بنگلہ دیش کیخلاف بھی قومی کرکٹرز کھل کر نہیں کھیلے ،وسیم اکرم

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,822
1,735
1,313
Lahore,Pakistan
بنگلہ دیش کیخلاف بھی قومی کرکٹرز کھل کر نہیں کھیلے ،وسیم اکرم


کسی کوشش کے بغیر سمجھ بیٹھے کہ 316رنز سے کامیابی ممکن نہیں ہے ،سابق کپتان
لندن(رپورٹ:طارق حسین)سابق قومی کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کیخلاف بھی قومی کرکٹرز کھل کر غیر معمولی کرکٹ نہیں کھیل سکے جو کسی کوشش کے بغیر ہی یہ سمجھ بیٹھے کہ 316 رنز سے کامیابی ممکن نہیں ہے ۔ گزشتہ روز لارڈز پر میڈیا سے گفتگو میں وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کیلئے سیمی فائنل میں رسائی ناممکن تھی لیکن تیز کھیل کر ایک کوشش تو کی جا سکتی تھی اور ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ انہوں نے کسی معجزاتی کارکردگی کیلئے اپنا ذہن بنایا ہوا تھا۔انہوں نے بہادری کے عنصر کو ناپید قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اب سنجیدگی سے یہ دیکھنا ہوگا کہ غلطیوں اور خامیوں سے چھٹکارہ کیسے پایا جا سکتا ہے ۔سابق پیسر کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کیلئے گرین شرٹس نے اچھی تیاری نہیں کی جس کی وجہ سے سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوئے ورنہ آسٹریلین ٹیم کو دیکھیں تو وہ ڈیڑھ سے دو سال پہلے سے میگا ایونٹ کی تیاری شروع کردیتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تھنک ٹینک کو علم ہی نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے کیونکہ محمد عامر اور وہاب ریاض تو ورلڈ کپ کے ابتدائی اسکواڈ میں بھی شامل نہیں تھے جن کو بعد میں حتمی پندرہ میں جگہ دی گئی جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کا ہوم ورک خاصا کمزور تھا جس پر قطعی توجہ نہیں دی گئی۔اپنے وقت کے بہترین سوئنگ بالر کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے ایونٹ میں نامناسب تیاریوں کے ساتھ شرکت کے بعد اس بات کی توقع کرنا کہ ایونٹ میں آگے تک جائیں گے ہرگز حقیقت پسندی نہیں کہی جا سکتی۔


 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

Senior Member
Jul 7, 2019
672
580
93
بنگلہ دیش کیخلاف بھی قومی کرکٹرز کھل کر نہیں کھیلے ،وسیم اکرم


کسی کوشش کے بغیر سمجھ بیٹھے کہ 316رنز سے کامیابی ممکن نہیں ہے ،سابق کپتان
لندن(رپورٹ:طارق حسین)سابق قومی کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کیخلاف بھی قومی کرکٹرز کھل کر غیر معمولی کرکٹ نہیں کھیل سکے جو کسی کوشش کے بغیر ہی یہ سمجھ بیٹھے کہ 316 رنز سے کامیابی ممکن نہیں ہے ۔ گزشتہ روز لارڈز پر میڈیا سے گفتگو میں وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم کیلئے سیمی فائنل میں رسائی ناممکن تھی لیکن تیز کھیل کر ایک کوشش تو کی جا سکتی تھی اور ایسا محسوس ہی نہیں ہوا کہ انہوں نے کسی معجزاتی کارکردگی کیلئے اپنا ذہن بنایا ہوا تھا۔انہوں نے بہادری کے عنصر کو ناپید قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اب سنجیدگی سے یہ دیکھنا ہوگا کہ غلطیوں اور خامیوں سے چھٹکارہ کیسے پایا جا سکتا ہے ۔سابق پیسر کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ کیلئے گرین شرٹس نے اچھی تیاری نہیں کی جس کی وجہ سے سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوئے ورنہ آسٹریلین ٹیم کو دیکھیں تو وہ ڈیڑھ سے دو سال پہلے سے میگا ایونٹ کی تیاری شروع کردیتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تھنک ٹینک کو علم ہی نہیں تھا کہ کیا کرنا ہے کیونکہ محمد عامر اور وہاب ریاض تو ورلڈ کپ کے ابتدائی اسکواڈ میں بھی شامل نہیں تھے جن کو بعد میں حتمی پندرہ میں جگہ دی گئی جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی ٹیم کا ہوم ورک خاصا کمزور تھا جس پر قطعی توجہ نہیں دی گئی۔اپنے وقت کے بہترین سوئنگ بالر کا کہنا تھا کہ اتنے بڑے ایونٹ میں نامناسب تیاریوں کے ساتھ شرکت کے بعد اس بات کی توقع کرنا کہ ایونٹ میں آگے تک جائیں گے ہرگز حقیقت پسندی نہیں کہی جا سکتی۔



Thanks 4 informative and useful sharing
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?