بیلز کی تاریخ اور بناوٹ

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
بیلز کی تاریخ اور بناوٹ

ایڈورڈ دوئم نے1301 میں کرکٹ ایجاد کی ۔ پہلے صرف دو سٹمپس استعمال کی جاتی تھیں جن پرایک بیل ہوتی تھی پھر تاریخ میں وہ یادگار دن بھی آیا جس نے دنیائے کرکٹ میں مڈل سٹمپ متعارف کروادی اور وہ دن تھا ’’23مئی 1775‘‘جب بائولر لمپی سٹیونز نے تین گیندیں کرائیں اور تینوں دونوں سٹمپس کے درمیان سے گزر گئیں لیکن بیٹسمین کو آئوٹ نہیں دیا گیا جس پر بہت اعتراض ہوا کہ آئوٹ ہونا چاہیے تھا ۔ اس کے بعد قانون بدلنا پڑا اور تیسری وکٹ یعنی مڈل سٹمپ متعارف کروائی گئی جس کے بعد ایک بیل کی جگہ لکڑی کی دو بیلز نے لے لی ۔لکڑی کی بیلز کئی سال تک چلتی رہیں ۔ پھر انقلابی تبدیلی آئی اور 2009میںزنگ بیلز یعنی جدید الیکٹریکل بیلز متعارف کروائیں گئیں۔زنگ انٹرنیشنل کا دفتر پورٹ ایڈیلیڈ میں ہے ۔زنگ بیلز اور وکٹیں90 فیصدآسٹریلیا میں بنتی ہیں۔ عمومی طور پر وکٹوں کی لمبائی28 انچ ہوتی ہے ۔ قوانین کے مطابق اگر زنگ بیلز سٹمپس سے الگ ہوجاتی ہے لیکن روشن نہیں ہوتی تو آئوٹ نہیں ہوگا۔ روشن ہونے پر ہی آئوٹ ہوگا۔ اسی طرح گیند وکٹ کو لگ جاتی ہے لیکن اگر بیلز نہیں گرتیں یا روشن نہیں ہوتیں تو پھر بھی آئوٹ نہیں ہوگا۔ بیلز کا سٹمپس سے الگ ہونا اور روشن ہونا ضروری ہے ۔بیلز کی بناوٹ کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ اس کے دو حصے ہوتے ہیں موٹا والا حصہ بیرل(barrel)کہلاتا ہے جبکہ باریک والا حصہ سپائیگاٹ(spigot) کہلاتا ہے ۔ سپائیگاٹ والا حصہ سٹمپس پر رکھا جاتا ہے ۔مڈل سٹمپ پر رکھا جانیوالا سپائیگاٹ کا حصہ قدرے چھوٹا ہوتا ہے جبکہ باہر والی سٹمپ پر رکھا جانیوالا بیلز کا سپائیگاٹ کا حصہ قدرے بڑا ہوتاہے ۔ بیلز کے سپائیگاٹ کو سٹمپس کے جس یو(u)شکل والے حصہ کے او پر رکھتے ہیں اسے گرووز(grooves) کہتے ہیں ۔ گرووز ذرا گہرا حصہ ہوتا ہے جو بیلز کو ٹکنے میں مدد فراہم کرتا ہے ۔ ورلڈکپ میں بھی یہی بحث چلی تھی کہ’’ گرووز‘‘ زیادہ گہرے بنائے گئے تھے جس کی وجہ سے وکٹوں کو گیند لگنے کے باوجود بیلز سٹمپس سے الگ نہیں ہوتی تھیں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?