آزادی کامفہوم اور قیام پاکستان تحریر : صہیب مرغوب

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
آزادی کامفہوم اور قیام پاکستان
تحریر : صہیب مرغوب

115151


..29جولائی کواتر پردیش کے ضلع(Chandauli) میں 15سالہ لڑکا آگ میں جھلس رہا تھا،مدد، مددپکار رہا تھا، مٹی کے تیل سے اس کا جسم بری طرح جل چکا تھا،اسے فوراََ ہی وارنسی ہسپتال (Varanasi) میں داخل کروایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔نزعی بیان کے مطابق وہ پل دھدری (Dudhari bridge) سے گزر رہا تھا کہ اچانک دو نوجوانوں نے گھیر لیا ۔ دونوں نے اسے بار بار ’’جے شری رام اور جے ہنومان ‘‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا۔
اس کے انکارپر انہوں نے جکڑ کرہاتھ باند ھ دئیے اور جسم پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگا دی۔ایک اور رائے کے مطاق اس کو جلتے الائومیں پھینکنے کی بھی کوشش کی گئی جس کی تصاویر بھی شائع ہوئیں۔ جان بچانے کی خاطر وہ ادھر ادھربھاگتا رہا ،خوف اس قدر تھا کی کوئی مدد کو نہ
آیا۔طبی امداد میںتاخیراسے موت کے منہ میں لے گئی۔ غریب کو کیا معلوم تھا کی وہ اسے تیل چھڑک کر زندہ ہی جلا دیں گے ورنہ شاید بات مان ہی جاتا۔ اس تشدد کی تصاویر میڈیا میں شائع ہوئیں مگر پولیس نے دبائو سے بچنے کے لئے اس کی موت کو نیا رنگ دے دیا۔۔۔کہ وہ خود جل مرا!!


یہ اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بھارت میں گزشتہ چند ہفتوں کے درمیا ن اس طرح کے کئی سنگین واقعات پیش آچکے ہیں جن میںپولیس کوئی کارروائی نہ کر سکی۔گزشتہ پانچ سال میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔2009سے اب تک ایسے79جان لیوا واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان میں سے76واقعات مودی دور میں ہی وقوع پذیر ہوئے۔سوا کروڑ ہندوئوں میں 14.2 فیصد مسلمان ہیں،جو معاشی پسماندگی کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔انہیں جے شری رام اور جے ہنومان کے نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے جو ایک آدھ بار لگا دے اسے بار بار ایسا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ایک مسلمان کو گائے کی تجارت کرنے کے الزام میں گزشتہ برس ہی ایک گروہ نے جان سے ماردیا تھا۔اسے ہلاک کرنے والے آٹھ کے آٹھ افراد کو عدالت نے بھی ضمانت پر رہا کر دیا۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک وزیر جے انت سنہا انہیں ہار پہنانے پہنچ گئے۔ اسی سے آپ بھارت میں ہندو ازم کی یلغار کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔وزیر اعظم مودی نے خود بھی اس غنڈہ گردی کی کبھی مذمت نہیں کی۔


اسی برس جون میں جھاڑکھنڈ میں لاٹھیوں اور ڈنڈوںسے مار مار کر تبریز انصاری کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔اسے بھی جے شری مان اور جے ہنومان کے نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔


21جولائی کو مہاراشٹرا کے شہراورنگ آبادمیںمتعدد نامعلوم افراد نے دو مسلمان لڑکوں کو گھیر لیا اور انہیں زبردستی جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کیا۔


9اپریل کو مسلح ہندوئوں کے ایک گروپ نے68سالہ مسلمان علی کو سڑک پر ہی روک لیا اور اسے حرام جانور کا گوشت کھلانے کی کوشش کی ۔ انکار پر کچھ لڑکوں نے اسے دبوچ کر گوشت اس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ پولیس اور اہل محلہ تماشا دیکھتے رہے۔ ارد گرد مسلمانوں کے بھی گھر تھے مگر ڈر اور خوف نے ان کے منہ سی دئیے تھے۔حملہ آوروں کے جانے کے بعد مسلمان اہل خانہ نے کچھ جرات کی اور کھڑکی کے باہر سے ہی افسوس کرنے میں عافیت جانی۔اس سے زیادہ وہ کر بھی کیا سکتے تھے۔


26 جولائی کو ضلع علی گڑھ میں انتظامیہ نے سڑکوں اور کھلی جگہ پر نماز کی ادائیگی پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ہندوئوں کے پاس تو اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کے لئے بڑے بڑے مندر موجود ہیں مگر مسلمانوں کو ان کے اکثریتی علاقوں میں مساجد بنانے کی اجازت نہیں ملی۔ گزشتہ کئی عشروںسے علی گڑھ میںنئی مساجد کی تعمیر کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے ہی مسلمان سڑکوں پر نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے صفیں بنا لیتے تھے۔ نماز عید کی ادائیگی گرائونڈز اور کھلی جگہوں پر کی جاتی تھیں اب ان دونوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مسلمان نماز عید بھی کھلے میدان میں ادا نہیں کر سکیں گے ۔یہ سب کچھ ایک ایسی ریاست (اتر پردیش)میں ہو رہاہے جہاں مسلمانوںکی آبادی4کروڑ ہے۔یہاںانتہا پسندی کو فروغ دینے کے لئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے 2017میں ایک بھی مسلمان کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔اتر پردیش اسمبلی مسلمانوں کی منتظر رہی مگر کوئی نہ آیا۔مودی نے اپنی آبائی ریاست گجرات میں بھی صرف ایک مسلمان کوبھارتیہ جنتا پارٹی کاٹکٹ دیاتھا۔ان دونوں ریاستوں میں دائیں بازو کی انتہا پسند جماعتیں برسر اقتدار آ گئیں۔بھارتی آئین کا آرٹیکل 14مساوا ت اور برابری کا حق دیتاہے ۔ اس آرٹیکل کے تحت مجموعی مساوات کا قیام بھی لازم ہے مگر اس پر عمل ہی نہیں کیا جاتا۔اسی کے پیش نظر علی گڑھ یونیورسٹی کے پروفیسرمحمد سجاد کہتے ہیں کہ ’’ہندو اکثریت ازم کا مقصد ہی مسلمان اقلیت کوانتخابی میدان میں غیر موثر کرنے کے سو ا اور کچھ نہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ لگا کر یہ مقصد حاصل کر لیا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی مسلمانوں کو سماجی سرکل سے آئوٹ کرنے کی حکمت عملی پر دانستہ طور پر عمل پیرا ہے‘‘۔یہ وہ بات ہے جو حضرت قائد اعظم ؒ کہا کرتے تھے ۔آپ نے بار ہا کہا کہ ہندو اکثریت میں مسلمان دب جائیں گے اور ان کوحقوق نہیں مل سکیں گے۔حضرت قائد اعظمؒ نے بارہا کہا تھا ،


’’یہ سمجھنا انتہائی دشوار نظر آتا ہے کہ آخر ہمارے ہندودوست اسلام اور ہندومت کی اصل فطرت اور نوعیت کو کیوںنہیں سمجھتے۔ مذہب کا لفظ جن معنوں میں استعمال ہوتا ہے اسلام اور ہندومت محض ان معنوں میں مذہب نہیں ہیں بلکہ حقیقتاًایک دوسرے سے مختلف اور جدا گانہ سماجی نظام ہیں اور یہ تصور کہ ہندو اور مسلمان کبھی بھی ایک مشترکہ قومیت کی تخلیق کرسکیں گے محض ایک خواب ہے۔ یہ غلط تصور کہ ہندوستانی ایک قوم ہیں،اپنی حدوں سے بہت زیادہ تجاوز کرچکا ہے اور ہماری بیشتر مشکلات کا یہی اصل سبب ہے۔اگر ہم نے اپنے ان تصورات و نظریات کا بوقت از سرنو جائزہ نہ لیا تو ہندوستان تباہ ہو جائے گا۔ہندو اور مسلمان دو مختلف مذہبی فلسفوں،سماجی رسوم و روایات اور ادب سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ نہ تو باہم شادیاں کرتے ہیں اور نہ ہی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں۔ حقیقتاً وہ دو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جن کی بنیادبیشتر متصادم تصورات اور نظریات پر ہے۔ خودزندگی اور زندگی کے بارے میں ان کے تصورات بالکل مختلف ہیں۔مسلم ہندوستان کسی ایسے آئین کو تسلیم نہیں کرسکتا جس کے نتیجہ میں لازماً ہندو اکثریت کی حکومت قائم ہو۔ ہندوئوںاور مسلمانوں کو ایک جمہوری نظام کے تحت جو اقلیتوں پر جبراً مسلط کیا گیا ہو یکجا رکھنے کا مطلب صرف ہندوراج ہے۔ کانگریس ہائی کمان جس قسم کی جمہوریت کی گرویدہ ہے اس کا نتیجہ اسلام کی ایک انتہائی قیمتی متاع کی مکمل تباہی کی صورت میں نکلے گا‘‘۔


انہوں نے پہلے ہی دیکھ لیاتھا کہ ہندو اکثریت کے بل بوتے پر مسلمانوں کے حقوق سلب کر لیں گے۔اس کا اظہار ہر موڑ پر ہوا۔ حضرت قائد اعظمؒ نے ہر موڑ پر ہندوئوں کی چالاکی اور مسلمانوں کے ساتھ بغض کو عیاں کیا۔ مسلمانوں کو پہلی اہم ترین کامیابی 1945-46ء میں ہونے والے مرکزی اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں حاصل کی ۔جس میں مسلم لیگ نے 119 مسلم نشستوں میں سے مسلم لیگ نے113حاصل کرکے آزادی کی بنیاد رکھی۔یہ کامیابی ایک خُدا،ایک رسولؐ، ایک کتاب اور ایک اُمت کی بنیاد پر حاصل کی گئی ۔ اس وقت پورے ہندوستان میںدو قومی نظریہ سب سے بڑی حقیقت بن چکا تھا۔ انگریزوںاورہندو ئوںسے نجات کا یہی ایک راستہ تھا۔ان انتخابات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ مسلم لیگ ہی مسلمانوں کی واحدنمائندہ جماعت ہے۔انہوں نے مسلمانوں کو آزادی کا مفہوم سمجھایا کہ انہیں ایک ایسا ملک چاہیے جس میں وہ ا پنے مذہب ،اپنی رسومات عقیدے ،اپنے رہن سن اور تہذیب و تمدن کے مطابق زندگی بسر کر سکیں۔


بانی پاکستان نے اس وقت جن اندیشوں کا ظہار کیا تھا وہ اب ابھر کر سامنے آ گئے ہیں۔ علامہ اقبالؒ نے جن اشعار میں مغربی جمہوریت کی نفی کی ہے اس کا پس منظر بھی یہی ہے۔انہیں یورپی جمہوریت میں طاغوتی طاقتوں کی بالا دستی نظر آ رہی تھی اسی لئے انہوں نے اس جمہوریت کی نفی کر دی ۔ پاکستان بنانے کا مقصد ہمیں سیاست میں اب سمجھ میں آیا ہے جب ہم بھارت میں دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو ان کی مرضی کے مطابق اپنے مذہب کی پیروی کا اختیار بھی حاصل نہیں ہے۔ یہ اندیشہ حضرت قائد اعظمؒ نے 1930ء میں ہی ظاہر کر دیا تھا جسے بھارتیہ جنتا پارٹی نے حقیقت کا روپ دے دیا ہے۔اسے مزید بہتر انداز میں سمجھنے کے لئے ہم دیکھتے ہیںکہ سماجی اور اقتصادی میدان میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، ان پر کیا بیت رہی ہے۔ حضرت قائد اعظمؒ نے آزادی کا مفہوم بتاتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ہمیں ایک ایسا ملک چاہیے جہاں مسلمان اپنے عقیدے اور اپنے رہن سہن کے مطابق زندگی بسر کر سکیں ۔ہندوئوں کے طرز عمل کے بعدتقسیم ہنداور دو قومی نظریہ کے بارے میں قائدِاعظمؒ محمد علی جناح کی رائے بڑی پختہ ہوتی گئی۔ انہوں نے کہا تھا کہ


’’ دوقومی نظریہ کی بنیاد تو اُسی وقت ہو گئی تھی، جب ہندوستان کا پہلا ہند و اپنی مرضی سے مسلمان ہو گیا تھا۔ نئے مسلمان نے نہ صِرف مذہب تبدیل کِیا بلکہ ان کی زندگی کا سارا دھارا بدل گیا۔ مسلمان کا لباس مختلف ہو گیا۔ مسلمان کی خوراک،کھانے پکانے کے طریقے مختلف، مسلمان خوراک میں گوشت ( خاص طور پر گائے کا)کھاتا ہے۔ ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں۔ تمام سماجی عادات، عبادات کے طریقے اور سوچ بدل گئی، مگر برہمن کا کِردار،مذہب اونچی ذات کی رٹ پر ہے اور بتوں کی پوجا کی جاتی ہے۔ اسلام لانے کے بعد مسلمان کی ذات پات ختم، بڑا چھوٹا امتیاز ختم۔ غریب چھوٹا کسی بھی ذات کاہو انسان ہے اگر کِردار میں بُلند ہے۔متقی ہے تو وہ امامت بھی کرسکتا ہے، جب کہ ہندو مذہب میں ایسا ممکن نہیں۔ صرف برہمن ہی پروہت ہوتا ہے۔ مسلمان ہر بڑے آدمی کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے کیوںکہ یہاں کالے کو گورے پر کوئی فوقیت نہیں اورنہ ہی گورے کو کالے پر کوئی فوقیت حاصل ہے۔یہ مسلمان ایک برتن میں کھانا کھا سکتے ہیں‘‘۔


اگر ہم آج کے بھارت پر ایک نگاہ ڈالیں تو ہمیں یہ بات سچ ہوتی نظرآئے گی۔کیونکہ مودی کے پانچ برسوں میں ’’ہیٹ کرائمز ‘‘میں بھرپور اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔’’فیکٹ چیکر‘‘نامی ویب سائٹ کے مطابق

 

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
۔(1)۔۔مسلمانوں کی معاشی، سماجی اور سیاسی حقوق کی صورتحال ہر ریاست میں مختلف ہے،کہیں کم اور کہیں زیادہ زیادہ خراب ہے۔


۔(2)۔۔غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے افراد میں مسلمانوں کی تناسب ان کی آبادی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ان پر ملازمتوں کے دروازے بند ہیں۔کسی ایک سرکاری وفاقی یا ریاستی محکمے میں بھی مسلمانوں کو ان کے حصے کے مطابق نمائندگی نہیں ملی۔نجی اور سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا حصہ ان کی بلحاظ آبادی بہت کم رکھا گیا ہے۔ نجی شعبے کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں۔کئی سرکاری محکموں میں مسلمانوں کا تناسب 5فیصد سے زیادہ نہیں۔مسلمانوں کو اعلیٰ عہدوں پر صرف 1.3فیصد نمائندگی حاصل ہے۔آل انڈیا سول سروس میں انہیں 5فیصد اور ریلوے میں 4.5فیصد سے کم نمائندگی حاصل ہے۔ ان میں سے بھی 98.7فیصد ملازمتیں نچلے درجے کی ہیں۔ سکیورٹی ایجنسیوں میں بھی انہیں مختلف عہدوں پر 3.6سے4.6فیصد تک نمائندگی حاصل ہے۔


۔(3)۔۔مسلمانوں کو بینکوں کی جانب سے کم تعداد میں قرضوں کی فراہمی اپنی جگہ سنگین جرم بن چکی ہے۔ ان کی سماجی اوراور تعلیمی ترقی میں رکاوٹ کا باعث بن رہی ہے۔


۔(4)۔۔زیادہ مسلمان اپنا کام خود کر رہے ہیں اور سیلف ایمپلائیڈہیں ان کے لئے حکومت نے کچھ نہیں کیا، نہ ہی ملازمتوں کے دروازے کھلے رکھے۔زیادہ تر چھوٹے درجے کے گھریلو کام شروع کر رہے ہیں جن میں سلائی کڑھائی اور درزی کے پیشے بھی شامل ہیں۔


۔(5)۔۔مردم شماری کے مطابق مسلمانوں کے دیہات کو قرضوں سے محروم ہی کر دیا گیا ہے۔


۔(6)۔۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ سماجی بہبود کی سکیموں سے بھی مسلمانوں کو الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔اسی لئے مسلمان دوسرے مذہبی گروپوں کے مقابلے میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔


۔(7)۔۔پینے کے صاف پانی کی فراہمی ،تعلیم اداروں کے قیام،ٹرانسپورٹ کی سکیمیں،صحت عامہ کی سکیمیںمسلمانوںکے علاقوں میں شروع ہی نہیں کی جاتیں ۔


۔(8)۔۔برسرروزگار مسلمانوں کاتناسب دوسرے مذہبی گروپوں سے کہیں کم ہے۔دیہات کے مقابلے میں شہری مسلمانوں کو زیادہ پیچھے رکھا گیا ہے۔


۔(9)۔۔مسلمان خواتین کو ملازمتوں سے دور رکھ کرتمام عالمی اصولوں کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں۔


۔(10)۔۔زرعی شعبے میں مسلمانوں کی شمولیت کو دانستہ طور پر کم رکھا گیا ہے۔


پاکستان نہ بنتا تو آج ہم بھی اسی حال میں ہوتے جس حال میں ہمارے بھائی ہندوستان میںرہ رہے ہیں جہاں ان پر زندگی تنگ ہے، جینا دوبھر ہو گیاہے، کوئی ذریعہ معاش ہے نہیں،زیادہ ترمسلمان اپنے گھروں میں چھوٹے موٹے کام کرکے گزارہ کر رہے ہیں۔اس پر بھی انہیں طعنے دیئے جاتے ہیں ،کہ وہ پاکستان کیوں نہیں چلے جاتے ،انہیں مذہب بدلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور یہ بالکل نیا رجحان ہے، جو دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت1947ء میں ہی ہوئی تھی جب کئی لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان آئے ،ہجرت کے اس اندوہناک سفر میں30سے 40لاکھ جانوں کے نذرانے پیش کئے گئے۔اس کے باوجودہم نے آزادی کی نعمت کا حق اور شکر ادا نہیں کر سکے ۔اسی لئے ہم کرپشن ، بدعنوانی اور سیاسی نااہلی کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔کچھ لوگ تو ہر روز ایک سوال کرتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ہے؟یہ سوال کرنے والوں کو ایک نظر بھارت پر بھی ڈال لینا چاہیے ،انہیں اس کا جواب بہت اچھی طرح مل جائے گا۔جہاں ہر ایک مسلمان پر زندگی تنگ ہے۔ہم نے بہت وقت ضائع کر دیا۔اب ہمیں قربانیوں کا حق ادا کرنے کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔اس کا ایک ہی آسان سا طریقہ ہے ، وہ یہ کہ ہم دل لگا کر ایمانداری سے کام کریں ۔بانی پاکستان حضرت قائد اعظم ؒنے کہا تھا۔۔ ۔ ۔ کام، کام اور کام۔۔ بانی پاکستان کے اسی قول میں پاکستان کی ترقی کا راز مضمر ہے اور اسی طرح ہم ماضی میں ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کرنے والوں کے سامنے سرخرو ہو سکتے ہیں،ان خوں آشام دنوں کی کوئی قیمت نہیںلیکن ہم ایمانداری سے دن راتمحنت کر کے آزادی کے متوالوں کی بے چین روح کو مطمئن کر سکتے ہیں۔

 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,824
1,769
213
ہم جانتے ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت1947ء میں ہی ہوئی تھی جب کئی لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑ کر پاکستان آئے ،ہجرت کے اس اندوہناک سفر میں30سے 40لاکھ جانوں کے نذرانے پیش کئے گئے۔اس کے باوجودہم نے آزادی کی نعمت کا حق اور شکر ادا نہیں کر سکے ۔اسی لئے ہم کرپشن ، بدعنوانی اور سیاسی نااہلی کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں۔کچھ لوگ تو ہر روز ایک سوال کرتے ہیں کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا ہے؟یہ سوال کرنے والوں کو ایک نظر بھارت پر بھی ڈال لینا چاہیے ،انہیں اس کا جواب بہت اچھی طرح مل جائے گا۔جہاں ہر ایک مسلمان پر زندگی تنگ ہے۔ہم نے بہت وقت ضائع کر دیا۔اب ہمیں قربانیوں کا حق ادا کرنے کے لئے تیار ہو جانا چاہیے۔اس کا ایک ہی آسان سا طریقہ ہے ، وہ یہ کہ ہم دل لگا کر ایمانداری سے کام کریں ۔بانی پاکستان حضرت قائد اعظم ؒنے کہا تھا۔۔ ۔ ۔ کام، کام اور کام۔۔ بانی پاکستان کے اسی قول میں پاکستان کی ترقی کا راز مضمر ہے اور اسی طرح ہم ماضی میں ہونے والی دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کرنے والوں کے سامنے سرخرو ہو سکتے ہیں،ان خوں آشام دنوں کی کوئی قیمت نہیںلیکن ہم ایمانداری سے دن راتمحنت کر کے آزادی کے متوالوں کی بے چین روح کو مطمئن کر سکتے ہیں۔

جزاک اللہ
 
Top
Forgot your password?