اہم عالمی بحری راستے

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
اہم عالمی بحری راستے
115577

محمد ریاض

زمین کی 71 فیصد سطح پانی سے گھری ہوئی ہے جس میں بیشتر حصہ سمندروں پر مشتمل ہے۔ یہ سمندر زمانہ قدیم میں انسانوں کے مابین دوریوں کا سبب ہوا کرتے تھے۔ پانی پر تیرتے بڑے جہازوں کی ایجاد سے انسان نے ان سمندروں کو مسخر کر لیا اور اب یہی سمندر مختلف براعظموں اور خطوں کو ایک دوسرے سے ملانے کا باعث ہیں۔انسان نے اپنی محنت سے سمندروں کو آپس میں ملانے کے لیے نہریں بھی کھودیں جو انسانوں کی آمدورفت اور مال کی نقل و حمل کا انتہائی اہم ذریعہ ہیں۔ سمندری یا بحری راستے بین الاقوامی تجارت کے لیے موزوں اور کم خرچ سمجھے جاتے ہیں۔ بین الاقوامی تجارت چھوٹی اور بڑی بندرگاہوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ یہاں سے سامان ریلوے لائنوں یا سڑکوں کے ذریعے اندرونی علاقوں میں جاتا ہے۔ شمالی بحراوقیانوس کا راستہ یہ کسی دوسرے بحری راستے سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ صنعتی لحاظ سے دو ترقی یافتہ خطوں کو آپس میں جوڑتا ہے۔ یہ راستہ مغربی یورپ کی بندرگاہوں کو شمالی امریکا سے ملاتا ہے۔ مشرقی ساحل پر واقع اہم بندرگاہوں میں گلاسکو، لیورپول، کارڈف، مانچسٹر، ساؤتھ ایمپٹن، لندن، روٹرڈم، برسبین اور لزبن شامل ہیں۔ مغربی حصے کی اہم بندرگاہوں میں کوئبک، مانٹریال، ہیلی فیکس، سینٹ جان، بوسٹن، نیویارک، بالٹی مور اور نیو آرلینز اہم ہیں۔ پاناما کا راستہ: نہر پاناما کی کھدائی کے کام کا آغاز 1881ء میں فرانس نے شروع کیا لیکن انجینئرنگ کے مسائل اور زیادہ ہلاکتوں کی وجہ سے کام روک دیا گیا۔ 1904ء میں ریاست ہائے متحدہ امریکا نے یہ منصوبہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور پانچ اگست 1914ء کو 82 کلومیٹر طویل اس نہر کو کھول دیا گیا۔ یہ بحری راستہ بحرالکاہل کو بحراوقیانوس سے ملاتا ہے۔ اس راستے سے مال درآمد اور برآمد کرنے والی بندرگاہیں کولون، سان ڈی آگو، وینکوور، پرنس روپرٹ، کیلاڈ اور آک لینڈ ہیں۔ اس نہر کی تعمیر سے قبل جہازوں کو کیپ ہارن (جنوبی امریکا) کا چکر لگا کر جانا پڑتا تھا۔ نہر پاناما کا راستہ کھل جانے کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکا کے مشرقی ساحل کے لیے جنوبی امریکا کے مغربی ممالک، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان اور چین سے تجارت کی سہولت ہو گئی۔ کیپ آف گڈہوپ کا راستہ: عہدوسطیٰ میں برصغیر سے مسالوں کی تجارت کو بہت اہمیت حاصل تھی، اسی طرح شاہراہِ ریشم کی معاشی اہمیت بھی مسلمہ تھی۔ 1453ء میں قسطنطنیہ کی فتح کے بعد یہ تجارت مشکلات کا شکار ہو گئی اور یورپی نیا بحری راستہ تلاش کرنے کے لیے بے تاب ہونے لگے۔ پندرہویں صدی میں پرتگالی مہم جو ڈیوگو کاؤ نے موجودہ نمیبیا کے قریب ساحل سمندر کو دریافت کیا اور بارٹولومیو ڈیاس نے کیپ آف گڈ ہوپ کو تلاش کر لیا۔ واسکوڈے گاما نے 1498ء میں برصغیر کا سمندری راستہ پا لیا۔ اس کے بعد اس راستے پر مزید تحقیق ہوئی اوراس میں توسیع لائی گئی۔ نہر سویز کی تعمیر کے باوجود اسے اب تک استعمال کیا جا رہا ہے لیکن یہاں سے زیادہ تر بڑے بحری جہاز گزرتے ہیں۔ یہ بحری راستہ مغربی یورپ کو افریقہ کے مغربی اور جنوبی حصوں سے ملاتا ہے۔یہ راستہ افریقہ کے مغربی ساحل سے ہوتا ہوا براستہ راس امید ساحل نیٹال اور زنجبار تک جاتا ہے، یہاں سے بحرہند کو پار کرتا ہوا کوچی، کولمبو اور پرتھ (آسٹریلیا) تک جاتا ہے۔ وہاں سے اس کی ایک شاخ آسٹریلیا کے جنوبی ساحل پر براستہ ایڈیلیڈ اور ملبورن، ویلنگٹن تک جا کر ختم ہو جاتی ہے۔ بحرالکاہل کے راستے یہ بحری راستے شمالی امریکا کے مغربی ساحل کی بندرگاہوں کو مشرقی ایشیا کی بندرگاہوں سے ملاتے ہیں۔ یہ دو اہم راستوں پر مشتمل ہیں۔ شمالی راستہ ایک طرف ایشیا کے مشرقی ساحل کو براہِ جزائر ہوائی، جاپان اور فلپائن تک جاتا ہے۔ دوسری طرف ریاست ہائے متحدہ امریکا اور کینیڈا کے مغربی ساحل کو بھی ملاتا ہے۔ اس بحری راستے کی اہم بندرگاہ شنگھائی، ناگاساکی، منیلا، سان ڈیگو، سان فرانسسکو، لاس اینجلس، وینگوور اور پاناما ہیں۔ جنوبی بحرالکاہل کا راستہ شمالی امریکا کے مغربی ساحل سے براہ جزائر فیجی، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک جاتا ہے۔ نہرسویز کا راستہ نہر سویزمصر میں واقع ہے جو 1859ء سے 1869ء تک تعمیر کی گئی۔ یہ بحری راستہ مغربی اور شمالی یورپ کو براہِ جبرالٹر بحیرۂ روم کے ممالک، مشرقی یورپ (براہ بحیرۂ اسود)، شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ، ہندوستان، پاکستان، جنوب مشرقی ایشیا ئی ممالک، آسٹریلیا اور مشرق بعید سے ملاتا ہے۔ اگرچہ نہر کی لمبائی صرف 193 کلومیٹر ہے لیکن بحری تجارت میں اسے بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اس راستہ سے دنیا کی ایک تہائی آبادی فائدہ اٹھاتی ہے۔ بحیرۂ احمر کو پار کر کے اس راستہ کی دو شاخیں ہو جاتی ہیں۔ ایک شاخ افریقہ کے مشرقی ساحل سے ہوتی ہوئی ڈربن تک پہنچتی ہے، دوسری بحیرۂ احمر کے دہانہ عدن سے نکل کر مشرق کی طرف خلیج فارس اور کراچی تک جاتی ہے۔ اس کی ایک ذیلی شاخ ممبئی دوسری کولمبو، سنگاپور، ڈارون، سڈنی اور ویلنگٹن تک پہنچتی ہے۔ سنگاپور سے ایک شاخ شمال کی طرف ہانگ کانگ، چین اور جاپان کی بندرگاہوں کو ملاتی ہے۔ جزائر غرب الہند اور جنوبی اوقیانوس کے راستہ یہ بحری راستہ جزائر غرب الہند، برازیل اور ارجنٹائن کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ جن بندرگاہوں سے یہ راستہ گزرتا ہے ان میں سے اہم کنگسٹن (جمیکا)، ہوانا، ویرا کروز، ٹامپسکو، پرنامبوکو، باہیا، ریوڈی جنیرو، سانتوش، مانٹی ویڈو، بیونس آئرس اور روزائرو ہیں۔ یہ راستے ایک طرف یورپ کے درمیان اور دوسری طرف جزائر غرب الہند، بحیرۂ کیریبین کے ساحل، برازیل، یوروگوئے اور ارجنٹائن سے تجارتی تعلقات قائم رکھے ہوئے ہیں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?