بھارتی معیشت لڑکھڑا گئی،ذمہ دار مودی ڈاکٹرائن

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
بھارتی معیشت لڑکھڑا گئی،ذمہ دار مودی ڈاکٹرائن

مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی صورتحال سے بھارتی معیشت پر بھی برے اثرات پڑے ہیں ، مودی سرکار کے پالیسی تھنک ٹینک نیشنل انسٹی ٹیوشن فار ٹرانسفارمنگ انڈیا کے وائس چیئرمین راجیو کمار نے تسلیم کیا ہے کہ بھارت کو اس وقت جس اقتصادی سست روی کا سامنا ہے اس کی مثال پچھلے 70 سال میں نہیں ملتی۔ پورا مالیاتی شعبہ خراب صورتحال سے دو چار ہے اور کوئی کسی پر اعتماد نہیں کر رہا۔دوسری جانب امریکہ کے آزاد مالیاتی ادارے جیفریز کے ایکویٹی اسٹریٹجیز شعبے کے گلوبل ہیڈ اور معروف تجزیہ کار کرس ووڈ نے بھی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر بھارت کی اقتصادی صورتحال مزید خراب ہونے کی پیشگوئی کر دی۔

مزید برآں مقبوضہ کشمیر میں انسانی المیے اور ظلم کو لیکر پورے بھارت میں مظاہرے زور پکڑ چکے ہیں ،سیکولر اور جمہوریت پسند عوام انتہا پسند بی جے پی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور کھل کر کہہ رہے ہیں کہ مودی بطور ’’ڈیوائیڈر انچیف‘‘ بھارت کو تقسیم کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔۔۔ مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کے دروازے بھارتی اپوزیشن کیلئے بھی بند کررکھے ہیں، راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن وفد کو سرینگر داخل ہونے سے روک دیا ۔۔۔کیا دنیا نہیں دیکھ رہی کہ اپوزیشن رہنمائوں کیساتھ سرینگر ایئر پورٹ پر کیا ہوا ۔۔۔۔۔؟ راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنمائوں کی پولیس اور انتظامیہ سے تلخ کلامی بھی ہوئی، راہول گاندھی نے سری نگر ایئرپورٹ سے واپس بھیجنے جانے کے بعد کہا کہ ہمارے ساتھ آئے ہوئے پریس کے اراکین سے بدتمیزی اور تشدد کیا گیا یہ واضح ہو گیا کہ جموں اور کشمیر میں صورتحال ٹھیک نہیں ہے۔ دہلی ایئرپورٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وفد وادی کے لوگوں کے تاثرات جاننے کا خواہش مند تھا لیکن ہمیں ایئر پورٹ سے آگے جانے نہیں دیا گیا۔

کانگریس نے مودی سرکار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنے ٹوئٹر اکائونٹ پرکہا’’ مودی سرکار کیا چھپانا چاہ رہی ہے؟ اگر مقبوضہ کشمیر میں صورتحال نارمل ہے، جیسا کہ حکومت کہتی ہے تو پھر راہول کی قیادت میں وفد کو سری نگر ایئرپورٹ سے واپس کیوں بھیج دیا گیا ۔؟‘‘ کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے واشگاف الفاظ میںکہا ’’سری نگر میں صورتحال خوفناک ہے، پرواز میں موجود مسافروں سے ہم نے تازہ کہانیاں سنیں جس سے پتھر کے بھی آنسو نکل آئیں۔ تمام جماعتیں اور رہنما ذمہ دار ہیں، ہم وہاں قانون توڑنے کیلئے نہیں بلکہ مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال کا جائزہ لینے گئے، یہ پچھلے کئی روز سے بند ہے، اس علاقے سے کوئی خبر نہیں آرہی سوال یہ ہے کہ اگر وہاں سب کچھ معمول کے مطابق ہے تو قومی رہنمائوں کو وہاں جانے کی اجازت کیوں نہیں ہے؟ ‘‘۔۔۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے رہنما سیتارام یچوری نے کہا’’یہ کہنا بے بنیاد ہے کہ وفد کو کشمیر میں امن عامہ کی صورتحال خراب کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا ہمیں سری نگر ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا تھا حالانکہ ہمیں جانے کی اجازت دینا چاہیے تھی کیونکہ ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ہم الزامات کا جواب دیں گے۔‘‘

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق وفد نے بڈگام کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے نام مشترکہ خط میں لکھا تھاکہ ’’ہم ذمہ دار سیاسی رہنما، منتخب نمائندے ہیں اور ہمارے ارادے مکمل طور پر پرامن اور انسانی بنیاد پر ہیں۔ ہم مقبوضہ جموں اور کشمیر اور لداخ کے عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور حالات کی معمول کی جانب واپسی کے عمل کو تیز کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔‘‘نئی دہلی سے راہول گاندھی کے ہمراہ غلام نبی آزاد سمیت 11 اتحادی رہنما مقبوضہ کشمیر پہنچے تھے ،کانگریس رہنما کے ہمراہ دیگر جماعتوں میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی، ترنمول کانگریس، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (ایم)، درویندا منیترا کازہگم (ڈی ایم کے ) اور راشتریہ جنتا دل کے رہنما شامل تھے۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیہ پال یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ کشمیر کی صورتحال بہت بہتر ہے راہول گاندھی جب چاہیں دورہ کر سکتے ہیں انہیں ہیلی کاپٹر بھی فراہم کیا جائیگا لیکن وقت نے ثابت کر دکھایا کہ مودی ڈاکٹرائن کے دعوے کچھ اور اور حقائق کچھ اور ہیںمثال کے طور پر غلام نبی آزاد کو پہلے ہی 2بار سری نگر اور جموں کے ہوائی اڈوں سے واپس نئی دہلی بھیجا جا چکا ہے اسکے علاوہ سیتا رام یچوری کو بھی ایک بار سری نگر کے ہوائی اڈے سے واپس بھیجا گیا تھا ۔خود بھارتی اخبارات رپورٹ کر رہے ہیں کہ ’’جموں و کشمیر میں بی جے پی کو چھوڑ کر باقی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما گھروں میں نظر بند ہیں انہیں کہیں جانے کی اجازت نہیں کسی کو ملنے نہیں دیا جاتا ۔ مقبوضہ کشمیر مکمل طور پر بند ہے سکول ، بینک ،سرکاری دفاتر،تجارتی مراکز بند اور سڑکوں پر سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب ہے مودی حکومت کے حالیہ اقدامات اور ریاست کو خصوصی پوزیشن عطا کرنیوالی آئین ہند کی دفعہ 370ہٹانے سے معمول کی زندگی معطل ہے ، ہر طرح کی انٹرنیٹ اور موبائل فون خدمات بدستور منقطع ہیں ۔ سخت ترین کرفیو نافذ اور جگہ جگہ خاردار تاریں بچھی ہیں لوگوں کو گھروں سے باہر نہیں نکلنے دیا جا رہا ۔‘‘ کیا بھارتی میڈیا کایہ اعتراف اقوام عالم ، قانون نافذ کرنیوالے اور انسانی حقوق کے اداروں کو نظر نہیں آتا ۔۔۔؟
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?