بہتر ہاضمے کے لیے 8 اقسام کی چائے

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
بہتر ہاضمے کے لیے 8 اقسام کی چائے
115593

الزبتھ سٹریٹ

نظامِ انہضام کے مسائل اور دیگر امراض سے نپٹنے کے لیے انسان ہزاروں برسوں سے چائے پی رہا ہے۔ جڑی بوٹیوں سے تیار ہونے والی کئی اقسام کی چائے متلی، قبض، بدہضمی وغیرہ میں فائدہ مند ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے ان میں سے بیشتر کو بنانا بھی آسان ہے۔ نظامِ انہضام میں بہتری لانے والی آٹھ اقسام کی چائے کو یہاں بیان کیا جا رہا ہے۔ پودینہ پودینہ اپنے ذائقے اور خرابیٔ معدہ میں راحت پہنچانے کیلئے مشہور ہے۔ جانوروں اور انسانوں پر ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پودینے میں پایا جانے والا مرکب مینتھول ہاضمے کے مسائل میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ بعض اوقات پودینے کا تیل خراش آور معائی علامیہ (اریٹیبل باؤل سنڈروم) میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ ایک سوزشی حالت ہے جو بڑی آنت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اس سے معدے میں درد، اپھارا، گیس اور دوسری غیرخوشگوار علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔ پودینے کی چائے کے بارے میں بھی یہی خیال کیا جاتا ہے کہ اس کا اثر پودینے کے تیل جیسا ہوتا ہے۔ پودینے کی چائے بنانے کیلئے سات سے 10 پودینے کے پتے ایک کپ (250 ملی گرام) میں 10 منٹ کے لیے ابالیں اور چھان لیں۔ ادرک ادرک دنیا بھر میں مقبول مسالہ ہے۔ ادرک میں پائے جانے والے مرکبات جنہیں جنجرولز اور شوگولز کہا جاتا ہے، متلی، اکڑن، اپھارا، گیس اور بدہضمی میں مدد گار ہو سکتے ہیں۔ ایک وسیع جائزے سے یہ بات سامنے آئی کہ ڈیڑھ گرام ادرک روزانہ کھانے سے کیموتھراپی، سفر اور حمل کے دوران متلی اور قے کی شکایت دور ہوتی ہے۔ ہاضمے کے مسائل سے دوچار11 مریضوں پر ہونے والی ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ ادرک کا 1.2 گرام سپلی منٹ لینے سے معدہ جلد خالی ہوتا ہے۔ ادرک اور اس کی چائے کے فوائد کو مماثل سمجھا جاتا ہے۔ ادرک کی چائے بنانے کے لیے دو کھانے کے چمچ (28 گرام) ادرک کے ٹکڑوں کو دو کپ (500 ملی گرام) پانی میں 10 سے 20 منٹ تک ابالیں۔ اس کے بعد چھان کر پی لیں۔ جڑ زانطانیہ زانطانیہ (Gentian ) کا پودا دنیا بھر میں ہوتا ہے۔ بھوک اور معدے کے امراض کے لیے اس پودے کی مختلف قسموں کی جڑوں کو صدیوں سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کی جڑ کے اثرات کا باعث اریڈائڈز کہلانے والے کڑوے مرکبات کو سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہاضمے کے خامروں اور تیزابوں کی پیداوار بڑھاتے ہیں۔ 38 صحت مند بالغوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کی جڑ کو پانی میں ملا کر پینے سے نظام انہضام میں خون کی روانی بڑھ جاتی ہے جس سے اس میں بہتری آنے کا امکان ہوتا ہے۔ اس پودے کی خشک جڑ سے چائے بنانے کے لیے اس کا نصف چائے کا چمچ (دو گرام) ایک کپ پانی میں ڈالیں اور پانچ منٹ تک ابالیں۔ اسے کھانا کھانے سے قبل پئیں تاکہ ہاضمہ بہتر ہو۔ سونف سونف کا ذائقہ ملٹھی سے مماثل ہوتا ہے۔ اسے خام حالت میں کھایا جا سکتا ہے اور کھانا پکاتے ہوئے اس میں ڈالا بھی جا سکتا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ معدے کے السر سے بچاؤ میں معاون ہے۔ اس کی یہ صلاحیت اس میں پائے جانے والے اینٹی اوکسیڈنٹ مرکبات کی وجہ سے ہے جو السر کی نمو کے دوران ہونے والے نقصان کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ قبض دور کرتی ہے اور نظام انہضام میں خوراک کے گزرنے کو آسان بناتی ہے۔ البتہ یہ امر پوری طرح نہیں سمجھا جا سکا کہ سونف میں یہ استعداد کیوں ہے۔ قبض میں مبتلا 86 بوڑھے افراد پر ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ جنہوں نے 28 دن مسلسل سونف کی چائے پی، ان کے نظام انہضام میں خاصی بہتری آئی۔ سونف کی چائے بنانے کے لیے ایک کپ ابلتے ہوئے پانی میں ایک چائے کا چمچ (چارگرام) سونف ڈالیں۔ پانچ سے 10منٹ بعد اسے چھان کر پی لیں۔ جڑ انجلیکا انجلیکا (Angelica ) دنیا بھر میں پایا جانے والا ایک پھول دار پودا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی تحقیق کے مطابق انجلیکا کی جڑ میں پایا جانے والا پولی سیکارائیڈ نظام انہضام کے راستے میں صحت مند خلیوں اور خون کی وریدوں کی تعداد بڑھا کر معدے کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ انسانوں کی آنتوں کے خلیوں پر ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق انجلیکا کی جڑ آنتوں کے تیزابوں کے اخراج کو تیز کرتی ہے۔ اس لیے یہ قبض میں فائدہ مند رہتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی چائے بھی انہیں فوائد کی حامل ہو گی۔ انجلیکا کی جڑ کی چائے بنانے کے لیے ایک کھانے کا چمچ (14گرام) خشک یا تازہ جڑ کو ایک کپ ابلتے پانی میں ڈالیں۔ اسے پانچ سے 10 منٹ تک ابلتا رہنے دیں۔ پھر چھان کر پی لیں۔ ککروندا ککروندا (Dandelion) کے بیج زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور اسے دنیا بھر میں اگایا جاتا ہے۔ جانوروں پر ہونے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس کے عرق میں پائے جانے والے مرکبات انہضام کو بہتر بناتے ہیں۔ اس سے خوراک کے معدے سے چھوٹی آنت میں جانے کی راہ بھی ہموار ہوتی ہے۔ چوہوں پر ہونے والی ایک تحقیق سے معلوم ہوا کہ اس کے عرق سے السر سے تحفظ ملتا ہے۔ اس کی چائے بنانے کے لیے ککروندا کے دو کپ پھولوں کو چار کپ پانی میں ایک ساس پین میں ملائیں۔ اس ملغوبے کو ابلنے کے لیے رکھ دیں اور پانچ سے 10 منٹ بعد اسے چھان لیں۔ سنا سنا(Senna) ایک جڑی بوٹی ہے جو ایک پھول دار پودے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس میں ایک کیمیکل ہوتا ہے جو سنوسائیڈز کہلاتا ہے، یہ بڑی آنت میں پٹھوں کی سختی دور کرتا ہے اور خوراک کے گزرنے کو آسان بناتا ہے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ملین (laxative) ہے اور بچوں اور بڑوں دونوں کو قبض میں راحت دیتا ہے۔ اسی لیے سنا کی چائے کو بھی مؤثر خیال کیا جاتا ہے۔ آپ سنا کی چائے بنانے کے لیے ایک چائے کا چمچ (چار گرام) خشک سنا کے پتے ایک کپ ابلتے پانی میں پانچ سے 10 منٹ ڈالے رکھیں۔ پھر چھان کر نکالیں اور پی لیں۔ سیاہ چائے سیاہ چائے کامیلیا سیننسس نامی پودے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس میں دوسرے پودے بھی شامل کیے جاتے ہیں جیسا کہ انگلش بریک فاسٹ اور ارل گرے۔ یہ چائے بہت سے صحت مند مرکبات پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں تھیروبیجن شامل ہوتا ہے جو ہاضمہ بہتر کرتا ہے۔ تھیفلاون اینٹی اوکسیڈنٹ کا کام کرتا ہے اور معدے کو السر سے بچاتا ہے۔تاہم نظام انہضام میں بہتری اور معدے میں السر سے بچاؤ کے سلسلے میں زیادہ تر تجربات جانوروں پر کیے گئے ہیں اور مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ سیاہ چائے بنانے کے لیے ایک کپ ابلتے پانی میں چائے کا ٹی بیگ پانچ سے 10 منٹ تک رکھیں یا پتی ڈال کر کچھ دیر ابالیں اور چھان کر پی لیں۔ احتیاط اگرچہ جڑی بوٹیوں سے بننے والی چائے صحت مند افراد کے لیے عام طور پر محفوظ سمجھی جاتی ہے لیکن اپنی روزمرہ زندگی میں ایک نئی چائے کو شامل کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے۔ ایسی بعض اقسام کی چائے کے بچوں، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین پر اثرات کے بارے میں معلومات زیادہ نہیں۔ بعض جڑی بوٹیاں لی جانے والی ادویات پر اثر انداز ہو کر ناخوشگوار اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ زیادہ پینے کی صورت میں ان میں اسہال، متلی یا قے شامل ہیں۔ اگر آپ نظام انہضام میں بہتری کے لیے چائے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اسے تھوڑی مقدار میں پی کر دیکھیں کہ آپ کیسا محسوس کرتے ہیں اس کے بعدا س میں اضافہ کریں۔ اگر کوئی مسئلہ ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?