ایسٹ انڈیا کمپنی کی تباہ کاری

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,607
8,598
1,313
Lahore,Pakistan
ایسٹ انڈیا کمپنی کی تباہ کاری
116927

۔1803ء میں جنرل لیک (Lake) کی سرکردگی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجیں دہلی میں داخل ہوئیں اور شاہ عالم ثانی کو اپنی حفاظت میں لے کر اس کا وظیفہ مقرر کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ برصغیر کا اقتدار عملاً انگریزوں کے ہاتھ میں چلا گیا۔ 1806ء میں شاہ عالم ثانی کا انتقال ہو گیا۔ شاہ عالم کے بعد اکبر شاہ ثانی کو تختِ سلطنت پر بٹھایا گیا۔ 1837ء میں اکبر شاہ ثانی کے انتقال پر نام نہاد مغل اقتدار بہادر شاہ ظفر کے ہاتھ آیا۔ 1837ء سے 1857ء تک ایسٹ انڈیا کمپنی برائے نام مغل شہنشاہ کے بظاہر نمائندے کے طور پر خود مختار حکومت کرتی رہی۔ 1857ء کی پہلی جنگ آزادی کے دوران مجاہدین نے بہادر شاہ ظفر کو سارے ہندوستان کا مقتدر شہنشاہ تسلیم کر لیا۔ اگرچہ بہادر شاہ ظفر کے اقتدار اعلیٰ کا یہ دور بہت مختصر رہا لیکن 1857ء کی جنگ آزادی کے مجاہدین نے برائے نام بادشاہت کے زمرہ سے نکال کر اقتداراعلیٰ کا تاج ان کے سر پر سجا کر پھر سے حاکم بااختیار بنا دیا۔ یوں بہادر شاہ ظفر مغل خاندان کے آخری شہنشاہ قرار پائے۔ عظیم الشان مغلیہ سلطنت کے زوال سے جو سیاسی خلا پیدا ہوا، اسے پُر کرنے کی کسی مقامی حکمران نے کوشش نہیں کی۔ 1757ء میں کلایو نے میر جعفر، ولبھ رام، یار لطف خان اور جگت سیٹھ کی غداری کے بل بوتے پر نواب سراج الدولہ کو جنگِ پلاسی میں شکست دے کر ہندوستان میں انگریزی سامراج کا راستہ ہموار کر دیا۔ یہ جنگ 23 جون 1757ء کو بھاگیرنی ندی کے کنارے پلاسی کے مقام پر لڑی گئی۔ یہ بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ جنگِ پلاسی کے بعد جو فیصلہ کن جنگ ہوئی وہ 1799ء میں سطح مرتفع دکن کے جنوب مغرب میں دریائے کاویری کے کنارے سرنگا پٹم کے قلعہ میں لڑی گئی۔ تاریخ نے ایک بار جنگ پلاسی کا منحوس ڈرامہ میسور میں دہرایا۔ میر صادق، میر قمرالدین اور میر معین الدین کی غداری کے بل بوتے کمپنی کی فوجیں سرنگا پٹم کے قلعہ کی دیواروں کو منہدم کر کے قلعہ میں داخل ہو گئیں۔ چار مئی 1799ء کو جنگِ پلاسی کے پورے 42 سال بعد ٹیپو سلطان نے جامِ شہادت نوش کیا۔ سلطان کی شہادت کے ساتھ ہی ہندوستان کی آزادی کا چراغ گل ہو گیا۔ ٹیپو سلطان کے بعد مرہٹے ایک قوت رہ گئے تھے جو انگریزوں کی ہوس ملک گیری پر بند باندھ سکتے تھے۔ تاریخ میں ایک ایسا موڑ آیا تھا جب مادھو جی سندھیا شاہ عالم کو الہٰ آباد سے انگریزوں کی پناہ سے نکال کر دہلی لے آئے اور تخت سلطنت پر بٹھا کر ان کے قدموں پر اپنا سر رکھ دیا تھا۔ شاہ عالم نے اس خدمت اور ان کے جذبے کی قدر کرتے ہوئے اپنا منہ بولا بیٹا تسلیم کر کے سندھیا کو وکیل مطلق کا عہدہ عطا کیا تھا جس میں وزیراعظم اور سپہ سالارِ اعظم دونوں شامل تھے، لیکن مرہٹہ سرداروں کی آپس میں خانہ جنگی کی وجہ سے سندھیا کو اتنا وقت ہی نہ مل سکا کہ وہ دہلی میں مستقل قیام کر کے مغل سلطنت کے الجھے ہوئے معاملات کو ٹھیک کر کے اسے ایک ناقابل تسخیر قوت میں بدل دیتے۔ چنانچہ مرہٹے سردار باہمی جنگ و جدل میں الجھے رہے۔ کمپنی بہادر بنگال سے لے کر دکن تک اپنے اقتدار کو مستحکم کرتی رہی۔ نظام حیدرآباد (نظام علی خان) نے 1800ء میں انگریزوں کے ساتھ ایک معاہدہ، جسے عہد معاونت (Subsidiary Alliance) کہتے ہیں، کر کے اپنی حکومت بچا لی لیکن دولت آصفیہ حیدرآباد کی آزادی کا سودا کر لیا۔ اب انگریزوں کے لیے دلی کے راستے میں کوئی بڑی طاقت حائل نہیں تھی۔ مرہٹہ قوت کمزور ہو چکی تھی چنانچہ جنرل لیک نے دلی میں داخل ہونے سے پہلے علی گڑھ کے مقام پر سندھیا کی فوجوں کو تہس نہس کر دیا۔ اس کے بعد آرتھر ویلز یل نے جو بعد میں ڈیوک آف ولنگٹن ہوا، سندھیا اور بھونسلے کی فوجوں کو بالترتیب آئے اور آرگاؤں کے مقامات پر بری طرح شکست دے دی۔ اس شکست کے بعد سندھیا اور بھونسلے نے اپنی آزادی سے دست برداری کے معاہدے پر دستخط کر کے اقتدار انگریزوں کے حوالے کر کے وظیفہ پر قناعت کر لی۔ اس طرح مرہٹوں کا ہندو پادشاہی کا خواب معدوم ہو گیا۔ میسور کی آزادی ختم کرنے کے بعد اور مرہٹہ قوت کو پوری طرح برباد کر کے ایسٹ انڈیا کمپنی نے 50 سال کے اندر یعنی 1850ء تک برصغیر کی علاقائی ریاستوں کے علاوہ 55 ہزار جاگیرداروں اور بڑے بڑے زمینداروں کی املاک کو ضبط کر کے انگریزی راج میں شامل کر لیا۔ جس جس علاقے کا الحاق انگریز کرتے تھے وہاں کی بے اندازہ دولت لوٹ لی جاتی۔ شہر ویران ہو گئے، زراعت، صنعت اور تجارت تباہ ہو گئی۔ صنعت اور تجارت کی بربادی کا نتیجہ یہ ہوا کہ لوگ روٹی روزگار کے لیے زراعت کی طرف متوجہ ہوتے گئے لیکن انگریزوں نے پہلے سے بڑے بڑے زمینداروں کو زمینوں سے بے دخل کر کے ان پر چھوٹے کاشتکاروں کو مقرر کر دیا تھا اور ان پر براہِ راست زبردست محصول عائد کر دیا تھا۔ چھوٹے کاشتکاروں سے لوٹ کر جوکچھ حاصل کیا گیا تھا اسے زرعی ترقی اور کسانوں کی امداد میں لگانے کے بجائے برصغیر میں لڑی گئی جنگوں کے مصارف اور برطانیہ کی صنعتی ترقی میں جھونک دیا گیا۔ اس طرح برصغیر میں زراعت کو ترقی کرنے اور ملکی ضروریات کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ 1557ء سے 1847ء تک کمپنی بہادر نے برصغیر میں 20 بڑی جنگیں لڑی تھیں جس کا خرچ زمینوں کے محصول سے ادا کیا گیا۔ اس کے علاوہ جو دولت راجواڑوں اور نوابوں سے زبردستی چھین لی گئی تھی وہ کمپنی کے انگریز ملازمین خصوصاً فوجی سربراہوں کی جیب میں چلی گئی۔ اس کے علاوہ انگریزوں نے چھوٹے چھوٹے کاشتکاروں کو مجبور کر کے زرخیز زمینوں پر زندگی کی بنیادی ضروریات جیسے اناج، چاول، جوار، مکئی، گیہوں اور دالیں وغیرہ اگانے کے بجائے کیش کراپ جیسے پٹ سن، کاٹن، مرچ اور افیون وغیرہ اگانے کا رواج ڈالا۔ اس لوٹ کھسوٹ اور غلط پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ شمالی ہند 1837ء میں ہولناک قحط کا شکار ہو گیا۔ اس قحط کے دوران ایک اندازے کے مطابق بنگال اور بہار میں کم از کم آٹھ لاکھ انسان موت کا نوالہ بن گئے۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?