امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,493
10,879
1,313
Lahore,Pakistan
امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع
117437

آج سے ہزاروں سال قبل کسی زمانہ میں قبیلہ بنو جرہم کے کچھ لوگ عرب کے مشہور شہر ’’مکہ مکرمہ‘‘ میں آباد ہوگئے تھے، جن کی اولاد سے آگے چل کر فہر یا نضر بن کنانہ نے جنم لیا ، ان کی اولاد کو ’’قریش‘‘ کہاجاتا ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺکا تعلق اسی قریش کے قبیلہ سے تھا ۔آپؐ مؤرخہ 12 ؍ربیع الاوّل 20؍ اپریل 571 ء بمطابق یکم جیٹھ 628 بکرمی پیر کے دن صبح صادق کے بعد آفتاب نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کے وقت 4:25 منٹ پر اس دنیا میں تشریف لائے ۔ساتویں دن قربانی ہوئی ، جس میں تمام قریش کو دعوت دی گئی ۔

لوگوں نے پوچھا بچے کا نام کیا رکھا ہے ؟ حضرت عبد المطلبؓ نے جواب دیا ’’محمد!‘‘ کہا گیا کہ آپؓ نے اپنے خاندان کے سب مروجہ ناموں کو چھوڑ کر یہ نام اختیارکیا؟۔ آپ ؓنے جواب دیا کہ : ’’ میں چاہتا ہوں کہ میرا یہ بچہ دنیا بھر کی ستائش اور تعریف کا شایان قرار پائے۔‘‘ بعد ازاں آپؐ کو دائی حلیمہ سعدیہؓ کے سپرد کیا گیا ، جنہوں نے مکمل 2سال تک آپؐ کو دودھ پلایا اور پھر آپؐ کو حضرت آمنہؓ کے پاس لے آئیں ، حضرت آمنہؓ نے آپؐ کو دوبارہ حلیمہ سعدیہؓ کے ہی سپرد کردیا ۔

آنحضرتؐ کے والد ماجد حضرت عبد اللہؓ تو اسی وقت دنیا سے پردہ فرماگئے تھے جب آپؐ ابھی مادرِ شکم ہی میں تھے ، تاہم آپؐ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہؓ نے اس وقت وفات پائی جب آپؐ کی عمر مبارک 6 سال تھی ۔جب آپؐ کی عمر مبارک 8 سال 10 دن ہوئی تو آپؐ کے دادا حضرت عبد المطلبؓ بھی 84 سال کی عمر میں چل بسے ۔ اب آپؐ کی تمام تر تربیت ونگرانی آپ کے چچا حضرت ابوطالبؓ کے حصہ میں آگئی اور وہ آپ ؐ کی تربیت اور نگرانی کے ذمہ دار بن گئے ۔

حضور نبی کریمؐ نے جب اپنے عنفوانِ شباب میں قدم رکھا تو آپؐ کا خیال تجارت کی طرف مائل ہوا مگر روپیہ پیسہ اپنے پاس موجود نہ تھا ، اُدھر دوسری طرف مکہ میں شریف خاندان کی ایک بیوہ عورت حضرت خدیجہ ؓ نے آپؐ کے اوصاف، دیانت داری اور سلیقہ شعاری کے احوال سن رکھے تھے ، اس لئے انہوں نے آپؐ سے درخواست کی آپؐ ان کا مال لے کر تجارت کریں ۔ آنحضرتؐ نے منظور فرمالیا اوران کا مال لے کر تجارت کرنے چلے گئے ، اس تجارت میں آپؐ کو بہت زیادہ نفع ہوا ۔ اس تجارتی سفر میں حضرت خدیجہ ؓ کا غلام میسرہ بھی آپؐ کے ساتھ تھا ، اس نے واپس آکر آنحضرتؐ کی ان تمام خوبیوں اور بزرگیوں کا ذکر حضرت خدیجہؓ کو سنایا ، ان اوصاف کو سن کر حضرت خدیجہؓ نے آپؐ سے نکاح کرلیا ۔ جب یہ نکاح ہوا تو اس وقت آپؐ کی عمر 25 سال اور حضرت خدیجہ ؓ کی عمر40 سال تھی ۔ حضرت خدیجہؓ آپؐ کے نکاح میں 25 سال تک زندہ رہیں ۔

نبی اکرمؐ کی عمر مبارک جب 40 سال اور1دن کی ہوئی تو اس وقت جبرئیل امین ؑ پروانۂ نبوت لے کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپؐ اس وقت غارِ حرا میں تشریف فرما تھے ۔ حضرت جبرئیل ؑ نے آکر آپؐ کو خوش خبری سنائی کہ : ’’ اے محمد ؐ!مبارک ہو ، اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اپنا پیغمبر اور رسول منتخب فرمالیا ہے ۔‘‘ لیکن آنحضرت ؐ انجانے میںیک دم اس سے گھبرا سے گئے اور اپنے گھر تشریف لے آئے اورلیٹ گئے اور حضرت خدیجہ ؓ سے فرمانے لگے کہ میرے اوپر چادر ڈال دو ۔ جب آپؐ کو ذرا سکون ملا تو آپ ؐ نے حضرت خدیجہؓ سے اپنا سارا واقعہ ذکر کیا ۔ حضرت خدیجہؓ آپؐ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ۔ آپؐ نے اپنا سارا واقعہ ان سے بیان فرمایا ، وہ سنتے ہی بول اٹھے : ’’ یہی وہ ناموسِ اکبر ہے جو حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوا تھا ۔ کچھ دن بعد دوبارہ حضرت جبرئیل ؑ آپؐ کے پاس تشریف لائے اور آپؐ پر سورۂ علق کی ابتدائی 5 آیات بطورِ وحی کے نازل فرمائیں ، چنانچہ یہ آپؐ پر اترنے والی پہلی وحی تھی۔

نبوت مل جانے کے بعدتقریباً 9 برس تک حضور نبی کریمؐ مکہ مکرمہ میں دعوت و تبلیغ کا کام سرانجام دیتے رہے اور قوم کی رشد و ہدایت ا وران کی اصلاح کی کوشش فرماتے رہے ، بالخصوص عرب کے مشہور میلوں عکاظ ، بجنیہ اور ذی المحا ظ میں جاجاکر لوگوں کو اسلام اور توحید کی دعوت دیتے رہے ، جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت تیار ہوگئی ۔ لیکن جب قریش مکہ نے یہ رنگ دیکھا تو وہ بہت گھبرائے اور انہوں نے اس کا سدباب ضروری سمجھا ، پہلے تو وہ معمولی روک ٹوک سے کام لیتے رہے ، لیکن جب اس سے کچھ نہ بن پڑا تو پھر وہ جبر و استکراہ اورایذاء رسانی پر اتر آئے اور یہ کوشش کرنے لگے کہ جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں کم از کم انہیں دوبارہ واپس اپنے دین پر لایا جائے۔

اس دوران آپؐ کے چچا حضرت ابو طالبؓ اور ان کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ ؐ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہؓ بھی وفات پاگئیں، اس لئے آپؐ کے غم وپریشانی میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا ۔ اب آپؐ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے کا ارادہ فرمالیا اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے مکان پر تشریف لے آئے ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بہت جلد سامانِ سفر تیار کیا ۔ چنانچہ رات کی تاریکی میں یہ دونوں حضرات وہاں سے نکل پڑے اور مکہ مکرمہ سے 4 یا5 کوس کے فاصلہ پر غارِ ثور تک پہنچ گئے ۔ پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اندر جاکر غار کو صاف کیا اور اپنے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر اس کے کھلے سوراخ بند کیے ، پھر آنحضرت ؐ کو اندر لے گئے۔ اور3 دن تک دونوں حضرات وہاں غار ہی میں رہے۔

غارِ ثور میں 3دن گزارنے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے گھر سے 2 اونٹنیاں منگوائیں ،جنہیں اس سفر کیلئے پہلے سے ہی تیار کیا گیاتھا ، ایک پر حضورِ پاک ؐ اور حضرت ابوبکر صدیقؐ سوار ہوئے اور دوسری پر عامر بن فہیرہ اور عبد اللہ بن یقط ( جسے بطورِ رہبر نوکر رکھا گیا تھا) سوار ہوئے اور مدینہ منورہ کی جانب مؤرخہ یکم ربیع الاول بمطابق 16 ستمبر 622 ء پیر کے دن روانہ ہوئے اور مقام قباء میں پہنچ گئے ، اہل مدینہ کو جب آپؐ کی آمد کی اطلاع ملی تو خوشی کے مارے آپؐ کے استقبال کے لئے اپنے گھروں سے باہر نکل پڑے اور اللہ اکبر! جیسے گونجتے نعروں کے ساتھ آپؐ کا پرتپاک استقبال کیا اور آپؐ کے ارد گرد پروانوں کی طرح جمع ہوگئے ۔ 3 دن تک آپؐ یہاں قیام پذیر رہے ، اس دوران آپؐ نے مسجد قباء کی بنیاد رکھی ، 12 ربیع الاوّل جمعہ کا دن تھا ، آپؐ قباء سے روانہ ہوکر بنی سالم کے گھروں تک پہنچے اور یہاں جمعہ کی نماز پڑھائی اور اس طرح اسلام میں یہ پہلی جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔

ہجرت کے پہلے سال آپؐ نے مسجد نبویؐ کی تعمیر فرمائی اور اذان کی تعلیم لوگوں میں عام کروائی۔ دوسرے سال تحویل قبلہ کا واقعہ پیش آیا اور بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا گیا ، اسی سال زکوٰۃ اور روزے بھی فرض ہوئے اور اسی سال صدقہ فطر ، نماز عید اور قربانی کی لوگوں کو تعلیم دی گئی ۔ اسی سال حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے ہوا ۔چوتھے سال حضرت زید بن ثابتؓ نے ارشادِ نبویؐ کے بموجب یہودیوں کی لکھائی سیکھی تاکہ ان سے خط و کتاب ہوسکے ۔ پانچویں سال حج فرض ہوا ،اور متبنّیٰ (یعنی لے پالک) بنانے کا قاعدہ منسوخ ہوا جو عرب میں بہت زیادہ رائج تھا ، جس کی رُو سے منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے جیسے حقوق ملتے تھے ، وہی وارث ہوتا تھا اور اس کی بیوی حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام سمجھی جاتی تھی ۔ ساتویں سال حضرت خالد بن ولیدؓ ، حضرت عمرو بن عاص ؓ اور حضرت عثمان بن طلحہ ؓ مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ نویں سال حضرت ابو بکر صدیقؓ کو حج کا امیر بناکر مکہ معظمہ روانہ کیا گیا ۔

بالآخر ہجرت کے گیارہویں سال مؤرخہ 28 صفرسنہ 11ہجری منگل کے روز حضور نبی کریمؐ کے سر مبارک میں درد شروع ہوا جس کی وجہ سے آپؐ کو شدید قسم کا بخار لاحق ہوگیاجو تقریباً 14 دن تک مسلسل آپؐ کو رہا ، اس دوران 17 نمازیں آپؐ مسجد میں ادا نہیں فرما سکے ، بلکہ آپؐ کی جگہ یہ نمازیں حضرت ابو بکر صدیقؓ نے لوگوں کو پڑھائیں ۔ حضورِ پاک ؐ نے بخار کی تیزی کی وجہ سے کئی مرتبہ غسل فرمایا اور کچھ دوائیں بھی استعمال فرمائیں، لیکن بیماری سے جانبر نہ ہوسکے ۔ اس کے علاوہ پانی کا ایک پیالہ اپنے پاس رکھا ہوا تھا جس میں دست مبارک بھگوکر چہرہ انور پر پھیرتے رہتے اور یہ دعاء مانگتے رہتے : ’’اے اللہ! موت کی تکالیف میں میری مدد فرما!۔‘‘ چنانچہ جب نزع کا وقت آیا تو آپؐ نے اپنے منہ میں مسواک فرمائی اور یہ دعا (اے اللہ ! میں رفیق اعلیٰ ( یعنی تیری ملاقات کرنے ) کو پسند کرتا ہوں ۔)مانگتے ہوئے مؤرخہ 12 ربیع الاوّل سنہ 11 ہجری پیر کے دن وصال فرمایا۔ انا للہ واناالیہ راجعون ۔

یَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلَّمْ دَائِماً أَبَداً

عَليٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلَّھِمٖ

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

کمالِ خلاق ذات اْس کی

جمالِ ہستی حیات اْس کی

بشر نہیں عظمتِ بشر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

وہ شرحِ احکام حق تعالیٰ

وہ خود ہی قانون خود حوالہ

وہ خود ہی قرآن خود ہی قاری

وہ آپ مہتاب آپ ہالہ

وہ عکس بھی اور آئینہ بھی

وہ نقطہ بھی خط بھی دائرہ بھی

وہ خود نظارہ ہے خود نظر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

شعور لایا کتاب لایا

وہ حشر تک کا نصاب لایا

دیا بھی کامل نظام اس نے

اور آپ ہی انقلاب لایا

وہ علم کی اور عمل کی حد بھی

ازل بھی اس کا ہے اور ابد بھی

وہ ہر زمانے کا راہبر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

وہ آدم و نوح سے زیادہ

بلند ہمت بلند ارادہ

وہ زْہدِ عیسیٰ سے کوسوں آ گے

جو سب کی منزل وہ اس کا جادہ

ہر اک پیمبر نہاں ہے اس میں

ہجومِ پیغمبراں ہے اس میں

وہ جس طرف ہے خدا ادھر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

بس ایک مشکیزہ اک چٹائی

ذرا سے جَو ایک چارپائی

بدن پہ کپڑے بھی واجبی سے

نہ خوش لباسی نہ خوش قبائی

یہی ہے کْل کائنات جس کی

گنی نہ جائے صفات جس کی

وہی تو سلطانِ بحرو بر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

جو اپنا دامن لہو سے بھر لے

مصیبتیں اپنی جان پر لے

جو تیغ زن سے لڑے نہتا

جو غالب آ کر بھی صلح کر لے

اسیر دشمن کی چاہ میں بھی

مخالفوں کی نگاہ میں بھی

امیں ہے صادق ہے معتبر ہے

میرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

جسے شاہِ شش جہات دیکھوں

اْسے غریبوں کے ساتھ دیکھوں

عنانِ کون و مکاں جو تھامے

کدال پر بھی وہ ہاتھ دیکھوں

لگے جو مزدور شاہ ایسا

نذر نہ دَھن سربراہ ایسا

فلک نشیں کا زمیں پہ گھر ہے

میرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

وہ خلوتوں میں بھی صف بہ صف بھی

وہ اِس طرف بھی وہ اْس طرف بھی

محاذ و منبر ٹھکانے اس کے

وہ سربسجدہ بھی سربکف بھی

کہیں وہ موتی کہیں ستارہ

وہ جامعیت کا استعارہ

وہ صبحِ تہذیب کا گجر ہے

میرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

مظفر وارثی
 
  • Like
Reactions: maria_1 and Angela

Angela

~LONELINESS FOREVER~
TM Star
Apr 29, 2019
3,793
4,173
213
~Dasht e Tanhaayi~
Beyshakkk Mera paghambar (PBUH) Azeeeem tar hai...bhttt hi umdaa tehreeer Jazakallah
امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ تحریر : مفتی محمد وقاص رفیع
View attachment 117437
آج سے ہزاروں سال قبل کسی زمانہ میں قبیلہ بنو جرہم کے کچھ لوگ عرب کے مشہور شہر ’’مکہ مکرمہ‘‘ میں آباد ہوگئے تھے، جن کی اولاد سے آگے چل کر فہر یا نضر بن کنانہ نے جنم لیا ، ان کی اولاد کو ’’قریش‘‘ کہاجاتا ہے ۔ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺکا تعلق اسی قریش کے قبیلہ سے تھا ۔آپؐ مؤرخہ 12 ؍ربیع الاوّل 20؍ اپریل 571 ء بمطابق یکم جیٹھ 628 بکرمی پیر کے دن صبح صادق کے بعد آفتاب نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کے وقت 4:25 منٹ پر اس دنیا میں تشریف لائے ۔ساتویں دن قربانی ہوئی ، جس میں تمام قریش کو دعوت دی گئی ۔

لوگوں نے پوچھا بچے کا نام کیا رکھا ہے ؟ حضرت عبد المطلبؓ نے جواب دیا ’’محمد!‘‘ کہا گیا کہ آپؓ نے اپنے خاندان کے سب مروجہ ناموں کو چھوڑ کر یہ نام اختیارکیا؟۔ آپ ؓنے جواب دیا کہ : ’’ میں چاہتا ہوں کہ میرا یہ بچہ دنیا بھر کی ستائش اور تعریف کا شایان قرار پائے۔‘‘ بعد ازاں آپؐ کو دائی حلیمہ سعدیہؓ کے سپرد کیا گیا ، جنہوں نے مکمل 2سال تک آپؐ کو دودھ پلایا اور پھر آپؐ کو حضرت آمنہؓ کے پاس لے آئیں ، حضرت آمنہؓ نے آپؐ کو دوبارہ حلیمہ سعدیہؓ کے ہی سپرد کردیا ۔

آنحضرتؐ کے والد ماجد حضرت عبد اللہؓ تو اسی وقت دنیا سے پردہ فرماگئے تھے جب آپؐ ابھی مادرِ شکم ہی میں تھے ، تاہم آپؐ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہؓ نے اس وقت وفات پائی جب آپؐ کی عمر مبارک 6 سال تھی ۔جب آپؐ کی عمر مبارک 8 سال 10 دن ہوئی تو آپؐ کے دادا حضرت عبد المطلبؓ بھی 84 سال کی عمر میں چل بسے ۔ اب آپؐ کی تمام تر تربیت ونگرانی آپ کے چچا حضرت ابوطالبؓ کے حصہ میں آگئی اور وہ آپ ؐ کی تربیت اور نگرانی کے ذمہ دار بن گئے ۔

حضور نبی کریمؐ نے جب اپنے عنفوانِ شباب میں قدم رکھا تو آپؐ کا خیال تجارت کی طرف مائل ہوا مگر روپیہ پیسہ اپنے پاس موجود نہ تھا ، اُدھر دوسری طرف مکہ میں شریف خاندان کی ایک بیوہ عورت حضرت خدیجہ ؓ نے آپؐ کے اوصاف، دیانت داری اور سلیقہ شعاری کے احوال سن رکھے تھے ، اس لئے انہوں نے آپؐ سے درخواست کی آپؐ ان کا مال لے کر تجارت کریں ۔ آنحضرتؐ نے منظور فرمالیا اوران کا مال لے کر تجارت کرنے چلے گئے ، اس تجارت میں آپؐ کو بہت زیادہ نفع ہوا ۔ اس تجارتی سفر میں حضرت خدیجہ ؓ کا غلام میسرہ بھی آپؐ کے ساتھ تھا ، اس نے واپس آکر آنحضرتؐ کی ان تمام خوبیوں اور بزرگیوں کا ذکر حضرت خدیجہؓ کو سنایا ، ان اوصاف کو سن کر حضرت خدیجہؓ نے آپؐ سے نکاح کرلیا ۔ جب یہ نکاح ہوا تو اس وقت آپؐ کی عمر 25 سال اور حضرت خدیجہ ؓ کی عمر40 سال تھی ۔ حضرت خدیجہؓ آپؐ کے نکاح میں 25 سال تک زندہ رہیں ۔

نبی اکرمؐ کی عمر مبارک جب 40 سال اور1دن کی ہوئی تو اس وقت جبرئیل امین ؑ پروانۂ نبوت لے کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپؐ اس وقت غارِ حرا میں تشریف فرما تھے ۔ حضرت جبرئیل ؑ نے آکر آپؐ کو خوش خبری سنائی کہ : ’’ اے محمد ؐ!مبارک ہو ، اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اپنا پیغمبر اور رسول منتخب فرمالیا ہے ۔‘‘ لیکن آنحضرت ؐ انجانے میںیک دم اس سے گھبرا سے گئے اور اپنے گھر تشریف لے آئے اورلیٹ گئے اور حضرت خدیجہ ؓ سے فرمانے لگے کہ میرے اوپر چادر ڈال دو ۔ جب آپؐ کو ذرا سکون ملا تو آپ ؐ نے حضرت خدیجہؓ سے اپنا سارا واقعہ ذکر کیا ۔ حضرت خدیجہؓ آپؐ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ۔ آپؐ نے اپنا سارا واقعہ ان سے بیان فرمایا ، وہ سنتے ہی بول اٹھے : ’’ یہی وہ ناموسِ اکبر ہے جو حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوا تھا ۔ کچھ دن بعد دوبارہ حضرت جبرئیل ؑ آپؐ کے پاس تشریف لائے اور آپؐ پر سورۂ علق کی ابتدائی 5 آیات بطورِ وحی کے نازل فرمائیں ، چنانچہ یہ آپؐ پر اترنے والی پہلی وحی تھی۔

نبوت مل جانے کے بعدتقریباً 9 برس تک حضور نبی کریمؐ مکہ مکرمہ میں دعوت و تبلیغ کا کام سرانجام دیتے رہے اور قوم کی رشد و ہدایت ا وران کی اصلاح کی کوشش فرماتے رہے ، بالخصوص عرب کے مشہور میلوں عکاظ ، بجنیہ اور ذی المحا ظ میں جاجاکر لوگوں کو اسلام اور توحید کی دعوت دیتے رہے ، جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت تیار ہوگئی ۔ لیکن جب قریش مکہ نے یہ رنگ دیکھا تو وہ بہت گھبرائے اور انہوں نے اس کا سدباب ضروری سمجھا ، پہلے تو وہ معمولی روک ٹوک سے کام لیتے رہے ، لیکن جب اس سے کچھ نہ بن پڑا تو پھر وہ جبر و استکراہ اورایذاء رسانی پر اتر آئے اور یہ کوشش کرنے لگے کہ جو لوگ مسلمان ہوگئے ہیں کم از کم انہیں دوبارہ واپس اپنے دین پر لایا جائے۔

اس دوران آپؐ کے چچا حضرت ابو طالبؓ اور ان کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ ؐ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہؓ بھی وفات پاگئیں، اس لئے آپؐ کے غم وپریشانی میں اور زیادہ اضافہ ہوگیا ۔ اب آپؐ نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے کا ارادہ فرمالیا اور حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے مکان پر تشریف لے آئے ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بہت جلد سامانِ سفر تیار کیا ۔ چنانچہ رات کی تاریکی میں یہ دونوں حضرات وہاں سے نکل پڑے اور مکہ مکرمہ سے 4 یا5 کوس کے فاصلہ پر غارِ ثور تک پہنچ گئے ۔ پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اندر جاکر غار کو صاف کیا اور اپنے کپڑے پھاڑ پھاڑ کر اس کے کھلے سوراخ بند کیے ، پھر آنحضرت ؐ کو اندر لے گئے۔ اور3 دن تک دونوں حضرات وہاں غار ہی میں رہے۔

غارِ ثور میں 3دن گزارنے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے گھر سے 2 اونٹنیاں منگوائیں ،جنہیں اس سفر کیلئے پہلے سے ہی تیار کیا گیاتھا ، ایک پر حضورِ پاک ؐ اور حضرت ابوبکر صدیقؐ سوار ہوئے اور دوسری پر عامر بن فہیرہ اور عبد اللہ بن یقط ( جسے بطورِ رہبر نوکر رکھا گیا تھا) سوار ہوئے اور مدینہ منورہ کی جانب مؤرخہ یکم ربیع الاول بمطابق 16 ستمبر 622 ء پیر کے دن روانہ ہوئے اور مقام قباء میں پہنچ گئے ، اہل مدینہ کو جب آپؐ کی آمد کی اطلاع ملی تو خوشی کے مارے آپؐ کے استقبال کے لئے اپنے گھروں سے باہر نکل پڑے اور اللہ اکبر! جیسے گونجتے نعروں کے ساتھ آپؐ کا پرتپاک استقبال کیا اور آپؐ کے ارد گرد پروانوں کی طرح جمع ہوگئے ۔ 3 دن تک آپؐ یہاں قیام پذیر رہے ، اس دوران آپؐ نے مسجد قباء کی بنیاد رکھی ، 12 ربیع الاوّل جمعہ کا دن تھا ، آپؐ قباء سے روانہ ہوکر بنی سالم کے گھروں تک پہنچے اور یہاں جمعہ کی نماز پڑھائی اور اس طرح اسلام میں یہ پہلی جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔

ہجرت کے پہلے سال آپؐ نے مسجد نبویؐ کی تعمیر فرمائی اور اذان کی تعلیم لوگوں میں عام کروائی۔ دوسرے سال تحویل قبلہ کا واقعہ پیش آیا اور بیت المقدس کے بجائے خانہ کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا گیا ، اسی سال زکوٰۃ اور روزے بھی فرض ہوئے اور اسی سال صدقہ فطر ، نماز عید اور قربانی کی لوگوں کو تعلیم دی گئی ۔ اسی سال حضرت فاطمہ ؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے ہوا ۔چوتھے سال حضرت زید بن ثابتؓ نے ارشادِ نبویؐ کے بموجب یہودیوں کی لکھائی سیکھی تاکہ ان سے خط و کتاب ہوسکے ۔ پانچویں سال حج فرض ہوا ،اور متبنّیٰ (یعنی لے پالک) بنانے کا قاعدہ منسوخ ہوا جو عرب میں بہت زیادہ رائج تھا ، جس کی رُو سے منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹے جیسے حقوق ملتے تھے ، وہی وارث ہوتا تھا اور اس کی بیوی حقیقی بیٹے کی بیوی کی طرح حرام سمجھی جاتی تھی ۔ ساتویں سال حضرت خالد بن ولیدؓ ، حضرت عمرو بن عاص ؓ اور حضرت عثمان بن طلحہ ؓ مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ نویں سال حضرت ابو بکر صدیقؓ کو حج کا امیر بناکر مکہ معظمہ روانہ کیا گیا ۔

بالآخر ہجرت کے گیارہویں سال مؤرخہ 28 صفرسنہ 11ہجری منگل کے روز حضور نبی کریمؐ کے سر مبارک میں درد شروع ہوا جس کی وجہ سے آپؐ کو شدید قسم کا بخار لاحق ہوگیاجو تقریباً 14 دن تک مسلسل آپؐ کو رہا ، اس دوران 17 نمازیں آپؐ مسجد میں ادا نہیں فرما سکے ، بلکہ آپؐ کی جگہ یہ نمازیں حضرت ابو بکر صدیقؓ نے لوگوں کو پڑھائیں ۔ حضورِ پاک ؐ نے بخار کی تیزی کی وجہ سے کئی مرتبہ غسل فرمایا اور کچھ دوائیں بھی استعمال فرمائیں، لیکن بیماری سے جانبر نہ ہوسکے ۔ اس کے علاوہ پانی کا ایک پیالہ اپنے پاس رکھا ہوا تھا جس میں دست مبارک بھگوکر چہرہ انور پر پھیرتے رہتے اور یہ دعاء مانگتے رہتے : ’’اے اللہ! موت کی تکالیف میں میری مدد فرما!۔‘‘ چنانچہ جب نزع کا وقت آیا تو آپؐ نے اپنے منہ میں مسواک فرمائی اور یہ دعا (اے اللہ ! میں رفیق اعلیٰ ( یعنی تیری ملاقات کرنے ) کو پسند کرتا ہوں ۔)مانگتے ہوئے مؤرخہ 12 ربیع الاوّل سنہ 11 ہجری پیر کے دن وصال فرمایا۔ انا للہ واناالیہ راجعون ۔

یَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلَّمْ دَائِماً أَبَداً

عَليٰ حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلَّھِمٖ

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

کمالِ خلاق ذات اْس کی

جمالِ ہستی حیات اْس کی

بشر نہیں عظمتِ بشر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

وہ شرحِ احکام حق تعالیٰ

وہ خود ہی قانون خود حوالہ

وہ خود ہی قرآن خود ہی قاری

وہ آپ مہتاب آپ ہالہ

وہ عکس بھی اور آئینہ بھی

وہ نقطہ بھی خط بھی دائرہ بھی

وہ خود نظارہ ہے خود نظر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

شعور لایا کتاب لایا

وہ حشر تک کا نصاب لایا

دیا بھی کامل نظام اس نے

اور آپ ہی انقلاب لایا

وہ علم کی اور عمل کی حد بھی

ازل بھی اس کا ہے اور ابد بھی

وہ ہر زمانے کا راہبر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

وہ آدم و نوح سے زیادہ

بلند ہمت بلند ارادہ

وہ زْہدِ عیسیٰ سے کوسوں آ گے

جو سب کی منزل وہ اس کا جادہ

ہر اک پیمبر نہاں ہے اس میں

ہجومِ پیغمبراں ہے اس میں

وہ جس طرف ہے خدا ادھر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

بس ایک مشکیزہ اک چٹائی

ذرا سے جَو ایک چارپائی

بدن پہ کپڑے بھی واجبی سے

نہ خوش لباسی نہ خوش قبائی

یہی ہے کْل کائنات جس کی

گنی نہ جائے صفات جس کی

وہی تو سلطانِ بحرو بر ہے

مرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

جو اپنا دامن لہو سے بھر لے

مصیبتیں اپنی جان پر لے

جو تیغ زن سے لڑے نہتا

جو غالب آ کر بھی صلح کر لے

اسیر دشمن کی چاہ میں بھی

مخالفوں کی نگاہ میں بھی

امیں ہے صادق ہے معتبر ہے

میرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

جسے شاہِ شش جہات دیکھوں

اْسے غریبوں کے ساتھ دیکھوں

عنانِ کون و مکاں جو تھامے

کدال پر بھی وہ ہاتھ دیکھوں

لگے جو مزدور شاہ ایسا

نذر نہ دَھن سربراہ ایسا

فلک نشیں کا زمیں پہ گھر ہے

میرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

وہ خلوتوں میں بھی صف بہ صف بھی

وہ اِس طرف بھی وہ اْس طرف بھی

محاذ و منبر ٹھکانے اس کے

وہ سربسجدہ بھی سربکف بھی

کہیں وہ موتی کہیں ستارہ

وہ جامعیت کا استعارہ

وہ صبحِ تہذیب کا گجر ہے

میرا پیمبرﷺ عظیم تر ہے

مظفر وارثی
 
Top
Forgot your password?