امجد اسلام امجد سے ایک تصوراتی مکالمہ

Hoorain

*In search of Oyster Pearls*
VIP
ہامجد اسلام امجد سے ایک تصوراتی مکالمہ
عرفان مرتضیٰ.......... لاس اینجلس
ایک زمانے بعد جب امجد اسلام امجد ہمارے شہر مشاعرہ میں شرکت کے لئے آئے تو ہم نے منتظم مشاعرہ سے درخواست کی کہ کیوں نہ کچھ شعراءکو ہم اپنے گھر ٹھہرا لیں- منتظم مشاعرہ نے ہمیں شعراءکی فہرست دی کہ ہم جس شاعر کو چاہیں اسے اپنے ساتھ ٹھہرا لیں- ہم نے امجد اسلام امجد کے علاوہ جناب محسن احسان کو بھی اپنا مہمان بنانے کی خواہش ظاہر کی- دونوں شعراءایک ہی جہاز سے آ رہے تھے تو ہم دونوں کو لینے کے لئے ایئر پورٹ پہنچ گئے- امجد اسلام امجد اور محسن احسان کو لے کر ہم اپنی کار کی جانب چل دیئے- ہماری کار میں بیٹھے تو امجد صاحب نے کہا :
ہمارے بعد ہیں کچھ لوگ کیسے‘ دیکھ تو آئیں
چلو اُس شہر کو اِک بار پھر سے‘ دیکھ تو آئیں
ہم نے کہا ”ہمیں بہت خوشی ہے کہ آپ دونوں ہمارے شہر میں آئے ہیں‘ کافی عرصے سے کوئی ڈھنگ کی محفل ہی نہیں ہو رہی تھی‘ یہ بتائیں کہ آپ لوگوں کا سفر کیسا رہا؟“ محسن صاحب خاموش رہے- لیکن امجد صاحب کی جانب دیکھا تو وہ مسکرانے لگے پھر بولے ”عرفان بھائی! سفر تھا‘ بس کٹ ہی گیا اور جب بھی کوئی پریشانی ہوتی ہے تو اس کے علاج کے لئے بس یہ سمجھ لیں کہ :۔
مِری حیات کے سارے سفر پہ بھاری ہے
وہ ایک پَل جو تِری چشمِ اعتبار میں ہے
پھر کار کے باہر دیکھتے ہوئے سڑکوں کی جانب ہاتھ اُٹھا کر بولے :۔
مِری صورت‘ زمیں کے سارے منظر
تِرے دیدار کو ترسے ہوئے ہیں
کار جب ایک پُل پر سے گزری تو سامنے ہی ساحل نظر آنے لگا- بہت حسین منظر تھا- آسمان پر کہیں کہیں بادل بھی چھائے ہوئے تھے- تو محسن صاحب کی توجہ ساحل کی جانب دلوا کر بولے :۔
سمندر‘ آسماں اور سانس میرا
تِری آواز پر ٹھہرے ہوئے ہیں
تو محسن احسان فوراً بولے ”یار امجد! سانس میرا کہ میری؟“ امجد صاحب ہنس کر بولے‘ ”محسن بھائی! یہ میرا اور میری تو اس پر منحصر ہے کہ سانس لے کون رہا ہے- اگر کوئی بندہ سانس لے رہا ہے تو سانس مذکر ہو جائے گا اور اگر کوئی خاتون سانس لیں تو وہ سانس خودبخود مو نث بن جائے گی-“ یہ کہہ کر بہت زور سے قہقہہ لگایا- ہم بھی اُن کے ساتھ ساتھ ہنستے رہے- انہی باتوں میں گھر آگیا- کار سے اُترے تو امجد صاحب نے کہا :۔
لیکن یہی آشوب تو میزانِ وفا ہے
اے دل یہ کڑا وقت ہی عرفانِ وفا ہے
ہم نے کہا ”آپ اسے عرفانِ وفا کہیں یا عرفان کی وفا کہیں‘ لیکن اب تو یہ کڑا وقت آپ کو ہمارے ساتھ ہی گزارنا ہوگا“- ہمارے گھر میں کچھ مزدور کام کر رہے تھے اور باہر بجری اور پتھروں کا ڈھیر لگا ہوا تھا- امجد صاحب نے ایک پتھر اٹھا کر کنارے کی جانب کر دیا تو ہم نے کہا ”امجد صاحب! انہی پتھروں پہ چل کے اگر آسکیں تو....“ ابھی ہم نے اتنا ہی کہا تھا کہ وہ بولے :۔
راستہ صاف ہو نہ ہو لیکن
ہم تو پتھر ہٹائے جاتے ہیں
ہم نے دونوں شعراءکو ان کے کمروں میں پہنچایا- محسن صاحب تو آرام کی غرض سے لیٹ گئے اور انہوں نے کہا کہ وہ تھوڑا سونا چاہتے ہیں لیکن امجد صاحب ایک کتاب لے کر پڑھنے بیٹھ گئے- ہم نے جا کر چائے تیار کروائی- چند منٹ کے بعد جب ہم امجد صاحب کو چائے کے لئے بلانے گئے تو وہ اپنے کمرے میں نہیں تھے- ہم انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے لائبریری میں پہنچے تو دیکھا جناب آرام کرسی پر دراز ہیں اور کتاب سینے پر رکھی ہے اور اکیلے بیٹھ کر کچھ سوچ رہے ہیں- کمرے میں شام کا اندھیرا پھیل رہا تھا‘ ہم نے کمرے کی بتی روشن کی تو ایک دم ہماری جانب دیکھا- ہم نے کہا ”آپ بھلا یہاں اندھیرے میں کیا کر رہے ہیں“- بولے‘ ”اندھیرا؟ اندھیرا کہاں‘ بھائی میرے:۔
محبت نے رگوں میں کس طرح کی روشنی بھر دی
کہ جل اٹھتا ہے امجد دل‘ چراغِ شام سے پہلے
ہم نے مسکرا کر کہا ”امجد صاحب! آپ ایسا کیجئے کہ دل کی توانائی کو آرام دیجئے اور کمرے کی بتی کا فائدہ اٹھائیے“- ہنسنے لگے- تو ہم نے کہا ”جناب چائے تیار ہے‘ ہاتھ منھ دھو لیجئے- ذراتازہ دم ہو جائیں گے-“ وہ آرام کرسی سے اٹھے اور دیوار پر لگے
 
Top