حقیقت ان سے زیادہ کون سمجھ سکتا تھا۔ ان کی توجہ جس قدر تھی، فقہی مسائل پر تھی اور یہی مسائل وہ دوسروں کو تعلیم دیتے تھے۔ ساتھ ہی خیال گزرا کہ جو لوگ علمِ کلام میں مصروف ہیں ان کا طرزِ عمل کیا ہے۔ اس خیال سے اور بھی بے دلی پیدا ہوتی کیونکہ ان لوگوں میں وہ اخلاقی پاکیزگی اور روحانی اوصاف نہ تھے جو اگلے بزرگوں کا تمغہ امتیاز تھا۔

اسی زمانہ میں ایک دن ایک عورت نے آ کر طلاق کے سلسلے میں مسئلہ پوچھا۔ امام صاحب خود تو بتا نہ سکے۔ عورت کو ہدایت کی کہ امام حمادؒ جن کا حلقۂ درس یہاں سے قریب ہے جا کر پوچھے، یہ بھی کہہ دیا کہ حماد جو کچھ بتائیں مجھ سے کہتی جانا۔ تھوڑی دیر کے بعد آئی اور کہا کہ حماد نے یہ جواب دیا۔ امام صاحبؒ فرماتے ہیں۔ مجھ کو سخت حیرت ہوئی اسی وقت اٹھ کھڑا ہوا اور حماد کے حلقۂ درس میں جا بیٹھا۔


حمادؒ کی شاگردی
حمادؒ کوفہ کے مشہور امام اور استادِ وقت تھے۔ حضرت انسؓ سے جو رسول اللہ ﷺ کے خادمِ خاص تھے، حدیث سنی تھی اور بڑے بڑے تابعین کے فیضِ صحبت سے مستفید ہوئے تھے۔ اس وقت کوفہ میں انہی کا مدرسہ مرجعِ عام سمجھا جاتا تھا۔ اس مدرسۂ فکر کی ابتداء حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد ان کے شاگرد شریحؒ، علقمہؒ اور مسروقؒ اس مدرسہ کے نامور ائمہ ہوئے جن کا شہرہ اس وقت تمام دنیائے اسلام میں تھا۔ پھر ابراہیم نخعیؒ اور ان کے بعد حمادؒ تک اس کی امامت پہنچی۔

حضرت علیؓ و عبد اللہ بن مسعودؓ سے فقہ کا جو سلسلہ چلا آتا تھا اس کا مدار انہی پر رہ گیا تھا۔ ان وجوہ سے امام ابو حنیفہؒ نے علمِ فقہ پڑھنا چاہا تو استادی کے لئے انہی کو منتخب کیا۔ ایک نئے طالب علم ہونے کی وجہ سے درس میں پیچھے بیٹھتے۔ لیکن چند روز کے بعد جب حماد کو تجربہ ہو گیا کہ تمام حلقہ میں ایک شخص بھی حافظہ اور ذہانت میں اس کا ہمسر نہیں ہے تو حکم دے دیا کہ "ابو حنیفہؒ سب سے آگے بیٹھا کریں۔

حضرت حمادؒ کے حلقۂ درس میں ہمیشہ حاضر ہو تے رہے۔ خود امام صاحبؒ کا بیان ہے کہ "میں دس برس تک حمادؒ کے حلقہ میں ہمیشہ حاضر ہوتا رہا اور جب تک وہ زندہ رہے ان کی شاگردی کا تعلق کبھی نہیں چھوڑا۔ انہی دنوں حمادؒ کا ایک رشتہ دار جو بصرہ میں رہتا تھا انتقال کر گیا تو وہ مجھے اپنا جانشین بنا کر بغرض تعزیت سفر پر روانہ ہو گئے۔ چونکہ مجھ کو اپنا جانشین مقرر کر گئے تھے، تلامذہ اور اربابِ حاجت نے میری طرف رجوع کیا۔ بہت سے ایسے مسئلے پیش آئے جن میں استاد سے میں نے کوئی روایت نہیں سنی تھی اس لئے اپنے اجتہاد سے جواب دیئے اور احتیاط کیلئے ایک یادداشت لکھتا گیا۔ دو مہینہ کے بعد حماد بصرہ سے واپس آئے تو میں نے وہ یادداشت پیش کی۔ کل ساٹھ مسئلے تھے، ان میں سے انہوں نے بیس غلطیاں نکالیں، باقی کی نسبت فرمایا کہ تمہارے جواب صحیح ہیں۔ میں نے عہد کیا کہ حمادؒ جب تک زندہ ہیں ان کی شاگردی کا تعلق کبھی نہ چھوڑوں گا۔"

متعدد طریق سے یہ بھی مروی ہے کہ آپؒ نے قرأت امام عاصمؒ سے سیکھی جن کا شمار قراءِ سبعہ میں ہو تا ہے اور انہیں کی قرأت کے مطابق قرآن حفظ کیا۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
حدیث کی تحصیل
حمادؒ کے زمانہ میں ہی امام صاحبؒ نے حدیث کی طرف توجہ کی کیونکہ مسائلِ فقہ کی مجتہدانہ تحقیق جو امام صاحبؒ کو مطلوب تھی حدیث کی تکمیل کے بغیر ممکن نہ تھی۔ لہذا کوفہ میں کوئی ایسا محدث باقی نہ بچا جس کے سامنے امام صاحبؒ نے زانوئے شاگردی تہ نہ کیا ہو اور حدیثیں نہ سیکھیں ہوں۔ ابو المحاسن شافعیؒ نے جہاں ان کے شیوخِ حدیث کے نام گنائے ہیں، ان میں ترانوے (93) شخصوں کی نسبت لکھا ہے کہ وہ لوگ کوفہ کے رہنے والے یا اس اطراف کے تھے۔ اور ان میں اکثر تابعی تھے۔


مکہ کا سفر
امام ابو حنیفہؒ کو اگرچہ ان درسگاہوں سے حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ ہاتھ آیا۔ تاہم تکمیل کی سند حاصل کر نے کے لئے حرمین جانا ضروری تھا جو علومِ مذہبی کے اصل مراکز تھے۔ جس زمانہ میں امام ابو حنیفہؒ مکہ پہنچے۔ درس و تدریس کا نہایت زور تھا۔ متعدد اساتذہ جو فنِ حدیث میں کمال رکھتے تھے اور اکثر صحابہؓ کی خدمت سے مستفید ہوئے، انکی الگ الگ درسگاہ قائم تھی۔ ان میں عطا ئؒ مشہور تابعی تھے جو اکثر صحابہؓ کی خدمت میں رہے اور ان کی فیضِ صحبت سے اجتہاد کا رتبہ حاصل کیا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ، ابن عمرؓ، ابن زبیرؓ، اسامہ بن زیدؓ، جابر بن عبداللہؓ، زید بن ارقمؓ، ابو دردائؓ، ابوہریرہؓ اور بہت سے صحابہ سے حدیثیں سنی تھیں۔ مجتہدین صحابہؓ ان کے علم و فضل کے معترف تھے۔ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے تھے کہ "عطاء بن رباح کے ہوتے ہوئے لوگ میرے پاس کیوں آتے ہیں؟" بڑے بڑے ائمہ حدیث مثلاً اوزاعی، زُہریؒ، عمرو بن دینارؒ انہی کے حلقۂ درس سے نکل کر استاد کہلائے۔

امام ابو حنیفہؒ استفادہ کی غرض سے ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ روز بروز امام صاحبؒ کی ذہانت و طباعی کے جوہر ظاہر ہوتے گئے اور اس کے ساتھ استاد کی نظر میں آپ کا وقار بھی بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ جب حلقۂ درس میں جاتے تو عطاء اوروں کو ہٹا کر امام صاحبؒ کو اپنے پہلو میں جگہ دیتے۔ عطائؒ 115ھ تک زندہ رہے اس مدت میں امام ابو حنیفہؒ ان کی خدمت میں اکثر حاضر رہے اور مستفید ہوئے۔

عطاؒء کے سوا مکہ معظمہ کے اور محدثین جن سے امام صاحبؒ نے حدیث کی سند لی۔ ان میں عکرمہؒ کا ذکر خصوصیت سے کیا جا سکتا ہے۔ عکرمہؒ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے غلام اور شاگرد تھے۔ انہوں نے نہایت توجہ اور کوشش سے ان کی تعلیم و تربیت کی تھی یہاں تک کہ اپنی زندگی ہی میں اجتہاد و فتویٰ کا مجاز کر دیا تھا۔ امام شعبیؒ کہا کرتے تھے کہ قرآن کا جاننے والا عکرمہؒ سے بڑھ کر نہیں رہا۔ سعید بن جبیرؒ سے کسی نے پوچھا کہ دنیا میں آپ سے بڑھ کر بھی کوئی عالم ہے فرمایا: ہاں! عکرمہؒ۔


مدینہ کا سفر
اسی زمانہ میں ابو حنیفہؒ نے مدینہ کا قصد کیا کہ حدیث کا مخزن اور نبوت کا اخیر قرار گاہ تھی۔ صحابہ کے بعد تابعین کے گروہ میں سے سات اشخاص علم فقہ و حدیث کے مرجع بن گئے تھے۔ امام ابو حنیفہؒ جب مدینہ پہنچے تو ان بزرگوں میں سے صرف دو اشخاص زندہ تھے سلیمانؒ اور سالم بن عبد اللہؒ۔ سلیمان حضرت میمونہؓ کے جو رسولﷺ کی ازواج مطہراتؓ میں سے تھیں، غلام تھے۔ اور فقہاء سبعہ میں فضل و کمال کے لحاظ سے ان کا دوسرا نمبر تھا۔ سالمؒ حضرت فاروق اعظمؓ کے پوتے تھے اور اپنے والد بزرگوار سے تعلیم پائی تھی۔ امام ابو حنیفہؒ دونوں بزرگوں کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے حدیثیں روایت کیں۔

امام ابو حنیفہؒ کی تعلیم کا سلسلہ اخیر زندگی تک قائم رہا اکثر حرمین جاتے اور مہینوں قیام کر تے تھے۔ آپ نے وہاں کے فقہاء و محدثین سے تعارف حاصل کیا اور حدیث کی سند لی۔


امام صاحبؒ کے اساتذہ
امام ابو حفص کبیرؒ نے امام ابو حنیفہؒ کے اساتذہ کے شمار کرنے کا حکم دیا۔ حکم کے مطابق شمار کئے گئے تو ان کی تعداد چار ہزار تک پہنچی۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں جہاں ان کے شیوخِ حدیث کے نام گنائے ہیں اخیر میں لکھ دیا ہے "وخلق ٌکثیرٌ۔" حافظ ابو المحاسن شافعیؒ نے تین سوانیس(319) شخصیتوں کے نام بقیدِ نسب لکھے ہیں۔

امام صاحبؒ نے ایک گروہِ کثیر سے استفادہ کیا جو بڑے بڑے محدث اور سند و روایت کے مرجعِ عام تھے۔ مثلاً اما م شعبیؒ، سلمہ بن کہیلؒ، ابو اسحاق سبعیؒ، سماک بن حربؒ، محارب بن ورثائؒ، عون بن عبد اللہؒ، ہشام بن عروہؒ، اعمشؒ، قتادہؒ، شعبہؒ اور عکرمہؒ۔ ہم مختصراً آپؒ کے خاص خاص شیوخ کا ذکر کر رہے ہیں جن سے آپؒ نے مدتوں استفادہ کیا ہے۔

امام شعبیؒ۔ یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے اول اول امام ابو حنیفہؒ کو تحصیلِ علم کی رغبت دلائی تھی۔ بہت سے صحابہؓ سے حدیثیں روایت کی تھیں۔ مشہور ہے کہ پانسو صحابہؓ کو دیکھا تھا۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ان کو ایک بار مغازی کا درس دیتے دیکھا تو فرمایا کہ "واللہ! یہ شخص اس فن کو مجھ سے اچھا جانتا ہے۔" 106ھ میں وفات پائی۔

سلمہ بن کہیلؒ مشہور محدث اور تابعی تھے۔ ابن سعدؒ نے ان کو کثیر الحدیث لکھا ہے۔ ابن مہدیؒ کا قول تھا کہ کوفہ میں چار اشخاص سب سے زیادہ صحیح الروایت تھے: منصورؒ، سلمہ بن کہیلؒ، عمرو بن مرہؒ، ابو حصینؒ۔

ابو اسحاق سبیعیؒ کبارِ تابعین میں سے تھے۔ عبد اللہؓ بن عباسؒ، عبد اللہ بن عمرؓ، ابن زبیرؓ، نعمان بن بشیرؓ، زید بن ارقمؓ سے حدیثیں سنی تھیں۔ عجلیؒ نے کہا ہے کہ اڑتیس صحابہؓ سے ان کو بالمشافہ روایت حاصل ہے۔

محاربؒ بن ورثاء نے عبد اللہ بن عمرؓ اور جابرؓ وغیرہ سے روایت کی۔ امام سفیان ثوریؒ کہا کر تے تھے کہ "میں نے کسی زاہد کو نہیں دیکھا جس کو محاربؒ پر ترجیح دوں۔"

علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ "محاربؒ عموماً حجت ہیں۔" کوفہ میں منصبِ قضا پر معمور تھے۔ 116ھ میں وفات پائی۔

عونؒ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعودؓ، حضرت ابو ہریرہؓ اور عبد اللہ بن عمرؓ سے حدیثیں روایت کیں۔ نہایت ثقہ اور پرہیزگار تھے۔

ہشام بن عروہؒ معزز و مشہور تابعی تھے بہت سے صحابہؓ سے حدیثیں روایت کیں۔ بڑے بڑے ائمۂ حدیث مثلاً سفیان ثوریؒ، امام مالکؒ، سفیان بن عیینہؒ ان کے شاگرد تھے۔

خلیفہ منصور ان کا احترام کیا کر تا تھا۔ ان کے جنازہ کی نماز بھی منصور نے ہی پڑھائی تھی ابن سعدؒ نے لکھا ہے وہ ثقہ اور کثیر الحدیث تھے۔

اعمشؒ کوفہ کے مشہور امام تھے۔ صحابہؓ میں سے انس بن مالکؓ سے ملے تھے اور عبدللہ بن اونیؒ سے حدیث سنی تھی۔ سفیان ثوریؒ اور شعبہؒ ان کے شاگرد ہیں۔

قتادہؒ بہت بڑے محدث اور مشہور تابعی تھے۔ حضرت انس بن مالکؓ و عبد اللہ بن سرخسؓ و ابو الطفیلؓ اور دیگر صحابہ سے حدیثیں روایت کیں۔ حضرت انسؓ کے دو شاگرد جو نہایت نامور ہیں ان میں ایک ہیں۔ اس خصوصیت میں ان کو نہایت شہرت تھی کہ حدیث کو بعینہ ادا کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبلؒ نے ان کی فقہ و واقفیتِ اختلاف و تفسیر دانی کی نہایت مدح کی ہے اور کہا ہے کہ "کو ئی شخص ان باتوں میں ان کے برا بر ہو تو ہو مگر ان سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا۔

شعبہؒ بھی بڑے رتبہ کے محدث تھے۔ سفیان ثوریؒ نے فن حدیث میں ان کو امیر المومنین کہا ہے۔ عراق میں یہ پہلے شخص ہیں جس نے جرح و تعدیل کے مراتب مقرر کئے۔ امام شافعیؒ فرمایا کر تے تھے کہ شعبہؒ نہ ہو تے تو عراق میں حدیث کا رواج نہ ہوتا۔ شعبہؒ کا امام ابو حنیفہ کے ساتھ ایک خاص ربط تھا۔ غائبانہ ان کی ذہانت و خوبئ فہم کی تعریف کر تے تھے۔ ایک بار امام صاحبؒ کا ذکر آیا تو کہا جس یقین کے ساتھ میں یہ جانتا ہوں کہ آفتاب روشن ہے اسی یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ علم اور ابو حنیفہؒ روشن ہیں۔

یحیٰ بن معین (جو امام بخاریؒ کے استاذ ہیں) سے کسی نے پوچھا کہ آپ ابو حنیفہؒ کی نسبت کیا خیال رکھتے ہیں؟ فرمایا اس قدر کافی ہے کہ شعبہؒ نے انکو حدیث و روایت کی اجازت دی اور شعبہ آخر شعبہؒ ہی ہیں۔ بصرہ کے اور شیوخ جن سے ابو حنیفہؒ نے حدیثیں روایت کیں۔ ان میں عبد الکریم بن امیہؒ اور عاصم بن سلیمان الاحولؒ زیادہ ممتاز ہیں۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
استاد کی عزت
امام صاحبؒ کو طلبِ علم میں کسی سے عار نہ تھی۔ امام مالکؒ عمر میں ان سے تیرہ برس کم تھے۔ ان کے حلقۂ درس میں بھی اکثر حاضر ہوئے اور حدیثیں سنیں۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں لکھا ہے کہ امام مالکؒ کے سامنے ابو حنیفہؒ اس طرح مؤدب بیٹھتے تھے جس طرح شاگرد استاد کے سامنے بیٹھتا ہے۔ اس کو بعض کوتاہ بینوں نے امام صاحبؒ کی کسرِ شان پر محمول کیا ہے لیکن ہم اس کو علم کی قدر شناسی اور شرافت کا تمغہ سمجھتے ہیں۔


امام صاحبؒ کی قدر
امام صاحبؒ کے اساتذہ ان کا اس قدر ادب و احترام کرتے تھے کہ لوگوں کو تعجب ہوتا تھا۔ محمد بن فضلؒ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ امام ابو حنیفہؒ ایک حدیث کی تحقیق کے لئے خطیبؒ کے پاس گئے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ خطیبؒ نے ان کو آتے دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور نہایت تعظیم کے ساتھ لا کر اپنے برابر بٹھایا۔

عمرو بن دینارؒ جو مکہ کے مشہور محدث تھے۔ ابو حنیفہؒ کے ہوتے ہوئے حلقۂ درس میں اور کسی کی طرف خطاب نہیں کرتے تھے۔

امام مالکؒ بھی ان کا نہایت احترام کرتے تھے۔ عبد اﷲ بن مبارکؒ کی زبانی منقول ہے کہ میں امام مالکؒ کے درسِ حدیث میں حاضر تھا۔ ایک بزرگ آئے جن کی انہوں نے نہایت تعظیم کی اور اپنے برابر بٹھایا۔ ان کے جانے کے بعد فرمایا "جانتے ہو یہ کون شخص تھا؟ یہ ابو حنیفہؒ عراقی تھے جو اس ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔" ذرا دیر کے بعد ایک اور بزرگ آئے امام مالکؒ نے ان کی بھی تعظیم کی لیکن نہ اس قدر جتنی ابو حنیفہؒ کی کی تھی، وہ اٹھ گئے تو لوگوں سے کہا "یہ سفیان ثوریؒ تھے۔"


علمی ترقی کا ایک سبب
امام صاحبؒ کی علمی ترقی کا ایک بڑا سبب یہ تھا کہ ان کو ایسے بڑے بڑے اہل کمال کی صحبتیں میسر آئیں جن کا ابھی تذکرہ گزرا۔ اور جن شہروں میں ان کو رہنے کا اتفاق ہوا یعنی کوفہ، بصرہ، مکہ اور مدینہ، یہ وہ مقامات تھے کہ مذہبی روایتیں وہاں کی ہوا میں سرایت کر گئی تھیں۔ علماء سے ملنے اور علمی جلسوں میں شریک ہو نے کا شوق امامؒ کی خمیر میں داخل تھا۔ ساتھ ہی ان کی شہرت اس حد تک پہنچ گئی تھی کہ جہاں جاتے تھے استفادہ، ملاقات، مناظرہ کی غرض سے خود ان کے پاس ہزاروں آدمیوں کا مجمع رہتا تھا۔

تاریخِ بغداد کے حوالہ سے شیخ ابو زہرہ لکھتے ہیں۔ "ایک روز امام ابو حنیفہؓ منصور کے دربار میں آئے وہاں عیسی بن موسی بھی موجود تھا اس نے منصور سے کہا یہ اس عہد کے سب سے بڑے عالم دین ہیں۔

منصور نے امام صاحب کو مخاطب ہو کر کہا۔۔۔ "نعمان! آپ نے علم کہاں سے سیکھا؟" فرمایا "حضرت عمرؓ کے تلامذہ سے، نیز شاگردانِ علیؓ سے اور تلامذۂ عبداللہ بن مسعودؓ سے۔" منصور بولا "آپ نے بڑا قابلِ اعتماد علم حاصل کیا۔" (حیات حضرت امام ابو حنیفہؒ)​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
درس کا آغاز
امام صاحبؒ کے خاص استاد حضرت حمادؒ نے 120ھ میں وفات پائی۔ چونکہ ابراہیم نخعیؒ کے بعد فقہ کا دارو مدار انہی پر رہ گیا تھا ان کی موت نے کوفہ کو بے چراغ کر دیا لہٰذا تمام بزرگوں نے متفقاً امام ابو حنیفہؒ سے درخواست کی کہ مسندِ درس کو مشرف فرمائیں۔ اس وقت امام صاحبؒ کی عمر چالیس سال تھی بنا بریں جسم و عقل میں کامل ہو نے کے بعد آپ نے مسندِ درس کو سنبھالا۔

ابوالولیدؒ کا بیان ہے کہ لوگوں نے ان کے پاس وہ سب کچھ پایا جو ان کے بڑوں کے پاس نہیں ملا اور نہ ہی ان کے ہم عمروں میں چنانچہ لوگ آپؒ کی صحبت میں آ گئے اور غیروں کو چھوڑ دیا۔

انہی دنوں میں امام صاحبؓ نے خواب دیکھا کہ پیغمبرﷺ کی قبرِ مبارک کھود رہے ہیں۔ ڈر کر چونک پڑے اور سمجھے کہ ناقابلیت کی طرف اشارہ ہے۔ امام ابن سیرینؒ علمِ تعبیر کے استاد مانے جاتے تھے انہوں نے تعبیر بتائی کہ اس سے ایک مردہ علم کو زندہ کر نا مقصود ہے۔ امام صاحبؒ کو تسکین ہو گئی اور اطمینان کے ساتھ درس و افتاء میں مشغول ہو گئے۔


درس کے اوقات
معمول تھا صبح کی نماز کے بعد مسجد میں درس دیتے، دور دور سے استفتا آئے ہوتے۔ ان کے جواب لکھتے۔ پھر تدوینِ فقہ کی مجلس منعقد ہو تی، بڑے بڑے نامور شاگردوں کا مجمع ہوتا۔ پھر ظہر کی نماز پڑھ کر گھر آتے گرمیوں میں ہمیشہ ظہر کے بعد سو رہتے۔ نمازِ عصر کے بعد کچھ دیر تک درس و تعلیم کا مشغلہ رہتا۔ باقی دوستوں سے ملنے ملانے، بیماروں کی عیادت، تعزیت اور غریبوں کی خبر گیری میں صرف ہوتا۔ مغرب کے بعد پھر درس کا سلسلہ شروع ہوتا اور عشاء تک رہتا۔ نمازِ عشاء پڑھ کر عبادت میں مشغول ہوتے اور اکثر رات رات بھر نہ سوتے۔


درس کی وسعت
اول اول حمادؒ کے پرانے شاگرد درس میں شریک ہوتے تھے۔ لیکن چند روز میں وہ شہرت ہوئی کہ کوفہ کی درسگاہیں ٹوٹ کر ان کے حلقہ میں آ ملیں، نوبت یہاں تک پہنچی کہ خود ان کے اساتذہ مثلاً مسعر بن کدامؒ، امام اعمشؒ وغیرہ ان سے استفادہ کر تے تھے اور دوسروں کو ترغیب دلاتے تھے۔

ابن ابی لیلی، شریک، ابن شبرمہ آپ کی مخالفت کرنے لگے اور آپ کی عیب جوئی میں لگ گئے معاملہ اس طرح چلتا رہا مگر امام صاحبؒ کی بات مضبوط ہوتی گئی۔ امراء کو آپ کی ضرورت پڑنے لگی اور خلفاء نے آپ کو یاد کرنا اور شرفاء نے اکرام کرنا شروع کر دیا۔ آپ کا مرتبہ بڑھتا چلا گیا شاگردوں کی زیادتی ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ مسجد میں سب سے بڑا حلقہ آپ کا ہوتا اور سوالوں کے جواب میں بڑی وسعت ہوتی۔ لوگوں کی توجہ آپ کی طرف ہوتی گئی۔ امام صاحبؒ لوگوں کے مصائب میں ہاتھ بٹانے لگے، لوگوں کا بوجھ اٹھانے لگے اور ایسے ایسے کام کرنے لگے جن کو کرنے سے دوسرے لوگ عاجز تھے۔ اس سے آپ کو بڑی قوت ملی الغرض تقدیرِ خداوندی نے آپ کو سعید و کامیاب کیا۔

اسلامی دنیا کا کوئی حصہ نہ تھا جو ان کی شاگردی کے تعلق سے آزاد رہا ہو۔ جن جن مقامات کے رہنے والے ان کی خدمت میں پہنچے ان سب کا شمار ممکن نہیں لیکن جن اضلاع و ممالک کا نام خصوصیت کے ساتھ لیا گیا ہے وہ یہ ہیں: مکہ، مدینہ، دمشق، بصرہ، مصر، یمن، یمامہ، بغداد، اصفہان، استرآباد، ہمدان، طبرستان، مرجان، نیشاپور، سرخس، بخارا، سمرقند، کس، صعانیاں، ترمذ، ہرات، خوازم، سبستان، مدائن، حمص وغیرہ۔ مختصر یہ کہ ان کی استادی کے حدود خلیفۂ وقت کی حدودِ حکومت سے کہیں زیادہ تھے۔

پھر تو آپؒ کے شاگردوں میں بڑے بڑے امام ہوئے، بڑے بڑے علماء آپ کی صحبت میں حاضر ہوئے۔ یحیٰ بن سعیدؒ، عبداللہ بن مبارکؒ، یحیٰ بن زکریاؒ، وکیع بن جراحؒ، یزید بن ہارونؒ، حفص بن غیاصؒ، ابو عاصمؒ عبد الرزاق بن ہمامؒ، داوٗد الطائیؒ جیسے محدثین اور قاضی ابو یوسفؒ، محمد بن حسن الشیبانیؒ، زفرؒ، حسن بن زیادؒ جیسے فقہاء پیدا ہوئے۔

امام ابو حنیفہؒ ان لوگوں کو علمِ حدیث و فقہ کی تعلیم دیتے تھے۔ ان کا بڑا خیال رکھتے تھے اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا معاملہ فرماتے تھے۔ آپ کے نامور شاگردوں کا ذکر آئندہ باب میں "تلامذہ و تصنیفات" کے عنوان سے آ رہا ہے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
عہدۂ قضا سے انکار
خطیب بغدادی نے روایت کی ہے کہ یزید بن عمر بن ہیبر، والی عراق نے امام ابو حنیفہؒ کو حکم دیا کہ کوفہ کے قاضی بن جائیں لیکن امام صاحب نے قبول نہیں کیا تو اس نے ایک سو دس کوڑے لگوائے۔ روزانہ دس کوڑے لگواتا جب بہت کوڑے لگ چکے اور امام صاحب اپنی بات یعنی قاضی نہ بننے پر اڑے رہے تو اس نے مجبور ہو کر چھوڑ دیا۔

ایک دوسرا واقعہ یہ ہے کہ جب قاضی ابن لیلیٰ کا انتقال ہو گیا اور خلیفہ منصور کو اطلاع ملی تو اس نے امام صاحب کیلئے قضا کا عہدہ تجویز کیا امام صاحب نے صاف انکار کیا اور کہا کہ "میں اس کی قابلیت نہیں رکھتا" منصور نے غصہ میں آ کر کہا "تم جھوٹے ہو" امام صاحب نے کہا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو یہ دعویٰ ضرور سچا ہے کہ میں عہدۂ قضاء کے قابل نہیں کیونکہ جھوٹا شخص کبھی قاضی نہیں مقرر ہو سکتا۔


ایک سازش
خلیفہ ابو جعفر منصور نے دارالخلافہ کے لئے بغداد کا انتخاب کیا اور امام اعظمؒ کو قتل کرنے کے لئے کوفہ سے بغداد بلوایا تھا کیونکہ حضرت حسنؓ کی اولاد میں سے ابرہیم بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علیؓ نے خلیفہ منصور کے خلاف بصرہ میں علم بغاوت بلند کر دیا تھا امام صاحب ابرہیم کے علانیہ طرفدار تھے ادھر منصور کو خبر دی گئی کہ امام ابو حنیفہ ان کے حامی ہیں اور انہوں نے زرِ کثیر دے کر ابراہیم کی مد د بھی کی ہے۔

خلیفہ منصور کو امام صاحب سے خوف ہوا۔ لہٰذا ان کو کوفہ سے بغداد بلا کر قتل کر نا چاہا مگر بلا سبب قتل کر نے کی ہمت نہ ہوئی اس لئے ایک سازش کر کے قضا کی پیشکش کی۔ امام صاحب نے قاضی القضاۃ کا عہدہ قبول کر نے سے انکار کر دیا اور معذرت کر دی کہ مجھ کو اپنی طبیعت پر اطمینان نہیں، میں عربی النسل نہیں ہوں، اس لئے اہل عرب کو میری حکومت ناگوار ہو گی، درباریوں کی تعظیم کرنی پڑے گی اور یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔"


وفات
منصور نے قاضی القضاۃ کے عہدہ قبول نہ کر نے کی وجہ سے امام صاحب کو اس وقت یعنی 146ھ میں قید کر ڈالا۔ لیکن ان حالات میں بھی اس کو ان کی طرف سے اطمینان نہ تھا۔ امام صاحب کی شہرت دور دور تک پہنچی ہوئی تھی۔ قید کی حالت نے ان کے اثر اور قبولِ عام کو کم کر نے کے بجائے اور زیادہ کر دیا تھا۔ قید خانہ میں ان کا سلسلۂ تعلیم بھی برابر قائم رہا۔

امام محمد نے جو فقہ کے دستِ بازو ہیں قید خانہ ہی میں ان سے تعلیم پائی۔ ان وجوہ سے منصور کو امام صاحب کی طرف سے جو اندیشہ تھا وہ قید کی حالت میں بھی رہا جس کی آخری تدبیر یہ کی کہ بے خبری میں ان کو زہر دلوا دیا۔ جب ان کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں قضا کی اور اپنے رب سے جا ملے۔

(انا للہ وانا الیہ راجعون)

آپ 80ھ میں پیدا ہوئے اور 150ھ میں وصال فرمایا تب آپ کی عمر مبارک 70 سال تھی، وفات کے وقت حماد کے سوا ان کے کوئی اولاد موجود نہ تھی۔


کفن دفن
ان کے مر نے کی خبر جلد تمام شہر میں پھیل گئی اور سارا بغداد امڈ آیا۔ حسن بن عمارہ نے جو قاضی شہر تھے غسل دیا، نہلا تے تھے اور کہتے جاتے تھے "واللہ!تم سب سے بڑے فقیہ، بڑے عابد، بڑے زاہد تھے، تم میں تمام خوبیاں پائی جاتی تھیں۔

غسل سے فارغ ہو تے ہوئے لوگوں کی یہ کثرت ہو ئی کہ پہلی بار نمازِ جنازہ میں کم و بیش پچاس ہزار کا مجمع تھا اس پر بھی آنے والوں کا سلسلہ قائم تھا۔ یہاں تک کہ چھ بار نمازِ جنازہ پڑھی گئی اور عصر کے قریب جاکر لاش دفن ہو سکی۔ لوگوں کا یہ حال تھا کہ تقریباً بیس دن تک ان کی نماز جنازہ پڑھتے رہے۔

امام صاحبؒ نے وصیت کی تھی کہ خیزران میں دفن کئے جائیں۔ کیونکہ یہ جگہ ان کے خیال میں مغضوب نہ تھی اس وصیت کے موافق خیزران کے مشرقی جانب ان کا مقبرہ تیار ہوا۔ سلطان الپ ارسلان سلجوقی جو عادل ہونے کے ساتھ ساتھ بہت فیاض بھی تھا اس نے 459ھ میں ان کی قبر کے قریب ایک مدرسہ تیار کرایا جو مشہدِ ابو حنیفہؒ کے نام سے مشہور ہے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363

امام صاحبؒ کی اولاد
امام صاحبؒ کی اولاد کا مفصل حال معلوم نہیں مگر اس قدر یقینی ہے کہ وفات کے وقت حماد کے سوا کوئی اولاد نہ تھی۔ حماد بڑے رتبہ کے فاضل تھے بچپن میں ان کی تعلیم نہایت اہتمام سے ہوئی تھی۔ چنانچہ جب الحمد ختم کی تو انکے پدرِ بزرگوار نے اس تقریب میں معلم کو پانچ سو درہم نذر کیئے۔ بڑے ہوئے تو خود امام صاحبؒ سے مراتبِ علمی کی تکمیل کی۔ علم و فضل کے ساتھ بے نیازی اور پرہیز گاری میں بھی باپ کے خلف الرشید تھے۔ تمام عمر کسی کی ملازمت نہیں کی نہ شاہی دربار سے کچھ تعلق پیدا کیا۔ ذیقعدہ 176ھ میں قضا کی۔ چار بیٹے چھوڑے عمر، اسمعیل، ابو حیان اور عثمان۔

امام صاحبؒ کے پوتے اسمعیلؒ نے علم و فضل میں نہایت شہرت حاصل کی۔ چنانچہ مامون الرشید نے اُن کو عہدۂ قضا پر مامور کیا جس کو انہوں نے اس دیانت داری اور انصاف سے انجام دیا کہ جب بصرہ سے چلے تو سارا شہر ان کو رخصت کرنے کو نکلا اور سب لوگ اُن کے جان و مال کو دعائیں دیتے تھے۔

امام صاحبؒ کی معنوی اولاد تو آج تمام دنیا میں پھیلی ہو ئی ہے اور شاید چھ سات کروڑ سے کم نہ ہو گی اور خدا کے فضل سے علم فضل کا جوہر بھی نسلا بعد نسل اُ ن کی میراث میں چلا آتا ہے۔


اظہارِ افسوس!
اس وقت ان ممالک میں بڑے بڑے ائمہ مذہب موجود تھے۔ جن میں بعض خود امام صاحبؒ کے استاد تھے۔ سب نے ان کے مر نے کا رنج کیا اور نہایت تاسف آمیز کلمات کہے۔ ابن جریح مکہ میں تھے، سن کر کہا"انا للہ بہت بڑا علم جاتا رہا۔" شعبہ بن الحجاج نے جو امام ابو حنیفہؒ کے شیخ اور بصرہ کے امام تھے، نہایت افسوس کیا اور کہا "کوفہ میں اندھیرا ہو گیا۔" اس واقعہ کے چند روز کے بعد عبد اللہ بن المبارکؒ کو بغداد جانے کا اتفاق ہوا۔ امام صاحبؒ کی قبر پر گئے اور روکر کہا: ابو حنیفہؒ! خدا تم پر رحم کرے۔ ابراہیمؒ مرے تو اپنا جانشین چھوڑ گئے۔ حمادؒ مرے تو اپنا جانشین چھوڑ گئے افسوس تم نے اپنے برابر تمام دنیا میں کسی کو اپنا جانشین نہ چھو ڑا۔

ایک دن امام شافعی نے صبح کی نماز امام ا بو حنیفہ کی قبر کے پاس ادا کی تو اس میں دعاے قنوت نہیں پڑھی جب ان سے عرض کیا گیا تو فر مایا اس قبر والے کے ادب کی وجہ سے دعاء قنوت نہیں پڑھی۔


حافظ الحدیث و بانی فقہ
امام ابو حنیفہؒ کا شمار بڑے حفاظِ حدیث میں ہو تا ہے۔ امام صاحبؒ نے چار ہزار محدثین سے حدیث پڑھی ہے ان میں سے بعض شیوخِ حدیث تابعی تھے اور بعض تبع تابعی۔ اسی لئے علامہ ذہبیؒنے امام صاحبؒ کا شمار محدثین کے طبقۂ حفاظ میں کیا ہے۔

امام صاحبؒ کے شاگردوں نے خود ان سے سیکڑوں حدیثیں روایت کی ہیں۔ مؤطاء امام محمدؒ، کتاب الآثار، کتاب الحج جو عام طور پر متداول ہیں ان میں بھی امام صاحب سے بیسیوں حدیثیں مروی ہیں۔

غور کر لیجئے کہ جس شخص نے بیس برس کی عمر سے علمِ حدیث پر توجہ کی ہو اور ایک مدت تک اس شغل میں مصروف رہا ہو، جس نے کوفہ کے مشہور شیوخِ حدیث سے حدیثیں سیکھیں ہوں، جو حرمِ محترم کی درسگاہوں میں بر سوں تحصیلِ حدیث کر تا رہا ہو، جس کو مکہ و مدینہ کے شیوخ نے سندِ فضیلت دی ہو، جس کے اساتذۂ حدیث عطاء بن ابی رباحؒ، نافع بن عمرؒ، عمر بن دینارؒ، محارب بن و رثاؒ، اعمش کوفیؒ، امام باقرؒ، علقمہ بن مرثدؒ، مکحول شامیؒ، امام اوزاعیؒ، محمد بن مسلمؒ، ابو اسحٰق السبیعیؒ، سلیمان بن یسارؒ، منصور المعتمرؒ، ہشام بن عروہ رحمہم اللہ وغیرہ ہوں جو فنِ روایت کے ارکان ہیں اور جن کی روایتوں سے بخاری و مسلم مالا مال ہیں، وہ حدیث میں کس رتبہ کا شخص ہو گا؟

اس کے ساتھ امام صاحبؒ کے شاگردوں پر غور کرو یحیٰ بن سعید القطانؒ جو فن جرح و تعدیل کے امام ہیں، عبد الرزاق بن ہمامؒ جن کی جامع کبیر سے امام بخاریؒ نے فائدہ اٹھایا ہے، یزید بن ہا رون جو امام احمد بن حنبلؒ کے استاد تھے، وکیع بن الجراح جن کی نسبت امام احمد بن حنبلؒ کہا کر تے تھے حفظِ اسناد و روایت میں میں نے کسی کو انکا ہم عصر نہیں دیکھا، عبد اللہ بن مبارکؒ جو فن حدیث میں امیر المومنین تسلیم کئے گئے ہیں، یحیٰ بن زکریاؒ جن کو علی بن المدنیؒ (استاد بخاری) منتہائے علم کہتے ہیں۔

یہ لوگ برائے نام امام صاحب کے شاگرد نہ تھے بلکہ برسوں ان کے دامنِ فیض میں تعلیم پائی تھی اور اس انتساب سے ان کو فخر و ناز تھا، عبد اللہ بن مبارکؒ کہا کر تے تھے کہ "اگر خدا نے ابو حنیفہؒ سے میری مدد نہ کی ہوتی تو میں ایک معمولی آدمی ہو تا۔" (تہذیب التہذیب) وکیعؒ اور یحیؒ ابن ابی زائدہ امام صاحبؒ کی صحبت میں اتنی مدت تک رہے تھے کہ "صاحب ابی حنیفہؒ" کہلاتے تھے۔ کیا اس رتبہ کے لو گ جو خود حدیث و روایت کے پیشوا اور مقتدا تھے کسی معمولی شخص کے سامنے سر جھکا سکتے تھے؟ انہیں تمام خصوصیات اور وجوہات کی بنا پر علامہ ذہبیؒ نے امام ابو حنیفہؒ کو حفاظِ حدیث میں شمار کیا ہے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
مسانید امام اعظمؒ
ایسی سترہ مسانید ہیں جن میں محدثین نے امام صاحبؒ کی روایات کو جمع کیا اور وہ درجہ ذیل ہیں:
  1. تخریج حافظ محمد عبداللہ بن محمد بن یعقوب بن حارث الحارثی بخاریؒ۔​
  2. خریج حافظ ابوالقاسم طلحہ بن محمد بن جعفر الشاہدؒ۔​
  3. تخریج ابوالحسن محمد بن مظفر بن مو سی بن عیسیؒ۔​
  4. تخریج حافظ ابو نعیم احمد بن عبداللہ بن احمد اصفہانی شافعیؒ۔​
  5. تخریج حافظ قاضی ابو بکر محمد بن عبدالباقی انصاریؒ۔​
  6. تخریج حافظ ابو احمد عبداللہ بن عدی جرجانی شافعیؒ۔​
  7. تخریج ابو الحسن محمد بن ابراہیم بن جیش من سماعات حسن بن زیاد اللؤلؤی صاحبِ ابی حنیفہؒ​
  8. تخریج قاضی ابو الحسن عمر بن حسن اشنانیؒ۔​
  9. تخریج ابو بکر احمد بن محمد بن خالد بن حلی کلاعیؒ۔​
  10. تخریج حافظ ابو عبدللہ حسین بن محمد بن خسروبلخیؒ۔​
  11. تخریج بعض محدثین از امام ابو یوسفؒ۔​
  12. تخریج بعض محدثین از امام محمد بن حسن شیبانیؒ۔​
  13. تخریج بعض محدثین از حماد بن ابو حنیفہؒ۔​
  14. تخریج امام محمدبن حسن شیبانیؒ (الآثار)۔​
  15. تخریج ابوالقاسم عبداللہ بن محمد بن ابی العوامؒ (مناقب)۔​
  16. تخریج حافظ ابو بکر بن المقریؒ۔​
  17. تخریج حافظ ابو علی البکریؒ۔​
علامہ محمد بن یو سفؒ دمشقی نے ان سب مسندوں کی سندیں بھی ذکر فرمائی ہیں جس کے لئے اصل کتاب "عقود الجمان" کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔


امام صاحبؒ کی مرویات کم کیوں ہیں؟
امام صاحب نے روایت کے متعلق جو شرطیں اختیار کیں کچھ تو وہی ہیں جو اور محدثین کے نزدیک مسلم ہیں کچھ ایسی ہیں جن میں وہ منفرد ہیں یا صرف امام مالکؒ اور بعض اور مجتہدین ان کے ہم زبان ہیں۔ ان میں سے ایک یہ مسئلہ ہے کہ "صرف وہ حدیثیں حجت ہیں جس کو راوی نے اپنے کانوں سے سنا ہو، اور روایت کے وقت تک اس کو یاد رکھا ہو۔"

یہ قاعدہ بظاہر نہایت صاف جس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن اس کی تفریعیں نہایت وسیع اثر رکھتی ہیں اور عام محدثین کو اُن سے اتفاق نہیں ہے۔ محدثین کے نزدیک ان پابندیوں سے روایت کا دائرہ تنگ ہو جا تا ہے لیکن اما م صاحبؒ نے روایت کی وسعت کی نسبت احتیاط کو مقدم رکھا ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ امام صاحبؒ کا اشتغال مسائل کو دلائل سے استنباط کر نے میں زیادہ رہا جیسے کہ کبارِ صحابہؓ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ عمل میں مشغول رہے اسی وجہ سے ان کی مرویات کم ہیں اس کے برخلاف جو صحابہؓ ان سے کم مر تبہ ہیں ان کی روایات ان اکابر صحابہؓ کی بہ نسبت زیادہ ہیں۔

یہ تمام باتیں اس بات کی شاہد ہیں کہ علمِ حدیث میں امام ابو حنیفہؒ کا کیا پایہ تھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان باتوں نے امام ابو حنیفہؒ کو امام ابو حنیفہؒ نہیں بنایا۔ اگر وہ حافظ الحدیث تھے تو اور لو گ بھی تھے۔ اگر انکے شیوخِ حدیث کئی سو تھے تو بعض ائمہ سلف کے شیوخ کئی کئی ہزار تھے۔ اگر انہوں نے کوفہ و حرمین کی درسگاہ میں تعلیم پائی تھی تو اوروں نے بھی یہ شرف حاصل کیا تھا۔ ابو حنیفہ کو جس بات نے تمام ہم عصروں میں امتیاز دیا وہ اور چیز ہے جو ان سب باتوں سے با لا تر ہے یعنی احادیث کی تنقید اور بلحاظِ ثبوت احکام، ان کے مرا تب کی تفریق۔

امام ابو حنیفہؒ کے بعد علمِ حدیث کو بہت ترقی ہوئی غیر مرتب اور منتشر حدیثیں یکجا کی گئیں۔ صحت کا التزام کیا گیا۔ اصولِ حدیث کا مستقل فن قائم ہو گیا جس کے متعلق سینکڑوں بیش بہا کتابیں تصنیف ہوئیں۔ زمانہ اس قدر ترقی کر گیا تھا کہ باریک بینی اور دقتِ آفرینی کی کو ئی حد نہیں رہی۔ تجربہ اور دقتِ نظر نے سیکڑوں نئے نقطے ایجاد کئے لیکن تنقیدِ احادیث، اصولِ درایت، امتیازِ مراتب میں امام ابو حنیفہؒ کی تحقیق کی جو حد ہے آج بھی ترقی کا قدم اس سے آگے نہیں بڑھتا۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
بانی فقہ
اسلامی علوم مثلاً تفسیر، فقہ، مغازی ان کی ابتدا گرچہ اسلام کے ساتھ ساتھ ہوئی لیکن فن کی حیثیت سے دوسری صدی کے اوائل میں تدوین و ترتیب شروع ہوئی۔ اور جن لوگوں نے تدوین و ترتیب کی وہ ان علوم کے بانی کہلائے۔ چنانچہ بانی فقہ کا لقب امام ابو حنیفہؒ کو ملا جو در حقیقت اس لقب کے سزاوار تھے۔ اگر ارسطو علم منطق کا موجد ہے تو بلاشبہ امام ابو حنیفہؒ بھی علمِ فقہ کے موجد ہیں۔

امام صاحبؒ کی عملی زندگی کا بڑا کارنامہ فقہ ہی ہے اس لئے ہم اس پر تفصیلی بحث کرنا چاہتے ہیں لیکن اصل مقصد سے پہلے ضروری ہے کہ مختصر طور پر علمِ فقہ کی تاریخ سمجھ لیں جس سے ظاہر ہو کہ یہ علم کب شروع ہوا اور کیو نکر شروع ہو ا؟ اور خاص کر یہ کہ امام ابو حنیفہؒ نے جب اس کو پایا تو اس کی کیا حالت تھی؟

شاہ ولی اللہ صاحبؒ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں مسائل کی جو صورتِ حال تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ صحابہؓ کے سامنے وضو فرماتے تھے اور کچھ نہ بتا تے کہ یہ رکن ہے، یہ واجب ہے، یہ مستحب ہے، صحابہؓ آپﷺ کو دیکھ کر اسی طرح وضو کر تے تھے۔ نماز کا بھی یہی حال تھا یعنی صحابہؓ فرض واجب وغیرہ کی تفصیل و تدقیق نہیں کیا کرتے تھے جس طرح رسول اللہ ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا خود بھی پڑھ لی۔


مجتہدین صحابہؓ
آنحضرتﷺ کی وفات کے بعد فتوحات کو نہایت وسعت ہوئی اور تمدن کا دائرہ وسیع ہو تا گیا۔ واقعات اس کثرت سے پیش آئے کہ اجتہاد و استنباط کی ضرورت پڑی اور اجمالی احکام کی تفصیل پر متوجہ ہو نا پڑا۔ مثلاً کسی شخص نے غلطی سے نماز میں کوئی عمل ترک کر دیا اب بحث یہ پیش آئی کہ "نماز ہوئی یا نہیں؟" صحابہؓ کو ان صورتوں میں استنباط، تفریع، حمل النظیر علی النظیر اور قیاس سے کام لینا پڑا۔ اس اصول کے طریقے یکساں نہ تھے اس لئے ضروری اختلاف پیدا ہوئے۔ غرض صحابہؓ ہی کے زمانہ میں احکام اور مسائل کا ایک دفتر بن گیا۔ اور جدا جدا طریقے قائم ہو گئے۔

صحابہؓ میں سے جن لوگوں نے استنباط و اجتہاد سے کام لیا اور مجتہد یا فقیہ کہلائے ان میں سے چار بزرگ نہایت ممتاز تھے حضرت علیؓ، عبد اللہ بن مسعودؓ، حضرت عمرؓ، عبد اللہ بن عباسؓ۔

حضرت علیؓ اور عبد اللہ بن مسعودؓ زیادہ تر کوفہ میں رہے۔ اور وہیں ان کے مسائل و احکام کی زیادہ ترویج ہوئی اس تعلق سے کوفہ فقہ کا دارالعلوم بن گیا، جس طرح کہ حضرت عمرؓ و عبد اللہ بن عباسؓ کے تعلق سے حرمین کو دارالعلوم کا لقب حاصل ہوا تھا۔


حضرت علیؓ
حضرت علیؓ بچپن سے رسول اﷲﷺ کی آغوشِ تربیت میں پلے تھے اور جس قدر ان کو آنحضرت ﷺ کے اقوال سے مطلع ہونے کا موقع ملا تھا اور کسی کو نہیں ملا۔ ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ اور صحابہؓ کی نسبت کثیر الروایت کیوں ہیں؟ فرمایا کہ میں آنحضرتﷺ سے کچھ دریافت کرتا تھا تو بتاتے تھے۔ اور چپ رہتا تھا تو خود ابتدا کرتے تھے۔

اس کے ساتھ ذہانت، قوتِ استنباط، ملکۂ استخراج ایسا بڑھا ہوا تھا کہ عموماً صحابہؓ اعتراف کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ کا عام قول تھا کہ خدا نہ کرے کہ کوئی مشکل مسئلہ آن پڑے اور علیؓ ہم میں موجود نہ ہوں۔ عبداﷲ بن عباسؓ خود مجتہد تھے مگر کہا کرتے تھے کہ جب ہم کو علیؓ کا فتویٰ مل جائے تو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔


عبداﷲ بن مسعودؓ
عبداﷲ بن مسعودؓ بھی حدیث و فقہ دونوں میں کامل تھے۔ رسول اﷲﷺ کے ساتھ جس قدر جلوت و خلوت میں وہ ہمدم و ہمراز رہے تھے بہت کم لوگ رہے ہوں گے۔ صحیح مسلم میں ابوموسیٰ سے روایت ہے کہ ہم یمن سے آئے اور کچھ دنوں تک مدینہ میں رہے، ہم نے عبداﷲ بن مسعودؓ کو رسول اﷲ ﷺ کے پاس اس کثرت سے آتے جاتے دیکھا کہ ہم ان کو رسول اﷲﷺ کے اہل بیت ہو نے کا گمان کرتے رہے۔

عبداﷲ بن مسعودؓ کا دعویٰ تھا کہ "قرآن مجید میں کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کی نسبت میں یہ نہ جانتا ہوں کہ کس باب میں اتری ہے۔" وہ کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص قرآن مجید کا مجھ سے زیادہ عالم ہوتا تو میں اس کے پاس سفر کر کے جاتا۔ صحیح مسلم میں ہے کہ انہوں نے ایک مجمع میں دعویٰ کیا تھا کہ تمام صحابہؓ جانتے ہیں کہ میں قرآن کا سب سے زیادہ عالم ہوں۔ شقیقؒ اس جلسہ میں موجود تھے وہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد اکثر صحابہؓ کے حلقوں میں شریک ہوا مگر کسی کو عبداﷲ بن مسعودؓ کے دعوے کا منکر نہیں پایا۔


مجتہدین تابعین
عبد اللہ بن مسعودؓ باقاعدہ طور پر حدیث و فقہ کی تعلیم دیتے تھے اور ان کی درسگاہ میں بہت سے تلامذہ کا مجمع رہتا تھا جن میں سے چند اشخاص یعنی اسودؒ، اور علقمہؒ نہایت نامور ہوئے۔ علقمہؒ و اسودؒ کے انتقال کے بعد ابراہیم نخعیؒ مسند نشیں ہوئے اور فقہ کو بہت کچھ وسعت دی یہاں تک کہ ان کو فقیہ العراق کا لقب ملا۔ امام شعبیؒ نے جو علامۃ التابعین کے لقب سے ممتاز ہیں ان کی وفات کے وقت کہا کہ "کوئی شخص ان سے زیادہ علم والا نہیں رہا۔

ابراہیم نخعیؒ کے عہد میں مسائلِ فقہ کا ایک مختصر مجموعہ تیار ہو گیا تھا جس کا ماخذ حضرت علیؓ اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے فتاویٰ تھے۔ پھر یہ مجموعہ حمادؒ کے پاس جمع ہو گیا جو ابراہیم نخعیؒ کے نہایت ممتاز شاگرد تھے چنانچہ ان کے مرنے کے بعد فقہ کی مسندِ خلافت بھی انہی کو ملی اور ابراہیمؒ کے مجموعۂ فقہ کے بہت بڑے حافظ تھے حمادؒ کا تذکرہ "حماد کی شاگردی" کے عنوان سے گزر چکا ہے۔

حمادؒ نے 120ھ میں وفات پائی اور لوگوں نے ان کی جگہ امام ابو حنیفہؒ کو فقہ کی مسند پر بٹھایا۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
تدوین فقہ کا سبب
یہ امر تاریخوں سے ثابت ہے کہ امام صاحبؒ کو تدوینِ فقہ کا خیال تقریباً 120ھ میں پیدا ہوا یعنی جب ان کے استاد حمادؒ نے وفات کی۔ امام ابو حنیفہؒ کی طبیعت مجتہدانہ اور غیر معمولی طور پر مقننانہ واقع ہوئی تھی۔ اس کے ساتھ تجارت کی وسعت اور ملکی تعلقات نے ان کو معاملات کی ضرورتوں سے خبر دار کر دیا تھا۔ اطراف و بلاد سے ہر روز جو سینکڑوں ضروری استفتاء آئے ہوتے تھے ان سے ان کو اندازہ ہوتا تھا کہ ملک کو اس فن کی کس قدر حاجت ہے۔ قضاۃ احکامِ فصل و قضایا میں جو غلطیاں کر تے تھے وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے غرض یہ اسباب اور وجوہ تھے جنہوں نے انکو اس فن کی تدوین و ترتیب پر آمادہ کیا۔


تدوین فقہ میں شریک علماء
امام صاحبؒ نے جس طریقہ سے فقہ کی تدوین کا ارادہ کیا وہ نہایت وسیع اور پرخطر کام تھا اس لئے انہوں نے اپنے زمانہ کے علماء میں سے چند نامور اشخاص انتخاب کئے۔ جن میں سے اکثر خاص خاص فنون میں جو تکمیلِ فقہ کے لئے ضروری تھے استاذِ زمانہ تسلیم کئے جاتے تھے، مثلاً یحییٰ بن ابی زائدہؒ، حفص بن غیاثؒ، قاضی ابو یوسفؒ، داؤد السطانیؒ، حبانؒ، مندلؒ وغیرہ حدیث و آثار میں نہایت کمال رکھتے تھے۔ امام زفرؒ کو قوتِ استنباط میں کمال تھا۔ امام صاحبؒ نے ان لوگوں کی شرکت سے ایک مجلس مرتب کی اور باقاعدہ طور سے فقہ کی تدوین شروع کی۔

امام طحاویؒ نے بسندِ متصل اسد بن فرات سے روایت کی ہے کہ "ابو حنیفہؒ کے زمانہ کے علماء جنہوں نے فقہ کی تدوین کی چالیس تھے۔ لکھنے کی خدمت یحییٰ سے متعلق تھی اور وہ تیس برس تک اس خدمت کو انجام دیتے رہے۔ فقہ کی تدوین میں کم و بیش تیس برس کا زمانہ صرف ہوا یعنی 121ھ سے 150ھ تک جو امام ابو حنیفہؒ کی وفات کا سال ہے۔


طریقۂ تدوین
تدوین کا طریقہ یہ تھا کہ کسی خاص باب کا کوئی مسئلہ پیش کیا جاتا تھا، اگر اس کے جواب میں سب لوگ متفق الرائے ہوتے تھے تو اسی وقت قلم بند کر لیا جاتا ورنہ نہایت آزادی سے بحثیں شروع ہوتیں، کبھی کبھی بہت دیر تک بحث قائم رہتی۔ امام صاحب غور اور تحمل کے ساتھ سب تقریریں سنتے اور بالآخر ایسا جچا تلا فیصلہ کر تے کہ سب کو تسلیم کر نا پڑتا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ امام صاحب کے فیصلہ کے بعد لوگ اپنی اپنی رایوں پر قائم رہتے اس وقت وہ سب اقوال قلمبند کر لئے جاتے۔ اس کا التزام تھا کہ جب تک تمام شرکاء جلسہ جمع نہ ہو لیں کسی مسئلہ کو طے نہ کیا جائے۔

اس مجموعہ کی ترتیب یہ تھی: اول باب الطہارت، باب الصلوٰۃ، باب الصوم پھر عبادات کے اور ابواب، اس کے بعد معاملات، سب سے اخیر میں باب المیراث۔ قلائدِ عقود العقیان کے مصنف نے کتاب الصیانۃ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے جس قدر مسائل مدون کئے ان کی تعداد ایک لاکھ نوے ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔ امام محمدؒ کی جو کتابیں آج موجو د ہیں ان سے اس کی تصدیق ہو سکتی ہے۔


اس مجموعہ کا رواج
امام صاحبؒ کی زندگی ہی میں اس مجموعہ نے وہ حسنِ قبول حاصل کیا کہ اس وقت کے حالات کے لحاظ سے مشکل سے قیاس میں آ سکتا ہے۔ جس قدر اس کے اجزاء تیار ہو جاتے تھے ساتھ ہی ساتھ تمام ملک میں اس کی اشاعت ہوتی جاتی تھی۔ امام صاحبؒ کی درسگاہ ایک قانونی مدرسہ تھا جس کے طلباء نہایت کثرت سے ملکی عہدوں پر مامور ہوتے اور ان کی آئینِ حکومت کا یہی مجموعہ تھا۔

تعجب یہ ہے کہ جن لوگوں کا امام صاحبؒ سے ہم عصری کا دعوی تھا وہ بھی اس کتاب سے بے نیاز نہ تھے۔ زائدہؒ کا بیان ہے کہ میں نے ایک دن سفیان ثوریؒ کے سرہانے ایک کتاب دیکھی جس کا وہ مطالعہ کر رہے تھے۔ ان سے اجازت مانگ کر میں اس کو دیکھنے لگا تو ابو حنیفہؒ کی کتاب "کتاب الرہن" نکلی۔ میں نے تعجب سے پوچھا کہ "آپ ابو حنیفہؒ کی کتابیں دیکھتے ہیں؟" بولے"کاش ان کی سب کتابیں میرے پاس ہوتیں۔"


سلا طین اکثر حنفی تھے
ایک خاص بات یہ ہے کہ عنانِ حکومت جن لوگوں کے ہاتھ میں رہی وہ اکثر حنفی فقہ کے ہی پابند تھے خلفاءِ عباسیہ میں عبد اللہ بن معتز جو فنِ بدیع کا موجد تھا اور خلفاء عباسیہ میں سب سے بڑ ا شاعر اور ادیب تھا وہ حنفی المذہب تھا۔ ( تاریخ ابن خلکان)۔

خلافتِ عباسیہ کے تنزل کے ساتھ جن خاندانوں کو عروج ہوا اکثر حنفی تھے۔ خاندانِ سلجوق جس نے ایک وسیع مدت تک حکومت کی اور جن کے دائرہ حکومت کی وسعت طول میں کاشغر سے لے کر بیت المقدس تک اور عرض میں قسطنطنیہ سے بلادِ خرز تک پہنچی، حنفی تھا۔

محمود غزنوی جس کے نام سے ہندوستان کا بچہ بچہ واقف ہے فقہ حنفی کا بہت بڑ ا عالم تھا۔ فن فقہ میں اس کی ایک نہایت عمدہ تصنیف موجود ہے جسکا نام"التفرید" ہے اور جس میں کم و بیش ساٹھ ہزار مسئلے ہیں۔

نورالدین زنگی کا نام چھپا ہوا نہیں ہے وہ ہمارے ہیروز میں داخل ہے۔ بیت المقدس کی لڑائیوں میں اول اسی نے نام حاصل کیا۔ صلاح الدین فاتحِ بیت المقدس اسی کے دربار کا ملازم تھا۔ دنیا میں پہلا دارالحدیث اس نے قائم کیا۔ وہ خود اور اس کا تمام خاندان مذہباً حنفی تھا۔ (الجوہر المضئیہ)۔

الملک المعظم عیسی بن الملک العادل جو ایک وسیع ملک کا بادشاہ تھا۔ علامہ ابن خلقانؒ لکھتے ہیں کہ وہ نہایت عالی ہمت، فاضل، ہوشمند، دلیر، پر رعب تھا اور حنفی مذہب میں غلو رکھتا تھا۔ چراکسۂ مصر جو نویں صدی کے آغاز میں مصر کی حکومت پر پہنچے اور ایک سو اڑتالیس برس تک فرماں روا رہے اور بہت سی فتوحات حاصل کیں خود حنفی تھے اور ان کے دربار میں اسی مذہب کا فروغ تھا۔

سلاطینِ ترک جو کم و بیش چھ سو برس سے روم کے فرماں رواں ہیں۔ آج انہی کی سلطنت اسلام کی عز ت و وقار کی امید گاہ ہے عموماً حنفی تھے۔ خود ہمارے ہندوستان کے فرماں رواں خوانین اور آل تیمور اسی مذہب کے پابند رہے اور ان کی وسیع سلطنت میں اس طریقہ کے سوا اور کسی طریقہ کو رواج نہ ہو سکا۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
فقہ حنفی کے اصول
امام حنیفہؒ کے نزدیک مصادر و استنباط کی ترتیب اس طرح تھی: پہلے قرآن پھر حدیث پھر صحابہ کرامؓ کے متفقہ فتاویٰ، اگر صحابہ کرامؓ کے مابین کسی مسٔلہ میں اختلاف ہو تا تو کسی بھی ایک صحابی کی رائے کو ضرور اختیار فرماتے، سب سے ہٹ کر اپنی کوئی رائے نہیں رکھتے، البتہ تابعین کے اقوال کو اس بناء پر ترک فرما دیتے کہ وہ آپ کے ہم مرتبہ لوگ تھے۔ آپ کے خاص شاگرد امام محمدؒ فرماتے ہیں امام ابو حنیفہؒ کے تلامذہ قیاس کے باب میں کھل کر بحث و مباحثہ کر تے لیکن جب آپ دلیل استحسانی پیش کرتے تو سب لوگ خاموش ہو جاتے۔ ابنِ حزمؒ کا بیان ہے کہ"تمام اصحابِ ابو حنیفہؒ اس بات پر متفق ہیں کہ امام صاحبؒ کا مذہب یہ تھا کہ ضعیف حدیث بھی اگر مل جائے تو اس کے مقابلہ میں قیاس اور رائے کو چھوڑ دیا جائے گا۔"


نصوصِ شرعی کے مطابق
حنفی فقہ کی ایک سب سے بڑی خصوصیت ہے کہ جو احکام نصوص سے ماخوذ ہیں اور جن میں ائمہ کا اختلاف ہے ان میں امام ابو حنیفہؒ جو پہلو اختیار کرتے ہیں وہ عموماً نہایت قوی اور مدلل ہوتا ہے۔

لہذا اگر یہ ثابت ہو جائے کہ حنفی فقہ کے مسائل نصوصِ قرآن سے زیادہ مطابق ہیں تو مہمات مسائل میں فقہ حنفی کی ترجیح بہ آسانی ثابت ہو جائیگی اور اس کے ساتھ یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ امام ابو حنیفہؒ کو حیثیتِ اجتہاد میں تمام ائمہ پر ترجیح ہے کیونکہ اجتہاد کا دار و مدار زیادہ تر استنباط اور استخراج پر مبنی ہے۔


نصوصِ قرآنی سے استنباط
مثلاً امام ابو حنیفہؒ کا مذہب ہے کہ وضو میں چار فرض ہیں۔ امام شافعیؒ دو فرض کا اور اضافہ کرتے ہیں یعنی نیت اور ترتیب۔ امام مالکؒ ان کے بجائے موالات ( یعنی پہ در پہ) کو فرض کہتے ہیں۔ امام احمدؒ بسم اللہ کہنے کو بھی فرض قرار دیتے ہیں۔ امام صاحب کا استدلال قرآن کی آیت ہے۔ ( فاغسلوا۔ ۔ ۔ الخ) جس میں بالاتفاق صرف چار حکم مذکور ہیں۔ اس لئے جو چیز ان احکام کے علاوہ ہیں فرض نہیں ہو سکتی، نیت، موالات اور تسمیہ کا تو آیت میں کہیں وجود بھی نہیں ہے۔

دوسرا مسئلہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب ہے کہ اثنائے نماز میں پانی مل جائے تو تیمم جاتا رہے گا۔ امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبلؒ اس کے مخالف ہیں امام صاحبؒ کا استدلال قرآن کی آیت لم تجدوا ماءً فتیمموا یعنی جب پانی نہ ملے تو تیمم کرو۔ صورتِ مذکورہ میں جب شرط باقی نہیں رہی۔ یعنی تیمم کی بقا کے لئے شرط ہے کہ پانی نہ ہو۔ جب پانی مل گیا تو مشروط یعنی تیمم بھی باقی نہیں رہا۔

اسی طرح مقتدی کے لئے قرأتِ فاتحہ کے مسئلہ میں، امام ابو حنیفہؒ کا استدلال اس آیت پر ہے:

واذا قرئ القرآن ماستمعوا لہ و انصتوا۔

فقہ حنفی کے اس طرح کے سینکڑوں ترجیحی مسائل ہیں جن کو اختصار کی بنا پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
احادیثِ صحیحہ میں ترجیح
فقہ حنفی کے مسائل نصوصِ شرعیہ کے زیادہ قریب ہیں۔ جب ایک مسئلہ میں بہت سی احادیث جمع ہو جاتی ہیں تو امام صاحبؒ ان میں جو روایتاً و درایتاً قوی ہوتی ہے اس کو اختیار کرتے ہیں۔ مثلاً ایک مشہور مسئلہ، مسئلہ رفع یدین کو لے لیجئے۔ مثلاً امام اوزاعیؒ جو ملکِ شام کے امام اور فقہ میں مذہبِ مستقل کے بانی تھے، مکہ معظمہ میں امام ابو حنیفہؒ سے ملے اور کہا کہ "عراق والوں سے نہایت تعجب ہے کہ رکوع اور رکوع سے سر اٹھانے کے وقت رفع یدین نہیں کرتے حالانکہ میں نے زہریؒ سے انہوں نے سالم بن عبد اللہؒ سے، انہوں نے عبد اللہ بن عمرؓ سے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان موقعوں پر رفع یدین فرماتے تھے۔

امام ابو حنیفہؒ نے اسکے مقابلہ میں حمادؒ، ابراہیم نخعیؒ، علقمہؒ اور عبد اللہ بن مسعودؓ کے سلسلہ سے حدیث روایت کی کہ آنحضرتﷺ ان موقعوں پر رفع یدین نہیں فرماتے تھے۔ امام اوزاعیؒ نے یہ سن کر کہا "سبحان اللہ! میں تو زہریؒ، سالمؒ، عبد اللہ بن عمرؓ کے ذریعہ حدیث بیان کرتا ہوں آپ اس کے مقابلہ حمادؒ، نخعیؒ، علقمہؒ کا نام لیتے ہیں۔

امام ابو حنیفہؒ نے کہا میرے رواۃ آپ کے راویوں سے زیادہ فقیہ ہیں اور عبد اللہ بن مسعودؓ کا رتبہ خود معلوم ہی ہے، اس لئے ان کی روایت کو ترجیح ہو گی۔

امام محمدؒ کتاب الحج میں لکھتے ہیں عبد اللہ بن مسعودؓ آنحضرتﷺ کے زمانہ میں پوری عمر کو پہنچ چکے تھے۔ سفر و حضر میں ساتھ رہتے تھے اور جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے کہ جماعت کی صفِ اول میں جگہ پاتے تھے بخلاف اس کے عبد اللہ بن عمرؓ کا محض آغاز تھا۔ پیچھے صف میں کھڑا ہونا پڑتا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ کے حرکات و سکنات سے واقف ہو نے کے جو مواقع عبد اللہ بن مسعودؓ کو مل سکے عبد اللہ بن عمرؓ کو کیونکر حاصل ہو سکتے تھے؟ امام محمدؒ کا یہ طرزِ استدلال حقیقت میں اصولِ درایت پر مبنی ہے۔ امام ابو حنیفہؒ نے امام اوزاعیؒ کے سامنے اپنی تقریر میں عبد اللہ بن مسعودؓ کی عظمت و شان کا جو ذکر کیا اس میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔


قیاس کا الزام اور اس کی تردید
عبد اللہ بن مبارکؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے حج کیا تو ابو جعفر محمد بن علی بن حسینؓ بن علی ابی طالبؓ کی زیارت کی۔ ابو جعفر نے امام صاحبؒ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ"تم وہی ہو جو عقل و قیاس کے ذریعے حدیثوں کی مخالفت کر تے ہو؟" ابو حنیفہ نے فرمایا "اللہ کی پناہ تشریف رکھئیے۔ آپ کی تعظیم ہم پر واجب ہے کیونکہ آپ سادات میں سے ہیں۔" ابو جعفر محمد بیٹھ گئے، امام صاحبؒ نے با ادب عرض کیا "حضرت! آپ سے صرف تین مسئلے دریافت کر رہا ہوں جواب عنایت فرمائیں۔ اول یہ کہ مرد زیادہ کمزور ہے یا عورت؟" فرمایا "عورت۔" امام صاحبؒ نے عرض کیا"مرد اور عورت کے کیا کیا حصے وراثت میں ہوتے ہیں؟" ابو جعفر نے فرمایا"عورت کا حصہ مرد کے حصہ کا آدھا ہوتا ہے۔" امام ابو حنیفہؒ نے عرض کیا اگر میں قیاس سے کہتا اور عقل کا استعمال کرتا تو اسکے برعکس کہتا کیونکہ عورت مرد سے کمزور ہے لہٰذا اس کا دو حصہ ہو نا چاہیے تھا۔

دوسرا مسئلہ عرض یہ ہے کہ نماز افضل ہے یا روزہ؟ فرمایا "نماز" تب امام صاحبؒ نے عرض کیا اگر میں قیاس سے کہتا تو دوسرا حکم دیتا اور کہتا کہ حائضہ عورت نماز کی قضا کرے، روزہ کی نہیں، کیونکہ نماز روزہ سے افضل ہے۔

تیسرا مسئلہ امام صاحب نے دریافت کیا کہ پیشاب زیادہ نجس ہے یا منی؟ فرمایا"پیشاب زیادہ نجس ہے۔" اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا کہ اگر میں قیاس سے کہتا تو یہ حکم دیتا کہ پیشاب سے غسل واجب ہے، منی سے نہیں کیونکہ پیشاب زیادہ نجس ہے۔ اللہ کی پناہ کہ میں حدیث کے خلاف کوئی بات کہوں میں تو حدیث کے چاروں طرف پھرتا ہوں۔ یہ سن کر ابو جعفر محمد کھڑے ہو گئے اور ابو حنیفہ کا منہ چوم لیا۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
اصطلاحاتِ فقہ حنفیہ
  • فرض: حنفیہ کے نزدیک فرض وہ ہے جس کا مطالبہ ایسی دلیل کے ساتھ کیا جائے جو نزول اور دلالت دونوں میں قطعی ہو مثلاً آیتِ قرآنیہ اور وہ حدیثیں جو نص ہونے کے ساتھ تواتر یا شہرت کے ذریعہ قطعی طور پر ثابت ہوں۔
  • واجب: وہ ہے جس کا مطالبہ ایسی دلیل کے ساتھ کیا جائے جو نزول یا دلالت یا دونوں طریقہ سے ظنی ہو۔ مثلاً دو رکعتوں میں قرآن مجید کی ممکن آیتوں کا پڑھنا فرض اور ان دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اور فرض کے چھوڑنے کا نتیجہ یہ ہو گا کہ نماز باطل ہو جائے گی، اور سہواً واجب کے چھوڑنے سے سجدۂ سہو لازم آئے گا۔
  • فرضِ کفایہ: شارع کے اس مطالبہ کا نام ہے جس میں اس کا کرنے والا مقصود نہ ہو اس لئے اگر کسی مکلف نے اس کو کر دیا تو باقی لوگ گناہ سے سبکدوش ہو گئے، لیکن اگر سب نے اس کو چھوڑ دیا تو سب کے سب گناہ گار ہونگے۔
  • شرط: جس مامور بہ پر اس کا غیر موقوف ہو، وہ اس کی حقیقت سے خارج ہو تو فقہا اس کو شرط کہتے ہیں مثلاً نماز کے لئے قبلہ کی طرف رخ کرنا اور اس کا جزو ہو تو اس کا نام رکن رکھتے ہیں مثلاً نماز میں رکوع۔
  • سنت: حنفیہ کی اصطلاح میں سنت اس کو کہتے ہیں جس کو رسولﷺ نے ہمیشہ کیا ہو، البتہ کبھی کبھی اس کو بلا ناغہ چھوڑ بھی دیا ہو اور مندوب اور مستحب وہ ہے جس کو آپﷺ نے ہمیشہ نہ کیا ہو، چنانچہ حنیفہ کے نزدیک حرام فرض کا مقابل، مکروہ تحریمی واجب کا مقابل اور مکروہ تنزیہی سنت کا مقابل ہے اور شارع نے جس چیز کے کرنے یا نہ کرنے کا مطالبہ نہیں کیا ہے۔ اس کو مباح کہتے ہیں۔ (تاریخِ فقہ اسلامی)
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363

فقہ حنفی کا اصولِ عقلی کے موافق اسرار اور مصالح
سب سے مقدم اور قابلِ قدر خصوصیت جو فقہ حنفی کو حاصل ہے وہ مسائل کا اسرار اور مصالح پر مبنی ہونا ہے۔ تمام مہماتِ مسائل کی مصلحت اور غایت خود کلامِ الہی میں مذکور ہے۔ کفار کے مقابلہ میں قرآن کا طرزِ استدلال عموماً اسی اصول کے مطابق ہے نماز کی مصلحت خدا نے خود بتائی کہ۔ "تنہی عن الفحشاء والمنکر" روزہ کی فرضیت کے ساتھ ارشاد ہوا "لعلکم تتقون"جہاد کی نسبت فرمایا "حتی لاتکون فتنۃ"اسی طرح اور احکام کے متعلق قرآن اور حدیث میں جا بجا تصریحیں اور اشارے موجود ہیں کہ ان کی غرض و غایت کیا ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کا یہی مذہب تھا اور یہ اصول ان کے مسائلِ فقہ میں عموماً مرعی ہے۔ اسی کا اثر ہے کہ حنفی فقہ جس قدر اصولِ عقلی کے مطابق ہے اور کوئی فقہ نہیں۔ امام طحاویؒ نے جو محدث اور مجتہد دونوں تھے اس بحث میں ایک کتاب لکھی ہے جو "شرح معانی الآثار" کے نام سے مشہور ہے۔ اور جس کا موضوع یہ ہے کہ مسائلِ فقہ کو نصوص و طریقِ نظر سے مشابہ کیا جائے۔

مثلاً ایک مسئلہ جس میں امام ابو حنیفہؒ اور دوسرے ائمہ مختلف ہیں یہ ہے کہ چار پاؤں والے جانور کی زکوٰۃ ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک زکوٰۃ میں جانور یا اس کی قیمت ادا کی جا سکتی ہے۔

امام شافعیؒ کے نزدیک قیمت ادا کرنے سے زکوٰۃ ہو ہی نہیں سکتی، حالانکہ زکوٰۃ کی غرض حاصل ہونے میں جانور اور اس کی قیمت دونوں برابر ہیں اس لئے شارع نے بھی کوئی تخصیص نہیں فرمائی۔ اور سینکڑوں مسائل ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ حنفی مسائل میں ہر جگہ مصالح اور اسرار کی خصوصیت ملحوظ ہے لیکن ہم طوالت کے لحاظ سے ان سب کی تفصیل نہیں کر سکتے معاملات کے مسائل میں یہ عقدہ زیادہ حل ہو جاتا ہے اور صاف نظر آتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب کس قدر مصالح اور اسرار کے موافق ہے​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
آسان اور سہل ہونا
دوسری خصوصیت فقہ حنفی کا آسان اور سہل ہونا ہے حنفی فقہ تمام اور فقہوں بالمقابل عمل کیلئے زیادہ آسان ہے۔ قرآن مجید میں متعدد جگہ آیا ہے کہ خدا تم لوگوں کے ساتھ آسانی چاہتا ہے" سختی نہیں چاہتا" رسول اﷲﷺ کا قول ہے کہ۔ ۔ "میں نرم اور آسان شریعت لے کر آیا ہوں۔" بلا شبہ اسلام کو تمام اور مذہبوں کے مقابلے میں یہ فخر حاصل ہے کہ وہ رہبانیت سے نہایت بعید ہے اس میں عباداتِ شاقہ نہیں ہیں اس کے مسائل آسان اور یسیر التعمیل ہیں۔ حنفی فقہ کو بھی اور فقہوں پر یہی ترجیح حاصل ہے۔

مثلاً سرقہ یعنی چوری کا مسئلہ جس میں اس قدر تو سب کے نزدیک مسلم ہے کہ سرقہ کی سزا قطعِ ید یعنی ہاتھ کاٹنا ہے۔ لیکن مجتہدین نے سرقہ کی تعریف میں چند شرطیں اور قیدیں لگائی ہیں جن کے بغیر قطعِ ید کی سزا نہیں ہو سکتی ان شروط کے لحاظ سے احکام پر جو اثر پڑتا ہے وہ ذیل کے جزئیات سے معلوم ہو گا جس سے یہ بھی معلوم ہو گا کہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب کس قدر آسان اور تمدن و شائستگی کے کس قدر موافق ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے مسائل اور دیگر ائمہ کے مسائل

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک نصابِ سرقہ کم از کم ایک اشرفی ہے۔
اور ائمہ کے نزدیک ایک اشرفی کا ربع۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک اگر ایک نصاب میں متعدد چوروں کا ساجھا ہے تو کسی کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
امام احمدؒ کے نزدیک ہر ایک کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک نادان بچہ پر قطعِ ید نہیں۔
امام مالکؒ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک کفن چور پر قطع ید نہیں۔
اور ائمہ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک زوجین میں سے اگر ایک دوسرے کا مال چرائے تو قطعِ ید نہیں۔
امام مالکؒ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک بیٹا باپ کا مال چرائے تو قطع ید نہیں۔
امام مالکؒ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرابتِ قریبہ والے مثلاً چچا بھائی وغیرہ پر قطعِ ید نہیں۔
اور ائمہ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ایک شخص کسی سے کوئی چیز مستعار لے کر انکار کر گیا تو قطعِ ید نہیں۔
اور ائمہ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ایک شخص نے ایک چیز چرائی پھر بذریعہ ہبہ یا بیع اس کا مالک ہو گیا تو قطعِ ید نہیں۔
اور ائمہ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک غیر مذہب والے جو مستامن ہو کر اسلام کی عملداری میں رہتے ہیں ان پر قطعِ ید نہیں۔
اور ائمہ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک قرآن مجید کے سرقہ پر قطعِ ید نہیں۔
امام شافعیؒ و مالکؒ کے نزدیک ہے۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک لکڑی یا جو چیزیں جلد خراب ہو جاتی ہیں سرقہ سے قطعِ ید لازم نہیں آتا۔
اور ائمہ کے نزدیک لازم آتا ہے۔

ان تمام مسائل میں امام ابو حنیفہؒ کا مذہب دوسرے ائمہ سے مخالف ہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حنفی فقہ دوسرے فقہوں کی طرح تنگ اور سخت گیر نہیں ہے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
تمدن کے موافق
تیسری خصوصیت فقہ حنفی میں معاملات کے متعلق جو قاعدے ہیں نہایت وسیع تمدن کے موافق ہیں۔

فقہ کا بہت بڑا حصہ جس سے دنیوی ضرورتیں متعلق ہیں معاملات کا حصہ ہے۔ اور یہی وہ موقع ہے جہاں ہر مجتہد کی دقتِ نظر اور نکتہ شناسی کا پورا اندازہ ہو سکتا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے زمانے تک معاملات کے احکام ایسے ابتدائی حالت میں تھے کہ متمدن اور تہذیب یافتہ ممالک کے لئے بالکل ناکافی تھے۔ نہ معاہدات کے استحکام کے قاعدے منضبط تھے نہ دستاویزات وغیرہ کی تحریر کا اصول قائم ہوا تھا۔ نہ فصل و قضا، یا ادائے شہادت کا کوئی باقاعدہ طریقہ تھا۔

امام ابو حنیفہؒ پہلے شخص ہیں جو ان چیزوں کو قانون کی صورت میں لائے۔ لیکن افسوس ہے کہ مجتہدین جو ان کے بعد ہوئے انہوں نے بجائے اس کے کہ اس کو اور وسعت دیتے اسی غیر تمدنی حالت کو قائم رکھنا چاہا جس کا منشاء وہ زاہدانہ خیالات تھے جو علمائے مذہب کے دماغوں میں جاگزیں تھے۔

امام ابو حنیفہؒ نے جس دقتِ نظر اور نکتہ شناسی کے ساتھ احکام منضبط کئے اس کا صحیح اندازہ تو اس وقت ہو سکتا ہے کہ معاملات کے چند ابواب کا ایک مفصل تبصرہ لکھا جائے۔ لیکن ایسی مفصل کتاب کے لئے نہ وقت مساعد ہے اور نہ ہی اس مختصر کتاب میں اس کی گنجائش ہے۔ تاہم مالایدرک کلہ لا یترک کلہ۔ اس لئے نمونہ کے طور پر ہم صرف نکاح کا ذکر کرتے ہیں جو عبادات اور معاملات دونوں کا جامع ہے۔

قرآن مجید میں محرّمات کے نام تصریحاً مذکور ہیں۔ اس لئے اصل مسئلہ میں اختلاف پیدا ہو گیا انہیں مسائل میں حرمت یا زنا کا مسئلہ ہے جو امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے اختلاف کا ایک معرکۃ الآراء مسئلہ ہے۔ امام شافعیؒ کا مذہب ہے کہ زنا سے حرمت کے احکام نہیں پیدا ہوتے۔ مثلاً باپ نے کسی عورت سے زنا کیا تو بیٹے کا نکاح اس عورت سے نا جائز نہیں۔

امام شافعیؒ نے اس کو یہاں تک وسعت دی کہ ایک شخص نے اگر کسی عورت کے ساتھ زنا کیا اور اس سے لڑکی پیدا ہوئی تو خود وہ شخص اس لڑکی سے نکاح کر سکتا ہے۔ ان کی دلیل ہے کہ زنا ایک حرام فعل ہے اس لئے وہ حلال کوحرام یا حرام کو حلال نہیں کر سکتا۔ امام ابو حنیفہؒ اس کے بالکل مخالف ہیں ان کے نزدیک مقاربت کے ذریعہ سے مرد اور عورت کے تعلقات پر جو فطری اثر پڑتا ہے وہ نکاح پر محدود نہیں ہے۔ اور یہ بالکل صحیح ہے محرمات کی حرمت جس اصول پر مبنی ہے۔ اس کو نکاح کے ساتھ خصوصیت نہیں۔ اپنے نطفہ سے جو اولاد ہو، گو زنا ہی سے ہو، اس کے ساتھ نکاح و مقاربت کو جائز رکھنا بالکل اصولِ فطرت کے خلاف ہے۔ باپ کی موطوءہ کا بھی یہی حال ہے وعلی ہذا القیاس۔

دوسری بحث یہ ہے کہ معاملۂ نکاح کا مختار کون ہے؟ یہ ایک نہایت مہتم بالشان سوال ہے اور نکاح کے اثر کی خوبی اور برائی بہت کچھ اسی پر منحصر ہے۔ امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک عورت گو عاقلہ بالغہ ہو نکاح کے بارے میں خود مختار نہیں ہے۔ یعنی کسی حال میں وہ اپنا نکاح آپ سے نہیں کر سکتی بلکہ ولی کی محتاج ہے۔ ان بزرگوں نے ایک طرف تو عورت کو اس قدر مجبور کیا دوسری طرف ولی کو ایسے اختیارات دیئے ہیں کہ وہ زبردستی جس شخص کے ساتھ چاہے باندھ دے۔ عورت کسی حال میں انکار نہیں کر سکتی۔

امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک بالغہ عورت اپنے نکاح کی آپ مختار ہے بلکہ اگر نابالغی کی حالت میں ولی نے نکاح کر دیا ہو تو بالغ ہو کر وہ نکاح فسخ کر سکتی ہے اس بحث میں امام شافعیؒ کا مدار محض نقلی دلیلوں پر ہے۔ لیکن اس میدان میں بھی امام ابو حنیفہؒ ان سے پیچھے نہیں۔ اگر امام شافعیؒ کو لانکاح الا بولی پر استدلال ہے تو امام صاحب کی طرف الثیب احق بنفسہا من ولیہا والبکر تستاذن فی نفسہا موجود ہے لیکن اس بحث کا یہ موقع نہیں۔


ذمیوں کے حقوق
چوتھی خصوصیت جو حنفی فقہ کو حاصل ہے وہ یہ ہے کہ اس نے ذمیوں یعنی ان لوگوں کو جو مسلمان نہیں ہیں لیکن مسلمانوں کی حکومت میں مطیعانہ رہتے ہیں نہایت فیاضی اور آزادی سے حقوق بخشے۔ امام ابو حنیفہؒ نے ذمیوں کو جو حقوق دیئے ہیں دنیا میں کسی حکومت نے کبھی کسی غیر قوم کو نہیں دیئے۔ یورپ جس کو اپنے قانونِ انصاف پر بڑا ناز ہے بے شک زبانی دعویٰ کر سکتا ہے لیکن عملی مثالیں نہیں پیش کر سکتا۔ حالانکہ امام ابو حنیفہؒ کے یہ احکام اسلامی گورنمنٹوں میں عموماً نافذ تھے۔ اور خاص کر ہارون الرشید کی وسیع حکومت انہی احکام پر قائم تھی۔

سب سے بڑا مسئلہ قتل و قصاص کا ہے۔ امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک ذمیوں کا خون مسلمانوں کے خون کے برابر ہے۔ یعنی اگر مسلمان ذمی کو عمداً قتل کر ڈالے تو مسلمان بھی اس کے بدلے قتل کیا جائے گا اور اگر غلطی سے قتل کر دے تو جو خون بہا مسلمان کے قتل بالخطا سے لازم آتا ہے وہی ذمی کے قتل سے بھی لازم آئے گا۔

امام ابو حنیفہؒ نے ذمیوں کے لئے اور جو قواعد مقرر کئے وہ نہایت فیاضانہ قواعد ہیں۔ وہ تجارت میں مسلمانوں کی طرح آزاد ہیں ہر قسم کی تجارت کر سکتے ہیں اور ان سے اسی شرح سے ٹیکس لیا جائے گا جس طرح مسلمانوں سے لیا جاتا ہے۔ جزیہ جو ان کی محافظت کا ٹیکس ہے اس کی شرح، حسبِ حیثیت قائم کی جائے گی۔ مفلس شخص جزیہ سے بالکل معاف ہے اگر کوئی شخص جزیہ کا باقی دار ہو کر مر جائے تو جزیہ ساقط ہو جائے گا۔ ذمیوں کے معاملات انہی کی شریعت کے موافق فیصل کئے جائیں گے۔ یہاں تک کہ مثلاً اگر کسی مجوسی نے اپنی بیٹی سے نکاح کیا تو اسلامی گورنمنٹ اس نکاح کو اس کی شریعت کے موافق صحیح تسلیم کرے گی۔ ذمیوں کی شہادت ان کے باہمی مقدمات میں قبول ہو گی۔

اب اس کے مقابلے اور ائمہ کے مسائل دیکھو۔ امام شافعیؒ کے نزدیک کسی مسلمان کو، گو بے جرم اور عمداً کسی ذمی کو قتل کیا ہوتا ہم وہ قصاص سے بری رہے گا۔ صرف دیت دینی ہو گی۔ یعنی مالی معاوضہ ادا کرنا ہو گا۔ وہ بھی مسلمان کی دیت کی ایک ثلث اور امام مالکؒ کے نزدیک نصف۔ تجارت میں یہ سختی ہے کہ ذمی اگر تجارت کا مال ایک شہر سے دوسرے شہر کو لے جائے تو سال میں جتنی بار لے جائے ہر بار اس سے نیا ٹیکس لیا جائے گا۔ جزیہ کے متعلق امام شافعیؒ کا مذہب ہے کہ کسی حال میں ایک اشرفی سے کم نہیں ہو سکتا اور بوڑھے، اندھے، اپاہج، مفلس، تارک الدنیا تک اس سے معاف نہیں ہو سکتا۔ بلکہ امام شافعیؒ سے ایک روایت ہے کہ جو شخص مفلس ہونے کی وجہ سے جزیہ نہیں ادا کر سکتا وہ اسلام کی عملداری میں نہ رہنے پائے۔

خراج جو ان پر حضرت عمرؓ کے زمانے میں مقرر کیا گیا تھا اس پر اضافہ ہو سکتا ہے مگر کمی نہیں ہو سکتی۔ ذمیوں کی شہادت گو فریقین مقدمہ ذمی ہوں کسی حال میں مقبول نہیں اس مسئلہ میں امام مالکؒ و امام شافعیؒ دونوں متفق الرائے ہیں۔ ذمی اگر کسی مسلمان کو قصداً قتل کر ڈالے یا کسی مسلمان عورت کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو تواسی وقت اس کے تمام حقوق باطل ہو جائیں گے اور وہ کافر حربی سمجھا جائے گا۔

یہ تمام احکام ایسے سخت ہیں کہ جن کا تحمل ایک ضعیف سے ضعیف محکوم قوم بھی نہیں کر سکتی۔ اور یہی وجہ ہے کہ امام شافعیؒ وغیرہ کا مذہب سلطنت کے ساتھ نہ نبھ سکا۔ مصر میں بے شبہ ایک مدت تک گورنمنٹ کا مذہب شافعیؒ تھا لیکن اس کا یہ نتیجہ تھا کہ عیسائی اور یہودی قومیں اکثر بغاوت کرتی رہیں۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363

فقہی مسلک
خطیبؒ نے حمزہ سکری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ جب کسی مسئلے میں رسولِ پاک ﷺ کی حدیث ہو تو میں اسے چھوڑ کر کسی طرف نہیں جاتا بلکہ اسی کو اختیار کرتا ہوں۔ اگر صحابہؓ کے آثار ہوں اور مختلف ہوں تو انتخاب کرتا ہوں اور اگر تابعین کی بات ہو تو ان کی مزاحمت کرتا ہوں۔ یعنی ان کی طرح میں بھی اجتہاد کرتا ہوں۔

خطیبؒ نے ابوغسان سے روایت کی انہوں نے اسرائیل سے سنا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ نعمان بہترین آدمی ہیں۔ جس حدیث میں کوئی فقہی حکم ہوتا ہے اس کے وہ حافظ تھے اور اس کے اندر ان کا غور و فکر اچھوتا تھا۔ اسی وجہ سے خلفاء، وزراء اور امراء نے آپ کا اکرام کیا۔ جب کوئی آدمی ان سے کسی فقہی مسئلہ پر مباحثہ کرتا تو اسے اپنی ہی جان چھڑانی مشکل ہو جاتی تھی۔

ابوعبداﷲ محمد بن سفیان غنجار اپنی تاریخ میں نعیم بن عمر سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ کو کہتے ہوئے سنا کہ لوگ بڑے عجیب ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں اپنی رائے سے فتویٰ دیتا ہوں حالانکہ میں آثار کے مطابق فتویٰ دیتا ہوں۔

ابوالمظفر سمعانی نے اپنی کتاب "الانتصا ر۔" ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں اور ابواسماعیل ہروس نے "ذم العظام" میں نوح الجامع سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے عرض کیا کہ لوگوں نے اعراض اور اجسام جیسی نئی باتوں میں کلام شروع کر رکھا ہے آپ اس میں کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا یہ فلسفیوں کی باتیں ہیں۔ تم آثار اور طریقِ سلف کو اپنے لئے لازم کر لو اور ہر نئی چیز سے بچو کہ وہ بدعت ہے۔

ہروی نے امام محمد بن حسن شیبانیؒ سے نقل کیا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے بد دعا دی کہ اﷲ کی لعنت ہو عمرو بن عبید پر (یہ اپنے زمانہ میں معتزلہ کا رئیس تھا) اس نے لوگوں کے لئے ایسے کلام کا راستہ کھول دیا جس میں ان کا کوئی فائدہ نہیں۔

ابو عبداﷲ صیمریؒ سے اسماعیل بن حماد نے روایت کی کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا جس پر ہم ہیں وہ ایک رائے ہے کسی کو اس پر مجبور نہیں کرتے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ اس کا قبول کرنا کسی پر واجب ہے۔ اگر کسی کے پاس اس سے بہتر رائے ہو تو اسے بیان کرنا چاہیے۔ ہم قبول کریں گے۔

خوارزمی نے حسن بن زیادؒ سے روایت کی ہے کہ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ "کسی انسان کے لئے جائز نہیں کہ کتاب اﷲ اور سنتِ رسول اﷲﷺ اور اجماع صحابہؓ کے ہوتے ہوئے اپنی رائے سے کچھ کہے۔

جس باب میں صحابہؓ کا اختلاف ہو اس میں امام صاحبؒ ان کا قول لیتے ہیں جن کا قول قرآن اور سنت سے زیادہ قریب ہو اور کوشش کرتے ہیں کہ اقرب کو حاصل کر لیں اور جب بات ان تینوں سے آگے چلی جاتی ہے تب اپنی رائے سے اجتہاد کرتے ہیں۔ اور ان لوگوں کو پوری اجازت دیتے ہیں جو اختلاف اور قیاس کو جانتے ہیں کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں۔

شعبیؒ نے مسروقؒ سے نقل کیا کہ جس نے کسی گناہ کی نذر مانی اس پر کوئی کفارہ نہیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے شعبیؓ سے عرض کیا اﷲ تعالی نے ظہار میں کفارہ مقرر فرمایا اور معصیت قرار دیا چنانچہ ارشاد ہے "انہم یقولون منکراً من القول وزورا۔"(المجادلۃ) شعبیؒ نے فرمایا "أقیاس أنت؟"

خوارزمی نے عبداﷲ بن مبارکؓ سے روایت کی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے کتاب و سنت سے دلیل کے بغیر کسی مسئلے میں لب کشائی نہیں کی۔

امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ قیاس میں سارے لوگ امام ابو حنیفہؒ کے محتاج ہیں۔

صیمری نے حسن بن صالح سے روایت کی کہ امام ابو حنیفہؒ ناسخ اور منسوخ احادیث کی تلاش بہت زیادہ کرتے تھے تاکہ جب نبی کریم ﷺ سے اس کا ثبوت ہو جائے تو اس پر عمل کریں۔ اہل کوفہ احادیث کے حافظ اور ان کے پکے متبع تھے۔ نیز کوفہ میں جو حدیثیں پہنچی تھیں ان میں رسول اللہﷺ کے آخری عمل کے بھی متبع تھے۔

حافظ معمر بن راشد سے روایت کی کہ ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر کسی شخص کو میں نہیں جانتا جو فقہ میں گفتگو کر سکے۔ اور اسے قیاس کرنے کا حق ہو۔ اور سمجھداری سے مسائل کا اخراج کر سکتا ہو اسی طرح ان سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والا بھی نہیں دیکھا۔ وہ خدا کے دین میں کوئی شک کی بات داخل کرنے سے اپنے لئے بڑا خوف محسوس کرتے تھے۔

زبیر بن معاویہ کہتے ہیں کہ میں امام ابو حنیفہؒ کے پاس تھا اور ابیض بن الاغر کسی مسئلے میں ان کے ساتھ بحث کر رہے تھے۔ اور آپس میں ایک دوسرے کے خلاف دلیلیں پیش کر رہے تھے۔ اچانک ایک آدمی مسجد کے کنارے سے چیخا، غالباً وہ مدنی تھے۔ امام صاحب کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا "یہ قیّاس ہے اسے چھوڑ دو، کیونکہ سب سے پہلے جس نے قیاس کیا وہ ابلیس تھا۔" اس پر امام صاحبؒ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا "میاں! تم نے اپنی بات بے موقع کہی، ابلیس نے تو اﷲ کے حکم سے سرتابی کی تھی جب کہ ہم اپنے قیاس سے امرِ خداوندی کی اتباع تلاش کر رہے ہیں اور ہم اﷲ کی اتباع کے ارد گرد گھوم رہے ہیں تا کہ اﷲ کے حکم کی اتباع کریں۔ اور ابلیس نے جب قیاس کیا تو اﷲ کے امر کی مخالفت کی لہذا ہم دونوں برابر کس طرح ہو گئے ؟" مرد حق شناس نے عرض کیا ابو حنیفہؒ! مجھ سے غلطی ہو گئی۔ اب میں نے توبہ کر لی اﷲ آپ کے قلب کو منور فرمائے۔ جیسا کہ آپ نے میرے قلب کو منور کیا۔

ابن حزمؒ نے فرمایا کہ ابو حنیفہؒ کے تمام شاگردوں کا اتفاق ہے کہ امام صاحب کے نزدیک ضعیف حدیث قیاس اور رائے سے بہتر ہے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
ضعیف حدیث سے استدلال کا رد
ابو حنیفہؒ پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ آ پ جن احادیث سے استدلال کر تے ہیں وہ اکثر ضعیف ہیں۔

اس اعتراض کا جواب حضرت مولانا تقی عثمانی نے اپنی کتاب "تقلید کی شرعی حیثیت" میں مفصل تحریر فرمایا ہے جسکو مختصراً نقل کیا جا رہا ہے تاکہ لوگوں کو حقیقت کا اندازہ ہو سکے۔


حنفیہ کی کتابوں کا مطالعہ
(1) ضعیف حدیث سے استدلال کا اصل جواب تو یہ ہے کہ احکام کے سلسلہ کی آیتِ قرآنیہ اور احادیث نبویہ کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور پھر حنفیہ کی کتابوں کا انصاف اور حقیقت پسندی سے پڑھا جائے تو حقیقت حال واضح ہو جائے گی خاص طور سے مندرجہ ذیل کتابوں کا مطالعہ اس مکالمہ میں نہایت مفید ہو گا:
  1. شرح معانی الآثار للطحاویؒ​
  2. فتح القدیر، لا بن الہمامؒ​
  3. نصب الرایہ، للزیلعیؒ​
  4. الجوہر النقی، للمداینیؒ​
  5. عمدۃ القاری، للعینیؒ​
  6. فتح الملہم، لمولاناالعثمانیؒ​
  7. بذل المجہود، لمولانا السہارنپوریؒ 8.اعلاء السنن، لمولانا احمد العثمانیؒ​
  8. معارف السنن، لمولانا البنوریؒ​
  9. فیض الباری شرح صحیح البخاریؒ لمولانا انور شاہ کشمیریؒ۔​
ان کتابوں میں قرآن و سنت سے حنفی مسلک کے دلائل شرح و بسط کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں۔


صحیح احادیث صرف بخاری و مسلم میں منحصر نہیں۔
(2) دوسری بات یہ ہے کہ صحیح احادیث صرف بخاری و مسلم ہی میں منحصر نہیں ہیں۔ امام بخاری اور مسلم کے علاوہ سینکڑوں ائمۂ حدیث نے احایث کے مجموعے مرتب فرمائے ہیں دوسری کتابوں کی احادیث بھی بسا اوقات صحیحین کے معیار کی ہو سکتی ہیں۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی حدیث سنداً صحیحین سے بھی اعلیٰ معیار کی ہو سکتی ہو۔ مثلاً ابن ماجہ صحاح ستہ میں چھٹے نمبر کی کتاب ہے لیکن اس میں بعض احادیث جس اعلیٰ سند کے ساتھ آئی ہیں صحیحین میں اتنی اعلیٰ سند کے ساتھ نہیں ( ملاحظہ ہو ماتمس الیہ الحاجۃ) لہٰذا محض یہ دیکھ کر کسی حدیث کو ضعیف کہہ دینا کسی طرح درست نہیں کہ وہ صحیحین یا صحاحِ ستہ میں موجود نہیں بلکہ اصل دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اصولِ حدیث کے لحاظ سے اس کا کیا مقام ہے ؟ اگر یہ بات ذہن میں رہے تو حنیفہ کے مسلک پر بہت سے وہ اعتراضات خود بخود دور ہو جاتے جو بعض سطح بیں حضرات وارد کیا کر تے ہیں۔


مجتہدین کا طرزِ استدلال جداگانہ
(3) تیسری بات یہ ہے کہ ائمہ مجتہدین کے درمیان سینکڑوں فقہی مسائل میں جو اختلافات واقع ہوئے ہیں، اس کا بنیادی سبب ہی یہ ہے کہ مجتہد کا طرزِ استدلال اور طریق استنباط جدا جدا ہو تا ہے۔ مثلاً بعض مجتہد ین کا طرز یہ ہے کہ اگر ایک مسئلے میں احادیث بظاہر متعارض ہوں تو وہ اس روایت کو لے لیتے ہیں جنکی سند سب سے زیادہ صحیح ہو خواہ دوسری احادیث بھی سنداً درست ہوں۔ اس کے بر خلاف بعض حضرات ان روایات کی ایسی تشریح کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسری سے ہم آہنگ ہو جائیں اور تعارض باقی نہ رہے، خواہ کم درجہ کی صحیح یا حسن حدیث کو اصل قرار دے کر اصل حدیث کی خلافِ ظاہر توجیہ کرنی پڑے اور بعض مجتہدین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اس حدیث کو اختیار کر لیتے ہیں جس پر صحابہؓ یا تابعینؒ کا عمل رہا ہو اور دوسری احادیث میں تاویل کرتے ہیں۔

غرض ہر مجتہد کا اندازِ نظر جداگانہ ہے اور ان میں سے کسی کو یہ الزام نہیں دیا جا سکتا کہ اس نے صحیح احادیث کو ترک کر دیا۔ امام ابو حنیفہ عموماً احادیث میں تطبیق کی کوشش فرماتے ہیں اور حتی الامکان ہر حدیث پر عمل کی کو شش کرتے ہیں خواہ سنداً مرجوح ہی کیوں نہ ہو، بلکہ اگر ضعیف حدیث کا کوئی معارض موجود نہ ہو تو اس پر بھی عمل کر تے ہیں، خواہ وہ قیاس کے خلاف ہو، مثلاً نماز میں قہقہہ سے وضو ٹوٹ جانے، شہد پر زکوٰۃ واجب ہے وغیرہ کے متعدد مسائل میں انہوں نے ضعیف احادیث کی بناء پر قیاس کو ترک کر دیا ہے۔​
 
Top
Forgot your password?