ایمان کی طاقت اس کی بدولت انسان بزدلی سے محفوظ رہتا ہے تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,481
10,803
1,313
Lahore,Pakistan
ایمان کی طاقت اس کی بدولت انسان بزدلی سے محفوظ رہتا ہے
تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے ’’اے اللہ!میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر سے، غم سے، اور کم ہمتی اور کاہلی و بزدلی سے اور بخل و کنجوسی سے اور لوگوں کے دبائو سے۔‘‘

احساس کمتری، معاشرتی کمزوری جہالت، خوف ، حرص و لالچ انسان کو کمزور کر دیتے ہیں

اہل ایمان وہ ہیں کہ جب موت آئے تو نہ پیچھے زیادہ مال ودولت ہواور نہ ہی جائیدادیں
ایمانی طاقت کی بدولت انسان کس طرح بزدلی سے محفوظ رہتا ہے تاریخ بتاتی ہے کہ غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کی بعض کوتاہیوں کی وجہ سے ابتدائی فتح کے بعد پھر مسلمانوں کو شکست ہوئی‘ ستر صحابہ کرامؓ شہید ہوئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زخم آئے مگر ان سب باتوں کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے جنگ کا پانسہ پلٹا اور دشمن پسپا ہو گئے۔


اس عارضی شکست کے تین سبب تھے۔ پہلا یہ کہ حضور پاکؐ نے تیر اندازی کا جو حکم دیا تھا وہ بعض وجوہات کی بناء پر اس پر قائم نہ رہے کیونکہ اس بارے میں اختلاف رائے ہو گیا‘ کسی نے کہا ہمیں یہیں جمے رہنا چاہیے اوربعض نے کہا اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں رہی بس اب چلنا چاہیے اور سب کے ساتھ مل کر مال غنیمت حاصل کرنا چاہیے دوسرا سبب یہ ہوا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل ہو جانے کی جھوٹی خبر مشہور ہو گئی تو فطری طور پر مسلمانوں کے دلوں میں کمزوری پیدا ہو گئی جس کا نتیجہ کم ہمتی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تیسرا سبب جو ان دو سے بھی زیادہ اہم تھا وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں اختلاف ہو گیا تھا۔ یہ تین لغزشیں مسلمانوں سے ہوئیں جس کی بناء پرا نہیں عارضی شکست ہوئی۔ اس وقت مسلمان مجاہدین زخموں سے چور چور تھے‘ ان کے بڑے بڑے بہادروں کی لاشیں سامنے پڑی تھیں۔ بدبخت دشمن نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو بھی زخمی کر دیا تھا۔ مسلمانوں کو اپنی لغزشوں کا صدمہ بھی تھا لیکن یہاں ایک خطرناک بات پیدا ہونے کا خطرہ تھا وہ یہ کہ مسلمانوں کے اندر کہیں بزدلی پیدا نہ ہو جائے اور آئندہ کے لیے کمزور نہ ہو جائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا:


’’یعنی تم اپنے اندر بزدلی اور سستی کو بالکل نہ آنے دو اور گذشتہ باتوں پر رنج و ملال بھی نہ کرو آخر کار تم ہی بلند رہو گے‘ اگر تم مومن رہے۔‘‘


اس قرآنی آواز نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا اور مرجھائے ہوئے جسموں کو جن میں بزدلی پیدا ہونے کا خطرہ تھا ان میں ایک نئی روح پھونک دی۔ بزدلی کی حقیقت کیا ہے اس کے اسباب کیا ہیں۔ یعنی بزدلی کن چیزوں سے پیدا ہوتی ہے پھر بزدلی کے نقصانات سامنے آجائیں اور آخر میں اس کا علاج عرض کیا جائے گا۔


بزدلی کی حقیقت سمجھنے کے لیے ہمیں ایک قوت کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر رکھی ہے اور وہ ہے غصہ کی قوت جسے قوت غضبیہ کہہ لیجیے اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہر قوت کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر استعمال کرو اور خدا کا بتایا ہوا طریقہ اعتدال اور میانہ روی سے کرنا ہو گا۔ اگر غصہ کی قوت کا استعمال ہر جگہ انسان اپنی مرضی سے کرے تو پھر ایک انسان اچھے بھلے معاشرہ میں بے چینی پیدا کر دیتا ہے اہل معاشرہ کی زندگیوں سے سکون رخصت ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ شخص دنیا اور آخرت میں اپنے لیے سزائوں کے انبار لگا لیتا ہے۔ چنانچہ قرآن حکیم میں سورۂ آل عمران میں فرمایا۔


ترجمہ ’’ غصہ پر قابو رکھنے والے اور غصہ کی آگ کو بجھانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اللہ کو پسند ہیں۔‘‘


واقعی یہ مومن کی شان ہے لیکن اگر غصہ کی قوت کو بالکل ختم کر دیا جائے تو پھر انسان مایوس، کم ہمت اور بزدل ہو جاتا ہے اسی سے بزدلی کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے۔بزدلی انسان کے اندر کیوں پیدا ہوتی ہے؟ جب ہم اس کے اسباب پر غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے مختلف اسباب آتے ہیں جن میں احساس کمتری، معاشرتی کمزوری، جہالت، خوف اور حرص و لالچ وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے ایک اہم چیز اور نظر آتی ہے جو انسان کو بزدل بناتی ہے وہ Frustration یا ناکامی ہے۔ دیکھئے زندگی کے ہر قدم پر رکاوٹیں ہیں کوئی بھی پلان بنائیں اسے عملی جامہ پہنانے پر ہزاروں دقتیں پیش آئیں گی لیکن ان مشکلات سے گھبرا کر بزدل نہیں بننا چاہیے بلکہ ہمت اور کوشش سے کام لینا چاہیے پلان کو زیادہ سے زیادہ خلوص کے ساتھ قابل عمل بنائیں ۔ رکاوٹیں خود بخود ختم ہو جائیں گی پھر نیا راستہ تجویز کریں پھر بھی ناکامی سامنے آئے تو بزدل نہ بنیں۔ اس لیے کہ ہمارا خالق یہ فرماتا ہے:


{لَاتَقْنَطُوْا مِن رَّحمَۃِ اللّٰہِ}


’’تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔‘‘


جب انسان اپنی خواہشات‘ اپنی مرضی پوری نہ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو پھر اس کے بعد جو مرحلہ پیش آتا ہے‘ اس کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہے کہ جب بھی آپ کو ناکامی کی ایسی صورت پیش آئے تو آپ فوراً اپنے ناکامی کے جذباتی کردار کو چیک کریں اگر وہاں غصہ یا دست درازی کی کوئی بھی صورت ہے اسلامی تعلیمات نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ اس صورت میں اپنے اوپر قابو رکھا جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ کے میدان میں ہیں مسلح ہیں دشمن کو زیر کر رہے ہیں دشمن کے سینے پر سوار ہیں۔ قریب ہے کہ نیزہ اس کے سینے کے پار کر دیں کہ دشمن آپ کے چہرہ مبارک پر تھوک دیتا ہے آپ فوراً اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ دشمن حیران ہو کر سوال کرتا ہے کہ اے علی! اب تو نے کیوں چھوڑ دیا؟ اب تو مجھے ضرور مار دینا چاہیے تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جواب پر غور فرمائیے؟ فرماتے ہیں پہلے میں نے تجھے اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے قتل کرنا تھا لیکن اب اگر میں تجھے قتل کرتا تو شاید اپنے نفس کے غصہ کی وجہ سے قتل کرتا۔ معلوم ہوا کہ انسان محض اپنے غیظ و غضب کو تسکین پہنچانے کے لیے انتقامی کارروائی کرے تو وہ بزدلی ہے بہادری نہیں۔


لیکن اگر بندوں کے حقوق کا مسئلہ ہو‘ حقوق اللہ کا مسئلہ پیش آجائے وہاں انسان رشوت کی وجہ سے، کسی اعلیٰ افسر کی خوشی کی خاطر یا کسی کے خوف کی وجہ سے دب جائے تو اب یہ بھی بزدلی ہو گی۔ ایسی بزدلی کے پید اہونے کی وجہ سے انسان میں سب سے بڑی جو خرابی پیدا ہوتی ہے وہ یہ کہ اس میں قوتِ فیصلہ ختم ہو جاتی ہے۔ ایسا انسان زندگی بھر Day dreamingیا Imaginationجیسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جنہیں خالص نفسیاتی بیماریاں کہنا چاہیے اور یہ اس انسان نے خود اپنے اندر پیدا کی ہوتی ہیں۔ اس کا علاج اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمایا:


{وَاَنْتُمْ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ}


’’اور تم ہی بلند رہو گے اگر ایمان دار ہو گے۔‘‘


جہاں ایمان کی طاقت ختم ہو گی وہاں بزدلی جنم لے گی اور جب انسان ایمان اپنے اندر پختہ کر لیتا ہے اور اس کے تمام لوازمات کو پورا کرتا ہے‘ ان پر ثابت قدم رہتا ہے تو پھر خدا یوں فرماتا ہے:


{اِنَّ الّذِیْنَ قالُوْارَبُّنَا اللّٰہُ ثمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ اْلمٰلئکِۃُ اَلاَّ تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا}


’’یعنی جو لوگ یہ کہہ دیں ہمارا رب، پالنے والا اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہیں تو فرشتے اس پر نازل ہوتے ہیں تاکہ وہ نہ ڈریں نہ غمگین ہوں۔‘‘


لہٰذا اگر ہمارا ایمان ہے تو یقین جانئے کہ ہمارے نزدیک بزدلی پر بھی نہیں مار سکتی اور بزدلی تو ایسی بُری چیز ہے کہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا:


{اَللَّہُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ}


’’یعنی اے اللہ میں بزدلی کے بارے میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘


میں بھی انہی الفاظ پر اپنی بات ختم کرنے کی اجازت چاہوں گا اور دعا کروں گا کہ اے اللہ ہمیں بزدلی سے بچا۔


حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ’’ میرے دوستوں میں بہت زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مؤمن ہے جو سب بار (یعنی دنیا کے سازوسامان اور مال وعیال کے لحاظ سے بہت ہلکا پھلکا) ہو نماز میں اس کا بڑا حصہ ہو ، اور اپنے رب کی عبادت خوبی کے ساتھ اور صفت ِ احسان کے ساتھ کرتاہو، اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اس کا شعار ہو، اور یہ سب کچھ اخفا کے ساتھ اور خلوت میںکرتاہو اور وہ چھپا ہوا اورگمنامی کی حالت میں ہو، اور اس کی طرف انگلیوں سے اشارے نہ کئے جاتے ہوں اور اس کی روزی بھی بقدرِ کفاف ہو اور وہ اس پر صابر وقانع ہو‘‘۔


آپﷺکے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ میرے دوستوں اور اللہ کے مقبول بندوں کے الوان واحوال مختلف ہیں ، لیکن ان میں بہت زیادہ قابل رشک زندگی ان اہل ایمان کی ہے، جن کا حال یہ ہے کہ دنیا کے سازوسامان اور مال وعیال کے لحاظ سے وہ بہت ہلکے ، مگر نماز اور عبادات میں ان کا خاص حصہ ہے ، اور اس کے باوجود ایسے نامعروف اور گمنام کہ آتے جاتے کوئی ان کی طرف انگلی اٹھا کے نہیں کہتا کہ یہ فلاں بزرگ اورفلاں صاحب ہیں ، اور ان کی روزی بس بقدر کفاف ، لیکن وہ اس پر دل سے صابر وقانع ہیں۔ جب موت کا وقت آیا تو دم رخصت، نہ پیچھے زیادہ مال ودولت اور نہ جائیدادوں، مکانات اور باغات کی تقسیم کے جھگڑے ۔ بلاشبہ بڑی قابل رشک ہے اللہ کے ایسے بندوں کی زندگی اور الحمد للہ اس قسم کی زندگی والوں سے ہماری یہ دنیا اب بھی خالی نہیں۔


حضوراقدس ﷺ نے یہ بات اس وقت ارشاد فرمائی تھی جب نماز کو کفر اور ایمان کے درمیان حد فاصل قرار دیاگیاتھا۔ اس زمانے میں مؤمن کتنا ہی برے سے برا ہو ، لیکن نماز نہیں چھوڑتا تھا۔ اس زمانے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ لوگ نمازیں غارت کرنے لگیں گے۔ امانت ضائع کرنے لگیں گے یعنی جو امانت ان کے پاس رکھی جائے گی اس میں خیانت کرنے لگیں گے۔ سود کھانے لگیں گے، جھوٹ کو حلال سمجھنے لگیں گے یعنی جھوٹ ایک فن اور ہنر بن جائے گا،معمولی معمولی باتوں پر خونریزی کرنے لگیں گے ، ذرا سی بات پر دوسرے کی جان لے لیں گے،اونچی اونچی بلڈنگیں بنائیں گے،دین بیچ کر دنیا جمع کریں گے،قطع رحمی ، یعنی رشتہ داروں سے بدسلوکی ہوگی،انصاف نایاب ہوجائے گا،جھوٹ سچ بن جائے گا،لباس ریشم کا پہنا جائے گا،ظلم عام ہوجائے گا،طلاقوں کی کثرت ہوگی‘‘۔ اس لئے اللہ کو پاک سمجھیں اور جن باتوں کو ثابت کیاگیاہے ان کو دل سے مانیں، انشاء اللہ قرب خداوندی حاصل ہوگا۔اور اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان پر یقین وایمان رکھے ۔یہی اسلام کی بنیادی تعلیم ہے ، اور یہی توحید ہے۔


ایمان کی مثال اس سبزے کی طرح ہے جو پاکیزہ پانی سے بڑھ رہاہو اور نفاق کی مثال پھوڑے کی طرح ہے جس میں پیپ اور خون بڑھتاہی جاتاہے۔ اب جو مادہ بڑھ جائے وہ دوسرے پر غالب آجاتاہے۔ مسند احمد اور مسند ابوایعلیٰ میں حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ’’ بچہ جب تک بالغ نہیں ہوتا اس کے نیک عمل اس کے والد یا والدین کے حساب میں لکھے جاتے ہیں اور جو کوئی برا عمل کرے تو وہ نہ اس کے حساب میں لکھا جاتاہے نہ والدین کے۔پھر جب وہ بالغ ہوجاتاہے تو قلم حساب اس کے لیے جاری ہوجاتاہے اور دو فرشتے جو اس کے ساتھ رہنے والے ہیں ان کو حکم دے دیا جاتاہے کہ اس کی حفاظت کریں اور قوت بہم پہنچائیں۔ جب حالت ِ اسلام میںچالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو (تین قسم کی بیماریوں سے ) محفوط کردیتے ہیں : جنون ، جذام اور برص سے۔جب پچاس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب ہلکا کردیتے ہیں ، جب ساٹھ سال کو پہنچتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی طرف رجوع کی توفیق دیتے ہیں ، جب ستر سال کو پہنچتاہے تو سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، اور جب اسی سال کو پہنچتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حسنات کو لکھتے ہیں اور سیئات کو معاف فرمادیتے ہیں۔پھر جب نوے سال کی عمر ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادیتے ہیں۔ اور اس کو اپنے گھر والوں کے معاملے میںشفاعت کرنے کا حق دیتے ہیں اور اس کی شفاعت قبول فرماتے ہیں اور اس کا لقب ’’اَمِیْنُ اللّٰہِ‘‘اور ’’اَسِیْرُ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ‘‘ (یعنی اللہ کا معتمد اور زمین میںاللہ کا قیدی ) ہوجاتا ہے‘‘۔کیونکہ اس عمر میں پہنچ کر عموماً انسان کی قوت ختم ہوجاتی ہے، اور جب ارذل عمر کو پہنچ جاتاہے ، تو اس کے تمام وہ نیک عمل نامہ اعمال میں برابر لکھے جاتے ہیں جو اپنی صحت و قوت کے زمانے میں کیا کرتاتھا اور اگر اس سے کوئی گناہ ہوجاتاہے تو وہ لکھا نہیں جاتا۔اور جو شخص لوگوں کو قرآن پر ایمان اور اس کے احکام پر عمل کی دعوت دیتاہے تو خود اسے صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق ہوتی ہے اور جن کو وہ دعوت دیتاہے وہ بھی صراطِ مستقیم پر چلنے لگتے ہیں۔

اب آخر میں بیان کرتا ہوں کہ ایمان کے اعتبار سے انسانوں کی چار قسمیں ہیں۔حضرت رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ’’ بنی آدم مختلف اقسام پر پیداکئے گئے ہیں :کچھ لوگ مؤمن پیدا ہوتے ہیں (یعنی مؤمن ماں باپ کے یہاں پیدا ہوتے ہیں ) اور مؤمن زندہ رہتے ہیں (یعنی زندگی بھر ایمان پر ثابت قدم رہتے ہیں ) اور مؤمن مرتے ہیں۔ کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں (یعنی کافروں کے یہاں پیدا ہوتے ہیں ) اور کافر زندہ رہتے ہیں (یعنی پوری زندگی کافر رہتے ہیں ) اور کافر مرتے ہیں۔ کچھ مؤمن پیدا ہوتے ہیں ، مؤمن زندہ رہتے ہیں ( یعنی زندگی بھر مؤمن رہتے ہیں ) اور کافر مرتے ہیں ( یعنی مرنے سے کچھ پہلے کافر ہوجاتے ہیں )۔ کچھ کافر پیدا ہوتے ہیں اور زندگی بھر کافر رہتے ہیں ، اور مؤمن مرتے ہیں (یعنی وفات سے کچھ پہلے ایمان لے آتے ہیں اور ان کا خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے )‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان پر جینا اور مرنا نصیب فرمائیں
 

maria_1

Super Star
Jul 7, 2019
5,246
5,600
213
ایمان کی طاقت اس کی بدولت انسان بزدلی سے محفوظ رہتا ہے
تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے ’’اے اللہ!میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر سے، غم سے، اور کم ہمتی اور کاہلی و بزدلی سے اور بخل و کنجوسی سے اور لوگوں کے دبائو سے۔‘‘

احساس کمتری، معاشرتی کمزوری جہالت، خوف ، حرص و لالچ انسان کو کمزور کر دیتے ہیں

اہل ایمان وہ ہیں کہ جب موت آئے تو نہ پیچھے زیادہ مال ودولت ہواور نہ ہی جائیدادیں
ایمانی طاقت کی بدولت انسان کس طرح بزدلی سے محفوظ رہتا ہے تاریخ بتاتی ہے کہ غزوۂ اُحد میں مسلمانوں کی بعض کوتاہیوں کی وجہ سے ابتدائی فتح کے بعد پھر مسلمانوں کو شکست ہوئی‘ ستر صحابہ کرامؓ شہید ہوئے‘ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو زخم آئے مگر ان سب باتوں کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے جنگ کا پانسہ پلٹا اور دشمن پسپا ہو گئے۔


اس عارضی شکست کے تین سبب تھے۔ پہلا یہ کہ حضور پاکؐ نے تیر اندازی کا جو حکم دیا تھا وہ بعض وجوہات کی بناء پر اس پر قائم نہ رہے کیونکہ اس بارے میں اختلاف رائے ہو گیا‘ کسی نے کہا ہمیں یہیں جمے رہنا چاہیے اوربعض نے کہا اب یہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں رہی بس اب چلنا چاہیے اور سب کے ساتھ مل کر مال غنیمت حاصل کرنا چاہیے دوسرا سبب یہ ہوا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل ہو جانے کی جھوٹی خبر مشہور ہو گئی تو فطری طور پر مسلمانوں کے دلوں میں کمزوری پیدا ہو گئی جس کا نتیجہ کم ہمتی کی صورت میں ظاہر ہوا۔ تیسرا سبب جو ان دو سے بھی زیادہ اہم تھا وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں اختلاف ہو گیا تھا۔ یہ تین لغزشیں مسلمانوں سے ہوئیں جس کی بناء پرا نہیں عارضی شکست ہوئی۔ اس وقت مسلمان مجاہدین زخموں سے چور چور تھے‘ ان کے بڑے بڑے بہادروں کی لاشیں سامنے پڑی تھیں۔ بدبخت دشمن نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو بھی زخمی کر دیا تھا۔ مسلمانوں کو اپنی لغزشوں کا صدمہ بھی تھا لیکن یہاں ایک خطرناک بات پیدا ہونے کا خطرہ تھا وہ یہ کہ مسلمانوں کے اندر کہیں بزدلی پیدا نہ ہو جائے اور آئندہ کے لیے کمزور نہ ہو جائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا:


’’یعنی تم اپنے اندر بزدلی اور سستی کو بالکل نہ آنے دو اور گذشتہ باتوں پر رنج و ملال بھی نہ کرو آخر کار تم ہی بلند رہو گے‘ اگر تم مومن رہے۔‘‘


اس قرآنی آواز نے ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا اور مرجھائے ہوئے جسموں کو جن میں بزدلی پیدا ہونے کا خطرہ تھا ان میں ایک نئی روح پھونک دی۔ بزدلی کی حقیقت کیا ہے اس کے اسباب کیا ہیں۔ یعنی بزدلی کن چیزوں سے پیدا ہوتی ہے پھر بزدلی کے نقصانات سامنے آجائیں اور آخر میں اس کا علاج عرض کیا جائے گا۔


بزدلی کی حقیقت سمجھنے کے لیے ہمیں ایک قوت کے بارے میں سوچنا ہو گا۔ جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر رکھی ہے اور وہ ہے غصہ کی قوت جسے قوت غضبیہ کہہ لیجیے اسلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہر قوت کو خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر استعمال کرو اور خدا کا بتایا ہوا طریقہ اعتدال اور میانہ روی سے کرنا ہو گا۔ اگر غصہ کی قوت کا استعمال ہر جگہ انسان اپنی مرضی سے کرے تو پھر ایک انسان اچھے بھلے معاشرہ میں بے چینی پیدا کر دیتا ہے اہل معاشرہ کی زندگیوں سے سکون رخصت ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ شخص دنیا اور آخرت میں اپنے لیے سزائوں کے انبار لگا لیتا ہے۔ چنانچہ قرآن حکیم میں سورۂ آل عمران میں فرمایا۔


ترجمہ ’’ غصہ پر قابو رکھنے والے اور غصہ کی آگ کو بجھانے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے اللہ کو پسند ہیں۔‘‘


واقعی یہ مومن کی شان ہے لیکن اگر غصہ کی قوت کو بالکل ختم کر دیا جائے تو پھر انسان مایوس، کم ہمت اور بزدل ہو جاتا ہے اسی سے بزدلی کی حقیقت سمجھ میں آتی ہے۔بزدلی انسان کے اندر کیوں پیدا ہوتی ہے؟ جب ہم اس کے اسباب پر غور کرتے ہیں تو ہمارے سامنے مختلف اسباب آتے ہیں جن میں احساس کمتری، معاشرتی کمزوری، جہالت، خوف اور حرص و لالچ وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں سے ایک اہم چیز اور نظر آتی ہے جو انسان کو بزدل بناتی ہے وہ Frustration یا ناکامی ہے۔ دیکھئے زندگی کے ہر قدم پر رکاوٹیں ہیں کوئی بھی پلان بنائیں اسے عملی جامہ پہنانے پر ہزاروں دقتیں پیش آئیں گی لیکن ان مشکلات سے گھبرا کر بزدل نہیں بننا چاہیے بلکہ ہمت اور کوشش سے کام لینا چاہیے پلان کو زیادہ سے زیادہ خلوص کے ساتھ قابل عمل بنائیں ۔ رکاوٹیں خود بخود ختم ہو جائیں گی پھر نیا راستہ تجویز کریں پھر بھی ناکامی سامنے آئے تو بزدل نہ بنیں۔ اس لیے کہ ہمارا خالق یہ فرماتا ہے:


{لَاتَقْنَطُوْا مِن رَّحمَۃِ اللّٰہِ}


’’تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔‘‘


جب انسان اپنی خواہشات‘ اپنی مرضی پوری نہ ہوتے ہوئے دیکھتا ہے تو پھر اس کے بعد جو مرحلہ پیش آتا ہے‘ اس کے بارے میں یہ بات پیش نظر رہے کہ جب بھی آپ کو ناکامی کی ایسی صورت پیش آئے تو آپ فوراً اپنے ناکامی کے جذباتی کردار کو چیک کریں اگر وہاں غصہ یا دست درازی کی کوئی بھی صورت ہے اسلامی تعلیمات نے ہمیں یہی تعلیم دی ہے کہ اس صورت میں اپنے اوپر قابو رکھا جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ جنگ کے میدان میں ہیں مسلح ہیں دشمن کو زیر کر رہے ہیں دشمن کے سینے پر سوار ہیں۔ قریب ہے کہ نیزہ اس کے سینے کے پار کر دیں کہ دشمن آپ کے چہرہ مبارک پر تھوک دیتا ہے آپ فوراً اسے چھوڑ دیتے ہیں۔ دشمن حیران ہو کر سوال کرتا ہے کہ اے علی! اب تو نے کیوں چھوڑ دیا؟ اب تو مجھے ضرور مار دینا چاہیے تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے جواب پر غور فرمائیے؟ فرماتے ہیں پہلے میں نے تجھے اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے قتل کرنا تھا لیکن اب اگر میں تجھے قتل کرتا تو شاید اپنے نفس کے غصہ کی وجہ سے قتل کرتا۔ معلوم ہوا کہ انسان محض اپنے غیظ و غضب کو تسکین پہنچانے کے لیے انتقامی کارروائی کرے تو وہ بزدلی ہے بہادری نہیں۔


لیکن اگر بندوں کے حقوق کا مسئلہ ہو‘ حقوق اللہ کا مسئلہ پیش آجائے وہاں انسان رشوت کی وجہ سے، کسی اعلیٰ افسر کی خوشی کی خاطر یا کسی کے خوف کی وجہ سے دب جائے تو اب یہ بھی بزدلی ہو گی۔ ایسی بزدلی کے پید اہونے کی وجہ سے انسان میں سب سے بڑی جو خرابی پیدا ہوتی ہے وہ یہ کہ اس میں قوتِ فیصلہ ختم ہو جاتی ہے۔ ایسا انسان زندگی بھر Day dreamingیا Imaginationجیسی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتا ہے جنہیں خالص نفسیاتی بیماریاں کہنا چاہیے اور یہ اس انسان نے خود اپنے اندر پیدا کی ہوتی ہیں۔ اس کا علاج اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں فرمایا:


{وَاَنْتُمْ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِیْنَ}


’’اور تم ہی بلند رہو گے اگر ایمان دار ہو گے۔‘‘


جہاں ایمان کی طاقت ختم ہو گی وہاں بزدلی جنم لے گی اور جب انسان ایمان اپنے اندر پختہ کر لیتا ہے اور اس کے تمام لوازمات کو پورا کرتا ہے‘ ان پر ثابت قدم رہتا ہے تو پھر خدا یوں فرماتا ہے:


{اِنَّ الّذِیْنَ قالُوْارَبُّنَا اللّٰہُ ثمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیْہِمُ اْلمٰلئکِۃُ اَلاَّ تَخَافُوْا وَلاَ تَحْزَنُوْا}


’’یعنی جو لوگ یہ کہہ دیں ہمارا رب، پالنے والا اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہیں تو فرشتے اس پر نازل ہوتے ہیں تاکہ وہ نہ ڈریں نہ غمگین ہوں۔‘‘


لہٰذا اگر ہمارا ایمان ہے تو یقین جانئے کہ ہمارے نزدیک بزدلی پر بھی نہیں مار سکتی اور بزدلی تو ایسی بُری چیز ہے کہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا:


{اَللَّہُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ}


’’یعنی اے اللہ میں بزدلی کے بارے میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔‘‘


میں بھی انہی الفاظ پر اپنی بات ختم کرنے کی اجازت چاہوں گا اور دعا کروں گا کہ اے اللہ ہمیں بزدلی سے بچا۔


حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ’’ میرے دوستوں میں بہت زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مؤمن ہے جو سب بار (یعنی دنیا کے سازوسامان اور مال وعیال کے لحاظ سے بہت ہلکا پھلکا) ہو نماز میں اس کا بڑا حصہ ہو ، اور اپنے رب کی عبادت خوبی کے ساتھ اور صفت ِ احسان کے ساتھ کرتاہو، اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اس کا شعار ہو، اور یہ سب کچھ اخفا کے ساتھ اور خلوت میںکرتاہو اور وہ چھپا ہوا اورگمنامی کی حالت میں ہو، اور اس کی طرف انگلیوں سے اشارے نہ کئے جاتے ہوں اور اس کی روزی بھی بقدرِ کفاف ہو اور وہ اس پر صابر وقانع ہو‘‘۔


آپﷺکے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ میرے دوستوں اور اللہ کے مقبول بندوں کے الوان واحوال مختلف ہیں ، لیکن ان میں بہت زیادہ قابل رشک زندگی ان اہل ایمان کی ہے، جن کا حال یہ ہے کہ دنیا کے سازوسامان اور مال وعیال کے لحاظ سے وہ بہت ہلکے ، مگر نماز اور عبادات میں ان کا خاص حصہ ہے ، اور اس کے باوجود ایسے نامعروف اور گمنام کہ آتے جاتے کوئی ان کی طرف انگلی اٹھا کے نہیں کہتا کہ یہ فلاں بزرگ اورفلاں صاحب ہیں ، اور ان کی روزی بس بقدر کفاف ، لیکن وہ اس پر دل سے صابر وقانع ہیں۔ جب موت کا وقت آیا تو دم رخصت، نہ پیچھے زیادہ مال ودولت اور نہ جائیدادوں، مکانات اور باغات کی تقسیم کے جھگڑے ۔ بلاشبہ بڑی قابل رشک ہے اللہ کے ایسے بندوں کی زندگی اور الحمد للہ اس قسم کی زندگی والوں سے ہماری یہ دنیا اب بھی خالی نہیں۔


حضوراقدس ﷺ نے یہ بات اس وقت ارشاد فرمائی تھی جب نماز کو کفر اور ایمان کے درمیان حد فاصل قرار دیاگیاتھا۔ اس زمانے میں مؤمن کتنا ہی برے سے برا ہو ، لیکن نماز نہیں چھوڑتا تھا۔ اس زمانے میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ لوگ نمازیں غارت کرنے لگیں گے۔ امانت ضائع کرنے لگیں گے یعنی جو امانت ان کے پاس رکھی جائے گی اس میں خیانت کرنے لگیں گے۔ سود کھانے لگیں گے، جھوٹ کو حلال سمجھنے لگیں گے یعنی جھوٹ ایک فن اور ہنر بن جائے گا،معمولی معمولی باتوں پر خونریزی کرنے لگیں گے ، ذرا سی بات پر دوسرے کی جان لے لیں گے،اونچی اونچی بلڈنگیں بنائیں گے،دین بیچ کر دنیا جمع کریں گے،قطع رحمی ، یعنی رشتہ داروں سے بدسلوکی ہوگی،انصاف نایاب ہوجائے گا،جھوٹ سچ بن جائے گا،لباس ریشم کا پہنا جائے گا،ظلم عام ہوجائے گا،طلاقوں کی کثرت ہوگی‘‘۔ اس لئے اللہ کو پاک سمجھیں اور جن باتوں کو ثابت کیاگیاہے ان کو دل سے مانیں، انشاء اللہ قرب خداوندی حاصل ہوگا۔اور اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان کی گئی ہیں ان پر یقین وایمان رکھے ۔یہی اسلام کی بنیادی تعلیم ہے ، اور یہی توحید ہے۔


ایمان کی مثال اس سبزے کی طرح ہے جو پاکیزہ پانی سے بڑھ رہاہو اور نفاق کی مثال پھوڑے کی طرح ہے جس میں پیپ اور خون بڑھتاہی جاتاہے۔ اب جو مادہ بڑھ جائے وہ دوسرے پر غالب آجاتاہے۔ مسند احمد اور مسند ابوایعلیٰ میں حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ’’ بچہ جب تک بالغ نہیں ہوتا اس کے نیک عمل اس کے والد یا والدین کے حساب میں لکھے جاتے ہیں اور جو کوئی برا عمل کرے تو وہ نہ اس کے حساب میں لکھا جاتاہے نہ والدین کے۔پھر جب وہ بالغ ہوجاتاہے تو قلم حساب اس کے لیے جاری ہوجاتاہے اور دو فرشتے جو اس کے ساتھ رہنے والے ہیں ان کو حکم دے دیا جاتاہے کہ اس کی حفاظت کریں اور قوت بہم پہنچائیں۔ جب حالت ِ اسلام میںچالیس سال کی عمر کو پہنچ جاتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو (تین قسم کی بیماریوں سے ) محفوط کردیتے ہیں : جنون ، جذام اور برص سے۔جب پچاس سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا حساب ہلکا کردیتے ہیں ، جب ساٹھ سال کو پہنچتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی طرف رجوع کی توفیق دیتے ہیں ، جب ستر سال کو پہنچتاہے تو سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، اور جب اسی سال کو پہنچتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کی حسنات کو لکھتے ہیں اور سیئات کو معاف فرمادیتے ہیں۔پھر جب نوے سال کی عمر ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سب اگلے پچھلے گناہ معاف فرمادیتے ہیں۔ اور اس کو اپنے گھر والوں کے معاملے میںشفاعت کرنے کا حق دیتے ہیں اور اس کی شفاعت قبول فرماتے ہیں اور اس کا لقب ’’اَمِیْنُ اللّٰہِ‘‘اور ’’اَسِیْرُ اللّٰہِ فِی الْاَرْضِ‘‘ (یعنی اللہ کا معتمد اور زمین میںاللہ کا قیدی ) ہوجاتا ہے‘‘۔کیونکہ اس عمر میں پہنچ کر عموماً انسان کی قوت ختم ہوجاتی ہے، اور جب ارذل عمر کو پہنچ جاتاہے ، تو اس کے تمام وہ نیک عمل نامہ اعمال میں برابر لکھے جاتے ہیں جو اپنی صحت و قوت کے زمانے میں کیا کرتاتھا اور اگر اس سے کوئی گناہ ہوجاتاہے تو وہ لکھا نہیں جاتا۔اور جو شخص لوگوں کو قرآن پر ایمان اور اس کے احکام پر عمل کی دعوت دیتاہے تو خود اسے صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق ہوتی ہے اور جن کو وہ دعوت دیتاہے وہ بھی صراطِ مستقیم پر چلنے لگتے ہیں۔

اب آخر میں بیان کرتا ہوں کہ ایمان کے اعتبار سے انسانوں کی چار قسمیں ہیں۔حضرت رسول اللہﷺ کا ارشاد ہے کہ’’ بنی آدم مختلف اقسام پر پیداکئے گئے ہیں :کچھ لوگ مؤمن پیدا ہوتے ہیں (یعنی مؤمن ماں باپ کے یہاں پیدا ہوتے ہیں ) اور مؤمن زندہ رہتے ہیں (یعنی زندگی بھر ایمان پر ثابت قدم رہتے ہیں ) اور مؤمن مرتے ہیں۔ کچھ لوگ کافر پیدا ہوتے ہیں (یعنی کافروں کے یہاں پیدا ہوتے ہیں ) اور کافر زندہ رہتے ہیں (یعنی پوری زندگی کافر رہتے ہیں ) اور کافر مرتے ہیں۔ کچھ مؤمن پیدا ہوتے ہیں ، مؤمن زندہ رہتے ہیں ( یعنی زندگی بھر مؤمن رہتے ہیں ) اور کافر مرتے ہیں ( یعنی مرنے سے کچھ پہلے کافر ہوجاتے ہیں )۔ کچھ کافر پیدا ہوتے ہیں اور زندگی بھر کافر رہتے ہیں ، اور مؤمن مرتے ہیں (یعنی وفات سے کچھ پہلے ایمان لے آتے ہیں اور ان کا خاتمہ ایمان پر ہوتا ہے )‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایمان پر جینا اور مرنا نصیب فرمائیں

سبحان اللہ
بہت عمدہ
جزاک اللہ
 
  • Like
Reactions: intelligent086

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,481
10,803
1,313
Lahore,Pakistan
مجھے تو اسی سے کافی مدد مل گئی ہے
@Seemab_khan
صرف مدد نہیں مسئلہ حل ہو چکا ہے میرا یہ لکھنا کہ عربی لکھی نہیں جاتی اس کے لیئے اضافی فونٹس انسٹال کرنے پڑتے ہیں اور میرے لیئے لکھنا بھی مشکل تھا مجھے نیٹ سے ہی اسکا حل مل گیا جو جواب کے ساتھ منسلک کر دیا
 
Top
Forgot your password?