امیر تیمور جنگِ انقرہ کیسے جیتا؟

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
امیر تیمور جنگِ انقرہ کیسے جیتا؟

رضوان عطا

جنگِ نکوپولس میں سلطنتِ عثمانیہ کے سلطان بایزید اول نے صلیبی فوج کے خلاف شاندار فتح پائی لیکن اس کے تقریباً چھ برس بعد، 20 جولائی 1402ء کو، جنگِ انقرہ میں اسے امیر تیمور کے ہاتھوں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ امیر تیمور نے اپنے دور کی بہت بڑی طاقت کو بہتر حکمت عملی سے شکست دی۔ وہ کامیاب جنگجو، سپاہ سالار اور حملہ آور تھا۔ اس نے یکے بعد دیگرے کئی فتوحات حاصل کیں اور ایک وسیع سلطنت قائم کر لی۔ البتہ مقبوضہ علاقوں میں پائیدار ریاستی ڈھانچہ قائم کرنے میں ناکام رہا۔ غالباً اسی لیے جنگ کے صرف تین سال بعد، جب اس کا انتقال ہوا، تیموری سلطنت بکھرنے لگی اور جلد دنیا کے نقشے سے غائب ہو گئی۔ دوسری جانب سلطنتِ عثمانیہ نے اس دھچکے کے بعد خود کو سنبھال لیا اور آئندہ دو سے تین صدیوں تک ایک بڑی طاقت کے طور پر نمایاں رہی۔ امیر تیمور نے اس علاقے میں اپنی سلطنت کی بنیاد رکھی جہاں آج ازبکستان ہے۔ قوت پانے کے بعد مغرب اور شمال مغرب کی طرف فتوحات کرتی تیموری فوج بحیرہ کیسپین، دریائے ارل اور یورپ کے سب سے بڑے دریا ولگا تک جا پہنچی۔ جنوب اور جنوب مغرب میں یہ سلسلہ فارس سے شمالی عراق اور شام تک گیا۔ اس کی فوج کے قدم برصغیر تک بھی آئے۔ اس صورتِ حال میں پہلے سے موجود طاقت ور عثمانی اور ابھرتی تیموری سلطنت کے مابین کشیدگی اس نہج پر آن پہنچی کہ تصادم ناگزیر خیال کیا جانے لگا۔ امیر تیمور نے اپنے بڑے لشکر کے ساتھ اناطولیہ کا رخ کیا۔ تب وہ جنگوں اور مہمات میں تین دہائیوں سے زائد عرصہ بِتا چکا تھا۔ بایزید اول نے بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ مشرقی اناطولیہ سے تیموری فوج رواں دواں ہے تو وہ محاصرہ چھوڑ کر موسمِ گرما میں اس کی جانب روانہ ہوا۔ تیموری فوج اندازاً ایک لاکھ 40 ہزار تھی جس میں زیادہ تر گھڑ سوار تھے۔ اس میں 32 جنگی ہاتھی بھی شامل تھے۔ بایزیداول کی فوج تقریباً85 ہزار پر مشتمل تھی۔ عثمانی لشکر میں دائیں جانب شہزادہ سلیمان کی سربراہی میں گھڑ سوار اناطولی ’’سپاہی‘‘ اور تاتاری تھے۔ وسط میں ینی چری اور اعلیٰ تربیت یافتہ سپاہی تھے جن کی قیادت بایزید اول اور اس کے بیٹے چلبی محمد کے ہاتھ میں تھی۔ بائیں جانب سربیائی حاکم سٹیفن لازارویک کی رہنمائی میں دستے صف بستہ تھے۔ میدانِ جنگ تک پہنچتے عثمانی فوج گرمی، پیاس اور تھکاوٹ سے نڈھال ہو چکی تھی۔ بایزید اول تیموری حملے سے تنگ آ چکا تھا اور مقابلے کی دھن سر پر سوار تھی، اس لیے اس نے افواج کوآرام کا وقت بھی نہ دیا۔ بایزیداول کو جرنیلوں نے صلاح دی کہ دفاعی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے گرم موسم اورجغرافیے کی جان کار کا فائدہ اٹھایا جائے۔ سلطان، جسے یلدرم (آسمانی بجلی) کا لقب ملا تھا،نے مشورہ رد کر دیا اور حملے کے لیے آگے بڑھا۔ دوسری طرف روایت کے برعکس امیر تیمور نے دفاعی حکمتِ عملی اپنائی۔ تلاش پر عثمانی سپاہ کو تیموری فوج نہ ملی۔ وہ خفیہ طور پر جنوب مشرق کی جانب چلی گئی اور آرام بھی کر لیا۔ وہ گھوم کر عثمانی سپاہ کے پیچھے آن کھڑی ہوئی۔ تیموری فوج عین اسی مقام پر براجمان ہو گئی جہاں پہلے عثمانی لشکر تھا۔ انہوں نے ترک کیے جانے والے خیموں اور پانی کے ذخیروں پر قبضہ کر لیا۔ تیموری فوج میں مرکزی حصے کی کمان تیمور کے ہاتھ میں تھی اور اس کے بیٹے میران اور شاہ رخ بالترتیب دائیں اور بائیں جانب کے دستوں کی کمان کر رہے تھے۔ اس کا بھتیجا ہراول دستے کی قیادت کر رہا تھا۔ عثمانیوں کی جانب سے جنگ کا آغاز بڑے حملے کی صورت میں ہوا۔ اس کا جواب گھوڑوں پر سوار تیراندازوں نے تیر کی بارش سے دیا۔ یہ غیر متوقع تھا۔ ہزاروں مارے گئے اور بہت سوں نے امیر تیمور کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ سربیائی دستوں نے ایسا بھاری لباس پہن رکھا تھا جو تیروں سے محفوظ رکھ سکتا تھا۔ وہ بایزید اول کے ایک بیٹے کو بچا کر قسطنطنیہ لے گئے۔ تیموری پانی کا رخ عثمانی فوج سے دور کر چکے تھے ، جس کی وجہ سے وہ پیاس سے نڈھال ہوئے جا رہی تھی۔ تھکی ہوئی اورپیاسی عثمانی فوج بالآخر بکھر گئی۔ اس میں ایک کردار ان تاتاری دستوں کا تھا جنہوں نے عین جنگ کے موقع پر وفاداری تبدیل کی۔ بایزید اول نے نزدیکی پہاڑوں میں پناہ لی۔ تاہم تیموریوں نے پیچھا کر کے اسے گرفتار کر لیا۔ کہا جاتا ہے کہ تیمور نے سلطان کو سونے کے پنجرے میں قید کیا اور کچھ عرصہ بعد وہ دوران قید جان کی بازی ہار گیا۔ وہ واحد عثمانی سلطان تھا جو دشمن کے ہاتھوں قید ہوا۔

 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,824
1,769
213
بجلی خان کی ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی مروا گئی لیکن اس کے باوجود دوبارہ خلافت کا بحال ہونا بھی معجزے سے کم نہیں تھا اب کیا کہوں کمال آتا ترک کو
 
  • Like
Reactions: intelligent086

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
بجلی خان کی ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی مروا گئی لیکن اس کے باوجود دوبارہ خلافت کا بحال ہونا بھی معجزے سے کم نہیں تھا اب کیا کہوں کمال آتا ترک کو
کمال اتا ترک کو کچھ نہ کہو باقی رائے کا شکریہ
 
  • Like
Reactions: maria_1

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
نئے ترکی کا بانی {(thinkg)}
ترکی، کی جدید تاریخ کا آغاز اسی برس قبل اس وقت ہوا، جب خلافت عثمانیہ کا سفینہ ناخداﺅں نے ڈبو دیا تھا۔ ترکی فوج کی ساتویں کور کے کمانڈر مصطفی کمال اتا ترک نے خود کو سنبھالا۔ وہ اول و آخر ایک ترک ہی تھا۔ حالات کے ساحل پر کھڑے اتا ترک نے ڈوبتی ہوئی ناﺅ کو دیکھا اور فیصلہ کیا کہ سلطنت عثمانیہ کے بادشاہ ڈوبتے ہیں ،سو ڈوبیں ،مگر ترک افواج کو مَیں منظم کر کے دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ وہ استنبول میں تھا تو خلیفہ عبدالحمید کے خلاف جاری سرگرمیوں میں اس کا ہاتھ نظر آیا۔ اس جرم کی پاداش میں اسے جیل کی سلاخیں دیکھنی پڑ گئیں۔ مصطفی کمال ویسے ہی سلطنت عثمانیہ پر خار کھائے بیٹھاتھا ،جیل نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ قید و بند کے اس عرصے نے مصطفی کمال اتا ترک کو یکسوئی کے ساتھ سوچنے کا وقت فراہم کیا۔ اپنے تئیں اس نے کئی باتوں پر غور کیا۔ اس کے دماغ میں یہ خیال پکنے لگا کہ سلطنت عثمانیہ کے ان آخری خلفا ءکا رویہ آمرانہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوچنے سمجھنے پر پابندی عائد کر دی، من مانے فیصلے نافذ کرنے کا تہیہ کر لیا۔ میرے خیالات شاہوں کے طبع نازک پر گراں گزرے تو اٹھا کر پابند سلاسل کر دیا۔ سو اس معاشرے کو ایک روشن خیال اور آزاد خیال معاشرہ بننا چاہئے۔ہمیں اس مقصد کے لئے ”ماڈرن ترکی“ کی طرف سفر کرنا ہوگا۔ رہا ہوتے ہی مصطفی کمال اس سفر پر نکل پڑا۔ اپنے ہدف تک رسائی کے لئے اس نے فوج میں ملازمت اختیار کر لی۔ دمشق فوجی ہیڈ کوارٹر سے اس نے اپنی عسکری ملازمت کا آغاز کیا۔ اس دوران جمعیت اتحاد و ترقی کے ان رہنماﺅں سے اس نے مراسم بڑھا لئے جو نئے ترکی کی تشکیل کے لئے خفیہ یا اعلانیہ پروگرام رکھتے تھے ، دوسری طرف جنگ بلقان میں اپنی عسکری مہارت کا بھرپور مظاہرہ کر کے خود کو اس نے ایک جرا¿ت مند اور بہادر کمانڈر کے طور پر منوا لیا۔ پہلی جنگ عظیم کے آغاز پر وہ ملٹری اتاشی کے طور پر کام کر رہا تھا مگر اس کے اندر کا فوجی اگلے محاذوں کے لئے بے تاب تھا۔ 1915ءمیں اس نے سربراہان سے درخواست کی کہ مجھے فوج کے کسی دستے کی کمانڈ دے کر اگلے محاذوں پر بھیج دیا جائے۔ مصطفی کمال کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے درخواست منظور کر لی گئی۔ اس کی تعیناتی آبنائے باسفورس کی طرف کر دی گئی، جہاں انگریز اور فرانسیسی افواج سے سخت معرکہ درپیش تھا۔ اسی سال یعنی 1915ءکے وسط میں چند ماہ کی مدت میں مصطفیٰ کمال نے فرانسیسی افواج کو پسپا کر دیا۔ آبنائے باسفورس کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا۔

اس ناقابل یقین فتح کے بعد مصطفی کمال کا راستہ روکنا مشکل ہی نہیں ،نا ممکن بھی ہو گیا۔ اس کی ترقی کی رفتار تیز تر ہو گئی۔ فرانسیسی افواج کو شکست سے دوچار کرنے پر مصطفی کمال کو جنرل رینک پر پروموٹ کر دیا گیا۔ اپنی پروموشن کے پہلے ہی سال اس نے روسی افواج کو شکست دے کر ترکی کا مقبوضہ علاقہ بھی آزاد کروا لیا۔ اس کارنامے پر 1917ءمیں مصطفی کمال کو اہم محاذوں پر برسر پیکار ساتویں فوج کا کور کمانڈر لگا دیا گیا۔ 30 اکتوبر 1918ءکو جب معاہدہ امن پر دستخط ہوئے تو مصطفی کمال کو تمام ذمہ داریوں سے فارغ کر کے نئی ذمہ داریاں دینے کے لئے استنبول بلوا لیا گیا۔ سلطنت عثمانیہ کے چھتیسویں فرما نروا خلیفہ وحید الدین سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ خلیفہ کی نظر مصطفی کمال اتا ترک پر پڑی تو اس کی عسکری مہارت اور انتظامی صلاحیت پر رشک کرتا۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ اس بات پر فخر کرتا کہ مصطفی کمال جیسا بہادر اور محبت وطن سالار اسے نصیب ہوا ہے، مگر اسے خبر نہیں تھی کہ ترکی کی محبت کا دم بھرنے والے مصطفی کمال کے دماغ میں سلطنت عثمانیہ کے لئے نفرت کس ڈگری پر ہے۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ ہمارے دربار کا ایک وفادار ہے، اسی بے خبری میں خلیفہ وحید الدین نے مصطفی کمال کو انسپکٹر جنرل بنا دیا۔1920ءمیں مصطفی کمال انگورہ میں ترکی کی پہلی عارضی اسمبلی کا صدر منتخب ہوا۔ اگلے برس ہی اتا ترک کی قیادت میں ترکوں نے یونانیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ اسی برس یعنی 1921ءمیں ترکی افواج نے یونانی افواج کو ترک سرحدوں کے اس پار دھکیل دیا۔ اس کے ایک برس بعد یعنی 1923ءمیں اتاترک نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ترکی کو باقاعدہ جمہوری ریاست ڈیکلیئر کر دیا۔ باقاعدہ پہلا صدر بھی خود مصطفی کمال اتا ترک ہی منتخب ہوا۔ اقتدار کے ہما کا سر پر بیٹھنا تھا کہ اتا ترک کا اندر کا اوریجنل انسان باہر آیا اور اگلے پچھلے سارے حساب بے باق کرنا شروع کر دیئے۔ ایسی اصلاحات کیں ،جنہوں نے پلک جھپکتے ہی جدید ترکی کا جھنڈا لہرا دیا۔ مگر اس جدید ترکی کا محور مادر پدر آزاد معاشرہ تشکیل دینے کے سوا کچھ نہیں تھا۔فرسٹریشن انتہا پر تھی۔ سینے میں جو لاوا برسوں سے پک رہا تھا، وہ ابل کر باہر آیا،جس نے تباہی مچانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ مساجد اور مدارس پر پابندی لگاتے ہوئے جدید تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ عربی زبان میں اذان اور نماز پر پابندی عائد کر دی۔ حج اور عمرے کو سرکاری طور پر ممنوع قرار دے دیا۔ حجاب و ٹوپی اور داڑھی قابل دست اندازی پولیس جرائم قرار دے دیئے۔ مصطفی کمال نے مذہبی امور کا ایک محکمہ بھی قائم کر دیا، مگر اس محکمے کا کام یہ تھا کہ مذہب پسند لوگوں کی کڑی نگرانی کرے۔ اسی محکمے کے تحت اتا ترک نے ترکی کے انشا پردازوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ترکی زبان میں شامل ہو جانے والے عربی الفاظ کو ختم کر کے نہ صرف اس کا ترکی متبادل پیش کرے، بلکہ اس کو ہر صورت میں رائج بھی کرے۔ مسلمان اگر اذان دینا چاہتے ہیں تو ان کے لئے اذان کے عربی الفاظ کی جگہ ترکی الفاظ منتخب کئے جائیں۔ غرضیکہ مذہب کو ترکی کی اجتماعی زندگی سے تو مکمل طور پر نکال دیا گیا، البتہ انفرادی زندگی میں اتنی چھوٹ دی گئی، جتنی کہ مصطفی کمال کی طبیعت برداشت کر سکتی تھی۔

دنیا کی یہ عجیب حقیقت ہے کہ مذہب کو انتہا پسند قرار دینے والوں کی اپنی انتہا پسندی کا سکیل ہمیشہ دو گنا اونچا رہا ہے۔ عثمانی سلطنت کے خلاف مصطفی کمال کا ردعمل ایک فطری سی بات تھی کہ جہانِ تگ وتاز میں اختلاف کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ مگر یہ ردعمل مصطفی کمال کو جس انتہا پر لے گیا، وہ غیر دانش مندی اور حماقت سے آگے کی کوئی چیز تھی۔ بغاوتیں ہمیشہ غیر معتدل معاشرتی رویوں سے جنم لیتی ہیں۔ اگر معاشرے کے کسی بھی اتا ترک کا خیال یہ ہو کہ سلطنتوں کی انتہا پسندیاں بغاوت کو جنم دیتی ہیں تو ان اتا ترکوں کو سوچنا چاہئے کہ اسی انتہا پر وہ خود کھڑے ہوں تو ردعمل مختلف نہیں ہوگا۔مصطفی کمال اتا ترک ذہین، چالاک، اور اعلیٰ درجے کا شاطر منتظم تھا، مگر جذبات اگر غالب آ جائیںتو بڑے بڑے شہسوار بھی اپنے ہی ہاتھوں اپنی دانش کا خون کرنے میں لمحہ بھر کی دیر نہیں کرتے۔ یہی اتا ترک کے ساتھ ہوا۔ جتنا فرق اس نے ترکی اور عثمانی سلطنت کے بیچ روا رکھا تھا۔ اتنا ہی فرق اگر وہ مسلمانوں میں اور اسلام میں کرتا تو حالات کچھ اور ہوتے۔ مگر کسی مسلمان کا غصہ اس نے اسلام پر نکال دیا ور اسلامی احکامات ہی کیا اصلاحات تک کو اس نے نہیں بخشا۔ ہر اس نشان کو اس نے مٹا دیا ،جس میں مذہب کا کوئی ثانوی عکس بھی دکھائی دیتا تھا۔ عقیدوں پر اس نے کڑے پہرے لگا دیئے۔ اظہار رائے کی یک طرفہ ٹریفک چلنے لگی۔ یہ مصطفی کمال اتا ترک کا وہ بے مثل ”کارنامہ“ تھا جس نے اس کی جرا¿ت ، ہمت، حب الوطنی، ذہانت اور متانت کے سارے بھرم دھو دیئے۔ جس انتہا پسندانہ اصلاحات کی بنیاد اتا ترک نے رکھی ،اس نے ترکی کی مجموعی سوچ کو واضح حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد یہ ممکن ہی نہ تھا کہ مصطفی کمال بغیر کسی مد مقابل کے میدان میں خیمے لگانے بیٹھا ہو۔ بلکہ جدید ترکی کے آغاز پر ہی ایک ایسے معاشرے نے جنم لیا جس میں گھٹن ہی گھٹن تھی۔ ترکی کے مجموعی شعور نے بغاوت کا رنگ پکڑنا شروع کر دیا۔ اس ماحول نے تاریخ کا پہیہ حیران کن طور پر اس قدر تیزی سے گھما دیا کہ جس کا گمان بس ایک خوشگوار حیرت ہے۔ پھر سے وہی پرانی فلم نئے کرداروں کے ساتھ چلنے لگی۔ عثمانی سلطنت میں مصطفی کمال اتا ترک اپنے سینے میں آگ لئے پھرتا تھا۔ اب یہاں اتا ترک کے راج میں ایک شخص کے سینے میں بغاوت کی آگ دہکنے لگی۔ پرانی فلم میں اپنی خواہشات کو اتا ترک نے دبائے رکھا اور مناسب موقع کی تلاش جاری رکھی ،یہاں کسی اور شخص نے اپنے دماغ کے نہاں خانوں میں نئے آئیڈیاز تخلیق کرنا شروع کئے۔ اتا ترک نے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر جس طرح ترک خلفا سے ترقی پائی اسی طرح ایک شخص نے اتا ترک سے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر پروموشن حاصل کیا ور پھر جس طرح اتا ترک نے اختیار حاصل کر کے مذہب کا ہر نشان مٹانے کی قسم کھائی اسی طرح اتا ترک کے نور نظر نے وقت آتے ہی اختیار کی زمام ہاتھ میں لی اور ہر اس نشان کے درپے ہو گیا جس میں مصطفی کمال اتا ترک اور اس کی انتہا پسندانہ فکر کا کوئی عکس نظر آتا۔ اس شخص نے انقرہ میں مصطفی کمال کے مزار کے عین سامنے ایک مسجد تعمیر کر کے ترکی کی ایک نئی تاریخ کا آغاز کیا مگر یہ تاریخ کیا ہے؟ اور یہ شخص کون تھا؟ اگلی نشست میں ،انشا اللہ!
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,824
1,769
213

ترکی، کی جدید تاریخ کا آغاز اسی برس قبل اس وقت ہوا، جب خلافت عثمانیہ کا سفینہ ناخداﺅں نے ڈبو دیا تھا۔ ترکی فوج کی ساتویں کور کے کمانڈر مصطفی کمال اتا ترک نے خود کو سنبھالا۔ وہ اول و آخر ایک ترک ہی تھا۔ حالات کے ساحل پر کھڑے اتا ترک نے ڈوبتی ہوئی ناﺅ کو دیکھا اور فیصلہ کیا کہ سلطنت عثمانیہ کے بادشاہ ڈوبتے ہیں ،سو ڈوبیں ،مگر ترک افواج کو مَیں منظم کر کے دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا۔ وہ استنبول میں تھا تو خلیفہ عبدالحمید کے خلاف جاری سرگرمیوں میں اس کا ہاتھ نظر آیا۔ اس جرم کی پاداش میں اسے جیل کی سلاخیں دیکھنی پڑ گئیں۔ مصطفی کمال ویسے ہی سلطنت عثمانیہ پر خار کھائے بیٹھاتھا ،جیل نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ قید و بند کے اس عرصے نے مصطفی کمال اتا ترک کو یکسوئی کے ساتھ سوچنے کا وقت فراہم کیا۔ اپنے تئیں اس نے کئی باتوں پر غور کیا۔ اس کے دماغ میں یہ خیال پکنے لگا کہ سلطنت عثمانیہ کے ان آخری خلفا ءکا رویہ آمرانہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے سوچنے سمجھنے پر پابندی عائد کر دی، من مانے فیصلے نافذ کرنے کا تہیہ کر لیا۔ میرے خیالات شاہوں کے طبع نازک پر گراں گزرے تو اٹھا کر پابند سلاسل کر دیا۔ سو اس معاشرے کو ایک روشن خیال اور آزاد خیال معاشرہ بننا چاہئے۔ہمیں اس مقصد کے لئے ”ماڈرن ترکی“ کی طرف سفر کرنا ہوگا۔ رہا ہوتے ہی مصطفی کمال اس سفر پر نکل پڑا۔ اپنے ہدف تک رسائی کے لئے اس نے فوج میں ملازمت اختیار کر لی۔ دمشق فوجی ہیڈ کوارٹر سے اس نے اپنی عسکری ملازمت کا آغاز کیا۔ اس دوران جمعیت اتحاد و ترقی کے ان رہنماﺅں سے اس نے مراسم بڑھا لئے جو نئے ترکی کی تشکیل کے لئے خفیہ یا اعلانیہ پروگرام رکھتے تھے ، دوسری طرف جنگ بلقان میں اپنی عسکری مہارت کا بھرپور مظاہرہ کر کے خود کو اس نے ایک جرا¿ت مند اور بہادر کمانڈر کے طور پر منوا لیا۔ پہلی جنگ عظیم کے آغاز پر وہ ملٹری اتاشی کے طور پر کام کر رہا تھا مگر اس کے اندر کا فوجی اگلے محاذوں کے لئے بے تاب تھا۔ 1915ءمیں اس نے سربراہان سے درخواست کی کہ مجھے فوج کے کسی دستے کی کمانڈ دے کر اگلے محاذوں پر بھیج دیا جائے۔ مصطفی کمال کا ٹریک ریکارڈ دیکھتے ہوئے درخواست منظور کر لی گئی۔ اس کی تعیناتی آبنائے باسفورس کی طرف کر دی گئی، جہاں انگریز اور فرانسیسی افواج سے سخت معرکہ درپیش تھا۔ اسی سال یعنی 1915ءکے وسط میں چند ماہ کی مدت میں مصطفیٰ کمال نے فرانسیسی افواج کو پسپا کر دیا۔ آبنائے باسفورس کا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا۔

اس ناقابل یقین فتح کے بعد مصطفی کمال کا راستہ روکنا مشکل ہی نہیں ،نا ممکن بھی ہو گیا۔ اس کی ترقی کی رفتار تیز تر ہو گئی۔ فرانسیسی افواج کو شکست سے دوچار کرنے پر مصطفی کمال کو جنرل رینک پر پروموٹ کر دیا گیا۔ اپنی پروموشن کے پہلے ہی سال اس نے روسی افواج کو شکست دے کر ترکی کا مقبوضہ علاقہ بھی آزاد کروا لیا۔ اس کارنامے پر 1917ءمیں مصطفی کمال کو اہم محاذوں پر برسر پیکار ساتویں فوج کا کور کمانڈر لگا دیا گیا۔ 30 اکتوبر 1918ءکو جب معاہدہ امن پر دستخط ہوئے تو مصطفی کمال کو تمام ذمہ داریوں سے فارغ کر کے نئی ذمہ داریاں دینے کے لئے استنبول بلوا لیا گیا۔ سلطنت عثمانیہ کے چھتیسویں فرما نروا خلیفہ وحید الدین سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ خلیفہ کی نظر مصطفی کمال اتا ترک پر پڑی تو اس کی عسکری مہارت اور انتظامی صلاحیت پر رشک کرتا۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ اس بات پر فخر کرتا کہ مصطفی کمال جیسا بہادر اور محبت وطن سالار اسے نصیب ہوا ہے، مگر اسے خبر نہیں تھی کہ ترکی کی محبت کا دم بھرنے والے مصطفی کمال کے دماغ میں سلطنت عثمانیہ کے لئے نفرت کس ڈگری پر ہے۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ ہمارے دربار کا ایک وفادار ہے، اسی بے خبری میں خلیفہ وحید الدین نے مصطفی کمال کو انسپکٹر جنرل بنا دیا۔1920ءمیں مصطفی کمال انگورہ میں ترکی کی پہلی عارضی اسمبلی کا صدر منتخب ہوا۔ اگلے برس ہی اتا ترک کی قیادت میں ترکوں نے یونانیوں کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا۔ اسی برس یعنی 1921ءمیں ترکی افواج نے یونانی افواج کو ترک سرحدوں کے اس پار دھکیل دیا۔ اس کے ایک برس بعد یعنی 1923ءمیں اتاترک نے خلافت کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے ترکی کو باقاعدہ جمہوری ریاست ڈیکلیئر کر دیا۔ باقاعدہ پہلا صدر بھی خود مصطفی کمال اتا ترک ہی منتخب ہوا۔ اقتدار کے ہما کا سر پر بیٹھنا تھا کہ اتا ترک کا اندر کا اوریجنل انسان باہر آیا اور اگلے پچھلے سارے حساب بے باق کرنا شروع کر دیئے۔ ایسی اصلاحات کیں ،جنہوں نے پلک جھپکتے ہی جدید ترکی کا جھنڈا لہرا دیا۔ مگر اس جدید ترکی کا محور مادر پدر آزاد معاشرہ تشکیل دینے کے سوا کچھ نہیں تھا۔فرسٹریشن انتہا پر تھی۔ سینے میں جو لاوا برسوں سے پک رہا تھا، وہ ابل کر باہر آیا،جس نے تباہی مچانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ مساجد اور مدارس پر پابندی لگاتے ہوئے جدید تعلیمی ادارے قائم کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ عربی زبان میں اذان اور نماز پر پابندی عائد کر دی۔ حج اور عمرے کو سرکاری طور پر ممنوع قرار دے دیا۔ حجاب و ٹوپی اور داڑھی قابل دست اندازی پولیس جرائم قرار دے دیئے۔ مصطفی کمال نے مذہبی امور کا ایک محکمہ بھی قائم کر دیا، مگر اس محکمے کا کام یہ تھا کہ مذہب پسند لوگوں کی کڑی نگرانی کرے۔ اسی محکمے کے تحت اتا ترک نے ترکی کے انشا پردازوں کی ایک کمیٹی تشکیل دی۔ کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ ترکی زبان میں شامل ہو جانے والے عربی الفاظ کو ختم کر کے نہ صرف اس کا ترکی متبادل پیش کرے، بلکہ اس کو ہر صورت میں رائج بھی کرے۔ مسلمان اگر اذان دینا چاہتے ہیں تو ان کے لئے اذان کے عربی الفاظ کی جگہ ترکی الفاظ منتخب کئے جائیں۔ غرضیکہ مذہب کو ترکی کی اجتماعی زندگی سے تو مکمل طور پر نکال دیا گیا، البتہ انفرادی زندگی میں اتنی چھوٹ دی گئی، جتنی کہ مصطفی کمال کی طبیعت برداشت کر سکتی تھی۔

دنیا کی یہ عجیب حقیقت ہے کہ مذہب کو انتہا پسند قرار دینے والوں کی اپنی انتہا پسندی کا سکیل ہمیشہ دو گنا اونچا رہا ہے۔ عثمانی سلطنت کے خلاف مصطفی کمال کا ردعمل ایک فطری سی بات تھی کہ جہانِ تگ وتاز میں اختلاف کو ایک کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ مگر یہ ردعمل مصطفی کمال کو جس انتہا پر لے گیا، وہ غیر دانش مندی اور حماقت سے آگے کی کوئی چیز تھی۔ بغاوتیں ہمیشہ غیر معتدل معاشرتی رویوں سے جنم لیتی ہیں۔ اگر معاشرے کے کسی بھی اتا ترک کا خیال یہ ہو کہ سلطنتوں کی انتہا پسندیاں بغاوت کو جنم دیتی ہیں تو ان اتا ترکوں کو سوچنا چاہئے کہ اسی انتہا پر وہ خود کھڑے ہوں تو ردعمل مختلف نہیں ہوگا۔مصطفی کمال اتا ترک ذہین، چالاک، اور اعلیٰ درجے کا شاطر منتظم تھا، مگر جذبات اگر غالب آ جائیںتو بڑے بڑے شہسوار بھی اپنے ہی ہاتھوں اپنی دانش کا خون کرنے میں لمحہ بھر کی دیر نہیں کرتے۔ یہی اتا ترک کے ساتھ ہوا۔ جتنا فرق اس نے ترکی اور عثمانی سلطنت کے بیچ روا رکھا تھا۔ اتنا ہی فرق اگر وہ مسلمانوں میں اور اسلام میں کرتا تو حالات کچھ اور ہوتے۔ مگر کسی مسلمان کا غصہ اس نے اسلام پر نکال دیا ور اسلامی احکامات ہی کیا اصلاحات تک کو اس نے نہیں بخشا۔ ہر اس نشان کو اس نے مٹا دیا ،جس میں مذہب کا کوئی ثانوی عکس بھی دکھائی دیتا تھا۔ عقیدوں پر اس نے کڑے پہرے لگا دیئے۔ اظہار رائے کی یک طرفہ ٹریفک چلنے لگی۔ یہ مصطفی کمال اتا ترک کا وہ بے مثل ”کارنامہ“ تھا جس نے اس کی جرا¿ت ، ہمت، حب الوطنی، ذہانت اور متانت کے سارے بھرم دھو دیئے۔ جس انتہا پسندانہ اصلاحات کی بنیاد اتا ترک نے رکھی ،اس نے ترکی کی مجموعی سوچ کو واضح حصوں میں تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد یہ ممکن ہی نہ تھا کہ مصطفی کمال بغیر کسی مد مقابل کے میدان میں خیمے لگانے بیٹھا ہو۔ بلکہ جدید ترکی کے آغاز پر ہی ایک ایسے معاشرے نے جنم لیا جس میں گھٹن ہی گھٹن تھی۔ ترکی کے مجموعی شعور نے بغاوت کا رنگ پکڑنا شروع کر دیا۔ اس ماحول نے تاریخ کا پہیہ حیران کن طور پر اس قدر تیزی سے گھما دیا کہ جس کا گمان بس ایک خوشگوار حیرت ہے۔ پھر سے وہی پرانی فلم نئے کرداروں کے ساتھ چلنے لگی۔ عثمانی سلطنت میں مصطفی کمال اتا ترک اپنے سینے میں آگ لئے پھرتا تھا۔ اب یہاں اتا ترک کے راج میں ایک شخص کے سینے میں بغاوت کی آگ دہکنے لگی۔ پرانی فلم میں اپنی خواہشات کو اتا ترک نے دبائے رکھا اور مناسب موقع کی تلاش جاری رکھی ،یہاں کسی اور شخص نے اپنے دماغ کے نہاں خانوں میں نئے آئیڈیاز تخلیق کرنا شروع کئے۔ اتا ترک نے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر جس طرح ترک خلفا سے ترقی پائی اسی طرح ایک شخص نے اتا ترک سے اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر پروموشن حاصل کیا ور پھر جس طرح اتا ترک نے اختیار حاصل کر کے مذہب کا ہر نشان مٹانے کی قسم کھائی اسی طرح اتا ترک کے نور نظر نے وقت آتے ہی اختیار کی زمام ہاتھ میں لی اور ہر اس نشان کے درپے ہو گیا جس میں مصطفی کمال اتا ترک اور اس کی انتہا پسندانہ فکر کا کوئی عکس نظر آتا۔ اس شخص نے انقرہ میں مصطفی کمال کے مزار کے عین سامنے ایک مسجد تعمیر کر کے ترکی کی ایک نئی تاریخ کا آغاز کیا مگر یہ تاریخ کیا ہے؟ اور یہ شخص کون تھا؟ اگلی نشست میں ،انشا اللہ!
توبہ توبہ یہ ایسا شخص تھا؟ اب کچھ کچھ سمجھ میں آیا روشن خیال ترک ماڈل کی بات کیوں کرتے ہیں
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?