باوقار بڑھاپے کے 13گُر

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,663
1,591
1,213
Lahore,Pakistan
باوقار بڑھاپے کے 13گُر

ڈاکٹر سنتھی اکوب

باوقار بڑھاپے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ 20، 30 برس کے نظر آنے لگیں۔ اس سے مراد ہے کہ آپ اپنی زندگی بہترین انداز سے جئیں اور آپ کی جسمانی اور ذہنی صحت اتنی اچھی ہو تاکہ زندگی کا لطف اٹھا سکیں۔ اس مقصد کے لیے مندرجہ ذیل طریقوں کو اپنایا جا سکتا ہے۔ جِلد کی دیکھ بھال: جِلد آپ کے جسم کا سب سے بڑا عضو ہے۔ اگر آپ اس کا خیال رکھیں گے تو یہ بیرونی عناصر سے آپ کو محفوظ رکھے گی، آپ کے جسمانی درجہ حرارت میں باقاعدگی لائے گی اور آپ کو اچھا احساس فراہم کرے گی۔ اس کی ظاہری صورت اور افعال کو بہترین حالت میں رکھنے کے لیے؛ سَن سکرین لگائیں اور ایسا لباس پہنیں جو جسم کی حفاظت کرے۔ ہر سال جِلدی سرطان کی سکریننگ کرائیں۔ اینٹی ایجنگ سکن کیئر کے لیے محفوظ پراڈکٹس استعمال کریں۔ جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں۔ ورزش میں باقاعدگی: باقاعدہ ورزش بیماریوں کے خطرے کو خاصا کم کر دیتی ہے۔ ان میں امراضِ قلب اور سرطان شامل ہیں۔ اس سے آپ زیادہ عرصہ متحرک رہنے کے قابل ہوتے ہیں۔ ورزش سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے اور نیند اچھی آتی ہے۔ جِلد اور ہڈیوں کی صحت اچھی رہتی ہے اور موڈ ٹھیک ہوتا ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ہفتے میں اڑھائی سے پانچ گھنٹے معتدل و سخت ورزش کی جائے۔ یا ہر ہفتے سوا سے اڑھائی گھنٹے زیادہ سخت اور ایروبک ورزش کی جائے، یا پھر ورزش کی ان دونوں اقسام کو ملا کر کیا جائے۔ پٹھوں کو مضبوط بنانے والی معتدل یا سخت ورزش ہفتے میں دو یا زیادہ مرتبہ کی جائے۔ ایروبک ورزشوں کی کچھ مثالیں یہ ہیں؛ چہل قدمی، پیراکی، رقص، سائیکلنگ۔ پٹھوں اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے والی ورزشوں میں وہ شامل ہیں جن میں وزن اٹھایا جاتا ہے یا سپرنگ جیسی لچکدار چیزوں کو کھینچا جاتا ہے۔ زیادہ عمر والے افراد کو ایروبک اور پٹھوں کی مضبوطی والی ورزشوں کے علاوہ توازن برقرار رکھنے والی ورزشیں بھی کرنی چاہئیں۔ غذا پر نظر: باوقار بڑھاپے کا راستہ صحت مند غذاؤں سے ہو کر جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق؛ پھل اور سبزیاں کھائیں، چاہے تازہ ہوں، جمی ہوئی یا ڈبہ بند۔ مچھلی اور پھلیوں وغیرہ سے لِین پروٹین حاصل کریں۔ روزانہ تین اونس ہول گرین سیریئل، روٹی، چاول یا پاستا کھائیں۔ تین بار کم چکنائی یا چکنائی سے پاک ڈیری غذا کھائیں مثلاً دودھ، دہی یا پنیر۔ ان میں وٹامن ڈی بھی شامل ہونا چاہیے۔ پراسسڈ غذا مثلاً چینی سے دور رہیں۔ فشارِ خون کو کم سطح پر رکھنے کے لیے نمک کا استعمال کم کریں۔ ذہنی صحت کی اہمیت: خوش اور ذہنی دباؤ سے دور رہنا بڑھاپے اور زندگی کے لیے اچھا ہے۔ اپنے موڈ کو بہتر رکھنے کے لیے دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ بامعنی تعلقات اور مضبوط سماجی رشتے ذہنی اور جسمانی صحت کو بہتر کرتے ہیں اور عمر بڑھاتے ہیں۔ ذہنی دباؤ، فشارِ خون اور تنہائی کو پالتو جانور پال کر بھی کم کیا جا سکتا ہے، نیز موڈ میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ عمر میں اضافے کو مثبت انداز میں لیں۔خوشی کا سبب بننے والی سرگرمیوں میں حصہ لیں۔ قدرتی ماحول میں وقت گزاریں اور نئی ہابیز تلاش کریں۔ سرگرمی: بہت سی تحقیقات نے سست طرزِ زندگی کو دیرینہ امراض اور جلد موت کا سبب بتایا ہے۔ سرگرم رہنے کے لیے چہل قدمی اور پہاڑوں پر چڑھائی کی جا سکتی ہے یا ورزش کی کلاسسز لی جا سکتی ہیں۔ ذہنی دباؤ میں کمی: ذہنی دباؤ کے وسیع تر جسمانی اثرات پڑتے ہیں، اس سے بڑھاپا جلد آتا ہے، جھریاں بڑھ جاتی ہیں اور امراضِ قلب کا خطرہ ہوتا ہے۔ ذہنی دباؤ کم کرنے کے بہت سے مؤثر طریقے ہیں۔ اس کے لیے مراقبہ، سانس کی ورزشیں اور یوگا کیا جا سکتا ہے۔ نیز نیند پوری اور دوستوں سے بات چیت کرنی چاہیے۔ سگریٹ نوشی اور نشہ سے پرہیز: سگریٹ نوشی اور الکحل قبل از وقت بڑھاپے اور بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔ سگریٹ چھوڑنا آسان نہیں لیکن اس کے بہت سے طریقے ماہرین سے پوچھ پر اپنائے جا سکتے ہیں۔ پوری نیند: جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے اچھی نیند اہم ہے۔ اس سے جِلد بھی بہتر ہوتی ہے۔ کتنا سونا چاہیے، اس کا انحصار عمر پر ہے۔ 18 برس سے زائد عمر والوں کو تقریباً سات سے آٹھ گھنٹے رات کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ نیند پوری کرنے سے دل کے امراض اور دورے، موٹاپے اور سوزش کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ ذہنی دباؤ اور یاسیت گھٹتا ہے۔ علاوہ ازیں توجہ بہتر طور پر مرکوز ہوتی ہے۔ نئی ہابیز: نئی اور بامعنی ہابیز یا شوق تلاش کریں۔ اس سے مقصدیت کا احساس پیدا ہوتا ہے اور آپ زندگی بھر مصروف رہتے ہیں۔ شواہد سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ ہابیز، تفریح اور سماجی سرگرمیوں میں مصروف ہوتے ہیں، زیادہ خوش رہتے ہیں، یاسیت میں کم مبتلا ہوتے ہیں اور طویل عمر پاتے ہیں۔ ’’مائنڈ فل نس‘‘ پر عمل درآمد: ’’مائنڈفل نس‘‘ کا مطلب ہے کہ لمحۂ موجود کو تسلیم کرتے اور اس میں رہتے ہوئے توجہ مرکوز کرنا۔ ’’مائنڈفل نس‘‘ کے فوائد تسلیم شدہ ہیں۔ ان میں شامل ہیں؛ فوکس کرنے اور یادداشت میں بہتری، ذہنی دباؤ میں کمی، جذباتی ردِ عمل میں بہتری، تعلقات میں اطمینان، قوتِ مدافعت میں اضافہ۔ ’’مائنڈفل نس‘‘ کے لیے مراقبہ، یوگا، تائی جی اور کلرنگ کیے جا سکتے ہیں۔ پانی کی ضرورت: جسمانی ضرورت کے مطابق پانی پینے سے آپ متحرک رہتے ہیں اور آپ کی توانائی کی سطح بہتر رہتی ہے۔ اس سے دماغی افعال بھی اچھے رہتے ہیں۔ اس سے جِلد صحت مند ہوتی ہے اور فرد پر بڑھاپے کا اثر زائل ہوتا ہے۔ دہنی صحت کا خیال: اگر آپ دہنی صحت کا خیال نہیں رکھیں گے تو ہو سکتا ہے بڑھاپے میں مسکرانا مشکل ہو جائے، نیز مسوڑھوں میں خرابی ہو سکتی ہے جس سے امراض قلب، دورے اور بیکٹیریل نمونیا کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس لیے ڈینٹسٹ سے باقاعدگی سے رجوع کرنا چاہیے۔ ڈاکٹر کے پاس جانا: ڈاکٹر سے باقاعدگی سے رجوع کرتے رہنے سے صحت کے مسائل کا بروقت پتا چلایا جا سکتا ہے۔

 
Top
Forgot your password?