Ikhlaqiat اولیاء اﷲ کی معرفت وپہچان

ROHAAN

LOVE IS LIFE
TM Star
Aug 14, 2016
3,838
2,525
513
117546
اولیاء اﷲ کی معرفت وپہچان

کس قدرافسوس کی بات ہے کہ آج کا مسلمان اصلی اور نقلی گھی کی پہچان تو کر لیتا ہے مگر اصلی ولی کی پہچان کرنے سے قاصر ہے۔ خالص اور ملاوٹی دودھ کی پہچان تو کر لیتا ہے مگراصلی اور مصنوعی پیر کی پہچان میں فرق نہیں کر سکتا، بے وفا اور وفادار دوست کی تو شناخت کر لیتاہے مگر بے دین اور دیندار مرشد کے معاملے میں فرق نہیں کر سکتا تو آیئے قرآن وحدیث کی روشنی میں اور اولیاء کرام کے اقوال و احوال سے معلوم کرتے ہیں کہ اﷲ کے ولی(دوست) کی کیاپہچان اورکیامقام ہے۔
قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ اپنے ولیوں کی شان اور مقام اس طرح بیان فرمارہاہے:
اَلاَ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰہِ لَاخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَoاَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَکَانُوْا یَتَّقُوْنَo
ترجمہ: ’’ بلاشبہ اﷲ کے ولیوں پر نہ کوئی خوف ہے اور وہ غمگین ہوں گے اور (اﷲ کے ولی وہ ہیں) جوایمان لائے اور پرہیز گاری اختیار کی‘‘۔(سورۂ یونس:آیت62-63)
اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اولیاء اﷲ کی پہچان اس طرح بیان فرمائی کہ اﷲ کا ولی (اصلی دوست)وہ ہو تا ہے جو صاحب ایمان ہونے کے ساتھ ساتھ متقی و پرہیز گار بھی ہو۔ قرآن وسنت کے احکامات وتعلیمات کا پابند ہو۔ اﷲ اور اس کے رسول ﷺکا اطاعت گزارو فرمانبردار ہو اور اﷲ کے ولی وہ ہوتے ہیں جو ساری ساری رات اﷲ کی عبادت وبندگی اورتوبہ واستغفارمیں گزار دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جتنے بھی اولیائے کاملین اور مشائخ کرام گزرے ہیں اورجوحیات ہیں ان کے مزارات، آستانوں ،خانقاہوں اوررہائش گاہوں کے ساتھ مساجدضرور ہیں جو اس حقیقت اسلام کو واضح اورآشکارکررہی ہیں اوراس بات کا ثبوت اوردلیل ہیں کہ اﷲ کے ولی اوردوست ہر حال میں صوم وصلوٰۃ کی نہ صرف پابندی کرتے ہیں بلکہ ان کے شب وروزمسجداور مدرسہ میں بسرہوتے ہیں۔
اولیاء اﷲ کی علامت……عبادت وریاضت
قرآن پاک میں اولیاء اﷲ کی پہچان اورمقام کے بارے میں مزید ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَعِبَادُالرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ھَوْنًا وَّاِذَاخَاطَبَھُمُ الْجَاھِلُوْنَ قَالُوْا سَلَامًاo وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًاo
ترجمہ: ’’اور رحمن کے (مقرب)بندے وہ ہیں کہ جو زمین پر(عاجزی سے) آہستہ چلتے ہیں اور جب کوئی جاہل اُن سے ( کوئی ناگوار بات) کرتے ہیں تو کہتے ہیں (تمھیں) سلام اور وہ جو اپنے رب کیلئے سجدے اور قیام میں راتیں گزار دیتے ہیں‘‘۔
(سورۃالفرقان:آیت ۶۴۔۶۳)

اولیاء اﷲ کا مقام اورشان یہ ہے کہ وہ نہ صرف عاجزی اورانکسارکے پیکرہوتے ہیں بلکہ جب ان سے کوئی جاہل نارواگفتگوکرتا ہے یا ناشائستہ طرزعمل اختیار کرتا ہے توبھی رحمٰن کے بندے ان سے حسن اخلاق اور خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں اوروہ راتوں کواﷲ تعالیٰ کی خوب عبادت وبندگی کرتے ہیں۔
ایک حدیث شریف میں حضور اکرم ﷺنے اولیاء اﷲ کی پہچان اورشان بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
﴿اذا رء وا ذکر اﷲ۔ ﴾
ترجمہ: ’’ (اﷲ والوں کی پہچان یہ ہے کہ) ’’جب کوئی اُنھیں دیکھ لیتاہے توانھیں خدا یادآجاتا ہے‘‘۔(الحدیث)
امام فخرالدین رازی شافعی (متوفیّٰ606ھ) امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ کے عظیم اخلاق اوراعلیٰ سیرت وکردار کی ایک جھلک پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
’’ایک مرتبہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ کہیں تشریف لے جارہے تھے، راستے میں زبردست کیچڑتھی۔ایک جگہ آپ کے پاؤں کی ٹھوکرسے کیچڑاُڑ کرایک شخص کے مکان کی دیوارپرجالگی۔یہ دیکھ کرآپ بہت پریشان ہوگئے کہ اگرکیچڑ اکھاڑکر دیوارصاف کی جائے توخدشہ ہے کہ دیوارکی کچھ مٹی بھی اتر جائے گی اوراگریوں ہی چھوڑدیاجائے تودیوارخراب ہوتی ہے۔ آپ اسی پریشانی میں تھے کہ صاحب خانہ کو بلایا گیا،اتفاق سے وہ شخص مجوسی(آگ پرست/غیرمسلم) تھااورآپ کامقروض بھی تھا۔آپ کودیکھ کرسمجھا کہ شایداپنا قرض مانگنے آئے ہیں،پریشان ہو کرعذراور معذرت پیش کرنے لگا۔آپ نے فرمایاکہ:
’’قرض کی بات چھوڑیں، میں تواس پریشانی وفکرمیں ہوں کہ تمھاری دیوار کو کیسے صاف کروں،اگرکیچڑکھرچوں توخطرہ ہے کہ دیوارسے کچھ مٹی بھی اتر آئے گی اوراگر یوں ہی رہنے دوں تو تمہاری دیوارگندی ہوتی ہے‘‘۔
یہ عظیم بات سن کروہ مجوسی بے ساختہ کہنے لگاکہ :
’’حضور!دیوارکوبعدمیں صاف کیجئے گا،پہلے مجھے کلمہ طیبہ پڑھاکر میرا دل پاک وصاف کر دیں۔چنانچہ وہ مجوسی آپ کے عظیم اخلاق وکردارکی بہ دولت مشرف بہ اسلام ہوگیا‘‘۔(تفسیرکبیر:جلد1،صفحہ204/تذکرۃ المحدثین:صفحہ55)
 
Top
Forgot your password?