آبدوزوں کے حملے

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,158
10,446
1,313
Lahore,Pakistan
آبدوزوں کے حملے
117713

لوئس ایل سنائیڈر
دوسری عالمی جنگ میں جرمنی کا امیر البحر رائیڈر ابتدا ہی میں فیصلہ کر چکا تھا کہ آبدوزوں کی لامحدود جنگ فوراً شروع کر دی جائے تاکہ برطانیہ کا رشتۂ حیات کٹ جائے۔ جرمن بیڑا برطانوی بیڑے کے مقابلے میں یقینا کمزور تھا۔ لہٰذا جرمن سطح بحر کی بجائے سمندر کی تہ میں سے اور فضا سے حملوں پر مجبور ہوا۔ آبدوزیں اوقیانوس کے مختلف مرکزوں میں ٹھہری ہوئی تھیں۔ انہیں حکم دے دیا گیا کہ فوراً حملے شروع کر دیں۔ سخت ضربیں لگائیں اور ان کا سلسلہ برابر جاری رکھیں۔ برطانیہ میں خام مال کی درآمد رک جائے گی۔ اس کے کارخانے بند ہو جائیں گے۔ آبادی بھوکوں مرنے لگے گی اور آخر انگریز جرمنی کے سامنے جھک جائیں گے۔ لیکن آبدوزوں کے معاملے میں بعض خاص پہلو بھی موجود تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے آغاز پر جرمنی کے پاس صرف 57 آبدوزیں تھیں جن میں سے صرف 22 اوقیانوس کے اندر سرگرم عمل رہ سکتی تھیں۔ ان آبدوزوں کے ابتدائی حملے بڑے مہلک تھے۔ جنگ کے پہلے ہفتے میں کم و بیش ایک درجن برطانوی تجارتی جہاز سمندر کی تہ میں پہنچ گئے۔ ابتدائی دو مہینوں میں آبدوزوں نے تقریباً 67 اتحادی جہاز تباہ کیے لیکن خود جرمنوں کی بھی 20 آبدوزیں تباہ ہو گئیں۔ اتحادیوں نے جلد ہی جہازوں کے لیے محافظ دستوں کا انتظام کر لیا، جس کے ساتھ جہاز قافلوں کی صورت میں چلتے۔ 1917-18ء میں یہ تجربہ بہت کامیاب ثابت ہوا تھا۔ تجارتی جہازوں کا ایک بڑا بیڑا پہلے سے طے کردہ منصوبے کے مطابق روانہ ہوتا۔ ساحل کے آس پاس ہوائی جہاز قافلے کی حفاظت کرتے۔ تباہ کن جہاز اور بڑے جنگی جہاز کھلے سمندروں میں قافلے کے ساتھ رہتے۔ تباہ کن جہازوں کا طریقہ یہ تھا کہ وہ برابر قافلے کے اردگرد تیزی سے چکر لگاتے رہتے۔ جب کوئی آبدوز نظر آ جاتی تو تباہ کن جہاز اس پر حملہ شروع کر دیتے۔ قافلے کے جہازوں کو منتشر ہو جانے کا حکم دے دیا جاتا۔ ساتھ ہی بتا دیا جاتا کہ فلاں مقام پر پھر اکٹھے ہو جائیں۔ اس تدبیر کو توڑنے کے لیے جرمنی کے اعلیٰ امیر البحر ڈوئنیٹز نے جون 1941ء میں ایک نئی چال کا انتظام کر لیا۔ اس وقت تک بڑی آبدوزوں کی تعداد 32 ہو گئی تھی۔ یہ آبدوزیں اکٹھی نکلتیں اور بھیڑیوں کے گروہوں کی طرح اکٹھی رہتیں۔ جب کسی آبدوز کے کماندار کو دشمن کا تجارتی قافلہ نظر آ جاتا تو وہ آس پاس کی تمام آبدوزوں کو قافلے کے جہازوں کی تعداد، موقع اور محل، نیز رفتار اور منزل مقصود سے آگاہ کر دیتا۔ اس اطلاع پر تمام آبدوزیں حملے کے لیے اکٹھی ہو جاتیں۔ ان آبدوزوں کے لیے ضرورت کی چیزیں بہم پہنچانے یا ان کی مرمت کرنے کی غرض سے مختلف جہاز جا بجا مقرر کر دیے گئے تھے۔ 1942ء کے ابتدائی چھ ہفتوں میں جرمن آبدوزوں کی تعداد 101 ہو گئی۔ اس زمانہ میں جرمنوں نے 585 جہاز ڈبوئے جن کا مجموعی وزن 30 لاکھ ٹن سے بھی زیادہ تھا۔ 1943ء کے اوائل میں آبدوزوں کا سب سے بڑھ کر خطرناک دور تھا اور انہوں نے 20 دن میں 96 جہاز غرق کر دیے۔ پھر اتحادیوں نے آبدوزوں کی مہم ناکام بنائی۔ ڈوئنیٹز نے 14 دسمبر 1943ء کو اتحادیوں کی برتری کا اعتراف کرتے ہوئے کہا: ’’دشمن نے آبدوزوں کی جنگ بے اثر بنا دی اور اسے یہ کامیابی چالوں کی برتری کی بنا پر نہیں بلکہ سائنس کے دائرے میں برتری کی بنا پر حاصل ہوئی یعنی اس نے آبدوزوں کا سراغ لگانے کے لیے اعلیٰ درجے کے آلے تیار کر لیے۔ اس کام کا مطلب یہ ہے کہ انگریزوں کے خلاف جنگ میں ہمارے پاس جو جارحانہ حربہ تھا، وہ چھن گیا۔‘‘ آگے چل کر آبدوزیں اتنی تعداد میں تباہ ہونے لگیں کہ ان کی کمی پوری کرنے کے لیے نئی نہیں بنائی جا سکتی تھیں۔ پھر اتحادیوں کو آبدوزوں کا سراغ لگانے کے بہترین طریقے معلوم ہو گئے اور آبدوزوں نے جنگ میں شکست کھائی۔ چھ سال کی جنگ میں جرمنوں نے بحیرۂ روم، بحراوقیانوس اور بحرہند میں انگریزوں، اتحادیوں اور غیر جانبدار ملکوں کے کل تقریباً دو ہزار سات سو جہاز غرق کیے اور خود ان کا بیان یہ ہے کہ اس اثنا میں 783 آبدوزیں تباہ ہوئیں اور 32 ہزار آدمی مارے گئے۔ ڈوئنیٹز نے حکم دے دیا کہ زیادہ سے زیادہ نقصانات کے باوجود آبدوزوں کی کارفرمائی جاری رہنی چاہیے۔ اس نے اپنی سرگزشت ’’دس سال اور بیس دن‘‘ میں بتایا ہے کہ آبدوزوں کے کارکن کس طرح بے تامل جانیں دیتے رہے۔ ان میں خود اس کا داماد اور دو بیٹے شامل تھے۔ اگرچہ جرمن بحری آنکھ مچولی کے اس زبردست کھیل میں ہار گئے لیکن انہوں نے مہینوں برطانوی وزارت بحریات کو چین کی نیند نہ سونے دیا۔ خود چرچل نے بھی اعتراف کیا کہ دوران جنگ جس چیز نے مجھے سب سے بڑھ کر خوفزدہ کیا وہ آبدوزوں کا خطرہ تھا۔ یہ بدترین مصیبت تھی۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?