History امام اعظم ابو حنیفہؒ

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
احادیث کی تصحیح و تضعیف ایک اجتہادی مسئلہ
(4) احادیث کی تصحیح و تضعیف بھی ایک اجتہاد ی معاملہ ہے، یہی وجہ ہے کہ علمائے جرح و تعدیل کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو تا رہتا ہے۔ ایک حدیث امام کے نزدیک صحیح یا حسن ہوتی ہے اور دوسرا اسے ضعیف قرار دیتا ہے، چنانچہ حدیث کی کتابوں کو دیکھنے سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جاتی ہے۔ لہٰذا بعض اوقات امام ابو حنیفہؒ اپنے اجتہاد سے کسی حدیث کو قابلِ عمل قرار دیتے ہیں اور دوسرے مجتہدین اسے ضعیف سمجھ کر ترک کر دیتے ہیں اور امام ابو حنیفہ چونکہ خود مجتہد ہیں، اس لئے دوسرے مجتہدین کے اقوال ان پر حجت نہیں ہیں۔


امام ابو حنیفہؒ کے بعد کا راوی ضعیف
(5) بسا اوقات ایسا بھی ہو تا ہے کہ ایک حدیث امام ابو حنیفہؒ کو صحیح سند کے ساتھ پہنچی جس پر انہوں نے عمل کیا، لیکن ان کے بعد کے راویوں میں سے کوئی راوی ضعیف آگیا، اس لئے بعد کے ائمہ نے اسے چھوڑ دیا لہٰذا امام ابو حنیفہؒ پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔


ایک حدیث دو سندوں کے ساتھ
(6) اگر کوئی محدث کسی حدیث کو ضعیف قرار دیتا ہے تو بعض اوقات اس کے پیشِ نظر اس حدیث کا کوئی خاص طریق ہوتا ہے، لہٰذا یہ عین ممکن ہے کہ کسی دوسرے طریق میں وہی حدیث صحیح سند کے ساتھ آئی ہو، مثلاً من کان لہ امام فقراۃ الامام لہ قرأۃ کی حدیث بعض محدث نے کسی خاص طریق کی بناء پر ضعیف کہا ہے لیکن مسند احمد اور کتاب الآثار وغیرہ میں یہی حدیث بالکل صحیح سند کے ساتھ آئی ہے۔ اور بسا اوقات ایک حدیث سنداً ضعیف ہوتی ہے لیکن چونکہ وہ متعدد طرق اور اسانید سے مروی ہو تی ہے اور اسے مختلف اطراف سے متعدد راوی روایت کرتے ہیں اس لئے اسے قبول کر لیا جاتا ہے اور محدثین اسے حسن لغیرہٖ کہتے ہیں۔ ایسی حدیث پر عمل کرنے والے کو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس نے ضعیف حدیث سے استدلال کیا ہے۔


صحیح حدیث ضعیف راوی
(7) بعض اوقات ایک حدیث ضعیف ہوتی ہے اور حدیث کے ضعیف ہونے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی سند میں کوئی راوی ضعیف آ گیا ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ضعیف راوی ہمیشہ غلط ہی روایت کرے لہٰذا اگر دوسرے قوی قرائن اس کی صحت پر دلالت کر تے ہوں تو اسے قبول کر لیا جاتا ہے، مثلاً اگر حدیث ضعیف ہو لیکن تمام صحابہؓ اور تابعینؒ اس پر عمل کر تے چلے آ رہے ہوں، تو یہ اس بات کا قوی قرینہ ہے کہ یہاں ضعیف راوی نے صحیح روایت نقل کی ہے، چنانچہ حدیث "لاوصیۃ لوارث" کو اسی بناء پر تمام ائمہ مجتہدین نے معمول بہ قرار دیا ہے۔

بلکہ بعض اوقات اس بناء پر ضعیف روایت کو صحیح سند والی روایت پر ترجیح بھی دے دی جاتی ہے، مثلاً آنحضرتؐ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ کا واقعہ ہے کہ وہ حضرت ابوالعاصؓ کے نکاح میں تھیں، وہ شروع میں کافر تھے، بعد میں مسلمان ہوئے، اب اس میں روایات کا اختلاف ہے کہ انکے اسلام قبول کرنے کے بعد آنحضرتؐ نے سابق نکاح برقرار رکھا تھا یا نیا نکاح کرایا تھا۔

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی روایت میں ہے کہ آپ نے ان کا نکاح کرایا تھا اور مہر بھی نیا مقرر ہوا تھا اور حضرت ابن عباسؓ کی روایت میں ہے کہ آپ نے سابق نکاح باقی رکھا تھا، نیا نکاح نہیں کرایا تھا، ان دونوں روایتوں میں سے پہلی روایت ضعیف ہے اور دوسری صحیح ہے لیکن امام ترمذی جیسے محدث نے تعاملِ صحابہؓ کی وجہ سے پہلی روایت کو اسکے ضعف کے باوجود ترجیح دی ہے گرچہ حنفیہ کا موقف قدرے مختلف ہے۔ (دیکھئے جامع ترمذی کتاب النکاح باب الزوجین المشرکین یسلم احدہما)اسی طرح بعض مر تبہ امام ابو حنیفہؒ بھی اس قسم کے قوی قرائن کی بناء پر کسی ضعیف حدیث پر عمل فرما لیتے ہیں، لہٰذا ان کے خلاف بطورِ الزام پیش نہیں کیا جا سکتا۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
حنفی مسلک کی غلط ترجمانی
(
8)
بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے مذہب کو صحیح سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی، اس بناء پر اسے حدیث کے خلاف سمجھ لیا جاتا ہے حالانکہ وہ حدیث کے عین مطابق ہو تا ہے۔ اس قسم کی غلطیوں میں بعض مشہور اہلِ علم بھی مبتلاء ہو گئے ہیں مثلاً مشہور اہلِ حدیث عالم حضرت مولانا محمد اسمٰعیل سلفی رحمۃ اللہ علیہ نے تعدیلِ ارکان کے مسئلہ میں حنفیہ کے موقف پر اعتراض لکھا ہے!"حدیث شریف میں ہے کہ ایک آدمی نے آنحضرت ؐ کے سا منے نماز پڑھی، اس نے رکوع و سجود اطمینان سے نہیں کیا، آنحضرتﷺ نے اسے تین دفعہ فرمایا صلِ فانک لم تصل(تم نماز پڑھو، تم نے نماز نہیں پڑھی) یعنی شرعاً تمہاری نماز کا کوئی وجود نہیں، اسی حدیث کی بناء پر اہلِ حدیث اور شوافع وغیرہم کا بھی یہی خیال ہے کہ اگر رکوع و سجود میں اطمینان نہ ہو تو نماز نہیں ہو گی، احناف فرماتے ہیں رکوع و سجود کے معانی معلوم ہو جانے کے بعد ہم حدیث کی تشریح اور نماز کی نفی قبول نہیں کر تے" ( تحریکِ آزادیِ فکر ص32)۔

حالانکہ یہ حنفیہ کے مسلک کی غلط ترجمانی ہے، واقعہ یہ ہے کہ حنفیہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ رکوع اور سجدہ تعدیل کے ساتھ نہ کیا جائے تو نماز واجب الاعادہ ہو گی لہٰذا وہ "صل فانک لم تصل" پر پوری طرح عمل پیراہیں، البتہ حقیقت صرف اتنی ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک "فرض" اور"واجب" میں فرق ہے جبکہ دوسرے ائمۂ مجتہدین ان دونوں اصطلاحوں میں فرق نہیں کر تے، امام ابو حنیفہؒ یہ فرماتے ہیں کہ نماز کے فرائض وہ ہیں جو قرآنِ کریم یا متواتر احادیث سے قطعی طریقہ پر ثابت ہوں، جیسے رکوع و سجدہ وغیرہ۔ اور واجبات وہ ہیں جو اخبارِ احادیث سے ثابت ہوں، عملی طور پر اس لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں کہ جس طرح فرض کو چھوڑنے سے نماز دوہرائی جائے گی اسی طرح واجب کو چھوڑ نے سے بھی دوہرائی جائے گی، لیکن دونوں میں یہ نظری فرق ہے کہ فرض کو چھوڑ نے سے آدمی تارکِ نماز کہلائے گا اور اس پر تارک نماز کے احکام جاری ہونگے اور واجب کو چھوڑ نے سے تارکِ نماز نہیں کہلائے گا۔ بلکہ نماز کے ایک واجب کا تارک کہلائے گا، بالفاظِ دیگر فرض نماز تو ادا ہو جائے گی، لیکن اس پر واجب ہو گا کہ وہ نماز کو لوٹائے اور یہ بات حدیث کے مفہوم کے خلاف نہیں، بلکہ اس بات کی تصریح خود اسی حدیث کے آخر میں موجود ہے، جامع ترمذی میں ہے کہ جب آنحضرتؐ نے ان صاحب سے یہ فرمایا کہ "صل فانک لم تصل" ( نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی)تو یہ بات صحابہؓ کو بھی معلوم ہوئی کہ نماز میں تخفیف کرنے والوں کو تارکِ نماز قرار دیا جائے، لیکن تھوڑی دیر بعد جب آپﷺ نے ان صاحب کو نماز کا صحیح طریقہ بتاتے ہوئے تعدیلِ ارکان کی تاکید فرمائی، تو ارشاد فرمایا:۔

فاذا فعلت ذالک فقد تمت صلٰوتک وان انتقصت منہ شےئاً انتقصت من صلاتک(جب تم یہ کام کرو گے تو تمہاری نماز پوری ہو گی اور اگر اس میں تم نے کمی کی تو تمہاری نماز میں کمی واقع ہو جائیگی۔

حضرت رفاعہؓ جو اس حدیث کے راوی ہیں فرماتے ہیں! وکان ہذا اہون علیہم من الاولیٰ انہ من انتقص من ذالک شےئاً انتقص من صلاتہ ولم تذہب کلہا(جامع ترمذی) اور یہ بات صحابہؓ کو پہلی بات سے زیادہ آسان معلوم ہوئی کہ ان چیزوں میں کمی کرنے سے نماز میں کمی تو واقع ہو گی لیکن پوری نماز کالعدم نہیں ہو گی۔

حدیث کا یہ جملہ صراحتاً وہی تفصیل بتا رہا ہے جس پر حنفیہ کا عمل ہے، حنیفہ حدیث کے ابتدائی حصہ پر عمل کرتے ہوئے اس بات کے بھی قائل ہیں کہ تعدیلِ ارکان چھوڑ نے سے نماز کو دہرانا پڑے گا اور آخری حصہ پر عمل کرتے ہوئے اس کے بھی قائل ہیں کہ اسکو چھوڑنے سے آدمی کو تارکِ نماز نہیں کہیں گے بلکہ نماز میں کمی اور کوتاہی کر نے والا کہیں گے۔

اس تشریح کے بعد غور فرمائیے کہ حنفیہ کے موقف کی یہ ترجمانی کہ وہ "حدیث کی تشریح قبول نہیں کر تے" ان کے مسلک کی کتنی غلط اور الٹی تعبیر ہے۔ بہر حال مقصد یہ تھا کہ بعض اوقات حنفی کے کسی مسلک پر اعتراض کا منشاء یہ ہو تا ہے کہ مسلک کی قرار واقعی تحقیق نہیں کی جاتی۔

یہ چند اصولی باتیں ذہن میں رکھ کر حنفیہ کے دلائل پر غور کیا جائیگا تو انشاء اللہ یہ غلط فہمی دور ہو جا ئے گی، کہ حنفیہ کے استدلال ضعیف ہیں یا وہ قیاس کو حدیث پر ترجیح دیتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ایک مجتہد کو یہ تو حق ہے کہ وہ امام ابو حنیفہ کے کسی استدلال سے اختلاف کرے، یا انکے کسی قول سے متفق نہ ہو، لیکن انکے مذہب پر علی الاطلاق ضعف کا حکم لگا دینا یا کہنا کہ وہ قیاس کو حدیث پر ترجیح دیتے ہیں ظلمِ عظیم سے کم نہیں۔


امام عبد الوہاب شعرانی شافعیؒ کے چند اقوال
یوں تو بے شمار محقق علماء نے امام ابو حنیفہؒ کے مدارکِ اجتہاد کی تعریف کی ہے لیکن یہاں ہم ایک شافعی عالم کے چند اقوال نقل کرنے پر اکتفا کر تے ہیں جو قرآن و حدیث اور فقہ و تصوف کے امام سمجھے جاتے ہیں، یعنی شیخ عبد الوہاب شعرانی شافعیؒ یہ بذاتِ خود حنفی نہیں ہیں، لیکن انہوں نے ایسے لوگوں کی سخت تردید کی ہے جو امام ابو حنیفہ یا ان کے فقہی مذہب پر مذکورہ اعتراضات کرتے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی کتاب "المیزان الکبری" میں کئی فصلیں امام ابو حنیفہ کے دفاع ہی کے لئے قائم فرمائی ہیں وہ فرماتے ہیں:

"یاد رکھئے ان فصلوں میں (جو میں نے امام ابو حنیفہؒ کے دفاع کے لئے قائم کی ہیں) میں نے امام ابو حنیفہؒ کی طرف سے کوئی جواب محض قلبی عقیدت یا حسنِ ظن کی بناء پر نہیں دیا، جیسا کہ بعض لوگوں کا دستور ہے، بلکہ میں نے یہ جوابات دلائل کی کتابوں کی پوری چھان بین کے بعد دیے ہیں۔ ۔ ۔ اور امام ابو حنیفہ کا مذہب تمام مجتہدین کے مذاہب میں سب سے پہلے مدون ہونے والا مذہب ہے اور اہل اللہ کے قول کے مطابق سب سے آخر میں ختم ہو گا۔

اور جب میں نے فقہی مذہب کے دلائل پر کتاب لکھی تو اس وقت امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کے اقوال کا تتبع کیا، مجھے ان کے یا ان کے متبعین کا کوئی قول ایسا نہیں ملا جو مندرجہ ذیل شرعی حجتوں میں سے کسی پر مبنی نہ ہو یا تو اس کی بنیاد کوئی قرآن کی آیت ہو تی ہے یا کوئی حدیث، یا صحابی کا اثر یا ان سے مستنبط ہونے والا کوئی مفہوم یا کوئی ایسی ضعیف حدیث جو بہت سی اسا نید اور طرق سے مر وی ہو، یا کوئی ایسا صحیح قیاس جو کسی صحیح اصل پر متفرع ہو، جو شخص اسکی تفصیلات جاننا چاہتا ہے وہ میری اس کتاب کا مطالعہ کر لے۔

آگے انہوں نے لوگوں کی تردید میں ایک پوری فصل قائم کی ہے، جو یہ ہے کہتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے قیاس کو حدیث پر مقدم رکھا اس الزام کے بارے میں وہ لکھتے ہیں:

یاد رکھئے کہ ایسی باتیں وہ لوگ کر تے ہیں جو امام ابو حنیفہؒ سے تعصب رکھتے ہیں اور اپنے دین کے معاملہ میں جری اور اپنی باتوں میں غیر محتاط ہیں اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے غافل ہیں کہ "بلاشبہ کان، آنکھ اور دل میں سے ہر ایک کے بارے میں (محشر میں) سوال ہو گا۔

آگے انہوں نے یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے کہ ایک مر تبہ حضرت سفیان ثوریؒ، مقاتل بن حیانؒ، حماد بن سلمہؒ اور حضرت جعفر صادقؒ امام ابو حنیفہؒ کے پاس آئے اور ان سے اس پروپیگنڈے کی حقیقت معلوم کی کہ وہ قیاس کو حدیث پر مقدم رکھتے ہیں، اس کے جواب میں امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ میں تو قیاس کو قرآن و حدیث ہی نہیں، آثارِ صحابہ کے بھی بعد استعمال کرتا ہوں اور صبح سے زوال تک امام ابو حنیفہؒ ان حضرات کو اپنا موقف سمجھاتے رہے آخر میں یہ چاروں حضرات یہ کہہ کر تشریف لے گئے کہ:

آپ تو علماء کے سردار ہیں، لہٰذا ہم نے ماضی میں آپ کے بارے میں صحیح علم کے بغیر جو بدگمانیاں کی ہیں ان پر آپ ہمیں معاف فرمائیے۔"

اس کے بعد امام شعرانیؒ نے ایک اور فصل ان لوگوں کی تردید میں قائم کی ہے جو امام ابو حنیفہؒ کے اکثر دلائل پرضعیف ہونے کا الزام لگا تے ہیں اور مبسوط بحث کے ذریعہ اس بے بنیاد الزام کی حقیقت واضح کی ہے، پھر ایک اور فصل انہوں نے یہ ثابت کر نے کے لئے قائم کی ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا مسلک دینی اعتبار سے محتاط ترین مذہب ہے، اس میں وہ لکھتے ہیں۔ بحمد للہ میں نے امام ابو حنیفہؒ کے مذہب کا تتبع کیا ہے اور اس کو احتیاط و تقوی کے انتہائی مقام پر پایا ہے۔

امام شعرانیؒ کے یہ چند اقوال محض نمونے کیلئے پیش کر دیئے گئے ہیں ورنہ ان کی یہ پوری بحث قابلِ مطالعہ ہے۔(ملاحظہ ہو المیزان الکبری)​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
عقائد
امام اعظمؒ کی تصنیف کردہ کتابیں جو آپ کی طرف منسوب ہیں وہ عقائد و کلام کے موضوع پر ہیں مثلاً فقہ اکبر، رسالۃ العالم و المتعلم، مکتوب بنام عثمانؒ البتی، کتاب الرد علی القدریہ، العلم شرقا ً و غربا ً و بعدا ً و قرباً۔

امام ابو حنیفہؒ پہلے شخص ہیں جنہوں نے یہ کتابیں تحریر کر کے شیعہ، خوارج اور معتزلہ و مرجیہ کے مقابلہ میں عقیدۂ اہل السنت و الجماعت کو ثابت کیا، امام ابو حنیفہؒ نے اہل سنت کا جو مسلک بتا یا ہے وہ حسبِ ذیل ہیں:
  1. رسول اللہ ﷺ کے بعد افضل الناس ابو بکرؓ ہیں، پھر عمر بن الخطابؓ پھر عثمانؓ، پھرعلیؓبن ابی طالب۔ یہ سب حق پر تھے اور حق کے ساتھ رہے۔​
  2. ہم صحابہؓ کا ذ کر بھلائی کے سوا اور کسی طرح نہیں کر تے۔​
  3. ہم کسی مسلمان کو کسی گناہ کی بناء پر، خواہ وہ کیسا ہی بڑا گناہ ہو کافر نہیں قرار دیتے جب تک کہ وہ اس کے حلال ہو نے کا قائل نہ ہو۔​
  4. ہم مرجیہ کی طرح یہ نہیں کہتے کہ ہماری نیکیاں ضرور مقبول اور ہماری برائیاں ضرور معاف ہو جائیں گی۔​
  5. فرائض و اعمال جزء ایمان نہیں ہیں یعنی عقائد و اعمال دونوں الگ الگ شئی ہیں۔ امام صاحب فرائض و اعمال کو جزء یمان نہیں سمجھتے تھے۔ (اس مسئلہ کو ایک معمولی سمجھ کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ ایمان اعتقاد کا نام ہے جو دل سے متعلق ہے فرائض و اعمال جوارح کے کام ہیں اس لئے نہ ان دونوں سے کوئی حقیقت مرکب ہو سکتی ہے نہ ان میں سے ایک دوسرے کا جز ہو سکتا ہے۔ یہ مسئلہ اگر چہ چنداں مہتم بالشان نہ تھا لیکن اس کے نتائج بہت بڑا اثر رکھتے تھے اسی لحاظ سے امام صاحبؒ نے نہایت آزادی سے اس کا اظہار کیا۔ عمل کو جزء ایمان قرار دینا اس بات کو مستلزم ہے کہ جو شخص اعمال کا پابند نہ ہو وہ مومن بھی نہ ہو جیسا کہ خارجیوں کا مذہب ہے جو مرتکبِ کبائر کو کافر سمجھتے ہیں۔​
  6. الایمان لا یزید ولا ینقص یعنی ایمان کم و بیش نہیں ہوتا ان کے نزدیک جب اعمال جزئِ ایمان نہیں تو اعمال کی کمی بیشی سے ایمان میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی، اور یہ بالکل صحیح ہے حدیث میں آیا ہے کہ ابو بکرؓ کو تم لوگوں پر جو ترجیح ہے و کثرتِ صوم و صلوٰۃ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تاریخ میں پہلے ایمان کی تعلیم دی گئی اس کے بعد پھر اعمال کی۔​
غرض امام صاحب کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ ایمان بلحاظ کیفیت یعنی شدت و ضعف کے زیادہ و کم نہیں ہو سکتا بلکہ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ ایمان مقدار کے اعتبار سے کم و بیش نہیں ہوتا۔ یہ دعویٰ اس بات کی فرع ہے کہ اعمال جزء ایمان نہیں اور اس کو ہم ابھی ثابت کر چکے ہیں۔ یہ عقیدہ اگر چہ امام ابو حنیفہؒ کا اپنا ایجاد کر دہ نہ تھا بلکہ امت کا سوادِ اعظم اس وقت یہی عقیدہ رکھتا تھا، مگر امام نے اسے تحریری شکل میں مر تب کر کے ایک بڑی خدمت انجام دی کیونکہ اس سے عام مسلمانوں کو یہ معلوم ہو گیا کہ متفرق گروہوں کے مقابلہ میں ان کا امتیازی مسلک کیا ہے۔


خلقِ قرآن
امام ابو حنیفہؒ کے زمانہ میں بعض لوگوں نے خلقِ قرآن کا عقیدہ پھیلانا شروع کیا۔ وہ کہتے تھے کہ قرآن اگر چہ نبی ﷺ کا معجزہ ہے مگر ہے خدا کی مخلوق۔

امام ابو حنیفہؒ کے مخالفین کا دعوی تھا کہ آپ بھی اسی نظریے کے حامل تھے۔ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ امام ابو حنیفہؒ خلقِ قرآن کا عقیدہ نہیں رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے ابو یوسفؒ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مسئلہ میں نہ خود کسی رائے کا اظہار کریں اور نہ کسی سے دریافت کریں۔ صرف اتنا کہو کہ یہ کلامِ الہی ہے اور اس میں ایک حرف بھی نہ بڑھاؤ۔


عقیدۂ ختمِ نبوت
ایک آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا جب لوگوں نے علامت طلب کی تو اس نے کہا مجھے علامت لانے تک مہلت دو۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا "جو اس سے علامت طلب کریگا، کافر ہو جائے گا، کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے "لانبی بعدی" میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ لہذا علامت طلب کرنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
وجودِ باری تعالیٰ
ابوالمؤید خوارزمی کے مناقب میں ہے کہ روم کے بادشاہ نے خلیفہؒ کی خدمت میں بہت سا مال بھیجا اور حکم دیا کہ علماء سے تین سوال کئے جائیں۔ اگر جواب دیں تو وہ ان کو دے اور اگر جواب نہ دے سکیں تو خراج ادا کریں۔ خلیفہ نے علماء سے سوال کیا، لیکن کسی نے تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ امام ابو حنیفہؒ کم سن تھے۔ اپنے والدؒ کے ساتھ حاضر ہوئے تھے۔ آپ نے والد صاحب سے جواب کی اجازت مانگی۔ والد صاحب نے منع کر دیا۔ امام صاحبؒ کھڑے ہو گئے اور خلیفہ سے اجازت طلب کی۔ اس نے اجازت دے دی۔ رومی سفیر سوال کرنے کے لئے ممبر پر تھا۔ امام صاحب نے کہا آپ سائل ہیں؟ اس نے کہا "ہاں"اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا "تو پھر آپ کی جگہ زمین ہے اور میری جگہ ممبر ہے۔" وہ اتر آیا۔ امام ابو حنیفہؒ ممبر پر چڑھے اور فرمایا: سوال کرو۔ اس نے کہا اﷲ سے پہلے کیا چیز تھی؟ امام صاحبؒ نے فرمایا عدد جانتے ہو ؟ اس نے کہا "ہاں" امام صاحبؒ نے فرمایا"ایک سے پہلے کیا ہے؟ رومی نے کہا ایک اول ہے، اس سے پہلے کچھ نہیں تو امام صاحبؒ نے فرمایا جب واحد مجازی لفظی سے پہلے کچھ نہیں تو پھر واحدِ حقیقی سے قبل کیسے کوئی ہو سکتا ہے؟

رومی نے دوسرا سوال کیا کہ اﷲ کا منہ کس طرف ہے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا جب تم چراغ جلاتے ہو تو چراغ کا نور کس طرف ہوتا ہے؟ رومی نے کہا "یہ نور ہے، اس کے لئے ساری جہات برابر ہیں" تب امام صاحبؒ نے فرمایا "جب نورِ مجازی کا رخ کسی ایک طرف نہیں، تو پھر جو نورالسموات والارض، ہمیشہ رہنے والا، سب کو نور اور نورانیت دینے والا ہے اس کے لئے کوئی خاص جہت کیسے متعین ہو گی؟

رومی نے تیسرا سوال کیا کہ اﷲ کیا کرتا ہے؟ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا "جب ممبر پر تم جیسا اﷲ کے لئے مماثل ثابت کرنے والا ہو تو اس کو اتارتا ہے اور جو مجھ جیسا موحد ہو اس کو ممبر کے اوپر بیٹھاتا ہے، ہر دن اس کی ایک نرالی شان ہوتی ہے۔"یہ جواب سن کر رومی چپ ہو گیا اور مال چھوڑ کر چلا گیا۔

ایک مرتبہ کچھ دہریہ لوگ (جو خدا کو نہیں مانتے تھے) امام ابو حنیفہؒ کے پاس پہنچ گئے ان کا ارادہ امام صاحب کو قتل کرنے کا تھا امام صاحبؒ نے فرمایا ذرا سی مہلت دو، ایک مسئلہ پر بحث کر لیں پھر جو چاہو کرنا۔ فرمایا "آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ ایک کشتی سامان سے بھری ہوئی موج در موج سمندر میں بلا ملاح کے چل رہی ہے کیا ایسا ہو سکتا ہے؟" ان لوگوں نے کہا "یہ محال ہے" امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا "تو کیا یہ جائز ہے کہ یہ دنیا جس کا ایک کنارہ دوسرے کنارے سے مختلف ہے، جس کی ایک جگہ دوسری جگہ کی ضد ہے، جس کی حالتیں بدلتی رہتی ہیں، جس کے اعمال وافعال متغیر ہوتے رہتے ہیں، بلا کسی حکیم و علیم اور صانع کے ہوں؟" یہ سن کر سب نے توبہ کی اور تلواروں کو میان میں کر لیا۔

مناقب زرنجری میں ہے کہ امام ابوالفضلؒ کرمانی نے فرمایا کہ جب خوارج کوفہ میں داخل ہوئے، جن کا عقیدہ یہ تھا کہ جس سے گناہ ہو جائے وہ کافر اور جو ان کے عقیدہ کا قائل نہ ہو، ان کی موافقت نہ کرے وہ بھی کافر، تو ان خوارج کو بتایا گیا کہ ان کوفیوں کے شیخ یہ ہیں۔ چنانچہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ کو پکڑ لیا اور کہنے لگے کفر سے توبہ کرو۔ امام صاحبؒ نے فرمایا میں تمہارے کفر سے توبہ کرتا ہوں۔ انہوں نے آپ کو پکڑ لیا۔ امام صاحبؒ نے فرمایا تم ظن سے کہتے ہو یا یقین سے؟ انہوں نے کہا ظن سے۔ اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا "ان بعض الظن اثم، والاثم ذنب، فتوبوا من الکفر" ان لوگوں نے کہا "تو بھی کفر سے توبہ کر" تو امام ابو حنیفہؒ نے کہا میں ہر کفر سے توبہ کرتا ہوں۔


آپ کے سیاسی افکار
امام ابو حنیفہؒ کی رائے میں حضرت علیؓ نے جو لڑائیاں لڑیں ان سب میں حق و صواب حضرت علیؓ کی جانب تھا۔

ایک مرتبہ امام ابو حنیفہؒ سے دریافت کیا گیا کہ آپ یومِ جمل کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں تو انہوں نے کہا۔ "حضرت علیؓ کا رویہ اس میں انصاف پر تھا وہ سب مسلمانوں سے زیادہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ اہل بغی و فساد سے حرب و پیکار کے بارے میں اسلامی لائحہ عمل کیا ہے؟"

امام صاحبؒ نے اپنی زندگی کے باون (52) سال اموی خلافت اور اٹھارہ برس عباسی دور میں بسر کئے گویا آپؒ نے اسلام کی ان دو عظیم سلطنتوں کو بذات خود دیکھا۔ امام صاحبؒ اس ساری صورتِ حال سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔

منقول ہے کہ جب حضرت زین العابدین (علیؒ بن حسینؒ) کے بیٹے زیدؒ نے 121ھ میں ہشام بن عبد الملکؒ اموی کے خلاف بغاوت کی تو امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا "زیدؒ کا جہاد کے لئے نکلنا آنحضرت ﷺ کے بدر کے دن نکلنے کے مشابہ ہے۔

اس سے واضح ہو تا ہے کہ آپؒ امویوں کے خلاف بغاوت کو شرعی نقطہ نظر سے جائز سمجھتے تھے۔

122ھ میں زید کے قتل ہو جانے سے ان کی بغاوت ختم ہو گئی۔ 125ھ میں انکے فرزند یحیی خراسان میں آپ کے جانشین ہوئے اور والد کی طرح قتل ہوئے۔ پھر عبداللہ بن یحیی اپنا خاندانی حق لے کر اٹھے اور یمن میں بنو امیہ کے آخری خلیفہ مروان بن محمد کی فوج سے لڑے۔ 130ھ میں آپ نے اپنے آبا ؤ و اسلاف کی طرح شہادت پائی۔

ہشام بن عبد الملکؒ اموی نے 125ھ میں وفات کی۔ اس کے بعد ولید بن یزید، ابراہیم بن ولید، مروان بن محمد یکے بعد دیگرے تخت نشیں ہوئے۔

خلیفہ مروان بن محمد کے عراقی عامل یزید بن عمر بن ہبیرہ نے امام اعظمؒ کو بلا کر محکمہ قضا کے خزانہ کی حفاظت کی ذمہ داری آپ کو تفویض کرنا چاہی در اصل وہ آزمانا چاہتا تھا کہ بنو امیہ سے آپ کی کتنی محبت ہے ابو حنیفہؒ نے انکار کر دیا۔ ابنِ ہبیرہ نے یہ پیشکش نہ قبول کرنے کی صورت میں زد و کوب کا حلف اٹھایا پھر امام صاحبؒ کو قید کر دیا اور جلاد کو کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ جلاد متواتر کئی روز تک کوڑے مارتا رہا۔ مجبوراً ابنِ ہبیرہ نے رہائی کا حکم دیا۔ امام صاحبؒ رہا ہوئے اور سوار ہو کر مکہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ 130ھ کا واقعہ ہے۔ عباسی خلافت قائم ہونے تک آپ مکہ میں اقامت پذیر رہے اور خلیفہ ابو جعفر منصور کے عہد خلافت میں کوفہ آئے۔

132ھ میں سلطنتِ اسلام نے دوسرا پہلو بدلا۔ یعنی بنوامیہ کا خاتمہ ہو گیا۔ عباسیوں نے خلفائے بنو امیہ کی قبریں اکھڑوا کر ان کی ہڈیاں تک جلا دیں پھر کیا تھا آلِ عباس تاج و تخت کے مالک ہوئے۔ اس خاندان کا پہلا فرماں روا ابو العباس سفاح تھا۔ اس نے چار برس کی حکومت کے بعد 136ھ میں وفات پائی۔ سفاح کے بعد اس کا بھائی منصور تخت نشین ہوا۔

پھر جب تک علویوں اور عباسیوں میں خصومت کا آغاز نہ ہوا، امام صاحبؒ خاموش رہے۔ مگر جب علویوں اور عباسیوں میں ٹھن گئی تو آپؒ نے علویوں کی تائید کی چنانچہ جب ابراہیمؒ نے منصور کے خلاف خروج کیا تو آپ کا میلان ابراہیم کی جانب تھا۔ حماد بن اعین کا بیان ہے ابو حنیفہؒ لوگوں کو ابراہیمؒ کی مدد پر ابھار تے تھے۔

ادھر منصور کے بد باطن خواص و امراء امام صاحبؒ کے خلاف اشتعال انگیزی اور تنفر کا کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کرتے تھے۔

خطیب بغدادی ابو یوسفؒ سے روایت کرتے ہیں۔ ربیع جو خلیفہ منصور کا عرض بیگی تھا، امام ابو حنیفہؒ سے عداوت رکھتا تھا ایک دن خلیفۂ منصور نے امام ابو حنیفہؒ کو طلب کیا۔ ربیع بھی حاضر تھا، منصور سے کہا یا امیر ا لمؤمنین! یہ شخص آپ کے دادا یعنی عبد اللہ بن عباسؓ کی مخالفت کر تا ہے اس طرح کہ عبد اللہ بن عباسؓ فرما تے تھے کہ اگر کوئی شخص کسی بات پر قسم کھا لے اور دو ایک روز کے بعد انشاء اللہ کہہ لے تو یہ استثنا قسم میں داخل سمجھا جائے گا اور قسم کا پورا کرنا کچھ ضروری نہ ہو گا۔ یہ ابو حنیفہؒ اس کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انشاء اللہ کا لفظ قسم کے ساتھ ہو تو البتہ جزئِ قسم سمجھا جائیگا ورنہ لغو اور بے اثر ہے۔

امام صاحبؒنے کہا امیر المؤمنین! ربیع کا خیال ہے کہ لوگوں پر آپ کی بیعت کا کچھ اثر نہیں ہے۔ منصور نے کہا یہ کیونکر؟ امام صاحبؒ نے کہا ان کا گمان ہے کہ جو لو گ دربار میں آپ کے ہاتھ پر بیعتِ خلافت کرتے ہیں اور قسم کھا تے ہیں، گھر پر جا کر انشاء اللہ کہہ لیا کرتے ہیں جس سے قسم بے اثر ہو جاتی ہے اور ان پر شرعاً کچھ مواخذہ نہیں رہتا۔ خلیفہ منصور ہنس پڑا اور ربیع سے کہا کہ تم ابو حنیفہ کو نہ چھیڑا کرو۔ ان پر تمہارا داؤ نہیں چل سکتا۔

امام صاحبؒ دربار سے نکلے تو ربیع نے اُن سے کہا "تم میرا خون کر نا چاہتے تھے؟" امام صاحبؒ نے فرمایا نہیں تم ہی میرا خون بہانا چاہتے تھے۔ میں نے تمہیں بھی بچا لیا اور خود بھی بچ گیا۔ پھر امام صاحبؒ نے اپنے قریب والوں سے فرمایا یہ آدمی مجھے باندھنا چاہتا تھا مگر میں نے اسے ہی باندھ دیا۔

ابو العباس جو منصور کے دربار میں معزز درجہ رکھتا تھا۔ امام صاحبؒ کا دشمن تھا اور ہمیشہ ان کو ضرر پہنچانے کی فکر میں رہتا تھا۔ ایک دن امام صاحبؒ کسی ضرورت سے دربار میں گئے۔ اتفاق سے ابوالعباس بھی حاضر تھا۔ لوگوں سے کہا آج ابو حنیفہؒ میرے ہاتھ سے بچ کر نہیں جا سکتے۔ امام صاحبؒ کی طرف مخاطب ہوا اور کہا کہ "ابو حنیفہؒ! امیر المؤمنین یعنی خلیفہ منصور کبھی کبھی ہم لوگوں کو بلا کر حکم دیتے ہیں کہ اس شخص کی گردن مار دو۔ ہم کو مطلق معلوم نہیں ہوتا کہ وہ شخص واقعی مجرم ہے یا نہیں۔ ایسی حالت میں ہم کو اس حکم کی تعمیل کرنی چاہئے یا انکار کر دینا چاہے؟

امام صاحبؒ نے کہا"تمہارے نزدیک خلیفہ کے احکام حق ہو تے ہیں یا باطل؟" منصور کے سامنے کس کی تاب تھی کہ احکام خلافت کی نسبت ناجائز ہونے کا احتمال ظاہر کر سکتا۔ ابو العباس کو مجبوراً کہنا پڑا کہ حق ہوتے ہیں۔ امام صاحبؒ نے فرمایا تو پھر حق کی تعمیل میں پوچھنا کیا؟ پھر امام صاحبؒ نے اپنے قریب والوں سے فرمایا یہ آدمی مجھے باندھنا چاہتا تھا مگر میں نے اسے ہی باندھ دیا۔

جب خلیفہ منصور نے قضا کے عہدہ کی پیشکش کی تو امام صاحبؒ نے صاف انکار کر دیا تھا اور کہا کہ "میں اس کی قابلیت نہیں رکھتا۔" منصور نے غصہ میں آ کر کہا "تم جھوٹے ہو۔" امام صاحب نے کہا "اگر میں جھو ٹا ہوں تو یہ دعوی ضرور سچا ہے کہ میں عہدۂ قضا کے قابل نہیں کیونکہ جھوٹا شخص قاضی نہیں مقرر ہو سکتا۔

بہرحال اہل بیت کی طرف آپ کا صرف سیاسی میلان ہی نہ تھا بلکہ ان سے علمی تعلق بھی رکھتے تھے۔ مثلا حضرت زید بن علی، زین العابدینؒ المتوفی 122ھ سے آپ کا علمی رابطہ تھا اور وہ آپ کے اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔

آپؒ محمد باقرؒ اور جعفر صادقؒ سے روایت کر چکے ہیں جیسا کہ مسند ابی حنیفہؒ کے مطالعہ سے واضح ہو تا ہے۔

آخر کار آپ کا خاتمہ بھی حب اہل بیت، زہد و تقوی اور حق و صداقت سے وابستگی پر ہوا۔

اہل بیت سے میلان و محبت کے با وجود صحابہؓ سے بڑا حسنِ ظن تھا چنانچہ حضرت ابو بکرؓ و حضرت عمرؓ کو صفِ اول میں جگہ دیتے تھے۔ حضرت عثمانؓ کے حق میں بر سرِ عام شہرِ کوفہ میں دعاء رحمت کیا کرتے تھے۔ (حیات حضرت امام ابو حنیفہؒ)

ایک بار کسی نے سوال کیا کہ حضرت علیؓ اور امیر معاویہؓ کی لڑائیوں کے متعلق آپ کیا کہتے ہیں؟ فرمایا "قیامت میں جن باتوں کی پرسش ہو گی مجھ کو ان کا ڈر لگا رہتا ہے ان واقعات کو خدا مجھ سے نہ پوچھے گا اس لئے ان پر توجہ کر نے کی چنداں ضرورت نہیں۔"

خیر القرون میں مسلمانوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے ان کو اسلام کا ایک ضروری مسئلہ قرار دینا اور ا س پر بحثوں کا دفتر تیار کرنا ایک فضول کام ہے۔ اسی کی طرف امام صاحبؒ نے اشارہ کیا ہے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
حضرت عثمان کو یہودی کہنے والے کی اصلاح
کوفہ میں ایک غالی شیعہ تھا جو حضرت عثمان کی نسبت کہا کر تا تھا کہ وہ یہودی تھے۔ امام صاحبؒ ایک دن اس کے پا س گئے اور کہا کہ تم اپنی بیٹی کی نسبت ڈھونڈتے تھے ایک شخص موجود ہے جو شریف بھی ہے، دولتمند بھی ہے اس کے ساتھ پرہیزگار، قائم اللیل اور حافظِ قرآن ہے۔" اس شیعہ نے کہا "اس سے بڑھ کر کون ملے گا۔ آپ ضرور شادی ٹھہرا دیجئے۔" امام صاحب نے کہا"صرف اتنی بات ہے کہ مذہباً یہودی ہے" وہ شیعہ نہایت برہم ہوا اور کہا "سبحان اللہ! آپ یہودی سے رشتہ داری کر نے کی رائے دیتے ہیں۔" امام صاحب نے فرمایا "کیا ہوا خود پیغمبر صاحب نے جب یہودی کو (تمہارے اعتقاد کے موافق) داماد بنایا تو تم کو کیا عذر ہے؟"خدا کی قدرت اتنی بات سے اس کو تنبیہ ہو گئی اور اپنے عقیدہ سے توبہ کر لیا۔

ان واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ آ پ بہت بیباک، دلیر، اور نڈر تھے۔ سیاسی افکار و نظریا ت کا اظہار بر سرعام کیا کرتے تھے۔ مثالوں کے ذریعہ بڑی حکمت کے ساتھ لوگوں کے غلط و فاسد عقائد کی اصلاح کیا کرتے تھے۔


علمی مباحث و مناظرات
اس میں شبہ نہیں کہ امام صاحبؒ کو اور ائمہ کی نسبت مناظرہ اور مباحثہ کے مواقع زیادہ پیش آئے۔ انہوں نے علومِ شرعیہ کے متعلق بہت سے نکتے ایجاد کئے تھے جو عام طبیعتوں کی دسترس سے باہر تھے۔

مناظرہ اس وقت درس کا ایک خاص طریقہ تھا اور امام صاحبؒ نے اکثر اساتذہ سے اسی طریقہ پر تعلیم پائی تھی۔ عیون والحدائق کے مصنف نے اُن کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ "انہوں نے شعبیؒ، طاؤسؒ، عطاء وغیرہ سے بھی مناظرات کئے۔ یہ لوگ امام صاحبؒ کے اساتذۂ خاص ہیں امام صاحبؒ ان لو گوں کا نہایت ادب کرتے تھے۔

اس موقع پر ہم صرف وہ واقعات لکھتے ہیں جو امام صاحبؒ کی علمی تاریخ کے عام واقعات ہیں۔


قاضی ابن ابی لیلیٰ نے چھ غلطیاں کیں
قاضی ابن ابی لیلیٰ بڑے مشہور فقیہ اور صاحب الراء تھے۔ تیس برس کوفہ میں منصبِ قضا پر مامور رہے۔ ایک دن قاضی صاحب اپنے کام سے فارغ ہو کر مجلسِ قضا سے اٹھے۔ ایک پاگل عورت کو دیکھا کہ کسی سے جھگڑ رہی ہے دورانِ گفتگو عورت نے اس شخص کو "یا ابن الزانیتین یعنی "زانی اور زانیہ کے بیٹے" کہہ کر گالی دی۔ قاضی صاحبؒ نے حکم دیا کہ عورت گرفتار کر لی جائے۔ پھر قاضی صاحب مجلسِ قضا میں واپس آئے اور حکم دیا کہ عورت کو کھڑا کر کے درّے لگائیں اور دو حدیں ماریں ایک ماں کو زنا کی تہمت لگانے کے وجہ سے اور ایک باپ کو۔ امام ابو حنیفہ نے سنا تو فرمایا اس حد لگانے میں قاضی ابن ابی لیلیٰ نے چھ غلطیاں کیں۔

اول یہ کہ وہ مجنونہ یعنی پاگل تھی اور مجنونہ پر حد نہیں۔ دوسری مسجد میں حد لگوائی حالانکہ رسولﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ تیسری اسے کھڑا کر کے حد لگوائی جبکہ عورتوں پر حد بیٹھا کر لگائی جاتی ہے۔ چوتھی اس پر دو حدیں لگوائیں جبکہ مسئلہ یہ ہے کہ ایک لفظ سے اگر کوئی پوری قوم پر تہمت لگائے تو بھی ایک ہی حد واجب ہوتی ہے۔ پانچویں حد لگانے کے وقت اس آدمی کے ماں باپ موجود نہیں تھے حالانکہ ان کا حاضر ہونا ضروری تھا کیونکہ انہیں کی طلب پر حد لگ سکتی تھی، قاضی صاحب کو مقدمہ کر نے کا کیا اختیار تھا؟ چھٹی دونوں حدوں کو جمع کر دیا حالانکہ جس پر دو حد واجب ہوں، جب تک پہلی خشک نہ ہو جائے دوسری نہیں لگا سکتے۔

قاضی ابن ابی لیلیٰ نہایت برہم ہوئے اور گورنر کوفہ سے جا کر شکایت کی کہ ابو حنیفہ نے مجھ کو تنگ کر رکھا ہے۔ گورنر نے امام ابو حنیفہؒ کو فتویٰ دینے سے روک دیا۔ چند روز کے بعد گورنر کوفہ کو اتفاق سے فقہی مسائل میں مشکلات پیش آئیں اور امام ابو حنیفہؒ کی طرف رجوع کرنا پڑا جس کی وجہ سے امام صاحبؒ کو پھر فتویٰ دینے کی عام اجازت ہو گئی۔


قاضی ابن ابی لیلیٰؒ اور امام صاحبؒ
حسن بن ابی مالک سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ ابو یوسفؒ کو ساتھ لے کر ابن ابی لیلیٰ کے پاس اپنی کسی ضرورت سے تشریف لے گئے جب وہاں جا کر بیٹھ گئے تو ابن ابی لیلیٰ نے اپنے دربان کو حکم دیا کہ جو لوگ مقدمہ لے کر آئے ہیں، ان کو پیش کریں۔ معلوم ہوا کہ وہ امام ابو حنیفہؒ کو اپنے فیصلے اور احکامات دکھلانا چاہتے تھے۔ بہت سے لوگ آئے، ان کا فیصلہ کیا۔ بعد میں دو آدمی داخل ہوئے ان میں سے ایک نے دعویٰ کیا کہ اس آدمی نے مجھے گالی دی ہے میری ماں کو زنا کی تہمت لگائی ہے اور یوں کہا ہے کہ زانیہ کے بیٹے۔ اﷲ آپ کو عزت دے میرا مطالبہ یہ ہے کہ اس سے میرا حق وصول فرمائیں (یعنی حد قذف لگائیں)۔ ابن ابی لیلیٰ نے مدعی علیہ سے کہا تم کیا کہتے ہو؟

امام حنیفہؒ بولے آپ اس آدمی کے بارے میں کیوں پوچھتے ہیں دعویٰ کرنے والا خود خصم نہیں ہے کیونکہ اس کا دعویٰ یہ ہے کہ اس کی ماں کو زنا کی تہمت لگائی ہے کیا یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ اپنی ماں کا وکیل ہے؟ ابن ابی لیلیٰ نے کہا نہیں، امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا اس سے معلوم کریں اس کی ماں زندہ ہے، یا مر گئی؟ اگر زندہ ہے تو وکالت ضروری ہے اور اگر زندہ نہیں تو دوسری بات ہو گی۔ ابن ابی لیلیٰ نے معلوم کیا کہ تیری ماں زندہ ہے، یا مر گئی؟ اس نے کہا مر گئی۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا اس کے مرنے پر گواہ لاؤ چنانچہ اس نے گواہ پیش کر دیا۔

ابن ابی لیلیٰ مدعی علیہ سے پھر سوال کرنے لگے کہ تم اس کے دعویٰ کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ مدعی سے معلوم کریں کہ اس کے علاوہ کوئی اور وارث بھی ہے؟ اگر اور وارث ہوں گے تو حدِ قذف کے مطالبہ کا حق اس کے ساتھ دوسروں کو بھی ہو گا اور اگر صرف یہی وارث ہے تو بات دوسری ہو گی۔ ابن ابی لیلیٰ نے اس سے سوال کیا، تو اس نے کہا صرف میں وارث ہوں اور کوئی نہیں۔ ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا گواہ پیش کرو کہ اپنی ماں کے صرف تم وارث ہو چنانچہ اس نے گواہ پیش کر دیئے۔

ابن ابی لیلیٰ مدعی علیہ سے ایک بار پھر سوال کرنے لگے امام ابو حنیفہؒ نے پھر فرمایا کہ مدعی سے معلوم کریں اس کی ماں آزاد تھی یا باندی؟ اس نے کہا کہ آزاد تھی۔ ابن ابی لیلیٰ نے کہا گواہ لاؤ کہ تمہاری ماں آزاد تھی چنانچہ اس نے گواہ پیش کر دیئے۔

ابن ابی لیلیٰ مدعی علیہ سے دوبارہ پھر سوال کرنے لگے۔ امام ابو حنیفہؒ نے پھر فرمایا اس سے معلوم کریں کہ اس کی ماں مسلم تھی، یا کافر؟ ابن لیلی نے معلوم کیا اس نے بتایا آزاد مسلمان تھی، فلاں قبیلہ سے اس کا تعلق تھا۔ ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا گواہ پیش کرو، اس نے گواہ پیش کئے۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا اب آپ مدعی علیہ سے سوالات کریں ابن ابی لیلیٰ نے مدعی علیہ سے سوال کیا تم نے اس کی ماں پر زنا کی تہمت لگائی؟ اس نے انکار کر دیا پھر مدعی سے فرمایا تیرے پاس گواہ ہیں؟ اس نے کہا ہاں کوفہ کے شریف لوگوں کی ایک جماعت ہے۔ ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا ان کو لاؤ کہ ان کی گواہی سنوں۔ اس کے بعد امام ابو حنیفہؒ اٹھ کھڑے ہوئے ابن ابی لیلیٰ نے بیٹھنے کو کہا مگر وہ چلے گئے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
قتادہ بصریؒ سے مناظرہ
قتادہ بصریؒ جن کا مختصر حال امام صاحب کے اساتذہ کے ذکر میں ہم لکھ آئے ہیں۔ ایک مرتبہ وہ کوفہ آئے اور اعلان کرا دیا کہ "مسائلِ فقہ میں جو پوچھنا ہو پوچھو میں ہر مسئلہ کا جواب دونگا۔" چونکہ وہ مشہور محدث اور امام تھے بڑا مجمع ہوا۔ ابو حنیفہؒ بھی موجود تھے فرمایا"آپ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو کئی برس اپنی بیوی اور بال بچوں سے دور رہا اس کی بیوی کو اس کے موت کی خبر دی گئی تو بیوی نے سمجھا کہ وہ مر گیا۔ عدت گزارنے کے بعد اس کی بیوی نے دوسرا نکاح کرلیا اور اس سے اولاد ہوئی چند روز کے بعد وہ شخص واپس آیا۔ پہلے شوہر نے کہا میرا لڑکا نہیں ہے اور دوسرے نے کہا میرا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ آیا دونوں اس عورت پر زنا کا الزام لگاتے ہیں، یا صرف وہ شخص جو ولدیت سے انکار کر تا ہے، حضرت قتادہ جواب نہ دے سکے تو فرمایا "یہ صورت ابھی پیش آئی ہے؟" امام صاحب نے کہا "نہیں لیکن علماء کو پہلے سے تیار رہنا چاہئے کہ وقت پر تردد نہ ہو۔"

قتادہ کو فقہ سے زیادہ عقائد میں دعویٰ تھا بولے کہ ان مسائل کو رہنے دو عقیدہ کے متعلق جو پوچھنا ہوپوچھو۔" امام صاحب نے کہا"آپ مومن ہیں؟" قتادہ نے فرمایا"امید رکھتا ہوں" امام ابو حنیفہؒ نے قتادہ سے پوچھا "آپ نے یہ امید کی قید کیوں لگائی؟" انہوں نے جواب دیا "حضرت ابراہیمؑ نے کہا تھا کہ مجھ کو امید ہے کہ خدا قیامت کے دن میرے گناہوں کو معاف کر دے گا۔" امام ابو حنیفہ نے کہا"اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ سے سوال کیا کہ اولم تومن تو انہوں نے جواب میں "بلیٰ" کہا تھا یعنی ہاں میں مؤمن ہوں۔ آ پ نے حضرت ابراہیمؑ کے اس قول کی کیوں تقلید نہ کی؟ قتادہؒ ناراض ہو کر اُٹھے اور گھر چلے گئے۔ (تاریخِ بغداد)

امام ابو حنیفہؒ کا کہنا یہ ہے کہ ایمان اعتقاد کا نام ہے جو شخص خدا اور رسول پر ایمان رکھتا ہو وہ قطعاً مؤمن ہے اور اس کو سمجھنا چاہیے کہ میں مؤمن ہوں البتہ اگر اس میں شک ہے تو قطعی کافر ہے۔


جم غفیر سے مناظرہ
ایک دن بہت سے لوگ جمع ہو کر آئے کہ قرأۃ خلف الامام کے مسئلہ میں امام صاحبؒ سے گفتگو کریں۔ امام صاحبؒ نے کہا "اتنے آدمیوں میں سے کسی کو انتخاب کر لیں جو سب کی جانب سے اس خدمت کا کفیل ہو اور اس کی تقریر پورے مجمع کی تقریر سمجھی جائے۔" لوگوں نے منظور کیا۔ امام صاحبؒ نے کہا: آپ لوگوں نے جب یہ تسلیم کر لیا تو بحث کا خاتمہ ہو گیا کیوں کہ جس طرح آپ لوگوں نے ایک شخص کو سب کی طرف سے بحث کا مختار کر دیا اسی طرح امام بھی تمام مقتدیوں کی طرف سے قرأۃ کا کفیل ہے اور حدیثِ صحیح میں بھی آیا ہے"جو شخص امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی قرأۃ بھی اس کی قرأۃ ہے۔" لو گ خاموش ہو گئے۔

یہ امام صاحب کی شان تھی کہ مشکل سے مشکل مسئلہ کو ایسے عام فہم طریقہ سے سمجھا دیتے تھے کہ مخاطب کے ذہن نشیں ہو جاتا تھا اور بحث نہایت جلد اور آسانی سے طے ہو جاتی تھی۔


ایک رافضی اور امام صاحب
مناقب زرنجری میں ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کوفہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک طارق رافضی آگیا اور کہنے لگا ابو حنیفہؒ! لوگوں میں سب سے زیادہ سخت کون ہے؟ امام صاحبؒ بولے ہمارے عقیدے کے مطابق حضرت علیؓا بن ابی طالب ہیں لیکن تمہارے عقیدے اور قول کے مطابق حضرت ابوبکرؓ۔ طارق نے کہا آپ کا بیان الٹا ہے۔ امام صاحبؒ نے فرمایا ہمارے نزدیک اشد الناس حضرت علیؓ ہیں اس لئے کہ ان کو یقین تھا کہ حق حضرت ابوبکر صدیقؓ کا ہے لہذا ان کے سپرد کر دیا اور تم کہتے ہو کہ حق حضرت علیؓ کا تھا، لیکن حضرت ابو بکرؓ نے حضرت علیؓ سے چھین لیا اور حضرت علیؓ کے پاس اپنے حق کو واپس لینے کی طاقت نہیں تھی اور ابوبکرؓ ان پر غالب ہو گئے لہذا تمہارے عقیدے اور قول کے مطابق وہ اشد الناس ہو گئے۔ طارق حیران ہو کر بھاگ گیا۔


ربیعۃ الرائے کا امتحان
یوسف بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ سے فرماتے ہوئے سنا کہ کوفہ میں ربیعۃ الرائے تشریف لائے اس زمانے میں یحیٰ بن سعیدؒ کوفہ کے قاضی تھے۔ یحیٰ بن سعیدؒ نے ربیعۃ الرائے سے کہا آپ کو تعجب ہو گا کہ اس شہر کے لوگ ایک شخص کی رائے پر اجماع کرر چکے ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا جب مجھے یہ خبر پہنچی تو میں نے اپنے شاگرد یعقوبؒ، زفرؒ اور چند دوسرے اصحاب کو بھیجا کہ جا کر ان سے مناظرہ کریں وہ لوگ گئے۔

امام ابو یوسفؒ نے مسئلہ دریافت کیا کہ آپ اس غلام کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو دو آدمیوں کا مشترک تھا اور ان میں سے ایک نے آزاد کر دیا؟ انہوں نے فرمایا عتق جائز نہیں۔ امام ابو یوسفؒ نے فرمایا کیوں؟ ربیعۃ الرائے نے کہا کہ یہ آزادی دوسرے کے حق میں ضرر ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا "لاضرر ولاضرار" اس پر ابویوسفؒ نے کہا اگر دوسرا بھی آزاد کر دے تو؟ ربیعۃ الرائے نے کہا اس کا آزاد کرنا جائز ہے۔ تو ابویوسفؒ نے کہا آپ نے اپنی پہلی بات چھوڑ دی اس لئے کہ اگر پہلے آزاد کرنے والے کی بات نے کوئی اثر نہیں کیا اور اس سے آزادی نہیں ہوئی تو اس دوسرے آزاد کرنے والے نے بھی پہلے کا غلام ہونے کی حالت میں آزاد کیا اور یہ ضرر ہے ربیعۃ الرائے یہ سن کر چپ ہو گئے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
ذہانت و فطانت

ایک مشکل مسئلہ

ایک شخص نے قسم کھائی کہ "آج اگر میں غسل جنابت کروں تو میری بیوی کو تین طلاق ہے" تھوڑی دیر کے بعد کہا "آج کی کوئی نماز قضا ہو تو میری زوجہ مطلقہ ہے" پھر کہا کہ "آج میں اپنی بیوی کے ساتھ صحبت نہ کروں تو اس کو طلاق ہے" لوگوں نے امام صاحبؒ کے پاس آ کر مسئلہ پوچھا۔ فرمایا کہ نماز عصر پڑھ کر بیوی سے ہم صحبت ہو اور غروب کے بعد غسل کر کے فوراً مغرب کی نماز پڑھ لے اس صورت میں سب صورتیں پوری ہو گئیں۔ بیوی سے ہم صحبت بھی ہوا نماز بھی قضا نہیں کی غسل جنابت بھی کیا تو اس وقت کیا کہ دن گزر چکا تھا۔


لقد عجزت النساء
شریک سے روایت ہے کہ ہم ایک جنازہ کے ساتھ جا رہے تھے۔ ہمارے ساتھ سفیان ثوری، ابن شبرمہ، ابن ابی لیلیٰ، ابو حنیفہؒ، ابو الاحوص، مندل اور حبان بھی تھے۔ جنازہ ایک بوڑھے سید زادے کا تھا۔ جنازہ میں کوفہ کے بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ سب ساتھ چل رہے تھے کہ اچانک جنازہ رک گیا۔ لوگوں نے معلوم کیا تو پتہ چلا کہ اس لڑکے کی ماں بیتاب ہوکر نکل پڑی۔ جنازہ پر اپنا کپڑا ڈال دیا اور اپنا سر کھول دیا۔ عورت شریف خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس میت کے باپ نے چلا کر کہا واپس جاؤ مگر اس نے واپس ہونے سے انکار کر دیا۔ باپ نے قسم کھا لی کہ"لوٹ جاؤ ورنہ تجھے طلاق۔"جب کہ ماں نے بھی قسم کھا لی کہ"اگر میں نماز جنازہ سے پہلے لوٹوں تو میرے سارے غلام آزاد۔

الغرض لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مشغولِ کلام ہو گئے اب کیا ہو گا؟ کوئی جواب دینے والا نہیں تھا۔ میت کے باپ نے امام ابو حنیفہؒ کو آواز دی کہ میری مدد کرو۔ امام صاحبؒ آئے اور عورت سے معلوم کیا کہ قسم کس طرح کھائی؟ اس نے بتلادیا۔ باپ سے پوچھا تم نے کس طرح قسم کھائی؟ اس نے بھی بتلا دیا۔ امام صاحبؒ نے فرمایا میت کا سریر رکھو۔ چنانچہ رکھ دیا گیا۔ امام صاحبؒ نے باپ کو حکم دیا کہ نماز جنازہ پڑھاؤ جو لوگ آگے نکل گئے تھے، واپس ہوئے باپ کے پیچھے صف لگی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ امام صاحبؒ نے فرمایا قبر کی طرف لے جاؤ اور اس کی ماں سے کہا اب تم گھر چلی جاؤ۔ قسم پوری ہو گئی اور باپ سے کہا تمہاری بھی قسم پوری ہو گئی تم بھی گھر جاؤ۔ اس پر ابن شبرمہؒ کہنے لگے عورتیں آپ جیسا پیدا کرنے سے عاجز ہیں۔ علمی نکات بیان کرنے میں آپ کو نہ کوئی مشقت ہوتی ہے اور نہ پریشانی۔


ایک عجیب و غریب تدبیر
لیث بن سعدؒ فرماتے ہیں کہ میں امام ابو حنیفہؒ کا ذکر سنتا تھا، پھر مجھے آپ کو دیکھنے کی تمنا ہوئی۔ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ لوگ ایک آدمی کے پاس بھیڑ لگائے ہوئے ہیں۔ ادھر متوجہ ہوا تو ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ اے ابو حنیفہؒ! میں سمجھ گیا کہ یہ وہی ابو حنیفہؒ ہیں۔ اس شخص نے کہا میں مالدار آدمی ہوں، میرا ایک لڑکا ہے، میں اس کی شادی کرتا ہوں اور بہت سا مال خرچ کرتا ہوں مگر وہ لڑکا اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے اور میرا مال برباد ہو جاتا ہے اس کی کوئی تدبیر ہے؟

امام صاحب نے فوراً فرمایا اس کو غلاموں کے بازار میں لے جاؤ، جب وہ کسی باندی کو دیکھنے لگے تو تم اس باندی کو اپنے لئے خرید کر اس کے ساتھ نکاح کر دو اگر طلاق دے گا تو وہ تمہارے ملک میں رہے گی۔ اور اگر وہ آزاد کرے گا تو اس کا عتق جائز نہیں ہو گا۔ لیث بن سعد کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ان کا صحیح اور برجستہ جواب دینا مجھے بہت پسند آیا۔


طلاق میں شک
اسماعیل بن محمد فرماتے ہیں کہ مجھے اپنی بیوی کی طلاق میں شک ہوا۔ میں نے قاضی شریکؒ سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کو طلاق دے دو پھر رجوع کرو اور رجوع کرنے پر گواہ بنا لو۔ پھر میں سفیان ثوریؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے بھی یہی پوچھا تو انہوں نے فرمایا اگر تم نے طلاق دے بھی دی ہے تو اب رجعت ہو گئی۔ پھر میں نے زفر بن ہذیلؒ سے معلوم کیا، انہوں نے فرمایا جب تک تم کو طلاق کا یقین نہ ہو جائے وہ تمہاری بیوی ہے۔ اس کے بعد امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سب فتاویٰ نقل کئے۔ امام صاحب نے فرمایا سفیان ثوری نے ورع اور پرہیز گاری کا فتویٰ دیا، زفر بن ہذیل کا فتویٰ فقہی فتویٰ ہے اور شریک کا فتویٰ ایسا ہے، جیسے تم کسی سے کہو کہ مجھے معلوم نہیں میرے کپڑے پر پیشاب گرا کہ نہیں تو وہ کہہ دے اب تم اس پر پیشاب کر دو پھر دھو لینا۔


مشروط طلاق
ایک شخص کسی بات پر اپنی بیوی سے ناراض ہوا اور قسم کھا کر کہا کہ "جب تک تو مجھ سے نہ بولے گی میں تجھ سے کبھی نہ بولوں گا۔"عورت تند مزاج تھی اس نے بھی قسم کھا لی اور وہی الفاظ دہرائے جو شوہر نے کہے تھے۔ اس وقت غصہ میں کچھ نہ سوجھا مگر پھر خیال آیا تو دونوں کو نہایت افسوس ہوا۔ شوہر مایوس ہو کر امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ للہ آپ کوئی تدبیر بتائیے۔ امام صاحبؒ نے فرمایا "جاؤ شوق سے باتیں کرو کسی پر کفارہ نہیں ہے۔

سفیان ثوریؒ کو معلوم ہوا تو نہایت برہم ہوئے اور امام ابو حنیفہؒ سے جا کر کہا آپ لوگوں کو غلط مسئلے بتا دیا کر تے ہیں۔ امام صاحبؒ سفیان ثوریؒ کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا "جب عورت نے شوہر کو مخاطب کر کے قسم کے الفاظ کہے تو عورت کی طرف سے بولنے کی ابتدا ہو چکی، پھر قسم کہاں باقی رہی؟" سفیان ثوریؒ نے کہا "حقیقت میں آپ کو جو بات وقت پر سوجھ جاتی ہے ہم لوگوں کا وہاں تک خیال بھی نہیں پہنچتا۔ ( اس واقعہ کو امام رازیؒ نے تفسیر کبیر میں نقل کیا ہے)

وکیع بن جراح فرماتے ہیں کہ حفاظ حدیث میں سے ایک آدمی میرا ہمسایہ تھا۔ وہ ابو حنیفہؒ کو برا بھلا کہا کرتا تھا۔ ایک دن میاں بیوی میں تکرار ہو گئی۔ میاں نے کہا آج کی رات اگر مجھ سے طلاق مانگے اور میں طلاق نہ دوں تو تجھے طلاق۔ اور بیوی نے کہا اگر میں تجھ سے طلاق کا سوال نہ کروں تو میرے غلام آزاد۔ بات ختم ہو گئی انجام سامنے آیا تو بہت پریشان ہوئے۔ سفیان ثوریؒ کے پاس پہونچے، ابن ابی لیلیٰ کے پاس گئے مسئلہ حل نہیں ہوا۔

مجبوراً امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ امام صاحبؒ نے بیوی سے فرمایا طلاق کا سوال کرو چنانچہ اس نے سوال کر لیا اب میاں سے کہا کہو"انت طالق ان شئت"( تم کو طلاق ہے اگر تم چاہو) پھر بیوی سے کہا کہو"میں نہیں چاہتی" اس نے کہہ دیا تو امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ لو تم دونوں کی قسم پوری ہو گئی، کوئی بھی حانث نہیں ہوا، کسی کی قسم نہیں ٹوٹی۔ پھر محدث بزرگوار سے فرمایا کہ جس نے تمہیں علم سکھایا اس کی برائی کرنے سے توبہ کر لو انہوں نے توبہ کی اس کے بعد تو امام ابو حنیفہؒ کے لئے ہر نماز کے بعد دعا کرتے رہے۔

فقیہ ابوجعفر ہندووانی سے نقل کیا گیا ہے کہ امام اعمشؒ نہ امام ابو حنیفہؒ کی طرف جھکتے تھے نہ ان سے اچھا معاملہ کرتے تھے شاید ان کے اخلاق میں کچھ کمی تھی۔ اتفاق سے اپنی بیوی کو مشروط طلاق دے دی۔ وہ اس طرح کہ اگر بیوی آٹا ختم ہونے کی خبر اعمش کو دے، یا لکھ کر دے، یا کسی سے کہلوائے، یا اشارہ کرے تو اس کو طلاق۔ بیوی حیران ہو گئی لوگوں نے مشورہ دیا ابو حنیفہؒ کے پاس جاؤ چنانچہ وہ گئی اور واقعہ بیان کیا۔ امام صاحبؒ نے فرمایا مسئلہ آسان ہے۔ آٹے کی تھیلی رات کو ان کے ازار میں یا جس کپڑے میں ممکن ہو باندھ دو جب صبح یا رات کو اٹھیں گے تو ان کو آٹے کی تھیلی کا خالی ہونا خود معلوم ہو جائے گا اور سمجھ جائیں گے کہ آٹا ختم ہو گیا ہے بیوی نے ایسا ہی کیا۔ جب اعمش اٹھے تو رات کی تاریکی تھی یا کچھ کچھ روشنی ہو رہی تھی جب اپنا ازار لیا تو آٹے کی تھیلی کی آواز محسوس ہوئی اسے ہاتھ سے چھوکر دیکھا جب ازار کھینچا تو وہ بھی کھینچی آ گئی اس طرح ان کو آٹے کا ختم ہونا معلوم ہو گیا۔ کہنے لگے واﷲ یہ ابو حنیفہؒ کی تدبیر ہے۔ ہم ان سے کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں وہ تو ہماری عورتوں میں بھی ہم کو رسوا کرتے ہیں اور عورتوں کو ہماری عاجزی اور کم فہمی بتلادیتے ہیں۔

امام ابویوسفؒ اور ان کی بیوی میں تو تو، میں میں ہو گئی۔ وہ ان سے روٹھ گئیں۔ امام ابویوسفؒ نے کہا اگر آج رات تم مجھ سے نہیں بولے گی تو تم کو طلاق۔ مگر وہ اسی طرح اینٹھی رہیں انہوں نے ہزار کوشش کی کہ مگر وہ نہ بولیں۔ امام ابو یو سفؒ اٹھے اور رات ہی کو امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر سب حالات سنائے امام صاحبؒ نے نیا جوڑا پہنایا، خوشبو لگائی اور عمدہ چادر اوڑھائی اور فرمایا اب اپنے گھر جاؤ اور یہ ظاہر کرو کہ تمہیں اس سے گفتگو کی ضرورت نہیں۔ وہ گئے اور اپنے آپ کو بے نیاز ظاہر کیا۔ جب عورت نے ان کی یہ حالت دیکھی تو غصہ سے بھر گئی۔ کہنے لگی لگتا ہے تم کسی فاجرہ کے گھر میں تھے۔ یہ سنتے ہی امام ابو یوسفؒ خوش ہو گئے۔


نہ حانث ہو گا اور نہ طلاق پڑے گی
ایک مر تبہ امام ابو حنیفہؒ سے یہ مسئلہ پوچھا گیا کہ ایک آدمی کی بیوی سیڑھی پر چڑھی اس کے شوہر نے کہا اگر تو چڑھے تو تجھ کو تین طلاق اور اترے تب بھی تین طلاق۔ اب کیا تدبیر کی جائے کہ قسم نہ ٹوٹے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ بیوی نہ چڑھے اور نہ اترے بلکہ کچھ لوگ اس کو مع سیڑھی کے زمین پر رکھ دیں، قسم نہیں ٹوٹے گی۔

لوگوں نے معلوم کیا کہ اتارنے کے علاوہ بھی کوئی تدبیر ہو سکتی ہے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا ہاں عورتیں اس کو سیڑھی سے اٹھا کر زمین پر رکھ دیں اور وہ اترنے کا ارادہ نہ کرے، اس طرح مرد حانث نہیں ہو گا اور طلاق بھی نہیں پڑے گی۔

ایک شخص نے قسم کھائی کہ اگر میں انڈا کھاؤں تو میری بیوی کو طلاق۔ اتفاق سے اس کی بیوی آستین میں چھپا کر ایک انڈا لائی۔ اس نے کہا جو کچھ تیری آستین میں ہے اسے اگر میں نہ کھاؤں تو تجھے طلاق۔ اس کو معلوم نہیں تھا کہ آستین میں انڈا ہی ہے۔

امام ابو حنیفہؒ سے مسئلہ پوچھا گیا کہ کس طرح یہ آدمی اپنی قسم سے بری ہو اور حانث بھی نہ ہو؟ امام صاحب نے فرمایا کہ انڈے مرغی کے نیچے رکھے جائیں جب بچے نکل آئیں تو ان کو ذبح کر کے بھون کر کھائے، یا پکا کر شوربا پی لے تو حانث نہ ہو گا۔ اس طرح جو کچھ آستین میں تھا اسے کھا لیا۔

یہ واقعہ بھی منقول ہے کہ ایک آدمی نے قسم کھائی کہ اگر میری بیوی نے میرے لئے ایسی ہنڈیا نہ پکائی، جس میں ایک پیالہ نمک ڈالے اور نمک کا مزہ پکے ہوئے سالن میں بالکل ظاہر نہ ہو تو اس کو طلاق۔

امام صاحب کے پاس مسئلہ گیا تو فرمایا کہ انڈا پکا دے اور جتنا چاہے نمک ڈال دے اثر ظاہر نہیں ہو گا۔ (یہ سب واقعات مناقب ابو بکر بن محمد زرنجری اور مناقب ابو لمؤید خوارزمی سے نقل کئے گئے ہیں)۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
بر جستہ علمی جوابات
امام صاحبؒ کے برجستہ جواب، ذہانت اور طباعی عموماً ضرب المثل ہے۔ مشکل سے مشکل مسئلوں میں ان کا ذہن اس تیزی سے لڑتا تھا کہ لوگ حیران ر ہ جاتے تھے۔

اکثر موقعوں پر ان کے ہمعصر اور معلومات کے لحاظ سے ان کے ہمسر موجود ہو تے تھے ان کو اصل مسئلہ بھی معلوم ہو تا تھا لیکن جو واقعہ درپیش ہوتا تھا اس سے مطابقت کر کے فوراً جواب بتا دینا امام صاحبؒ ہی کا کام تھا۔ مثلاً:


ترکہ کی تقسیم
وقیع بن جراحؒ سے روایت ہے کہ ہم امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں تھے کہ ایک عورت آئی اور عرض کیا کہ میرا بھائی مرگیا اس نے چھ سو (600) اشرفیاں ترکہ میں چھوڑیں مگر مجھے صرف ایک اشرفی ملی ہے؟ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا "یہی تیرا حق ہے" پھر اس عورت سے سوال کیا اچھا بتاؤ تیرے بھائی نے دو لڑکیاں چھوڑیں؟ عورت نے عرض کیا "ہاں" ماں چھوڑی؟ عورت نے کہا"ہاں" بیوی چھوڑی؟ عورت نے کہا "ہاں" بارہ بھائی اور ایک بہن چھوڑی؟ عورت نے جواب دیا "جی ہاں۔" تب امام صاحب نے فرمایا کہ تیرے بھائی کی دونوں لڑکیوں کا دو ثلث یعنی چار سو (400) اشرفی ہے۔ ماں کا ایک سدس سو اشرفی (100) ہے اور بیوی کا ثمن پچہتر(75) اشرفی ہے۔ باقی پچیس (25) اشرفیاں جس میں چوبیس (24) بھائیوں کی ہیں ہر بھائی کو دو اشرفی۔ اور تیری صرف ایک اشرفی۔


وہ شخص اولیاء اللہ میں سے ہے
ایک شخص امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا کہ "آپ اس آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو جنت کی آرزو نہیں کر تا، جہنم سے نہیں ڈرتا، اللہ تعالیٰ سے خوف نہیں کر تا، مردہ کھاتا ہے، بلا رکوع سجدہ کی نماز پڑھتا ہے، اس چیز کی شہادت دیتا ہے جسے دیکھتا نہیں، فتنہ کو پسند کر تا ہے، رحمتِ خداوندی سے بھاگتا ہے اور یہود و نصاریٰ کی تصدیق کرتا ہے؟

امام ابو حنیفہؒ جانتے تھے کہ جس نے اس سے سوال کیا ہے وہ ان سے بہت بغض رکھتا ہے۔ فرمانے لگے جو تم نے سوال کیا ہے اس کو تم خود جانتے ہو اس نے جواب دیا "نہیں لیکن یہ باتیں بہت بری ہیں اس لئے آپ سے سوال کیا۔" امام صاحبؒ مسکرائے اور فرمایا اگر میں ثابت کر دوں کہ وہ آدمی اولیاء اللہ میں سے ہے تو تم مجھ کو برا بھلا کہنا بند کر دو گے اور کراماً کاتبین کو وہ چیز لکھنے پر مجبور نہیں کرو گے جو تمہیں نقصان دیں؟ اس آدمی نے کہا جی ہاں۔ اس پر امام صاحبؒ نے فرمایا "تمہارا یہ کہنا کہ "جنت کی آرزو نہیں کرتا اور جہنم سے نہیں ڈرتا"، تو یہ آدمی جنت کے مالک کی آرزو رکھتا ہے اور جہنم کے مالک سے ڈرتا ہے۔ تمہارا یہ کہنا کہ "وہ شخص اللہ سے نہیں ڈرتا" اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ سے اس بات میں نہیں ڈرتا کہ اللہ اپنے عدل اور فیصلہ میں کسی پر ذرا بھی ظلم نہیں کریں گے خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے"وما ربک بظلام للعبید ‘ ‘ تمہارا یہ کہنا کہ "وہ مردار کھا تا ہے" تو اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی مچھلی کھا تا ہے۔ تمہارے یہ کہنا کہ "بلا رکوع او ر سجدے کی نماز پڑھتا ہے" مطلب یہ ہے کہ نمازِ جنازہ پڑھتا ہے۔ تمہارا کہنا کہ "بے دیکھی چیز کی شہادت دیتا ہے" مطلب یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ کی گواہی دیتا ہے۔ تمہارا کہنا کہ "فتنہ کو پسند کرتا ہے" مطلب یہ ہے کہ مال و اولاد کو پسند کر تا ہے اللہ تعالیٰ نے مال و اولاد کو فتنہ کہا ہے"انما اموالکم واولادکم فتنہ" تمہارا یہ کہنا کہ "رحمت سے بھاگتا ہے" مطلب یہ ہے کہ بارش سے بھاگتا ہے۔ تمہارا یہ کہنا کہ "یہو و نصاریٰ کی تصدیق کر تا ہے" اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی یہود و نصاریٰ کے قول"قالت الیہود لیست النصاریٰ علی شئ وقالت النصاریٰ لیست الیہود علی شی" میں انکی تصدیق کر تا ہے۔

امام صاحب کے بر جستہ جوابات سن کر وہ آدمی کھڑا ہو گیا اور امام صاحب کی پیشانی کا بوسہ لیا اور کہا آپ نے حق فرمایا میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔


امام صاحبؒ کی شان ہی عجیب تھی
عبد اﷲ بن مبارکؒ سے روایت ہے کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ سے یہ مسئلہ معلوم کیا کہ دو آدمی ہیں ایک کے پاس ایک درہم ہے اور دوسرے کے پاس دو درہم۔ یہ سب دراہم آپس میں مل گئے اور دو درہم کھو گئے۔ کچھ پتہ نہیں کون سے درہم کھو گئے ہیں؟ امام صاحبؒ نے فرمایا بقیہ درہم دونوں کا ہے۔ دو درہم والے کے دو حصہ، ایک درہم والے کا ایک حصہ۔ عبد اﷲ بن مبارک فرماتے ہیں کہ پھر میں نے ابن شبرمہ سے ملاقات کی اور یہی مسئلہ معلوم کیا۔ انہوں نے فرمایا کسی اور سے بھی معلوم کیا؟ عرض کیا ہاں ابو حنیفہؒ سے، تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ جو درہم بچ رہا ہے اس کا دو ثلث دو درہم والے کا، ایک ثلث ایک درہم والے کا ہے۔ اس پر ابن شبرمہ نے فرمایا ان سے غلطی ہو گئی۔ دیکھو جو دو درہم ضائع ہوئے ان میں سے ایک تو ضرور دو درہموں میں سے ہے یعنی جس کا دو درہم تھا اس کا تو ایک ضرور ضائع ہوا ہے۔ باقی دوسرا ضائع ہونے والا درہم ان دونوں کا ہو سکتا ہے۔ لہذا جو ایک درہم باقی رہا، وہ دونوں کا نصف نصف ہے۔ عبد اﷲ بن مبارک فرماتے ہیں مجھے یہ جواب بہت ہی اچھا معلوم ہوا۔

اس کے بعد امام ابو حنیفہؒ سے ملاقات ہوئی۔ ان کی عجیب ہی شان تھی۔ اگر ان کی عقل کو نصف دنیا کی عقل سے تولا جائے تو بڑھ جائے۔ وہ مجھ سے فرمانے لگے تم ابن شبرمہ سے ملے اور انہوں نے جواب دیا ہو گا کہ ضائع ہونے والا دو درہموں میں سے ایک ضرور ہے اور بچا ہوا درہم ان دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، تو امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا دیکھو جب تینوں درہم مل گئے تو آپس میں شرکت واجب ہو گئی پھر ایک درہم والے کا حصہ ہر درہم کا ثلث ہو گیا اور دو درہم والے کا حصہ ہر درہم میں دو ثلث ہوا تو جو درہم بھی کھو گیا دونوں کا کھویا گیا اور دونوں کا حصہ گیا۔


خلیفہ منصور کی بیعت اور امام صاحبؒ کی تقریر
داؤد طائیؒ سے روایت ہے کہ جب خلیفہ منصور عباسی کوفہ آئے تو سبھی علماء کے پاس خبر بھیجی اور سب کو جمع کیا۔ جب سب جمع ہو گئے تو تقریر کی کہ خلافت آپ لوگوں کے نبی کے گھر والوں تک پہنچ گئی۔ اﷲ نے اپنا فضل کیا، حق کو قائم فرما دیا اور اے جماعت علماء! آپ لوگ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ اس کی اعانت کریں اور اپنے لئے ہدیہ، ضیافت اور اﷲ کے مال میں سے جو کچھ بھی آپ لوگ پسند کریں قبول کریں۔ اب آپ لوگ ایسی بیعت کریں جو نفع نقصان کے لئے آپ لوگوں کے امام کے پاس حجت ہو اور قیامت کے دن آپ لوگوں کے لئے امان اور حفاظت ہو۔ آپ لوگ اﷲ کے دربار میں بلا امام کے نہ جائیں۔ اور یہ مت کہئے کہ "ہم امیر المؤمنین سے ڈرتے ہیں اس لئے حق نہیں کہہ سکتے۔"

علماء نے جواب کے لئے امام ابو حنیفہؒ کی طرف دیکھنا شروع کیا امام صاحبؒ نے فرمایا اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ میں اپنی اور آپ سب کی طرف سے بات کروں تو آپ لوگ چپ رہیں۔ علماء نے کہا ہم یہی چاہتے ہیں امام صاحبؒ نے تقریر کی اور فرمایا اﷲ کے لئے سب تعریفیں ہیں۔ اس نے حق نبی صلی اﷲ علیہ و سلم کی قرابت میں پہنچا دیا۔ ظالموں کے ظلم کو دور کر دیا اور ہماری زبانوں کو حق بات کے لئے گویائی بخش دی۔ بلاشبہ ہم سب نے اﷲ کے امر پر بیعت کی اور آپ کے لئے اﷲ کے عہد پر وفاداری کی بیعت کی "الی قیام الساعۃ" اﷲ تعالیٰ امر خلافت کو رسول اﷲ ﷺ کی قرابت سے نہ نکالے۔ خلیفہ منصور نے جوابی تقریر کی اور کہا آپ ہی جیسا آدمی مناسب ہے کہ علماء کی طرف سے خطبہ دے۔ ان لوگوں نے آپ کو انتخاب کر کے اچھا کیا اور آپ نے بہترین ترجمانی کی۔

جب سب لوگ باہر آئے تو لوگوں نے امام صاحبؒ سے معلوم کیا کہ "الی قیام الساعۃ"سے آپ کی کیا مراد تھی؟ آپ نے تو اس وقت بیعت توڑ دی؟ امام صاحبؒ نے فرمایا آپ لوگوں نے حیلہ کیا اور معاملہ میرے سپرد کیا، تو میں نے اپنے لئے حیلہ کر لیا اور آپ لوگوں کو امتحان کے لئے پیش کر دیا لوگ خاموش ہو گئے اور تسلیم کر لیا کہ حق امام صاحبؒ کا ہی فعل ہے۔


یک نہ شد، دو شد
عبد اﷲ بن مبارک سے روایت ہے کہ ایک شخص نے امام ابو حنیفہؒ سے دریافت کیا کہ میں اپنی دیوار میں جنگلہ کھولنا چاہتا ہوں۔ امام صاحب نے فرمایا جو چاہو کھول لو لیکن پڑوسی کے گھر میں تاک جھانک مت کرنا۔ جب وہ کھڑکی کھولنے لگا تو اس کا پڑوسی ابن ابی لیلیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی۔ انہوں نے اس کو کھڑکی کھولنے سے منع کر دیا۔ اب وہ بھاگا ہوا امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں پہنچا۔ امام صاحبؒ نے فرمایا اچھا جاؤ اب دروازہ کھول لو۔ وہ دروازہ کھولنے لگا، تو اس کا پڑوسی اس کو لے کر ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا۔ انہوں نے دروازہ کھولنے سے منع کر دیا۔

وہ شخص پھر امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں آیا اور صورت حال بتائی۔ امام صاحبؒ نے پوچھا تمہاری کل دیوار کی کیا قیمت ہے؟ اس نے عرض کیا تین اشرفیاں۔ امام صاحبؒ نے فرمایا یہ تین اشرفیاں میرے ذمہ ہیں جاؤ اور ساری دیوار گرادو۔ وہ آیا اور دیوار گرانے لگا۔ پڑوسی نے دیوار گرانے سے بھی منع کر دیا اور اس کو لے کر ابن ابی لیلی کی خدمت میں حاضر ہوا، ان سے شکایت کی۔ ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا وہ اپنی دیوار گراتا ہے تو گرانے دو۔ چنانچہ اس آدمی سے ابن ابی لیلی نے فرمایا جا گرا دے اور جو کچھ تیرا جی چاہے کر۔ پڑوسی نے کہا آپ نے مجھے کیوں پریشان کیا اور ایک جنگلا کھولنے سے منع کر دیا؟ کھڑکی کا کھولنا میرے لئے آسان تھا۔ اب یہ ساری دیوار گرائے گا ابن ابی لیلیٰ نے فرمایا یہ آدمی ایسے شخص کے پاس جاتا ہے جو میری غلطی بتلاتا ہے اب جب میری غلطی واضح ہو گئی تو میں کیا کروں۔


یہ بات بہت بیش قیمت ہے
علی بن مسہر سے روایت ہے کہ ہم لوگ امام ابو حنیفہؒ کے پاس بیٹھے تھے کہ عبد اﷲ بن مبارک تشریف لائے اور امام ابو حنیفہؒ سے معلوم کیا کہ ایک آدمی ہنڈیا پکا رہا تھا ایک پرندہ اس میں گر کر مرگیا۔ آپ کا اس میں کیا فتویٰ ہے؟ امام صاحب نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ بتاؤ اس کا کیا جواب ہے؟ شاگردوں نے حضرت عبد اﷲ بن عباسؓ کا فتویٰ نقل کر دیا کہ شوربا پھینک دے اور گوشت دھوکر کھا لے۔

امام صاحب نے فرمایا یہی ہم بھی کہتے ہیں البتہ اس میں کچھ تفصیل ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ہانڈی میں جوش آنے کے وقت گرا ہو تو گوشت اور شوربا سب پھینک دیا جائے اگر جوش ٹھنڈا ہونے کے بعد آ پڑا ہو تو گوشت دھو کر کھا لیا جائے اور شوربا پھینک دیا جائے۔

عبد اﷲ بن مبارک نے فرمایا یہ تفصیل کہاں سے فرما رہے ہیں؟ تو امام صاحب نے فرمایا جب پرندہ ہانڈی میں جوش مارنے کے وقت گرے گا تو سرکے اور مسالہ کی طرح نجس پانی گوشت میں سرایت کر جائے گا اور جب جوش ٹھنڈا ہو گیا تو گوشت کے اوپر لگے گا اندر سرایت نہیں کرے گا۔ عبداﷲ بن مبارک نے فرمایا "ہذا زرین" یہ بات سونا ہے۔

ایک مرتبہ ابن ہبیرہ نے امام ابو حنیفہؒ کو طلب کیا اور ایک قیمتی انگوٹھی کا نگینہ دکھایا، جس پر لکھا ہوا تھا "عطاء بن عبد اﷲ" اور کہا میں اس کو پہننا اچھا نہیں سمجھتا، کیونکہ اس پر غیر کا نام لکھا ہوا ہے اور اس کا مٹانا بھی ممکن نہیں۔ اب کیا کیا جائے؟ امام ابو حنیفہؒ نے فوراً جواب دیا کہ باء کے سر کو گول کر دو "عطاء من عند اﷲ" ہو جائے گا۔ ہبیرہ کو امام صاحب کی اس برجستگی پر بڑا تعجب ہوا اور کہنے لگا کتنا اچھا ہوتا اگر آپ ہمارے پاس بکثرت آتے جاتے۔


قاضی ابن شبرمہ چپ ہو گئے
ابو مطیع سے روایت ہے کہ ایک آدمی کی وفات ہوئی، اس نے امام ابو حنیفہؒ کے لئے وصیت کی۔ اس وقت امام صاحب موجود نہیں تھے۔ جب آئے تو مقدمہ ابن شبرمہ قاضی کے پاس لے گئے، حالات بتائے اور گواہ پیش کئے۔ ابن شبرمہ نے کہا ابو حنیفہ! کیا آپ قسم کھا سکتے ہیں کہ آپ کے گواہوں نے صحیح گواہی دی ہے؟ امام صاحب نے فرمایا میں موجود نہ تھا اس لئے میرے اوپر قسم ضروری نہیں ہے۔ ابن شبرمہ نے کہا اس میں تمہارا سارا قیاس ختم ہو گیا۔ اس پر امام صاحب فوراً بولے بتائیے ایک اندھا شخص ہے کسی نے اس کو زخمی کر دیا دو شاہدوں نے گواہی دی کیا اب اس اندھے پر یہ قسم واجب ہے کہ وہ کہے میرے شاہد سچی گواہی دے رہے ہیں حالانکہ شاہدوں نے شہادت حق دی ہے؟ یہ سن کر قاضی صاحب چپ ہو گئے اور امام صاحب کے حق میں وصیت کا فیصلہ دے کر نافذ کر دیا۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
امتیازی خصوصیات اور ائمۂ دین کے اقوال

امام صاحب کی امتیازی خصوصیات

اما م ابو حنیفہؒ کی گیارہ انفرادی خصوصیات ایسی ہیں جن میں امام صاحب دوسرے ائمہ و مجتہدین سے ممتاز و منفرد ہیں اور کوئی بھی ان کا شریک و سہیم نہیں۔ سلف کے دوسری صف کے سرخیل ہیں۔
  1. امام صاحب کی ولادت با سعادت جب ہوئی تھی تو بہت سے صحابہؓ زندہ تھے، خیر القرون کا زمانہ تھا، جس زمانہ والوں کو رسول اللہ ﷺ نے عادل فرمایا۔​
  2. بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ امام صاحبؒ کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ حضرات صحابہ کرامؓ کی زیارتِ مبارکہ سے مشرف ہوئے۔​
  3. امام صاحبؒ نے اکابر تابعین کے زمانہ میں اجتہاد کیا اور فتوے دئے۔​
  4. بڑے بڑے ائمہ کا امام صاحب سے روایت کرنا، جیسے عمر بن دینار جو امام صاحب کے شیوخ میں سے بھی ہیں۔​
  5. امام صاحب نے چار ہزار تابعین سے علم حاصل کیا۔​
  6. جیسے لائق و فائق اور ذہین شاگرد امام صاحب کو ملے بعد میں آنے والے ائمہ کو نہیں مل سکے جیسے قاضی ابو یوسفؒ، امام محمدؒ، امام زفرؒ، امام طحاوی وغیرہ۔​
  7. امام صاحب نے سب سے پہلے فقہ کی تدوین کی اور کتابوں کو فقہی ابواب پر ترتیب دیا۔​
  8. امام صاحب کے مذہب کی ان ملکوں میں اشاعت ہوئی جہاں اور کوئی مذہب ہے ہی نہیں جیسے ہندوستان، سندھ، روم، ماوراء النہر اور عجم و عرب کے اکثر ممالک۔​
  9. امام صاحب اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے اور اہلِ علم پر خرچ کرتے تھے۔​
  10. امام صاحب نے دین کی خاطر مظلوم، محبوس اور مسموم سجدہ کی حالت میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔​
  11. امام صاحب کی کثرتِ عبادت، زہد فی الدنیا، کثرتِ تلاوتِ قرآن کریم اور کثرتِ حج و عمرہ وغیرہ وغیرہ۔​

ائمہ دین کے اقوال
خطیب بغدادی نے امام شافعیؒ سے روایت کی ہے کہ امام مالک بن انس سے معلوم کیا گیا کہ آپ نے ابو حنیفہ کو دیکھا ہے؟ فرمایا جی ہاں میں نے ان کو ایسا پایا کہ اگر وہ اس ستون کے متعلق تم سے دعویٰ کرتے کہ یہ سونے کا ہے تو اس کو حجت سے ثابت کر دیتے۔

امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ "جو آدمی فقہ میں ماہر ہونا چاہے وہ امام ابو حنیفہؒ کا محتاج ہو گا۔" سفیان بن عینیہ فرماتے ہیں"میری آنکھوں نے ابو حنیفہؒ جیسا عالم نہیں دیکھا۔" عبد اللہ بن مبارکؒ سے روایت ہے کہ "امام ابو حنیفہؒ سب لوگوں سے بڑھ کر فقیہ تھے ان سے بڑا فقیہ میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔" یزید بن ہارون سے سوال کیاگیا کہ ابو حنیفہؒ اور سفیان ثوریؒ میں سے کون بڑا فقیہ ہے؟ انہوں نے فرمایا "ابو حنیفہؒ فقہ میں ان سے بڑھے ہوئے ہیں۔

خطیب نے حافظ ابو نعیم سے روایت کی ہے کہ"ابو حنیفہؒ مسائل میں غوطہ لگا نے والے تھے۔" نصر بن علی کا قول ہے "جو آدمی یہ چاہتا ہو کہ اندھے پن اور جہالت سے نکل جائے تو اسے چاہئے کہ امام ابو حنیفہؒ کی کتابوں کا مطالعہ کرے۔" عیسیٰ بن یونس نے کہا کہ "ہرگز ہرگز ابو حنیفہؒ کے بارے میں کوئی بری بات نہ کہے اور جو کوئی ان کے بارے میں غلط یا بری بات کہہ رہا ہو تو ہرگز ان کی تصدیق نہ کرے اس لئے کہ خدا کی قسم میں نے ان سے افضل اور ان سے بڑا فقیہ کسی کو نہیں دیکھا۔" صمیری نے یحیٰ بن اکثمؒ سے یہ روایت کی ہے کہ "امام ابو حنیفہؒ پہلے بزرگوں کے صحیح جانشین تھے۔" ائمہ دین کے جو آثار و اقوال امام حنیفہؒ کے مناقب و محامد میں منقول ہیں وہ مذکورہ بالا اقوال سے بہت زیادہ ہیں۔ حق شناس و منصف مزاج کے لئے مذکورہ آثار ہی پر اکتفا کیا جارہا ہے۔

حق پسند علماء نے آپ کی متعدد سوانح عمریاں تحریر فرمائی ہیں مثلا جلال الدین سیوطیؒ کو دیکھئے شافعی ہو نے کے با وجود آپ کے حالات میں"تبییض الصحیفہ فی مناقب الامام ابی حنیفہؒ" نامی کتاب تحریر کی۔ ابن حجر ہتیمی مکی شافعیؒ نے "الخیرات الحسان فی مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ النعمانؒ لکھی۔" علامہ عبدالوہاب شعرانیؒ نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب "المیزان" میں امام ابو حنیفہؒ کا خصوصی تذکرہ کیا اور آپ پر وارد کردہ اعتراض کے جواب دیئے۔ آپ کے طریقہ تخریج مسائل کی تصویب کی اور اپنی کتاب طبقات میں انہیں اولیاء میں شمار کیا۔ (حیات حضرت امام ابو حنیفہؒ)

خطیب بغدادی نے محمد بن عبد اللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ "امام ابو حنیفہؒ کی عقلمندی انکے قول و فعل، چال ڈھال اور رفتار و گفتار سے بخوبی ظاہر ہوتی تھی۔"

قیس بن ربیعؒ سے روایت ہے کہ"امام ابو حنیفہؒ عقلمند لوگوں میں سے تھے۔" خارجہ بن مصعب سے روایت ہے کہ"میں نے ایک ہزار علماء کی زیارت کی ہے ان میں سے عقلمند صرف تین یا چار کو پایا جن میں ایک امام ابو حنیفہؒ ہیں۔" یزید بن ہارونؒ سے روایت ہے کہ"میں نے بہت لوگوں کی زیارتیں کی ہیں مگر امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر عقل مند، ان سے افضل اور ان سے بڑھ کر پرہیز گار کسی کو نہیں پایا۔"

امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ "میں کسی ایسے آدمی سے نہیں ملا جو یہ کہہ سکتا ہو کہ اس نے امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر عقلمند یا زیادہ صاحبِ مروت کسی کو دیکھا ہے۔"

احمد بن عطیہؒ کوفی یحیٰ بن معینؒ کا قول نقل فرماتے ہیں کہ"امام ابو حنیفہؒ بڑے عقلمند تھے۔ جھوٹ نہیں بول سکتے تھے۔ ان کی جیسی تعریف اور ذکرِ خیر عبد اللہ بن مبارؒک کرتے تھے، ویسی تعریف کر تے ہوئے کسی کو نہیں سنا۔

خلیفہ ہارون رشید کے سامنے امام ابو حنیفہؒ کا ذکر ہوا تو خلیفہ نے رحمت کی دعا کی اور فرمایا "امام ابو حنیفہؒ اپنی عقل کی آنکھ سے وہ چیزیں دیکھ لیتے ہیں جسے دوسرے لوگ سر کی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔" امام صاحبؒ کے پوتے اسمٰعیل بن حماد ایک واقعہ نقل فرماتے ہیں کہتے ہیں کہ "ہمارا ایک پڑوسی رافضی (شیعہ) تھا، آٹا پیسا کر تا تھا، اس کے دو خچر تھے۔ اس نے ایک کا نام ابو بکر اور ایک کا عمر رکھا تھا، ایک رات ان میں سے ایک خچر نے رافضی کو لات ماری اور ہلاک کر دیا۔ امام صاحبؒ کو خبر ہوئی تو فرمایا دیکھو جس خچر نے اس کو لات ماری ہے اسکا نام اس نے عمر رکھا ہو گا۔" لوگوں نے تحقیق کی تو ایسا ہی نکلا۔

مذ کورہ حضرات جنہوں نے امام ابو حنیفہؒ کے علم اور عقلمندی کا زبان و قلم سے اعتراف کیا ہے، اپنے زمانہ میں علم و فضل، دیانت و پرہیز گاری کے نمونے خیال کئے جا تے تھے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
نصائح اور دلپذیر باتیں
ہمارے تذکروں اور رجال کی کتابوں میں علماء کے وہ اوصاف جن کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا جاتا ہے، تیزی ذہن، قوتِ حافظہ، بے نیازی، تواضع، قناعت، زہد غرض اسی قسم کے اوصاف ہوتے ہیں لیکن عقل و رائے، فراست و تدبیر کا ذکر تک نہیں آتا۔ یہ باتیں دنیا داروں کے ساتھ ہیں۔

بلا شبہ اس خصوصیت کے اعتبار سے امام ابو حنیفہؒ تمام فرقۂ علماء میں ممتاز ہیں کہ وہ مذہبی امور کے ساتھ دنیوی ضرورتوں کے انداز داں تھے۔ یہ ضرور ہے کہ ملکی تعلقات کے ساتھ مذہب اور اخلاق کے فرائض کو سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن امام صاحب اس سے بھی بے خبر نہ تھے وہ ہمیشہ شاگردوں کو ایسی ہدایتیں کرتے رہتے تھے۔


درباریوں کے متعلق نصیحتیں
قاضی ابویوسفؒ کے لئے جو ہدایت نامہ لکھا تھا اُس تحریر میں پہلے سلطانِ وقت کے تعلقات کا ذکر کیا ہے۔

چنانچہ لکھتے ہیں"بادشاہوں کے پاس بہت کم آمدورفت رکھنا جب تک کوئی خاص ضرورت نہ ہو دربار میں نہ جانا کہ اپنا اعزاز و وقار قائم رہے۔ بادشاہ اگر تم کو عہدہ قضا پر مقرر کرنا چاہے تو پہلے دریافت کر لینا وہ تمہارے اجتہاد سے موافق ہے یا نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ سلطنت کے دباؤ سے تم کو اپنی رائے کے خلاف عمل کرنا پڑے جس عہدہ اور خدمت کی تم میں قابلیت نہ ہو ہرگز قبول نہ کرنا۔

اگر کوئی شخص شریعت میں کسی بدعت کا موجد ہو تو علانیہ اس کی غلطی کا اظہار کرنا کہ اور لوگوں کو اس کی تقلید کی جرأت نہ ہو اس بات کی کچھ پرواہ نہ کرنا کہ وہ شخص جاہ و حکومت رکھتا ہے کیونکہ اظہارِ حق میں خدا تمہارا مددگار ہو گا اور وہ اپنے دین کا آپ محافظ و حامی ہے۔ خود بادشاہ سے اگر نامناسب حرکت صادر ہو تو صاف یہ کہہ دینا کہ آپ کو آپ کی غلطی پر مطلع کر دینا میرا فرض ہے پھر بھی نہ مانے تو تنہائی میں سمجھانا کہ آپ کا یہ فعل قرآن مجید اور احادیث نبوی کے خلاف ہے اگر سمجھ گیا تو خیر، ورنہ خدا سے دعا کر نا کہ اس کے شر سے تم کو محفوظ رکھے۔


معمولاتِ زندگی کے متعلق ہدایتیں
زندگی کے معمولی کاروبار کے متعلق بھی نہایت عمدہ ہدایتیں کی ہیں چنانچہ تحریر فرماتے ہیں کہ"تحصیل علم کو سب پر مقدم رکھنا۔ اس سے فراغت ہو چکے تو شادی کرنا، ایسی عورت سے شادی نہ کرنا جو دوسرے شوہر سے اولاد رکھتی ہو۔ عام آدمیوں سے اور خصوصاً دولت مندوں سے کم میل جول رکھنا ورنہ انکو گمان ہو گا کہ تم ان سے کچھ توقع رکھتے ہو۔ بازار میں جانا، دکانوں پر بیٹھنا، راستہ یا مسجد میں کوئی چیزکھا لینا، ان باتوں سے نہایت احتراز رہے۔

مزید فرماتے ہیں "ہنسنا کم چاہئے، زیادہ ہنسی سے دل افسردہ ہو جاتا ہے، جو کام کرو اطمینان اور وقار کے ساتھ کرو، کوئی شخص جب تک سامنے سے نہ پکارے کبھی جواب نہ دو کیونکہ پیچھے سے پکارنا جانوروں کے لئے مخصوص ہے، راستہ چلو تو دائیں بائیں نہ دیکھو، کوئی چیز خریدنی ہو تو خود بازار نہ جاؤ بلکہ نوکر بھیج کر منگوا لو خانگی کاروبار دیانتدار نوکروں کے ہاتھ میں چھوڑ دینا چاہئے کہ تم کو اپنے مشاغل کے لئے کافی وقت اور فرصت ہاتھ آئے، ہر بات سے بے پروائی اور بے نیازی ظاہر ہو اور فقر کی حالت میں بھی وہی استغناء قائم رہے۔


دین سے متعلق راہنمائی
ہر بات میں تقویٰ اور امانت کو پیشِ نظر رکھو۔ خدا کے ساتھ دل سے وہی معاملہ رکھو جو لوگوں کے سامنے ظاہر کر تے ہو۔ جس وقت اذان کی آواز آئے فوراً نماز کے لئے تیار ہو جاؤ، ہر مہینہ میں دو چار دن روزہ کے لئے مقرر کر لو، نماز کے بعد ہر روز کسی قدر وظیفہ پڑھا کرو، قرآن کی تلاوت قضا نہ ہو نے پائے، دنیا پر بہت نہ مائل ہو، اکثر قبر ستان میں نکل جایا کرو، لہو لعب سے پرہیز رکھو، ہمسایہ کی کوئی برائی دیکھو تو پردہ پوشی کرو۔ اہلِ بدعت سے بچتے رہو، نماز میں جب تک تم کو لوگ خود امام نہ بنائیں امام نہ بنو۔ جو لوگ تم سے ملنے آئیں ان کے سامنے علمی تذکرہ کرو اگر وہ لوگ اہلِ علم ہوں گے تو فائدہ اٹھائیں گے ورنہ کم از کم تم سے محبت ہو گی۔


اقوالِ زریں
اس موقع پر امام صاحبؒ کے حکیمانہ مقولے بھی سننے اور یاد رکھنے کے قابل ہیں فرمایا کرتے تھے کہ "جس شخص کو علم نے معاصی اور فواحش سے نہ باز رکھا تو اس سے زیادہ زیاں کار کون ہو گا؟ جو شخص علم دین میں گفتگو کرے اور اسکو یہ خیال نہ ہو کہ ان باتوں کی باز پرس ہو گی، وہ مذہب اور خود اپنے نفس کی قدر نہیں جانتا، اگر علماء خدا کے دوست نہیں ہیں تو عالم میں خدا کا کوئی دوست نہیں۔

جو شخص قبل از وقت ریاست کی تمنا کرتا ہے ذلیل ہوتا ہے اور جو شخص علمِ دین کو دنیا کے لئے سیکھتا ہے علم اسکے دل میں جگہ نہیں پکڑتا۔

سب سے بڑی عبادت ایمان اور سب سے بڑا گناہ کفر ہے۔

ایک شخص نے پوچھا فقہ کے حاصل کرنے میں کیا چیز معین ہو سکتی ہے؟ امام صاحبؒ نے فرمایا "دلجمعی" اس نے عرض کیا کہ دلجمعی کیونکر حاصل ہو؟ ارشاد ہوا کہ تعلقات کم کئے جائیں۔ پوچھا تعلقات کیونکر کم ہوں۔ جواب دیا کہ "انسان ضروری چیزیں لے لے اور غیر ضروری چھوڑ دے۔

امام ابو یوسفؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا "جو شخص مجلس میں ایسی حالت میں حاضر ہو کہ اس کی طبیعت بوجھل ہو تو اس نے فقہ اور اہلِ فقہ کے مراتب کو نہیں پہچانا۔

عبد اللہ بن مبارک سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہ نے فرمایا "جب عورت اپنی جگہ سے اٹھے تو تم س کی جگہ پر اس وقت تک نہ بیٹھو جب تک وہ جگہ ٹھنڈی نہ ہو جائے۔

امام ابو حنیفہؒ نے ابراہیم بن ادہم سے فرمایا کہ "ابراہیم! تم کو اچھی عبادت کی توفیق دے دی گئی ہے مناسب ہے کہ علم کی طرف توجہ رہے اس لئے کہ علم عبادت کی جڑ ہے اور اسی سے کام بنتا ہے۔

ابو رجاء ہرویؒ سے روایت ہے کہ میں نے امام ابو حنیفہؒ کو فرماتے ہوئے سنا کہ "جو شخص حدیث سیکھتا ہے اور اس سے استنباطِ مسائل نہیں کر تا وہ ایک عطار ہے جس کے پاس دوائیں ہیں لیکن یہ نہیں جانتا کہ کون کس مرض کیلئے ہیں۔

ایک مر تبہ فرمایا "جو شخص علم کا ذوق نہیں رکھتا اس کے آگے علمی گفتگو کرنی اس کو اذیت دینی ہے۔"​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363

زہد فی الدنیا
قاضی ابو القاسم نے مکی بن ابراہیم سے روایت کی کہ "میں اہلِ کوفہ کے پاس اٹھا بیٹھا ہوں، مگر میں نے ابو حنیفہ سے بڑھ کر پرہیز گار کسی کو نہیں دیکھا۔

قاضی ابو عبد اللہ صمیری نے حسن بن صالح سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا "امام ابو حنیفہ بڑے پرہیز گار اور حرام سے بیحد محتاط رہتے تھے، بہت سے حلال مال کو بھی شبہ کی بناء پر چھو ڑ دیتے تھے۔"

نضر بن محمد فرماتے ہیں کہ "میں نے ابو حنیفہ سے بڑھ کر پرہیزگار کسی کو نہیں دیکھا۔"

یزید بن ہارون سے روایت ہے کہ "میں نے ایک ہزار مشائخ سے علم حاصل کیا۔ خدا کی قسم ان میں ابو حنیفہ سے بڑا پرہیز گار اور اپنی زبان کی حفاظت کر نے والا کسی کو نہیں دیکھا۔"

ابو القاسم قشیریؒ سے منقول ہے کہ "امام ابو حنیفہ اپنے قرضدار کے درخت کے سایہ میں بھی نہیں بیٹھتے تھے کہ جس قرض سے کوئی بھی نفع ہو، وہ سود ہے۔"

ابو المؤید خوارزمی نے یزید بن ہارون سے روایت کی ہے کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر پرہیز گار نہیں دیکھا۔ ایک دن میں نے ان کو دھوپ میں ایک آدمی کے دروازہ کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تو میں نے عرض کیا کہ "کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ سایہ میں ہو جاتے؟ فرمایا اس گھر والے پر میرے کچھ دراہم قرض ہیں، میں پسند نہیں کرتا کہ اس کے گھر کی دیوار کے سایہ میں بیٹھوں۔ یزید بن ہارون فرماتے ہیں کہ کون سی پرہیز گاری اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔"

عبد اللہ بن مبارک سے مر وی ہے کہ میں کوفہ میں داخل ہوا اور لوگوں سے معلوم کیا کہ سب سے بڑا زاہد کون ہے؟ تو لوگوں نے بتایا "امام ابو حنیفہؒ۔"

ایک مر تبہ عبد اللہ بن مبارکؒ سے ابو حنیفہؒ کے متعلق سوال کیا گیا تو فرمایا "ان جیسا کون ہو سکتا ہے؟ انکا امتحان کوڑوں سے ہوا تو انہوں نے صبر کیا۔"

حسن بن زیاد سے روایت ہے کہ "خدا کی قسم امام ابو حنیفہ نے امراء و سلاطین میں سے کسی قسم کا انعام یا ہدیہ قبول نہیں فرمایا۔"

زید بن زرقاؒء سے روایت ہے کہ "ایک آدمی نے امام ابو حنیفہؒ سے کہا کہ تمہارے اوپر دنیا پیش ہو رہی ہے اور تمہارے بال بچے ہیں پھر تم قبول کیوں نہیں کرتے؟ امام صاحب نے فرمایا بال بچوں کے لئے اللہ کافی ہے۔ وہ اللہ کے فرماں بردار ہوں تو بھی، نا فرماں ہوں تو بھی۔ اللہ کا رزق فرماں بردار اور نافرمان سب کے لئے صبح شام آتا رہتا ہے۔" پھر یہ آیت تلاوت فرمائی "وفی السماء رزقکم وما توعدون" اور آسمان میں تمہاری روزی ہے اور وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔


دیانت و امانت
ابو نعیم فضل سے روایت ہے کہ "امام ابو حنیفہ بڑے دین دار اور امانت دار تھے۔" عبد اللہ بن صالح بن مسلم سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ "ایک شخص نے ملکِ شام میں حکم بن ہشام ثقفی سے کہا کہ امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں کچھ بتلائیں۔ انہوں نے فرمایا وہ لوگوں میں سب سے بڑے امانت دار تھے۔ بادشاہ نے کہا کہ وہ خزانہ کی کنجیوں کو سنبھالیں اور اگر خزانچی نہیں بنیں گے تو سزا دی جائے گی۔ پھر بھی وہ نہیں بنے اور اللہ کے عذاب سے بچنے کے لئے بادشاہ کی سزا کو اختیار کر لیا۔ اس شخص نے عرض کیا جیسی تعریف امام ابو حنیفہ کی آپ کر رہے ہیں میں نے ایسی تعریف کرتے کسی کو نہیں سنا۔ اس پر حکم بن ہشام نے فرمایا خدا کی قسم وہ ایسے ہی تھے جیسا میں نے کہا۔"

ابو المؤید خوارزمیؒ نے آپؒ کی تعریف میں اشعار کہے ہیں جن کا ترجمہ یہ ہے "امام ابو حنیفہؒ کی سب سے بڑی تعریف یہ ہے کہ وہ علوم کے شیر اور قلموں کے جنگل ہیں۔ پرہیز گاری اور امانتداری کی شان میں اس درجہ کو پہنچ گئے جہاں تک پہنچنے سے تصور بھی گھٹنا ٹیک دیتا ہے، پرہیز گاری کی وجہ سے حلال و طیب کو قطعی قبول نہیں کیا تو بھلا حرام ان کے قریب کیسے پہنچ سکتا ہے۔ آپ لوگوں نے کبھی ان جیسا پرہیزگار دیکھا؟ انکی یہ پرہیز گاری آبائی تھی جب فقہ انکے پاس مشتاق ہو کر آئی تو انہوں نے اس پر فخر نہیں کیا بلکہ اسلام نے اس پر فخر کیا۔ راتوں نے ان جیسا بیدار مغز عابد نہیں دیکھا اور ایام نے ان جیسا مدرس نہیں دیکھا۔"


عبادات و اخلاق
امام صاحبؒ نہایت عبادت گزار زاہد تھے۔ ذکر و عبادت میں ان کو مزہ آتا تھا۔ اور بڑے ذوق و خلوص سے ادا کر تے تھے۔ اس باب میں بھی ان کی شہرت ضرب المثل ہو گئی تھی۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ "ان کی پرہیز گاری اور عبادت کے واقعات تواتر کی حد تک پہنچ گئے ہیں۔ اکثر نماز میں یا قرآن پڑھنے کے وقت رقت طاری ہو تی اور گھنٹوں رویا کر تے۔" زائدہؒ کہتے ہیں کہ "مجھ کو ایک ضروری مسئلہ دریافت کرنا تھا امام ابو حنیفہؒ کے ساتھ نماز میں شریک ہوا اور منتظر رہا کہ نوافل سے فارغ ہوں تو دریافت کروں۔ و ہ قرآن پڑھتے پڑھتے اس آیت پر پہنچے وقنا عذاب السموم تو بار بار اس آیت کو پڑھتے تھے یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور آیت پڑھتے رہے۔"

مشہور امام حدیث عبداللہ بن المبارک کا قول ہے"میں نے ابو حنیفہؒ سے زیادہ پرہیز گار آدمی نہیں دیکھا اس شخص کے متعلق کیا کہوں جس کے سامنے دنیا اور اس کی دولت پیش کی گئی اور اس نے ٹھکرا دیا اور کوڑوں سے اس کو پیٹا گیا اور وہ ثابت قدم رہا اور وہ مناصب جن کے پیچھے لوگ دوڑتے پھرتے ہیں کبھی قبول نہ کیا۔


امام صاحب کی کرم گستری
امام ابو یوسفؒ سے روایت ہے کہ "امام حنیفہؒ جس کو پہچانتے تھے، اس پر بہت زیادہ احسان کرتے تھے۔ چنانچہ ان میں سے کسی کو پچاس اشرفی سے کم عنایت نہ کرتے۔ اگر وہ لوگوں کے سامنے شکریہ ادا کرتا تو ان کو رنج ہوتا تھا اور فرماتے تھے کہ اﷲ کا شکر ادا کرو اس لئے کہ یہ اﷲ ہی کا رزق ہے اسی نے تیری طرف بھیجا ہے۔

شقیق بن ابراہیمؒ فرماتے ہیں کہ "میں ایک مرتبہ امام صاحب کے ساتھ تھا، وہ ایک مریض کی عیادت کے لئے جا رہے تھے، ادھر سے ایک آدمی آ رہا تھا اس نے امام صاحبؒ کو دور سے دیکھا تو چھپ گیا اور دوسرے راستہ پر چل پڑا امام صاحبؒ نے اس کا نام لے کر زور سے پکارا اے فلاں! وہ راستہ چل، جس پر چل رہا تھا، دوسرا راستہ مت اختیار کر۔ اس آدمی کو معلوم ہوا کہ امام ابو حنیفہؒ نے اس کو دیکھ لیا ہے تو شرمندہ ہو کر کھڑا ہو گیا، جب امام صاحبؒ اس کے پاس پہنچے تو پوچھا "تم نے وہ راستہ کیوں چھوڑا جس پر تم چل رہے تھے؟" اس آدمی نے عرض کیا کہ آپ کے دس ہزار درہم میرے اوپر قرض ہیں اور مدت لمبی ہو گئی میں ادا نہیں کر سکا۔ وعدہ خلافی ہوئی، آپ کو دیکھ کر میں شرما گیا۔ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا سبحان اﷲ! یہاں تک نوبت آ گئی کہ آپ مجھے دیکھیں تو چھپ جائیں، میں نے یہ ساری رقم آپ کو بخش دی اور میں خود اپنے اوپر شاہد ہوں اب خبردار مجھ سے مت چھپنا اور میری طرف سے جو کچھ تمہارے قلب میں آگیا اس کو معاف کر دو۔ شقیق فرماتے ہیں اس وقت مجھے مکمل یقین ہو گیا کہ یہ حقیقی زاہد ہیں۔"

زائدہ بن حسنؒ سے روایت ہے کہ "میرے والد محترم نے امام ابو حنیفہؒ کو ایک رومال ہدیہ کیا جس کو تین اشرفیوں میں خریدا تھا۔ امام صاحب نے قبول فرما لیا اور ان کو ایک ریشمی کپڑا ہدیہ کیا جس کی قیمت 50 درہم تھی۔"

زکریا بن عدی سے روایت ہے کہ "عبید اﷲ بن عمرو الرقی نے امام ابو حنیفہؒ کو کچھ میوے ہدیہ کئے امام صاحب نے ان کے پاس ہدیہ میں بہت سا قیمتی سامان روانہ فرمایا۔"

عبد اﷲ بن بکر اسہمی سے روایت ہے کہ اونٹ والے نے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے راستہ میں مجھ سے کچھ مخاصمت کی اور کھینچ کر امام ابو حنیفہؒ کی خدمت میں لے گیا۔ انہوں نے ہم دونوں سے سوال کیا ہم دونوں کے جواب مختلف تھے۔ امام صاحب نے فرمایا اختلاف کتنے میں ہے اونٹ والے نے کہا چالیس درہم میں امام صاحب نے فرمایا لوگوں کی مروت ختم ہو گئ، پھر امام ابو حنیفہؒ نے اونٹ والے کو چالیس درہم عنایت کر دیئے۔

یحیٰ بن خالد سے روایت ہے کہ "ابراہیم بن عینیہ کو اس وجہ سے قید کر دیا گیا تھا کہ ان پر لوگوں کا قرض ہو گیا تھا، ابراہیم اسی حالت میں امام ابو حنیفہؒ کے پاس آئے، امام صاحب نے ان سے معلوم کیا "قرض کتنا ہے؟" بتلایا کہ چار ہزار درہم سے زیادہ، امام صاحب نے پوچھا کسی سے کچھ لیا تو نہیں؟ عرض کیا "لیا ہے" امام صاحب نے فرمایا "اس کو واپس کر دو، میں تمہارا سارا قرض ادا کرتا ہوں۔

"ابو محمد حارثیؒ نے غورک السعدی کوفی سے روایت کی ہے کہ میں نے ابو حنیفہؒ کو ہدایا پیش کئے، انہوں نے کئی گنا بدلے میں عنایت فرمایا۔ میں نے عرض کیا اگر مجھے علم ہوتا کہ آپ ایسا کریں گے تو میں یہ کام نہیں کرتا اس پر امام صاحب نے فرمایا "الفضل للمتقدم" اور کیا تم نے آپ ﷺ کا یہ فرمان نہیں سنا "من صنع الیکم معروفاً فکافؤہ" (جو تمہارے ساتھ بھلائی کرے اس کو بدلہ دیدیا کرو) میں نے عرض کیا یہ حدیث میرے نزدیک پوری دولت سے بہتر اور محبوب ہے۔"

وکیع بن جراحؒ سے روایت ہے کہ "امام ابو حنیفہؒ کے پاس ایک آدمی آیا، اور کہنے لگا "مجھے دو کپڑوں کی ضرورت ہے آپ میرے ساتھ احسان کریں میں ان کپڑوں کو پہن کر اپنی شکل اچھی بناؤں گا کیوں کہ ایک آدمی مجھ کو اپنی دامادی میں لینا چاہتا ہے، ، ۔ امام صاحبؒ نے فرمایا دس دن ٹھہرو، وہ دس دن کے بعد آیا، امام صاحب نے فرمایا کل آنا، وہ اگلے دن آیا۔ امام صاحب نے اس کے لئے وہ کپڑے نکالے جن کی قیمت بیس اشرفیوں سے زائد تھی، ان کے ساتھ ایک اشرفی بھی تھی۔ امام صاحبؒ نے فرمایا کہ تیرے نام کا سامان بغداد بھیجا تھا، وہ سامان بیچا گیا، یہ دونوں کپڑے اور ایک دینار اس سے نفع ہوا، اصل مال بھی آگیا، اگر تم اس کو قبول کرتے ہو تو بہتر ہے ورنہ میں اس کو بیچ کر اس کی قیمت اور اشرفی تمہارے نام پر صدقہ کر دوں گا۔"

امام ابویوسفؒ سے روایت ہے کہ لوگ کہتے تھے کہ ابو حنیفہؒ کو اﷲ تعالیٰ نے علم و عمل، سخاوت، کرم گستری اور قرآنی اخلاق سے زینت دی ہے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
اجمالی صورت
امام صاحب کے محاسن اخلاق کی صحیح مگر اجمالی صورت دیکھنی ہو تو قاضی ابو یوسفؒ کی تقریر سنئے جو انہوں نے ہارون رشید کے سامنے بیان کی تھی ایک موقعہ پر ہارون رشید نے قاضی صاحبؒ موصوف سے کہا کہ ابو حنیفہ کے اوصاف بیان کیجئے۔ انہوں نے کہا "منہیات سے بہت بچتے تھے، اکثر چپ رہتے اور سوچا کرتے تھے، نہایت سخی اور فیاض تھے، کسی کے آگے حاجت نہ لے جاتے، اہل دنیا سے احتراز تھا، دنیوی جاہ و عزت کو حقیر سمجھتے تھے، غیبت سے بہت بچتے تھے، جب کسی کا ذکر کرتے تو بھلائی کے ساتھ کرتے، بہت بڑے عالم تھے اور مال کی طرح علم کے صرف کرنے میں بھی فیاض تھے۔" ہارون رشید نے یہ سن کر کہا صالحین کے یہی اخلاق ہوتے ہیں۔

وہ اپنی شخصی زندگی میں بھی انتہائی پرہیز گار اور دیانتدار آدمی تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اپنے شریک کو مال بیچنے کے لئے باہر بھیجا، اس مال میں ایک حصہ عیب دار تھا امام صاحب نے شریک کو ہدایت کی کہ جس کے ہاتھ فروخت کرے اسے عیب سے آگاہ کر دے۔ مگر وہ اس بات کو بھول گیا، اور سارا مال عیب ظاہر کئے بغیر فروخت کر آیا۔ امام صاحب نے اس پورے مال کی وصول شدہ قیمت جو 35 ہزار درہم تھی خیرات کر دی۔


آزادی اور بے نیازی
امام صاحب تمام عمر کسی کے احسان مند نہ رہے اور اس وجہ سے ان کی آزادی کو کوئی چیز دبا نہ سکتی تھی۔ اکثر موقعوں پر وہ اس خیال کا اظہار بھی کر دیا کر تے تھے۔ ابن ہبیرہ نے جو کوفہ کا گورنر اور نہایت نامور شخص تھا۔ امام صاحب سے بہ لجاجت کہا کہ آپ کبھی کبھی قدم رنجہ فرماتے تو مجھ پر احسان ہوتا" فرمایا "میں تم سے مل کر کیا کروں گا مہربانی سے پیش آؤ گے تو خوف ہے کہ تمہارے دام میں آ جاؤں، عتاب کرو گے تو میری ذلت ہے۔ تمہارے پاس جو زر و مال ہے مجھ کو اس کی حاجت نہیں میرے پاس جو دولت ہے (یعنی علم) اس کو کوئی چھین نہیں سکتا۔

عینیٰ بن موسیٰ کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ گزرا۔ ظالموں اور ائمہ جور کے خلاف قتل کے معاملہ میں ان کا مذہب مشہور ہے۔ بکر الجصاص ان کا مذہب نقل کر تے ہیں "ابو حنیفہؒ کہتے تھے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ابتداء ً زبان سے فرض ہے ورنہ تو پھر تلوار سے واجب ہے۔ ( احکام القرآن)۔


آپ کی ظرافت
امام صاحبؒ اگر چہ نہایت ثقہ متین با وقار تھے۔ تا ہم ذہانت کی شوخیاں کبھی کبھی ظرافت کا رنگ دکھاتی تھیں ایک دن اصلاح (بال) بنوا رہے تھے حجام سے کہا کہ "سفید بالوں کو چن لینا" اس نے عرض کیا کہ جو بال چنے جاتے ہیں اور زیادہ نکلتے ہیں۔ امام صاحب نے کہا: یہ قاعدہ ہے تو سیاہ بال کو چن لو کہ اور زیادہ نکلیں۔" قاضی شریک نے یہ حکایت سنی تو کہا کہ "ابو حنیفہؒ نے حجام کے ساتھ بھی قیاس کو نہ چھوڑا۔"


غیبت سے پرہیز
آپ غیبت سے پرہیز رکھتے، اس نعمت کا شکر ادا کر تے کہ خدا نے میری زبان کو اس آلودگی سے پاک رکھا۔ ایک شخص نے کہا "حضرت! لوگ آپ کی شان میں کیا کچھ نہیں کہتے مگر آپ سے میں نے کسی کی برائی نہیں سنی" فرمایا! ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء" سفیان ثوریؒ سے کسی نے کہا کہ"امام ابو حنیفہ کو میں نے کسی کی غیبت کرتے نہیں سنا" انہوں نے کہا کہ"ابو حنیفہ ایسے بیوقوف نہیں کہ اپنے اعمالِ صالحہ کو آپ بر باد کریں۔"​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
شاگردوں کے ساتھ سخاوت
امام صاحبؒ شاگردوں میں جس کو تنگ حال دیکھتے اس کی ضروریاتِ خانگی کی کفالت کرتے کہ اطمینان سے علم کی تکمیل کر سکے۔ بہت سے لوگ جن کو مفلسی کی وجہ سے تحصیلِ علم کا موقع نہیں مل سکتا تھا امام صاحبؒ ہی کی دستگیری کی بدولت بڑے بڑے رتبوں پر پہنچے، انہی میں قاضی ابو یوسفؒؒ بھی ہیں۔

قاضی ابو یوسفؒ فرما تے ہیں کہ ابو حنیفہؒ نے دس سال تک میرا اور میرے اہل و عیال کا نفقہ برداشت کیا میں نے ان سے بڑھ کر اخلاقِ حسنہ کا جامع کسی کو نہیں دیکھا۔

امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں کہ جب میں امام صاحبؒ سے کہتا کہ میں نے آپ سے بڑھ کر سخی نہیں دیکھا تو فرماتے کہ اگر تم میرے استاد حمادؒ کو دیکھتے تو ایسا نہ کہتے۔

اسحاقؒ بن اسرائیلؒ نے فرمایا کہ میں نے اپنے والدِ محترم سے سنا کہ امام ابو حنیفہؒ بہت سخی تھے۔ اپنے دوستوں اور شاگردوں کی بڑی غم خواری کرتے تھے۔ خاص کر عید کے موقع پر خوب تحائف بھیجتے۔ جس کو شادی کی ضرورت ہوتی اس کی شادی کرواتے۔ سارا خرچ خود برداشت کرتے، اس کی ضروریات کی بھر پور کفالت کرتے۔

حسن بن سلیمانؒ کہتے ہیں کہ انہوں نے امام ابو حنیفہؒ سے بڑا سخی نہیں دیکھا۔ اپنے شاگردوں میں سے ایک جماعت کا ماہانہ وظیفہ مقرر کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ سالانہ الگ سے مقرر تھا۔

حسن بن زیادؒ فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ نے اپنے ایک شاگرد کے بدن پر خراب کپڑے دیکھے۔ جب وہ جانے لگا تو اس سے کہا "بیٹھے رہو۔" جب لوگ چلے گئے اور وہ تنہا رہ گیا تو فرمایا "مصلی اٹھاؤ جو کچھ اس کے نیچے ہے لے لو اور اپنی حالت درست کرو۔" اس نے مصلیٰ اٹھایا تو اس کے نیچے ایک ہزار درہم تھے۔

فضل بن عیاضؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ اپنے شاگردوں کی بہت مدد کرتے تھے۔ اگر کوئی محتاج ہوتا تو غنی کر دیتے۔ اس کے عیال پر بھی طالب علمی کے زمانہ میں خرچ کرتے۔ جب وہ پڑھ چکتا تو فرماتے کہ اب تم بہت بڑی مالداری تک پہنچ چکے کیونکہ حلال اور حرام کو سمجھ گئے ہو۔

علی بن جعدؒ سے روایت ہے کہ الحاجؒ نے امام صاحبؒ کو ایک ہزار جوتے ہدیہ میں بھیجے انہوں نے طلبہ کو تقسیم کر دیئے۔ اس کے بعد ان کو جوتے خریدنے کی ضرورت پڑی کسی نے عرض کیا حضرت وہ جوتے کیا ہوئے؟ فرمایا اس میں سے کوئی بھی میرے گھر نہیں پہنچا، وہ سب میں نے ساتھیوں کو بخش دیئے تھے۔

قیس بن ربیعؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ ہر اس شخص کے ساتھ بہت زیادہ احسان و مروت کرتے تھے جو ان سے رجوع کرتا تھا اور اپنے اخوان پر بے حد فضل فرماتے تھے۔


علماء کی خدمت میں ہدایا
امام صاحبؒ نے شیوخ و محدثین کے لئے تجارت کا ایک حصہ مخصوص کر دیا تھا۔ اس سے جو نفع ہوتا تھا سال کے سال ان لوگوں کو پہنچا دیا جاتا تھا۔

امام ابو حنیفہؒ بغداد میں نقود بھیجتے تھے۔ اس سے سامان خرید کر کوفہ لایا جاتا اور بیچا جاتا تھا۔ اس سے جو نفع ہوتا اس کو جمع کرتے پھر محدثین کرام کی ضروریات، کپڑے، کھانے کی چیزیں خرید کر انہیں ہدیہ کرتے۔ بعد میں بچی ہوئی رقم نقد کی صورت میں پیش کرتے اور فرماتے کہ صرف اﷲ کی تعریف کریں میری نہیں اس لئے کہ میں نے اپنے مال میں سے کچھ نہیں دیا ہے بلکہ اﷲ تعالیٰ کے فضل سے دیا ہے جو اس نے مجھ پر کیا۔ بخدا یہ آپ لوگوں کی امانت ہے جس کو اﷲ رب العزت میرے ہاتھوں آپ لوگوں تک پہنچا رہا ہے۔

وکیع بن جراح سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ نے فرمایا کہ چالیس سال سے میرا دستور یہ ہے کہ جب چار ہزار درہم سے زیادہ کا مالک ہو جاتا ہوں تو زیادتی کو خرچ کر دیتا ہوں۔ اس کو اس لئے روکتا ہوں کہ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ "چار ہزار درہم اور اس سے کم نفقہ ہے۔" اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں لوگوں کا محتاج ہو جاؤں گا تو ایک درہم بھی اپنے پاس نہ روکتا۔

امام ابو یوسفؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ سے جب کسی حاجت کا سوال کیا جاتا وہ پوری فرماتے۔ اسماعیل بن حماد بن ابو حنیفہؒ سے روایت ہے کہ جب حمادؒ (امام صاحب کے بیٹے) نے الحمد شریف مکمل کی تو معلم کو پانسو (500) درہم انعام بھیجے۔ معلم کو جب رقم پہنچی تو اس نے کہا میں نے کیا کیا ہے جو اتنی بڑی رقم انعام میں دی؟ امام صاحبؒ کو خبر ہوئی تو خود حاضرِ خدمت ہوئے اور فرمایا بزرگوار! جو کچھ آپ نے میرے بچے کو پڑھا دیا اس کو حقیر مت سمجھئے۔ میرے پاس اگر اس سے زیادہ ہوتا تو قرآن کریم کی تعظیم میں اور زیادہ پیش کرتا۔

سفیان بن عیینہ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کثیر الصیام و الصدقات تھے جو مال بھی ان کو نفع ہوتا تھا، اس کو خرچ کر دیتے تھے۔ میرے پاس ایک مرتبہ بہت زیادہ ہدیہ بھیجا۔ اتنا زیادہ کہ مجھ کو اس کی زیادتی سے وحشت ہوئی۔ میں نے ان کے بعض ساتھیوں سے شکایت کی۔ انہوں نے کہا یہ کیا ہے اگر آپ ان تحائف کو دیکھتے جو انہوں نے سعید بن عروبہؒ کو بھیجے تھے تو ہرگز تعجب نہ کرتے۔ پھر فرمایا کہ کوئی محدث ایسا نہیں تھا جس کے ساتھ آپؒ بے پناہ احسان نہ کرتے ہوں۔

مسعر بن کدامؒ سے روایت ہے کہ امام ابو حنیفہؒ کا دستور تھا کہ جب اپنے اہل و عیال کے لئے کچھ خریدتے تو اتنا ہی کبارِ علماء پر خرچ کرتے اور جب اہل و عیال کے لئے کپڑا خریدتے تو علمائے مشائخ کے لئے بھی اتنی ہی مقدار خریدتے اور جب پھلوں اور کھجوروں کا موسم آتا تو جو چیز اپنے اور اہل و عیال کے لئے خریدنے کا ارادہ کرتے پہلے علماء و مشائخ کے لئے اتنا ہی خرید لیتے جتنا بعد میں اپنے لئے خریدتے۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
شاگرد کا رتبۂ اعزاز استاد کے لئے باعثِ فخر خیال کیا جاتا ہے۔ اگر یہ فخر صحیح ہے تو اسلام کی تمام تاریخ میں کوئی شخص امام ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر اس فخر کا مستحق نہیں ہے۔ امام صاحبؒ اگر یہ دعویٰ کرتے تو بالکل بجا تھا کہ جو لوگ امام صاحبؒ کے شاگرد تھے وہ بڑے بڑے ائمہ مجتہدین کے شیخ اور استاد تھے۔ امام شافعیؒ ہمیشہ کہا کر تے تھے کہ میں نے امام محمدؒ سے ایک بار شتر علم حاصل کیا ہے۔" یہ وہی امام محمدؒ ہیں جو امام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگرد ہیں اور ان کی تمام عمر امام صاحبؒ کی حمایت میں صرف ہوئی۔

حافظ ابوالمحاسن شافعیؒ نو سو اٹھارہ شخصیتوں کے نام بقیدِ نام و نسب لکھے ہیں جو امام صاحبؒ کے حلقۂ درس سے مستفید ہوئے تھے۔ ان لوگوں کے حالات صرف امام ابو حنیفہؒ کی تاریخ سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ اس سے عام طور پر حنفی فقہ کے متعلق ایک اجمالی خیال قائم ہوتا ہے۔ یعنی ان لوگوں کی عظمت و شان سے فقہ حنفی کی خوبی اور عمدگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی امام صاحب کا بلند رتبہ ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جس شخص کے شاگرد اس رتبہ کے ہوں گے وہ خود کس پایہ کا ہو گا؟

خطیب بغدادی نے وکیع بن الجراح کے حال میں جو ایک مشہور محدث تھے لکھا ہے کہ ایک موقع پر وکیع کے پاس چند اہلِ علم جمع تھے کسی نے کہا اس مسئلہ میں ابو حنیفہؒ نے غلطی کی۔ وکیع بولے "ابو حنیفہؒ کیونکر غلطی کر سکتے ہیں! ابویوسفؒ وزفرؒ قیاس میں، یحیٰ بن زائدہؒ، حفص بن غیاثؒ، حبان اور مندلؒ حدیث میں، قاسم بن معنؒ لغت وعربیت میں، داؤد الطائیؒ وفضیل بن عیاضؒ زہد و تقویٰ میں، اس رتبہ کے لوگ جس شخص کے ساتھ ہوں وہ کہیں غلطی کر سکتا ہے۔ اور کرتا بھی تو یہ لوگ اس کو کب غلطی پر رہنے دیتے"۔

یحیٰ بن سعید القطانؒ
فن رجال کا سلسلہ ان ہی سے شروع ہوا۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ فن رجال میں اول جس شخص نے لکھا وہ یحی بن سعید القطانؒ ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ کا قول ہے "میں نے اپنی آنکھوں سے یحیٰ کا مثل نہیں دیکھا۔"

اس فضل و کمال کے ساتھ امام ابو حنیفہؒ کے حلقۂ درس میں اکثر شریک ہوتے اور انکی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے لکھا ہے کہ یحیٰ بن سعید القطانؒ اکثر امام ابو حنیفہؒ کے قول پر ہی فتوی دیا کرتے تھے۔ 120ھ میں پیدا ہوئے اور 198ھ میں بمقام بصرہ وفات پائی۔


عبداللہ بن مبارکؒ
محدثین انکو امیر المؤمنین فی الحدیث کے لقب سے پکارتے ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی روایت سے سیکڑوں حدیثیں مروی ہیں۔

یہ امام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگردوں میں ہیں اور امام صاحبؒ کے ساتھ ان کا خاص خلوص تھا۔ ان کو اعتراف تھا کہ جو کچھ مجھ کو حاصل ہوا وہ امام ابو حنیفہؒ اور سفیان ثوریؒ کے فیض سے حاصل ہوا ہے۔ ان کا مشہور قول ہے کہ "اگر اللہ نے ابو حنیفہؒ و سفیان ثوریؒ کے ذریعہ سے میری دستگیری نہ کی ہوتی تو میں ایک عام آدمی سے بڑھ کر نہ ہوتا۔" مرو کے رہنے والے تھے۔ 118ھ میں پیدا ہوئے اور 181ھ میں بمقام ہیت وفات پائی۔


یحیٰ بن زکریا بن ابی زائدہؒ
مشہور محدث تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں انہیں حافظ الحدیث میں شمار کیا ہے۔ صحاحِ سۃ میں ان کی روایت سے بہت سی حدیثیں ہیں۔ وہ محدث اور فقیہ دونوں تھے۔ اور ان دونوں فنون میں بہت بڑا کمال رکھتے تھے۔

یہ امام ابو حنیفہؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ اور مدت تک ان کے ساتھ رہے۔ یہاں تک کہ علامہ ذہبیؒ نے تذکرۃ الحفاظ میں ان کو صاحب ابی حنیفہؒ کا لقب دیا ہے۔ تدوینِ فقہ میں امام صاحبؒ کے شریکِ اعظم تھے۔ خاص کر تصنیف و تحریر کی خدمت انہی سے متعلق تھی۔ مدائن میں منصب قضا پر ممتاز تھے اور وہیں 182ھ میں تریسٹھ برس کی عمر میں وفات پائی۔


وکیع بن جراحؒ
فنِ حدیث کے ارکان میں شمار کئے جاتے ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ کو ان کی شاگردی پر فخر تھا۔ بخاری و مسلم میں اکثر ان کی روایت سے حدیثیں مذکور ہیں۔ فنِ حدیث و رجال کے متعلق ان کی روایتیں اور رائیں نہایت مستند خیال کی جاتی ہیں۔

یہ امام ابو حنیفہؒ کے شاگردِ خاص تھے اور ان سے بہت سی حدیثیں سنی تھیں۔ خطیب بغدادیؒ نے لکھا ہے کہ اکثر امام صاحبؒ کے قول کے موافق فتوی دیتے تھے۔ علامہ ذہبیؒ نے بھی اس کی تصدیق کی ہے۔ 197ھ میں وفات پائی۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
حفص بن غیاثؒ
بہت بڑے محدث تھے۔ خطیب بغدادیؒ نے انکو کثیر الحدیث لکھا ہے۔ اور علامہ ذہبیؒ نے انکو حفاظ حدیث میں شمار کیا ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ، علی بن المدینیؒ وغیرہ نے ان سے حدیثیں روایت کی ہیں۔ یہ اس خصوصیت میں ممتاز تھے کہ جو کچھ روایت کر تے تھے زبانی کرتے تھے۔ کاغذ یا کتاب پاس نہیں رکھتے تھے۔ چنانچہ اس طرح جو حدیثیں روایت کی ان کی تعداد تین یا چار ہزار ہے۔

یہ امام صاحبؒ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ امام صاحبؒ کے شاگردوں میں چند بزرگ نہایت مقرب اور با اخلاص جنکی نسبت تھے وہ فرمایا کرتے تھے کہ "تم میرے دل کی تسکیں اور میرے غم کے مٹانے والے ہو۔" حفصؒ کی نسبت بھی امام صاحبؒ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے ہیں۔ 117ھ میں پیدا ہوئے اور تیرہ برس کوفہ میں اور دو برس بغداد میں قاضی رہے 196ھ میں وفات پائی۔


ابو عاصم النبیلؒ
انکا نام ضحاک بن مخلد اور لقب نبیل ہے۔ مشہور محدث ہیں۔ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں ان کی روایت سے بہت سی حدیثیں مروی ہیں۔ علامہ ذہبیؒ نے میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ ان کی توثیق پر تمام لوگوں کا اتفاق ہے۔ نہایت پارسا اور متورع انسان تھے۔ امام بخاریؒ نے روایت کی ہے کہ ابو عاصمؒ نے خود کہا کہ "جب سے مجھے معلوم ہوا کہ غیبت حرام ہے میں نے آج تک کسی کی غیبت نہیں کی۔

یہ بھی امام صاحبؒ کے مختص شاگردوں میں تھے۔ خطیب بغدادیؒ نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ کسی نے ان سے پوچھا کہ سفیان ثوریؒ زیادہ فقیہ ہیں یا ابو حنیفہؒ؟ بولے کہ "موازنہ تو ان چیزوں میں ہو تا ہے جو ایک دوسری سے ملتی جلتی ہوں۔ امام ابو حنیفہؒ نے فقہ کی بنیاد ڈالی ہے اور سفیان ثوریؒ صرف فقیہ ہیں۔" 212ھ میں نوے برس کی عمر وفات پائی۔


عبدالرزاق بن ہمامؒ
بہت بڑے نامور محدث تھے۔ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ ان کی روایتوں سے مالا مال ہیں۔ امام احمد بن حنبلؒ سے کسی نے پوچھا کہ حدیث کی روایت میں آپ نے عبد الرزاق سے بڑ ھ کر کسی کو دیکھا؟ جواب دیا کہ "نہیں" بڑے بڑے ائمہ حدیث مثلاً امام سفیان بن عیینہؒ، یحیٰ بن معینؒ، علی بن المدینیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ فن حدیث میں ان کے شاگرد تھے۔

حدیث میں ان کی ایک ضخیم تصنیف موجود ہے۔ جو "جامع عبد الرزاق" کے نام سے مشہور ہے۔ امام بخاریؒ نے اعتراف کیا ہے کہ "میں اس کتاب سے مستفید ہوا ہوں۔" علامہ ذہبیؒ نے اس کتاب کی نسبت میزان الاعتدال میں لکھا ہے کہ "علم کا خزانہ ہے۔"

ان کو امام ابو حنیفہؒ سے فن حدیث میں تلمذ تھا۔ امام ابو حنیفہؒ کی صحبت میں بہت زیادہ رہے چنانچہ ان کے اخلاق و عادات کے متعلق ان کے اکثر اقوال کتابوں میں مذکور ہیں۔ ان کا قول تھا کہ"میں نے ابو حنیفہؒ سے بڑھ کر کسی کو حلیم نہیں دیکھا۔


داؤد الطائیؒ
خدا نے عجیب حسنِ قبول دیا تھا۔ فقہاء کرام ان کے تفقہ اور اجتہاد کے قائل ہیں۔ محدثین کا قول ہے کہ "ثقۃ بلانزاع۔" اور حقیقت یہ ہے کہ وہ ان تمام القاب کے مستحق تھے۔

یہ امام ابو حنیفہؒ کے مشہور شاگرد ہیں۔ خطیب بغدادیؒ، ابن خلکانؒ، علامہ ذہبیؒ، اور دیگر مؤرخین نے جہاں ان کے حالات لکھے ہیں، امام صاحبؒ کی شاگردی کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا ہے۔ تدوینِ فقہ میں امام صاحبؒ کے شریک تھے اور مجلس کے معزز ممبر تھے۔ 160ھ میں وفات پائی۔

ان بزرگوں کے سوا اور بھی بہت سے نامور محدثین مثلا فضل بن دکینؒ، حمزہ بن الزیاتؒ، ابرہیم بن طہمانؒ۔ سعید بن اوسؒ، عمر بن میمونؒ، فضل بن موسیٰؒ، وغیرہ وغیرہ امام صاحبؒ کے تلامذہ میں داخل ہیں لیکن ہم نے صرف ان لوگوں کا ذکر کیا ہے۔ جو تلامذۂ خاص کہے جا سکتے ہیں اور جو مدتوں امام صاحبؒ کی صحبتوں سے مستفید ہوئے ہیں۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
تلامذۂ فقہاء
بعد میں آنے والے امام صاحبؒ کے تلامذہ کا آپ کے مذہب کو نقل کر کے محفوظ کر دینا بلا شبہ ایک عظیم خدمت ہے اور اس سے امامؒ کی جلالتِ شان میں قابلِ قدر اضافہ ہوا کیونکہ یہ اصحاب بذات خود ائمہ فقہ تھے۔


امام یوسفؒ
قاضی ابو یوسفؒ (یعقوب بن ابراہیم ) بن حبیب انصاری، کوفہ میں پیدا ہوئے۔ وہیں تعلیم پائی اور کوفہ میں سکونت پذیر رہے۔ آپ عربی النسل تھے۔ موالی میں سے نہ تھے۔ 133ھ میں ولادت ہوئی اور 182ھ میں وفات پائی۔

آپ بچپن میں بہت غریب تھے۔ ابو حنیفہؒ کی مالی امداد سے آپ نے تعلیم حاصل کی۔

امام ابن جریر طبریؒ لکھتے ہیں "قاضی ابو یوسفؒ بڑے فقیہ عالم اور حافظ تھے حفظِ حدیث میں بڑی شہرت رکھتے تھے محدث کے یہاں حاضر ہو تے اور پچاس یا ساٹھ احادیث تک یاد کر لیتے پھر کھڑے ہو کر املا کرا دیتے۔ بڑے کثیر الحدیث تھے۔ آپ تین خلفاء خلیفہ مہدی، ہادی اور ہارون رشید کے قاضی رہے۔

جب امام ابو یوسف نے الگ حلقۂ درس قائم کر لیا

ایک مرتبہ امام صاحبؒ نے امام ابو یوسفؒ کے بارے میں لوگوں سے معلومات کیں تو لوگوں نے بتلایا کہ انہوں نے اپنا حلقۂ درس الگ قائم کر لیا ہے۔

امام صاحبؒ نے ایک معتبر آدمی کو بلایا کہ ابو یوسفؒ کی مجلس میں جاؤ اور یہ مسئلہ معلوم کرو کہ ایک آدمی نے ایک دھوبی کو کپڑا دیا کہ دو درہم میں اس کو دھو کر دے۔ کچھ دنوں کے بعد جب دھوبی کے پاس کپڑا لینے گیا تو دھوبی نے کپڑے ہی کا انکار کر دیا اور کہا تمہاری کوئی چیز میرے پاس نہیں۔ وہ آدمی واپس آگیا پھر دوبارہ اس کے پاس گیا اور کپڑا طلب کیا تو دھوبی نے دھلا ہوا کپڑا اسے دے دیا۔ اب دھوبی کو دھلائی کی اجرت ملنی چاہئے یا نہیں۔ اگر وہ کہیں ہاں تو کہنا آپ سے غلطی ہو ئی اور اگر کہیں اس کو مزدوری نہیں ملے گی تو بھی کہنا غلط ہے۔

وہ آدمی امام ابو یوسفؒ کی مجلس میں گیا اور مسئلہ معلوم کیا۔ امام ابو یوسفؒ نے فرمایا اس کی اجرت واجب ہے اس آدمی نے کہا غلط۔ امام ابو یوسفؒ نے غور کیا پھر فرمایا نہیں اس کو اجرت نہیں ملے گی۔ اس آدمی نے پھر کہا غلط۔ امام ابو یوسفؒ فوراً اٹھے امام ابو حنیفہؒ کی مجلس میں پہنچ گئے۔

امام صاحبؒ نے فرمایا معلوم ہو تا ہے کہ آپ کو دھوبی کا مسئلہ لایا ہے۔ ابو یوسف نے عرض کیا جی ہاں۔ امام صاحب نے فرمایا سبحان اللہ جو شخص اس لئے بیٹھا ہو کہ لوگوں کو فتویٰ دے۔ اس کام کے لئے حلقۂ درس جما لیا، اللہ تعالیٰ کے دین میں گفتگو کرنے لگا اور اس کا مرتبہ یہ ہے کہ اجارہ کے ایک مسئلہ کا صحیح جواب نہیں دے سکتا۔ ابو یوسفؒ نے عرض کیا استاذِ محترم! مجھے بتلا دیجئے۔ امام صاحبؒ نے فرمایا اگر اس نے دینے سے انکار کے بعد دھویا ہے تو اجرت نہیں کیونکہ اس نے اپنے لئے دھویا ہے اور اگر غصب سے پہلے دھویا تھا، تو اس کو اجرت ملے گی اس لئے کہ اس نے مالک کے لئے دھو یا تھا۔

قاضی ابو یوسفؒ امام ابو حنیفہؒ کے پہلے شاگرد ہیں۔ جنہوں نے فقہ حنفی میں تصنیفات کیں جن میں انہوں نے اپنے اور اپنے استاذ امام ابو حنیفہؒ کے افکار و نظریات کو مدون کیا ہے۔ مختلف علوم میں ان کی تصنیفات بہت ہیں، ابن الندیم لکھتے ہیں کہ ابو یوسفؒ کی تصانیف یہ ہیں:
  1. کتاب الصلاۃ​
  2. کتاب الزکوۃ​
  3. کتاب الصیام​
  4. کتاب الفرائض​
  5. کتاب البیوع​
  6. کتاب الحدود​
  7. کتاب الوکالۃ​
  8. کتاب الوصایا​
  9. کتاب الصید و الذبائح​
  10. کتاب الغضب و الاستبراء​
  11. کتاب اختلاف الامصار​
  12. کتاب الرد علی مالک بن انس​
  13. مسائلِ خراج پر مشتمل ایک مکتوب بنام ہارون الرشید، کتاب الجوامع جو آپ نے یحی بن حامدؒ کے لئے تصنیف کی یہ چالیس کتابوں پر مشتمل ہے۔ اس میں انہوں نے لوگوں کے اختلاف اور قابل عمل رائے کا ذکر کیا ہے۔​
یہ ابن ندیمؒ کا بیان ہے لیکن انہوں نے بعض کتابوں کا ذکر نہیں کیا۔ ان کتابوں میں امام ابو حنیفہؒ کے افکار و نظریات اور ان کی طرف سے دفاع پر مشتمل ہیں اور وہ کتابیں یہ ہیں:کتاب الآثار، اختلاف ابن ابی لیلی، الرد علی سیر الاوزاعی، کتاب الخراج۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
کتاب الخراج
امام ابو یوسفؒ کی مشہور تصنیف کتاب الخراج ہے جس کو ہارون رشید کی درخواست پر تحریر کی تھی۔ اس میں مختلف مضامین ہیں لیکن زیادہ خراج کے مسائل ہیں۔ اور اس لئے اس کو ہر زمانہ کا قانونِ مال گزاری کہہ سکتے ہیں۔ اس کتاب میں زمین کے اقسام، لگان کی مختلف شرحیں کاشتکاروں کی حیثیتوں کا اختلاف، پیداوار کی قسمیں اور اس قسم کے دوسرے مسائل کو بہت ہی خوبی اور دقتِ نظر سے منضبط کیا اور ان کے قواعد اور ہدایتوں کے ساتھ جابجا ان ابتریوں کا ذکر ہے جو انتظامات سلطنت میں موجود تھیں۔ اور ان پر نہایت بے باکی کے ساتھ خلیفۂ وقت کو متوجہ کیا ہے۔


امام محمدؒ
آپ کا نام محمد بن حسن شیبانیؒ ہے اور کنیت ابو عبد اللہ تھی۔ چونکہ قبیلۂ شیبان کے مولی سے تھے، اس لئے شیبانی کہلائے۔ آپ نسباً قبیلۂ شیبان سے متعلق تھے۔ آپ کی ولادت 132ھ اور وفات 189ھ میں ہوئی۔

امام محمدؒ فقہ الرائے اور فقہ الحدیث کے جامع تھے۔ وہ ایک طرف عراقی فقہ کے راوی تھے تو دوسری جانب مؤطاء امام مالکؒ کے راوی۔

تدوین فقہ کی طرف آپ کی خاص توجہ تھی۔ سچی بات یہ ہے کہ عراقی فقہ کو متاخرین تک نقل کرنے کا سہرا امام محمدؒ کے سر ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ آپ صرف عراقی فقہ کے ناقل نہ تھے بلکہ آپ نے امام مالکؒ سے مؤطا روایت کی اور اسے مدون کیا۔ مؤطا امام مالک کے راویوں میں امام محمدؒ کی روایت۔ عمدہ روایات۔ میں سے تسلیم کی گئی ہے۔

عراقی فقہ کے حلقہ بگوش ہونے کے باعث آپ امام مالکؒ اور اہل حجاز کی تردید بھی کرتے تھے۔ امام محمدؒکو عراقی فقہاء میں جو مقام بلند حاصل ہوا اس کے وجوہ و اسباب یہ تھے ( 1 ) آپ ایک صاحبِ اجتہاد امام تھے اور آپ کے فقہی نظریات بڑے بیش قیمت تھے جن میں بعض آراء کو حق سے بہت قریب کر دیا ہے۔ ( 2 ) آپ اہلِ عراق اور اہلِ حجاز دونوں کی فقہ کے جامع تھے۔ (3 ) عراقی فقہ کے جامع راوی اور اسے اخلاف تک پہنچانے والے تھے۔

امام محمدؒ کی تصانیف حنفی فقہ کی اولین مرجع سمجھی جاتی ہیں۔

امام محمدؒ کی تصنیفات تعداد میں بہت زیادہ ہیں۔ اور آج فقہ حنفی کا مدار ان ہی کتابوں پر ہے۔ ہم ذیل میں ان کتابوں کی فہرست لکھتے ہیں جن میں ابو حنیفہؒ کے مسائل روایتاً مذکور ہیں اس لئے وہ فقہ حنفی کے اصلِ اصول خیال کئے جاتے ہیں۔

مبسوط
یہ کتاب قاضی ابو یوسفؒ کی تصنیف ہے جن کے مسائل کو امام محمد نے زیادہ توضیح اور خوبی سے لکھا ہے۔

جامع صغیر
مبسوط کے بعد تصنیف ہوئی۔ اس کتاب میں امام محمدؒ نے قاضی ابو یوسف کی روایت سے امام ابو حنیفہؒ کے تمام اقوال لکھے ہیں۔ اس کتاب کی تیس چالیس شرحیں لکھی گئیں جن کے نام اور مختصر حالات کشف الظنون میں ملتے ہیں۔

جامع کبیر
جامع صغیر کے بعد لکھی گئی ضخیم کتاب ہے۔ اس میں امام ابو حنیفہؒ کے اقوال کے ساتھ قاضی ابو یوسفؒ اور امام زفرؒ کے اقوال بھی لکھے ہیں۔ ہر مسئلہ کے ساتھ دلیل لکھی ہے۔ متأخرین حنفیہ نے اصول فقہ کے جو مسائل قائم کئے ہیں زیادہ تر اسی کتاب کے طرزِ استدلال اور طریق استنباط سے کئے ہیں۔ بڑے بڑ ے فقہاء نے اس کی شرحیں لکھیں جن میں سے بیالیس شرحوں کا ذکر کشف الظنون میں ہے۔

زیادات
جامع کبیر کی تصنیف کے بعد جو فروع یاد آئے وہ اس میں درج کئے اور اسی لئے زیادات نام رکھا۔

مؤطا امام محمدؒ
حدیث میں ان کی کتاب مؤطا مشہور ہے (یہ امام مالکؒ کی مؤطا سے الگ ہے) جو اس زمانہ سے آج تک تمام مدارس اسلامیہ میں داخل نصاب ہے۔ اس کے علاوہ کتاب الحج جو امام مالک کی رد میں لکھی ہے اس میں اول امام محمدؒ ابو حنیفہؒ کا قول نقل کر تے ہیں پھر مدینہ والوں کا اختلاف بیان کر کے حدیث، اثر، قیاس سے ثابت کرتے ہیں کہ امام ابو حنیفہؒ کا مذہب صحیح ہے اور دوسروں کا غلط۔ امام رازیؒ نے مناقب الشافعی میں اس کتاب کا ذکر کیا ہے۔ یہ کتاب چھپ گئی ہے۔ اور ہر جگہ ملتی ہے۔

سیر صغیر و کبیر
یہ سب سے اخیر تصنیف ہے اور جب "سیر صغیر" لکھی تو اس کا ایک نسخہ امام اوزاعیؒ کی نظر سے گزرا۔ انہوں نے طعن سے کہا کہ اہلِ عراق کو فن سیر سے کیا نسبت!

امام محمدؒ نے سنا تو "سیر کبیر" لکھنی شروع کی، تیار ہو گئی تو ساٹھ جزوں میں آئی امام محمدؒ اس ضخیم کتاب کو گھوڑے پر رکھوا کر ہارون رشید کے پاس لے گئے۔ ہارون رشید کو پہلے سے خبر ہو چکی تھی۔ اس نے قدردانی کے لحاظ سے شہزادوں کو بھیجا کہ خود جا کر امام محمدؒ کا استقبال کریں اور ان سے اس کی سند لیں۔

امام محمدؒ کی دیگر تصنیفات
امام محمدؒ کی دو کتابیں اور ہیں جنہیں عام طور پر علماء ذکر نہیں کرتے ( 1 ) "الرد علی اہل المدینہ"یہ کتاب دو لحاظ سے بڑی قیمتی ہے اول یہ کہ سندا ً یہ ثابت اور روایۃً صادق ہے۔ اس کے مستند ہونے کے لئے یہی بات کافی ہے کہ امام شافعیؒ نے "کتاب الامّ" میں اسے روایت کیا اور اس کی تدوین فرمائی۔ دوسرے یہ کہ کتاب مدلل ہے اور اس میں قیاس سنت اور آثار پر مشتمل دلائل ذکر کئے گئے ہیں۔ اس حیثیت سے یہ فقہ کے تقابلی مطالعہ کی کتاب ہے۔

ایسے ہی ایک دوسری کتاب"کتاب الآثار" ہے۔ اس میں انہوں نے وہ احادیث اور آثار جمع کر دئے ہیں جو عراقی فقہاء میں عام طور پر متداول تھے اور امام ابو حنیفہؒ نے انہیں روایت کیا تھا، اس کی اکثر روایات امام ابو یو سفؒ کی کتاب الآثار سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ دونوں کتابیں امام ابو حنیفہؒ کی مسند سمجھی جاتی ہیں۔ یہ ہر دو کتب اس نقطۂ نظر سے بڑی قدرو قیمت رکھتی ہیں کہ ان سے امام ابو حنیفہؒ کے حدیث، آثارِ صحابہؓ و تابعینؒ سے متعلق مقدارِ علم کا پتہ چلتا ہے اور معلوم کیا جا سکتا ہے کہ استدلال و احتجاج کرتے وقت آپ احادیث و آثار پر کہاں تک اعتماد کرتے تھے۔ قبولِ روایت میں امام صاحبؒ کے نزدیک کون سے شروط تھے حنفی مذہب کا مدارِ استدلال کیا ہے کیونکہ ان میں مندرجہ تمام فتاوی اور فیصلے نصوص سے مدلل کئے ہیں پھر ان سے علل کا استنباط کیا گیا۔ اور ان پر قیاس کی عمارت تعمیر کی گئی ہے، تفریعات نکالی گئیں اور قواعد و اصول وضع کئے گئے۔

مذکورہ بالا تصنیفات امام ابو حنیفہؒ کے خاص شاگرد امام محمدؒ اور امام ابو یوسفؒ کی ہیں یہ دونوں فقہ حنفی کے دو بازو ہیں۔ جن کی تمام عمر امام صاحب کی حمایت میں صرف ہوئی​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
زفرؒ
زفر بن ہذیلؒ امام صاحب کے دونوں ارشد تلامذہ امام ابو یوسفؒ و امام محمدؒ سے صحبت کے اعتبار سے مقدم تھے۔

آپ 110ھ میں پیدا ہوئے اور 158ھ میں وفات پائی۔

آپ کے والد عربی النسل اور والدہ فارس کی رہنے والی تھیں اس لئے آپ میں دونوں عناصر کے خصوصیات جمع ہو گئے۔ آپ زورِ کلام اور قوتِ بیان سے متصف تھے۔

امام ابو حنیفہؒ سے فقہ الرائے حاصل کی اور اسی کے ہو کر رہ گئے۔ آپ قیاس و اجتہاد میں بڑے تیز تھے۔ تاریخِ بغداد میں چاروں فقیہ بزرگوں کا تقابل کرتے ہوئے لکھا ہے "ایک شخص امام مزنیؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اہلِ عراق کے بارے میں دریافت کرتے ہوئے امام مزنیؒ سے کہا ابو حنیفہؒ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ امام مزنیؒ نے کہا۔ "اہلِ عراق کے سردار ہیں۔" اس نے پھر پوچھا اور ابو یوسف کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟ امام مزنیؒ بولے "وہ سب سے زیادہ حدیث کی اتباع کرنے والے ہیں۔" اس شخص نے پھر کہا اور امام محمدؒ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ مزنیؒ فرمانے لگے "وہ تفریعات میں سب پر فائق ہیں۔" وہ بولا اچھا تو زفرؒ کے متعلق فرمائیے؟ امام مزنی بولے "وہ قیاس میں سب سے زیادہ ہیں۔"

امام ابو حنیفہؒ ان کی نسبت فرمایا کرتے تھے کہ۔ "اقیس اصحابی۔"


حسن بن زیادؒ
حسن بن زیاد لولوی کوفی المتوفی 204ھ کا بھی ان فقہائے حنفیہ میں شمار ہو تا ہے جو آراء امام ابو حنیفہؒ کے راوی ہیں۔

لوگ کثرت سے آپ کی فقہ کے ثنا خواں تھے۔ یحیٰ بن آدم کا قول ہے "میں نے حسن بن زیادؒ سے بڑھ کر فقیہ نہیں دیکھا۔"

ابن الندیمؒ اپنی کتاب الفہرست میں لکھتے ہیں "طحاویؒ فرماتے ہیں کہ حسن بن زیادؒ امام ابو حنیفہؒ کی کتاب المجرد کے راوی ہیں نیز انہوں نے یہ کتب تصنیف کیں:
  1. کتاب ادب القاضی​
  2. کتاب الخصال​
  3. کتاب معانی الایمان​
  4. کتاب النفقات​
  5. کتاب الخراج​
  6. کتاب الفرائض​
  7. کتاب الوصایا -- (حیات حضرت امام ابو حنیفہ)​
انصاف یہ ہے کہ امام صاحبؒ کے بعض شاگرد اس رتبہ کے عالم تھے کہ اگر امام ابو حنیفہؒ کی تبعیت سے الگ ہو کر مستقل اجتہاد کا دعویٰ کرتے تو ان کا جدا طریقہ قائم ہو جاتا اور امام مالکؒ و شافعیؒ کی طرح ان کے بھی ہزاروں لاکھوں مقلد ہو جاتے۔ اس سے ابو حنیفہؒ کا بلند مرتبہ ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جس کے شاگرد اس رتبہ کے ہوں گے۔ وہ خود کس پایہ کا ہو گا؟​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
امام ابوحنیفہؒ کی فقہ اجتماعی اور شورائی فقہ ہے اس لیے کہ امام صاحبؒ نے اپنے ساتھیوں اور تلامذہ کے ساتھ بیٹھ کر بحث و مباحثہ کیا اور استنباط، اختلاف، استدلال اور اجتماعی مشاورت کا طریقہ اختیار کیا۔ فقہ حنفی و غیر حنفی کی جو روایات ہمارے سامنے ہیں، جن کی بنیاد پر ہم فتویٰ دیتے ہیں، وہ ایک اجتماعی مشاورتی عمل کا نتیجہ ہیں۔ یہ فقہ حنفی کا سب سے بڑا اِمتیاز ہے۔ قانون سازی، استنباط، احکام کی تعبیر و تشریح اور احکام کا أخذ، امام صاحبؒ نے اس میں اجتماعیت کی بنیاد ڈالی۔ فقہ اور اجتہاد میں حضرت امام ابو حنیفہؒ نے اجتماعیت اور شورائیت کو فروغ دیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ امام صاحبؒ کے اس ذوق کی پیروی ہی آج کی ہماری سب سے بڑی ضرورت ہے کہ ہمارے علمی فیصلوں میں مشاورت، اجتماعیت، استدلال اور مباحثے کا پہلو اجاگر ہو۔ امام صاحبؒ نے اُس وقت کے مسائل سامنے رکھ کر جس طرح استنباط و استدلال کیا اور امت کے سامنے ایک اجتماعی فقہ پیش کی، آج بھی ضرورت ہے کہ ہم اُن اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے باہمی مشاورت کا اہتمام کریں اور علمی دنیا میں اجتماعیت کا ذوق بیدار کریں۔​
 

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,666
363
@Don @saviou @Shiraz-Khan @shehr-e-tanhayi @Hoorain @RedRose64
@Aaylaaaaa @minaahil @Umm-e-ahmad @H@!der @khalid_khan @Untamed-Heart
@duaabatool @Armaghankhan @zaryaab-irtiza @DiLkash @Seemab_khan @Mahen @Masha
@Cyra @Kavi @rooja @Aaidah @BeautyRose @Gaggan @hasandawar @AnadiL @Prince-Farry
@Hasii @Masha @Bird-Of-Paradise @Besharam @shzd @hinakhan0 @zehar @bilal_ishaq_786
@Belahadi @Manahi007 @BeautyRose @ujalaa @*Sonu* @Guriyaa_Ranee @illusionist
@sonu-unique @shahijutt @ujalaa @Layla @Fantasy @Babar-Azam @AM_ @Princess_Nisa
@Shanzykhan @sweet bhoot @NXXXS @IceCream @zahra1234 @AnadiL @Basitkikhushi
@Pari @whiteros @namaal @Abid Mahmood @Iceage-TM @Toobi @i love sahabah
@NamaL @Fa!th @MSC @yoursks @thefire1 @nighatnaseem21 @Fanii @naazii @Miss_Tittli
@junaid_ak47 @Guriya_Rani @Azeyy @Gul-e-lala @maryamtaqdeesmo @HorrorReturns
@shzd @p3arl @Atif-adi @Lost Passenger @marzish @Pakhtoon @candy @Asma_tufail
@Rubi @Tariq Saeed @Mas00m-DeVil @Wafa_Khan @amazingcreator @marib @Raat ki Rani
@Ghazal_Ka_Chiragh @Binte_Hawwa @sweet_c_kuri @sabha_khan40 @Masoom_girl @hariya
@Aayat @italianVirus @Ziddi_anGel @sabeha @attiya @Princess_E @Asheer @aira_roy
@shailina @maanu115 @Dua001 @pyaridua @xortica_ @DesiGirl @huny @AshirFrhan
@Rahath @Shireen @zonii @Noor_Afridi @sweet bhoot @Lightman @Noorjee @hafaz
@Bela @LuViSh @aribak @BabyDoll @Silent_tear_hurt @gulfishan @Manxil
@errorsss @diya. @isma33 @hashmi_jan @smarty_dollie @Era_Emaan
@saimaaaaaaa @Nighaat @crystal_eyez @Mantasha_Zawaar @zaatzarra @reality
@Hudx @Stunning_beauty @Zia_Hayderi @Fadiii @Aqsh_Arch @St0rm @ROHAAN
 
Top
Forgot your password?