بچوں سے شفقت اور محبت ، تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,515
8,454
1,313
Lahore,Pakistan
بچوں سے شفقت اور محبت ، تحریر : مولانا فضل الرحیم اشرفی
عَنْ عبداللّٰہ بن عمرؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَ لَاکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِیَّتِہِ وَقَالَ علیہ الصلوٰۃ والسلام وَالْمَرْئَ ۃُ رَاَعِیَۃٌ عَلٰی بَیْتِ زَوْجِھَا وَوَلِدِہِ وَھِیَ مَسْئُوْلَۃٌ عَنْھُمْ۔ (متفق علیہ)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ’’ آگاہ رہو تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے یعنی جس کا نگہبان اور ذمہ دار ہے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘ اور آپ ﷺنے فرمایا کہ’’ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولادکی نگہبان ہے اور اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔ (اس حدیث کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے)۔انسانی معاشرے کی فطری ترتیب ہی کچھ اس طرح ہے کہ ہر انسان جس سطح پر بھی ہو اس پر چند انسانوں کو اختیار ہوتا ہے اور خود اس انسان کو بھی چند اور انسانوں پر اختیار ہوتا ہے۔ سربراہِ مملکت سے لے کر ایک چھوٹے سے گھرانے کے فرد تک یہی ترتیب موجود رہتی ہے۔ اسی طرح ہر انسان کو چند افراد پر اختیار حاصل رہتا ہے۔ اب یہ انسان اپنے اختیارات کو ان لوگوں پر استعمال کرتا ہے۔بحیثیت انسان ہونے کے اس کے اندر فطری جذبات اور خواہشات بھی ہیں۔ ان جذبات اور خواہشات کو پورا کرنے کے لیے بھی انسان یہ اختیارات استعمال کرتا ہے۔لہٰذا اس اختیار کو انسان صحیح بھی استعمال کرتا ہے اور غلط بھی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا کہ خبردار تم میں سے ہر ایک راعی اور نگہبان محافظ اور حاکم ہے اور جس پر حاکم ہے جس کی نگہبانی اس کے ذمہ ہے اس کے بارے میں اس شخص سے اللہ ربّ العزت کے حضور میں پوچھا جائے گا کہ ہم نے تمہیں چند انسانوں پر اختیار دیا تھا، تم نے اس اختیار کو کیسے اور کس طرح استعمال کیا۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی راعیۃ ہے نگہبان‘ محافظ اور ذمہ دار ہے اور اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس حدیث مبارکہ میں عورت کو اپنے خاوند کے گھر اور اس کے بچوں کی راعیۃ قرار دیا ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ حاکم ہے یا محافظ ہے۔بلکہ بڑا خوبصورت اور بلیغ عہدہ عطا فرمایا کہ وہ راعیۃ ہے راعی کے معنی ہیں چرواہا۔ یعنی جس طرح چرواہا اپنے جانوروں کے ریوڑ کی حفاظت کرتا ہے۔ ان کی دیکھ بھال ایک مخصوص تعلق کے ساتھ کرتا ہے۔ ان کے چارہ پانی کا خیال رکھتا ہے۔ اگر بکری بیمار ہو جائے اس کا علاج معالجہ کرتا ہے لیکن اگر کوئی بکری ریوڑ سے ہٹ کر چلنے لگے اسے ہانک کر واپس کرتا ہے۔ اگر ہانکنے سے واپس نہ آئے تو اس پر سختی کرتا ہے تاکہ وہ ریوڑ سے بچھڑ کر جدا نہ ہو جائے۔بالکل یہی فرائض عورت کے لیے اپنے شوہر کے گھر اور اس کے بچوں کے بارے میں ہیں کیونکہ حکمرانی کرنا آسان کام نہیں ہے اسی طرح محافظ بن جانا مشکل کام نہیں۔ لیکن چرواہے کی طرح اپنے گھر اور اپنے بچوں کی نگہبانی اور پرورش کرنا اعلیٰ ترین ذمہ داری ہے۔ ہر معاشرہ میں عورت اپنے گھر اور اپنے بچوں کی پرورش اور نگہبانی کرتی رہی ہے اور یہ نگہبانی اکثر معاشرتی طور پر اسے کرنی پڑتی ہے۔ لیکن اگر ایک عورت اپنے گھر اور بچوں کا خیال اس لیے رکھتی ہے کہ خدا عزوجل نے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے۔ تو یہی نگہبانی اور پرورش عبادت بن جائے گی۔ اس نگہبانی کی ابتدا بچے کی پیدائش کے تھوڑی دیر بعد شروع ہو جاتی ہے۔ جب بچہ اس دنیا میں آئے۔ اس کے کانوں میں اذان اور اقامت کے ذریعے اللہ کا پیغام ڈالا جائے اگر استطاعت ہو تو شکرانے کے طور پر اس کی طرف سے ایک جانور بطور عقیقہ کے ذبح کرے جب بچہ بولنے لگے‘ دنیا کی دوسری خرافات سکھانے کے بجائے کلمہ طیبہ سکھائے۔ اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’افتحوا علی صبیانکم اول کلمۃ بلا الہ الا اللہ یعنی اپنے بچے کو سب سے پہلے لا الہ الا اللہ سکھائو‘‘۔ جب باتیں سمجھنے کے قابل ہو جائے تو اچھی تربیت کرے۔ اس لیے کہ آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ’’ کسی باپ نے اپنی اولاد کو اچھی تربیت سے بہتر عطیہ اور تحفہ نہیں دیا۔ پھر آپ ﷺنے فرمایا کہ بچہ 7 برس کا ہو جائے تو نماز کی تاکید کرو اور جب 10 سال کا ہو جائے تو نماز میں کوتاہی کرنے پر سزا دو اور پاکیزہ تعلیم دو جب بالغ ہو جائے اور شادی کی عمر کو پہنچ جائے تو اس کی شادی کردو۔بچوں کی تربیت والدین کا فریضہ ہے اگر آج ان کی دینی تربیت کو نظر انداز کر دیا گیا تو خدا کے ہاں جواب دہ ہونا پڑے گا۔بچوں کی پرورش کے بارے میں شفقت پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ یہ واقعی بہت اہم ہے لیکن شفقت کا مطلب یہ ہے اگر بچہ آپ کا کام کرے تو اس کی تعریف کی جائے اس کی حوصلہ افزائی کی جائے لیکن اگر بچہ غلط کام کرے غلط ماحول کو اپنانے کی کوشش کرے تو اب مناسب طریقے سے سختی کرنا شفقت میں شمار ہوگا۔اگر بچہ غلط کاموں اور غلط ماحول کی دلدل میں دھنس رہا ہو اور والدین شفقت سے کام لے رہے ہوں تو یاد رکھیے گا یہ بچے پر شفقت نہیں بچے پر ظلم ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’ جہاں کہیں اللہ کے بندے اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو لازمی طور پر فرشتے ہر طرف سے ان کے گرد جمع ہو جاتے ہیں اور ان کو گھیر لیتے ہیں اور رحمت الٰہی ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر سکینہ کی کیفیت نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے معتبر ملائکہ میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔‘‘دل کا سکون کون نہیں چاہتا ہر دور میں ہر انسان کی یہ چاہت رہی ہے کہ مجھے دل کا چین اور اطمینان مل جائے۔اس اطمینان کو انسان نے جگہ جگہ تلاش کیا۔ کسی نے مختلف رسالوں اور کتابوں کے پڑھنے میں سکون پایا، کسی نے سیرو تفریح کے مقامات میں جا کر اطمینان پایا، کسی نے باغات میں جا کر درختوں اور پودوں کے درمیان گھوم پھر کر اور پھولوں کے رنگ و بو میں سکون تلاش کیا، کسی نے کھیل کود اور جدید تفریحی آلات کے ذریعہ سکون و اطمینان پانے کی کوشش کی۔لیکن انسان نے خود سے جتنے راستے سکون حاصل کرنے کے لیے تلاش کیے ان میں کسی طریقے میں وقت برباد ہوا، کہیں پیسہ ضائع ہوا، کہیں ایمان و اخلاق کی خرابی آگئی اور کبھی صحت کو بھی کھو دیا۔ یہ درست ہے کہ ان چیزوں میں بھی وقتی طور پر سکون ملتا ہے۔ لیکن خالق کائنات جس نے ہمارے جسم کی مشین کو بنایا اس ذات حکیم و خبیر نے ہمیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت مبارکہ کے ذریعہ سکون حاصل کرنے کی بہترین تعلیم عطا فرمائی:سورۂ رعد کی ۲۸ ویں آیت میں فرمایا، ترجمہ :’’آگا ہ رہو، اللہ کی یاد سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔‘‘اطمینان قلب ایک بہت بڑی نعمت ہے اسے دولت سے نہیں خریدا جا سکتا۔ مادیت پرستی کی دوڑ میں انسان سکون کے لیے بے قرار ہے۔ اس نعمت کو حاصل کرنے کا آسان طریقہ اللہ سے تعلق قائم کرنا اور اس کی یاد دل میں بسا لینا ہے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب کبھی پریشانی آتی تو آپ ﷺنماز میں مشغول ہو جاتے۔ تیز آندھی آتی تو آپ ﷺنماز کی طرف متوجہ ہو جاتے۔ بارش نہ آتی، خشک سالی ہو جاتی تو صلوٰۃ الاستسقاء (بارش کے وقت کی نماز) ادا فرماتے سورج گرہن یا چاند گرہن لگتا تو نماز کسوف اور نماز خسوف ادا فرماتے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی قسم کی تنگی اور پریشانی میں نماز ادا کرنے کاحکم فرمایا کرتے اور یہ آیت تلاوت فرماتے ،ترجمہ:’’یعنی آپ اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کرتے رہیے اور اس کی پابندی فرماتے رہیے ہم آپ سے رزق کا مطالبہ کرنا نہیں چاہتے‘‘۔ رزق دینے والا اللہ ہے اور اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ایک اور حدیث نبوی ﷺ میں ارشاد ہے کہ ترجمہ،’’جو شخص قرآن حکیم پڑھے اور اس پر عمل کرے تو قیامت کے دن اس پڑھنے والے کے والدین کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اس آفتاب کی روشنی سے بھی زیادہ اچھی ہو گی جو دنیاوی گھروں میں ہے۔ جب والدین کے لیے اتنا بڑا اجرو ثواب ہے تو پھر خود پڑھنے والے کو کتنا بڑا انعام ملے گا۔‘‘کلام الٰہی (قرآن مجید) سب کلاموں سے افضل ہے لہٰذا اس کا پڑھنا اور اس کی تلاوت کرنا بھی سب سے زیادہ افضل ہے یہاں تک کہ اس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیوں کا اجر عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا گیا۔ ترمذی میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ارشاد نبویؐ منقول ہے فرمایا: ’’جو شخص قرآن حکیم کا ایک حرف پڑھے اس کے لیے اس حرف کے بدلہ میں ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا اجر دس نیکیوں کے برابر ملتا ہے۔‘‘ پھر آپؐ نے فرمایا: ’’میں یہ نہیں کہتا کہ الٓمٓ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، لام دوسرا حرف اور میم تیسرا حرف ہے۔تلاوت قرآن حکیم کا اجر و ثواب خود انسان کو تو ملتا ہی ہے لیکن تلاوت کرنے والے کے ماں باپ کو بھی ہوتا ہے جیسا کہ درسِ ہذا کے شروع میں بیان ہوا۔ عموماً کتاب اللہ کی تلاوت کرنا ہر شخص کو خود بخود نہیں آتا بلکہ اس میں ماں باپ کا اہم کردار ہوتا ہے جو بچہ کو مکتب‘ مدرسہ یا مسجد میں بھجواتے ہیں جہاں وہ کتاب اللہ کی تلاوت سیکھتا ہے یا نجی طور پر تلاوت سیکھنے کے لیے استاد اور معلم کا انتظام کرتے ہیں۔ والدین کی اس کوشش اور توجہ کا عظیم صلہ جمع الفوائد کی اس روایت میں مذکور ہے جو حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ’’جو شخص اپنے بچہ کو ناظرہ قرآن مجید سکھا دے اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور جو شخص اپنے بچے کو قرآن حکیم حفظ کرائے اُسے قیامت میں چودھویں رات کے چاند کے مشابہہ اٹھایا جائے گا اور اس کے بیٹے سے کہا جائے گا کہ پڑھنا شروع کر جب بیٹا ایک آیت پڑھے گا تو باپ کا ایک درجہ بلند کر دیا جائے گا حتیٰ کہ اسی طرح قرآن حکیم مکمل ہو جائے گا۔یہ فضیلت ان والدین کے لیے تھی جو بچہ کو تلاوت قرآن شریف کی تعلیم دیتے ہیں لیکن اگر کسی کو تلاوتِ قرآن مجید نہ آتی ہو تو اس میں بھی عموماً والدین کا بڑا دخل ہوتا ہے۔ ایسے والدین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔{ اَلاَ کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُوْلٌ عَنْ رعِیَّتِہٖ}’’آگاہ رہو ہر شخص سے اس کے ماتحتوں اور اس کی نگرانی میں دیئے ہوئے لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا اور تم میں سے ہر ایک نگران ہے۔‘‘حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سیرت طیبہ کے ذریعہ یہ تعلیم دی کہ انسان اللہ سے غافل ہو کر دنیا کی دولت میں کبھی اطمینان و سکون نہیں پا سکتا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ’’ اگر آدمی کے پاس دو وادیاں مال کی بھری ہوئی ہوں تو وہ چاہے گا کہ میرے پاس تیسری وادی بھی مال سے بھری ہوئی ہو اور ابن آدمؑ کا پیٹ تو صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے‘‘۔ اور پھر فرمایا کہ’’ جو لوگ اپنا رخ اللہ کی طرف کر لیں تو ان پر اللہ کی خاص عنایت ہوتی ہے اور ان کو اللہ اس دنیا میں اطمینان قلب عطا فرما دیتا ہے پھر اس دنیا میں ان کی زندگی بڑے مزے کی اور بڑے سکون سے گزرتی ہے‘‘۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اپنی سیرت مبارکہ سے یہ سمجھایا کہ دل کا چین اور اطمینان قناعت سے حاصل ہوتا ہے۔ حرص اور لالچ سے کبھی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زندگی کے ہر مرحلہ میں یہ تعلیم دی کہ دنیا کے سازوسامان اور اس کی دولت میں سکون تلاش کرنا بے فائدہ ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ فرماتے ہیں ،ترجمہ :’’جس کی نیت اور اس کا مقصد اپنی تمام تر کوشش سے طلب آخرت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو دل کی بے نیازی یعنی مخلوق کا محتاج نہ ہونا اور دل کا اطمینان نصیب فرما دیتے ہیں۔‘‘جن چیزوں سے دل کا سکون رخصت ہو جاتا ہے ان میں ایک اہم چیز حسد ہے۔ یعنی دوسرے کے پاس نعمت دیکھ کر دل میں جلن محسوس کرنا دوسرے کی خوش حالی دیکھ کر دل میں کڑھنا اور یہ چاہنا کہ دوسرے انسان کو یہ چیز کیوں ملی۔ معاشرہ میں رہتے ہوئے آپس میں حسد کرنے سے ذہنی سکون ختم ہو جاتا ہے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی سیرت پاک کے ذریعہ امت کو تعلیم دی کہ اگر دل کا سکون اور اطمینان چاہیے تو مثبت خیالات اور پاکیزہ سوچ کو اپنائیں۔ آپ ؐنے ایسا معاشرہ ترتیب دیا جس میں خود کھا کر اتنا اطمینان نہیں ملتا جتنا دوسرے کو کھلاکر سکون نصیب ہوتا ہے۔ اپنی مرضی اپنی چاہت پوری کرنے کے بجائے ایثار کی تعلیم دی اور یہ سکھایا کہ نفسانفسی کے عالم میں سکون نصیب نہیں ہوتا بلکہ احسان کر کے، خدمت کر کے، آپس کی ہمدردی اور غمخواری کے ذریعہ دل کا سکون نصیب ہوتا ہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیرت طیبہ کے ذریعہ اس بات کی بھی تعلیم دی کہ دوسروں کے حقوق کو پورا کر کے سکون ملتا ہے۔ اپنے فرائض کو اچھے طریقے سے ادا کر کے اپنے ضمیر کو مطمئن رکھا جائے تو یہی سکون کا ذریعہ ہے۔
 
Top
Forgot your password?