ایک طلسماتی جھیل

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,493
10,879
1,313
Lahore,Pakistan
ایک طلسماتی جھیل
117326

فضل ربی
وادی سوات کی حسین و جمیل اور طلسماتی بشی گرام جھیل سوات کے مشہور تفریحی مقام مدین سے جنوب مشرق کی طرف آٹھ گھنٹے کی پیدل مسافت پر واقع ہے۔ بشی گرام محض ایک جھیل کا ہی نام نہیں بلکہ یہ ایک وسیع و فراخ وادی کا نام بھی ہے جس کی خوب صورتی اور رعنائی قابلِ دید ہے۔ اس تک پہنچنے کے لئے شنڑ کو نامی مقام تک چھ کلومیٹر کا راستہ طے کیا جاتا ہے اور آگے شمال مشرق کی طرف بشی گرام جھیل تک آٹھ گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ یہ راستہ اگرچہ کافی دشوار گزار ہے لیکن تمام راستہ حسین مناظر اور فطری رعنائیوں کی رنگینیوں سے اس قدر معمور ہے کہ انسان کو راستے کی پیچیدگیوں کے باوجود تھکاوٹ اور بوریت کا کوئی احساس نہیں ہوتا۔ بشی گرام ایک انتہائی دل کش اور خوب صورت مقام ہے۔ یہاں فطرت اپنے اصل رنگ و روپ میں نمایاں ہے لیکن یہاں تک رسائی کا سہل ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے حسن و جمال کا مرقع یہ سرسبز و شاداب علاقہ سیاحوں کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔ پس ماندگی کے عالم میں زندگی گزارنے والے یہاں کے کوہستانی باشندے بہت صاف دل اور مہمان نواز ہیں اور اپنے مخصوص رسم و رواج کی بھی سختی سے پابندی کرتے ہیں۔ بشی گرام میں قیمتی اور نایاب جڑی بوٹیوں کی افراط ہے۔ جن پر علم نباتات کے ماہرین ریسرچ کریں تو انہیں انسانیت کی فلاح کے لئے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ یہاں سردیوں میں کافی برف باری ہوتی ہے۔ گرمیوں میں بھی یہ برف عموماً پہاڑوں کے دامن تک رہتی ہے اور پہاڑ تو ہمیشہ برف کی فرغل پہنے رہتے ہیں۔ بشی گرام میں جا بجا ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے ہیں جن کا پانی قدرتی دوا کا کام دیتا ہے۔ بشی گرام جھیل تک پہنچنے کے لئے ایک راستہ مدین میں چیل نامی گاؤں سے ہوتے ہوئے شینکو، ڈبوگے، بیلہ، کرڈیال، کس، مغل مار اور بشی گرام نامی قابل ذکر دیہات کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جب کہ اس جھیل تک پہنچنے کے لئے دوسرا راستہ سوات کے ایک اور حسین و جمیل مقام میاں دم سے ہے۔ جہاں سے شام سر، پیازوبانڈہ، کافر بانڈہ اور نکئی بانڈہ جیسی مشہور چراگاہوں اور سیرگاہوں سے ہوتے ہوئے بشی گرام جھیل پہنچا جا سکتا ہے۔ پہاڑوں کے بیشتر حصوں پر برف پورا سال موجود رہتی ہے۔ بشی گرام تک جانے والے راستے میں نہایت حسین اور دل فریب مقامات آتے ہیں جہاں حسن، دل کشی اور رعنائی جیسے قدم قدم پر بکھری ہوئی ہے۔ پورا علاقہ مختلف قسم کی قیمتی جڑی بوٹیوں اور جنگلی پھولوں سے اٹا پڑا ہے۔ بعض مقامات پر صاف پانی کے ٹھنڈے میٹھے چشمے ہیں جن کا پانی نہایت صحت بخش اور سُرور افزا ہے۔ جھیل بشی گرام تک جانے والے خواہش مند سیاحوں کو گروپ کی شکل میں جانا چاہئے اور اپنے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء، گرم کپڑے، ضروری ادویات اور شب بسری کے لئے گرم کمبل یا سلیپنگ بیگ ضرور لے جانے چاہئے کیوں کہ رات کے وقت وہاں شدید سردی پڑتی ہے۔ قرب و جوار کے دیہات میں مقامی لوگ سیاحوں کی شب بسری اور ان کے کھانے پینے کا بندوبست بخوشی کرتے ہیں۔ سیاح اگر ان کو نقدی کی شکل میں معمولی سی رقم دینا چاہیں تو ٹھیک ورنہ وہ سیاحوں کی خدمت بلا معاوضہ کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔ یہاں کے لوگ نہایت پس ماندگی کی زندگی گزار رہے ہیں لیکن زندگی کی بنیادی سہولتوں کی عدم دست یابی کے باوجود ان کے چہروں پر خوشی، شادمانی اور اطمینان کی چمک نظر آتی ہے۔ بشی گرام جھیل کے قرب و جوار میں رہنے والے لوگ سردیوں کی آمد پر برف باری شروع ہونے سے قبل یہاں سے رختِ سفر باندھ لیتے ہیں اور بعض لوگ میاں دم اور بعض مدین کی راہ لیتے ہیں۔ سردیوں ہر شے برف کی سپید چادر اوڑھ لیتی ہے۔ گرمی کا موسم شروع ہوتے ہی یہ خانہ بدوش لوگ دوبارہ اپنے ٹھکانوں کی راہ لیتے ہیں۔ جب طویل سفر طے کر کے، دور سے جھیل پر نظر پڑتی ہے تو عجیب قسم کی خوشی اور طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ پورے راستے کی تھکاوٹ دور ہو جاتی ہے اور جسم میں نئی تازگی آ جاتی ہے۔ جھیل کا نیلگوں پانی اتنا ٹھنڈا ہے کہ اس میں دو تین منٹ سے زیادہ ہاتھ نہیں رکھا جا سکتا۔ جھیل بشی گرام اور اس کے قرب و جوار کا علاقہ بلاشبہ خوب صورتی اور رعنائی سے اس قدر مالا مال ہے کہ اس پر کسی طلسماتی نگری کا گمان گزرتا ہے۔ جھیل کا طلسماتی ماحول انسان کو سحر زدہ کر دیتا ہے۔یہاں کی خوب صورتی اور رعنائی میں اتنی کشش ہے کہ یہاں سے جانے کو جی ہی نہیں چاہتا۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?