بیکٹیریا سے مقابلہ

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,822
1,735
1,313
Lahore,Pakistan
بیکٹیریا سے مقابلہ
114591





رفعت اقبال

ہماری دنیا دو بڑے حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک حصہ خشکی اور دوسرا پانی۔ ان دونوں حصوں میں چھوٹے بڑے طرح طرح کے جانور پائے جاتے ہیں۔ خشکی کے جانوروں میں شیر سب سے طاقت ور اور خطرناک سمجھا جاتا ہے اور پانی کے جانوروں میں مگر مچھ بھی شیر ہی کی طرح خطرناک خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس دنیا میں بعض بہت چھوٹے چھوٹے جاندار ان سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ ان میں ایک بیکٹیریا ہے۔ بیکٹیریا حد درجہ چھوٹا ہونے کے سبب ہمیں نظر بھی نہیں آتا۔ لیکن بعض اوقات وہ اتنا خطرناک ثابت ہوتا ہے کہ شیر اور مگر مچھ کی طرح آدمی کو جان سے مار دیتا ہے اور بہت جلد مار دیتا ہے۔ دنیا میں کم و بیش ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں بیکٹیریا موجود نہ ہوں۔ برفانی پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر ابلتے ہوئے گرم پانی کے چشموں تک ہر جگہ کسی نہ کسی قسم کے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ سمندر کی گہری تہیں اور فضا میں سرگرداں گرد و غبار کے بگولے بھی ان کی موجودگی سے خالی نہیں ہیں۔ بیکٹیریا حد درجہ چھوٹے ہونے کے سبب ہمیں نظر نہیں آتے لیکن ہم سے بہت ہی قریب ہوتے ہیں، حتیٰ کہ ہمارے جسموں پر موجود رہتے ہیں اور سانس کے ذریعے جسم کے اندر بھی داخل ہوتے رہتے ہیں۔ انہیں جراثیم بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم ہر وقت ان سے خوف زدہ ہی رہیں۔ قدرت نے ہمیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو بیکٹیریا سے محفوظ رکھنے کے لیے کئی طریقے اختیار کر لیے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے جسم میں قدرت نے ایسی طاقت رکھی ہے جو خودبخود بیکٹیریا کے خلاف ہمارا دفاع کرتی رہتی ہے۔ ہمارے اندر دفاع کی جو قوت ہے اسے ہم دو سطحوں پر رکھ سکتے ہیں۔ ایک بیرونی جن کے ذریعہ بیکٹیریا ہمارے جسم میں داخل ہی نہیں ہونے پاتے۔ دوسری اندرونی مدافعتی قوت جس کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہونے والے بیکٹیریا ختم کر دیے جاتے ہیں۔ ہماری جِلد ہمیں ظاہری خوبصورتی دینے کے علاوہ ایک بہت ضروری کام سرانجام دیتی ہے۔ ہماری جِلد کی ساخت کچھ اس قسم کی ہے کہ بیکٹیریا ہمارے جسم کے اندر آسانی سے داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔ جِلد کی طرح جسم کے بعض دوسرے حصے بھی بیکٹیریا کو اندر داخل ہونے سے روکتے ہیں مثلاً آنکھیں جو خدا کی طرف سے ایک بیش بہا عطیہ ہیں، ان کی حفاظت بھی قدرت نے اس طرح کی ہے کہ ایک باریک جھلی جو اس کو باہر سے ڈھکتی ہے، وہ نم رہتی اور ہماری آنکھ کو بیکٹیریا کے اثرات سے بچاتی ہے۔ اگر جِلد پر خراش آ جائے یا زخم ہو جائے تو بیکٹیریا کو جسم میں داخل ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک رکاوٹ آڑے آتی ہے۔ بہتا ہوا خون بیکٹیریا کو فوری طور پر بدن کے اندر داخل نہیں ہونے دیتا۔ اس لیے اگر زخم کو فوری طور پر کسی جراثیم کش دوا سے دھو کر محفوظ کر لیا جائے تو بیکٹیریا کے داخل ہونے کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر بیکٹیریا جسم میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہماری اندرونی قوتِ مدافعت ان کا مقابلہ کرتی ہے۔ ہمارے خون میں سفید خلیے بیکٹیریا کو ہڑپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے ہی بیکٹیریا جسم میں داخل ہوتے ہیں، ہمارا مدافعتی ’’عملہ‘‘ حرکت میں آ جاتا ہے۔ سفید خلیے زیادہ تعداد میں پیدا ہونے لگتے ہیں، خاص طور پر زخم کی جگہ سفید خلیے جمع ہو کر بیکٹیریا کا مقابلہ کرتے ہیں۔ بیکٹیریا بھی اپنے بچاؤ کے لیے زہریلا مادہ بنا لیتا ہے جس سے کچھ خلیے مر جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زخم کی جگہ پر سفید مواد بننے لگتا ہے۔ یہ سفید مواد عام زبان میں پِیپ کہلاتا ہے۔ اس مقام کی جگہ کو ہاتھ لگایا جائے تو درد محسوس ہوتا ہے۔ قدرت نے ہمارے بدن کی ساخت میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ باہر سے داخل ہونے والے تقریباً ہر قسم کے جرثومے کو بدن میں محسوس کر لیا جاتا ہے۔ ان کے خلاف ہمارے خون میں خاص قسم کے کیمیائی اجزا بننے لگتے ہیں جن کو ضدِ جراثیم یا اینٹی باڈیز کہتے ہیں۔ مختلف قسم کے جراثیم جن کو انٹیجن بھی کہا جاتا ہے، کے لیے خاص قسم کی اینٹی باڈیز بنتی ہے جو ان کو یا تو ہلاک کر دیتی ہیں یا ناکارہ بنا دیتی ہیں۔ بعد میں بھی اینٹی باڈی بننے کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور بہت عرصے تک ہم اس بیماری سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس عمل کو امنیت یا امیونٹی کہتے ہیں۔ اب یہ مصنوعی طور پر ادویات سے بھی ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہت سی مہلک بیماریوں مثلاً تپ دق، چیچک، خناق وغیرہ کے حملے بچوں پر نہیں ہوتے۔ ان کے خطرے سے بچے نجات پا گئے ہیں۔ ان باتوں سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہ ہو گا کہ تمام بیکٹیریا نقصان دہ ہوتے ہیں۔ بہت سے بیکٹیریا کسی نہ کسی طور پر فائدہ مند بھی ہوتے ہیں۔ خاص کر وہ بیکٹیریا جو انسانی جسم میں رہتے ہیں، صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ انسانی جسم کو ہضم کرنے کے لیے بیکٹیریا کی مدد درکار ہوتی ہے، جو چھوٹی اور بڑی آنت میں رہتے ہیں، یعنی ان کی موجودگی کے بغیر ہاضمے کا کام مکمل نہیں ہو سکتا۔
 

maria_1

Senior Member
Jul 7, 2019
672
580
93
بیکٹیریا سے مقابلہ
View attachment 114591




رفعت اقبال

ہماری دنیا دو بڑے حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک حصہ خشکی اور دوسرا پانی۔ ان دونوں حصوں میں چھوٹے بڑے طرح طرح کے جانور پائے جاتے ہیں۔ خشکی کے جانوروں میں شیر سب سے طاقت ور اور خطرناک سمجھا جاتا ہے اور پانی کے جانوروں میں مگر مچھ بھی شیر ہی کی طرح خطرناک خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس دنیا میں بعض بہت چھوٹے چھوٹے جاندار ان سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ ان میں ایک بیکٹیریا ہے۔ بیکٹیریا حد درجہ چھوٹا ہونے کے سبب ہمیں نظر بھی نہیں آتا۔ لیکن بعض اوقات وہ اتنا خطرناک ثابت ہوتا ہے کہ شیر اور مگر مچھ کی طرح آدمی کو جان سے مار دیتا ہے اور بہت جلد مار دیتا ہے۔ دنیا میں کم و بیش ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں بیکٹیریا موجود نہ ہوں۔ برفانی پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر ابلتے ہوئے گرم پانی کے چشموں تک ہر جگہ کسی نہ کسی قسم کے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ سمندر کی گہری تہیں اور فضا میں سرگرداں گرد و غبار کے بگولے بھی ان کی موجودگی سے خالی نہیں ہیں۔ بیکٹیریا حد درجہ چھوٹے ہونے کے سبب ہمیں نظر نہیں آتے لیکن ہم سے بہت ہی قریب ہوتے ہیں، حتیٰ کہ ہمارے جسموں پر موجود رہتے ہیں اور سانس کے ذریعے جسم کے اندر بھی داخل ہوتے رہتے ہیں۔ انہیں جراثیم بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم ہر وقت ان سے خوف زدہ ہی رہیں۔ قدرت نے ہمیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو بیکٹیریا سے محفوظ رکھنے کے لیے کئی طریقے اختیار کر لیے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے جسم میں قدرت نے ایسی طاقت رکھی ہے جو خودبخود بیکٹیریا کے خلاف ہمارا دفاع کرتی رہتی ہے۔ ہمارے اندر دفاع کی جو قوت ہے اسے ہم دو سطحوں پر رکھ سکتے ہیں۔ ایک بیرونی جن کے ذریعہ بیکٹیریا ہمارے جسم میں داخل ہی نہیں ہونے پاتے۔ دوسری اندرونی مدافعتی قوت جس کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہونے والے بیکٹیریا ختم کر دیے جاتے ہیں۔ ہماری جِلد ہمیں ظاہری خوبصورتی دینے کے علاوہ ایک بہت ضروری کام سرانجام دیتی ہے۔ ہماری جِلد کی ساخت کچھ اس قسم کی ہے کہ بیکٹیریا ہمارے جسم کے اندر آسانی سے داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔ جِلد کی طرح جسم کے بعض دوسرے حصے بھی بیکٹیریا کو اندر داخل ہونے سے روکتے ہیں مثلاً آنکھیں جو خدا کی طرف سے ایک بیش بہا عطیہ ہیں، ان کی حفاظت بھی قدرت نے اس طرح کی ہے کہ ایک باریک جھلی جو اس کو باہر سے ڈھکتی ہے، وہ نم رہتی اور ہماری آنکھ کو بیکٹیریا کے اثرات سے بچاتی ہے۔ اگر جِلد پر خراش آ جائے یا زخم ہو جائے تو بیکٹیریا کو جسم میں داخل ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک رکاوٹ آڑے آتی ہے۔ بہتا ہوا خون بیکٹیریا کو فوری طور پر بدن کے اندر داخل نہیں ہونے دیتا۔ اس لیے اگر زخم کو فوری طور پر کسی جراثیم کش دوا سے دھو کر محفوظ کر لیا جائے تو بیکٹیریا کے داخل ہونے کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر بیکٹیریا جسم میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہماری اندرونی قوتِ مدافعت ان کا مقابلہ کرتی ہے۔ ہمارے خون میں سفید خلیے بیکٹیریا کو ہڑپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے ہی بیکٹیریا جسم میں داخل ہوتے ہیں، ہمارا مدافعتی ’’عملہ‘‘ حرکت میں آ جاتا ہے۔ سفید خلیے زیادہ تعداد میں پیدا ہونے لگتے ہیں، خاص طور پر زخم کی جگہ سفید خلیے جمع ہو کر بیکٹیریا کا مقابلہ کرتے ہیں۔ بیکٹیریا بھی اپنے بچاؤ کے لیے زہریلا مادہ بنا لیتا ہے جس سے کچھ خلیے مر جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زخم کی جگہ پر سفید مواد بننے لگتا ہے۔ یہ سفید مواد عام زبان میں پِیپ کہلاتا ہے۔ اس مقام کی جگہ کو ہاتھ لگایا جائے تو درد محسوس ہوتا ہے۔ قدرت نے ہمارے بدن کی ساخت میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ باہر سے داخل ہونے والے تقریباً ہر قسم کے جرثومے کو بدن میں محسوس کر لیا جاتا ہے۔ ان کے خلاف ہمارے خون میں خاص قسم کے کیمیائی اجزا بننے لگتے ہیں جن کو ضدِ جراثیم یا اینٹی باڈیز کہتے ہیں۔ مختلف قسم کے جراثیم جن کو انٹیجن بھی کہا جاتا ہے، کے لیے خاص قسم کی اینٹی باڈیز بنتی ہے جو ان کو یا تو ہلاک کر دیتی ہیں یا ناکارہ بنا دیتی ہیں۔ بعد میں بھی اینٹی باڈی بننے کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور بہت عرصے تک ہم اس بیماری سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس عمل کو امنیت یا امیونٹی کہتے ہیں۔ اب یہ مصنوعی طور پر ادویات سے بھی ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہت سی مہلک بیماریوں مثلاً تپ دق، چیچک، خناق وغیرہ کے حملے بچوں پر نہیں ہوتے۔ ان کے خطرے سے بچے نجات پا گئے ہیں۔ ان باتوں سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہ ہو گا کہ تمام بیکٹیریا نقصان دہ ہوتے ہیں۔ بہت سے بیکٹیریا کسی نہ کسی طور پر فائدہ مند بھی ہوتے ہیں۔ خاص کر وہ بیکٹیریا جو انسانی جسم میں رہتے ہیں، صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ انسانی جسم کو ہضم کرنے کے لیے بیکٹیریا کی مدد درکار ہوتی ہے، جو چھوٹی اور بڑی آنت میں رہتے ہیں، یعنی ان کی موجودگی کے بغیر ہاضمے کا کام مکمل نہیں ہو سکتا۔

Thanks 4 informative and useful sharing
 
  • Like
Reactions: intelligent086

Shiraz-Khan

Alhamdulillahi Rabbil 3aalameen
Super Moderator
Oct 27, 2012
18,692
16,070
1,113
بیکٹیریا سے مقابلہ
View attachment 114591




رفعت اقبال

ہماری دنیا دو بڑے حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک حصہ خشکی اور دوسرا پانی۔ ان دونوں حصوں میں چھوٹے بڑے طرح طرح کے جانور پائے جاتے ہیں۔ خشکی کے جانوروں میں شیر سب سے طاقت ور اور خطرناک سمجھا جاتا ہے اور پانی کے جانوروں میں مگر مچھ بھی شیر ہی کی طرح خطرناک خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس دنیا میں بعض بہت چھوٹے چھوٹے جاندار ان سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ ان میں ایک بیکٹیریا ہے۔ بیکٹیریا حد درجہ چھوٹا ہونے کے سبب ہمیں نظر بھی نہیں آتا۔ لیکن بعض اوقات وہ اتنا خطرناک ثابت ہوتا ہے کہ شیر اور مگر مچھ کی طرح آدمی کو جان سے مار دیتا ہے اور بہت جلد مار دیتا ہے۔ دنیا میں کم و بیش ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں بیکٹیریا موجود نہ ہوں۔ برفانی پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر ابلتے ہوئے گرم پانی کے چشموں تک ہر جگہ کسی نہ کسی قسم کے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ سمندر کی گہری تہیں اور فضا میں سرگرداں گرد و غبار کے بگولے بھی ان کی موجودگی سے خالی نہیں ہیں۔ بیکٹیریا حد درجہ چھوٹے ہونے کے سبب ہمیں نظر نہیں آتے لیکن ہم سے بہت ہی قریب ہوتے ہیں، حتیٰ کہ ہمارے جسموں پر موجود رہتے ہیں اور سانس کے ذریعے جسم کے اندر بھی داخل ہوتے رہتے ہیں۔ انہیں جراثیم بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم ہر وقت ان سے خوف زدہ ہی رہیں۔ قدرت نے ہمیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو بیکٹیریا سے محفوظ رکھنے کے لیے کئی طریقے اختیار کر لیے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے جسم میں قدرت نے ایسی طاقت رکھی ہے جو خودبخود بیکٹیریا کے خلاف ہمارا دفاع کرتی رہتی ہے۔ ہمارے اندر دفاع کی جو قوت ہے اسے ہم دو سطحوں پر رکھ سکتے ہیں۔ ایک بیرونی جن کے ذریعہ بیکٹیریا ہمارے جسم میں داخل ہی نہیں ہونے پاتے۔ دوسری اندرونی مدافعتی قوت جس کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہونے والے بیکٹیریا ختم کر دیے جاتے ہیں۔ ہماری جِلد ہمیں ظاہری خوبصورتی دینے کے علاوہ ایک بہت ضروری کام سرانجام دیتی ہے۔ ہماری جِلد کی ساخت کچھ اس قسم کی ہے کہ بیکٹیریا ہمارے جسم کے اندر آسانی سے داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔ جِلد کی طرح جسم کے بعض دوسرے حصے بھی بیکٹیریا کو اندر داخل ہونے سے روکتے ہیں مثلاً آنکھیں جو خدا کی طرف سے ایک بیش بہا عطیہ ہیں، ان کی حفاظت بھی قدرت نے اس طرح کی ہے کہ ایک باریک جھلی جو اس کو باہر سے ڈھکتی ہے، وہ نم رہتی اور ہماری آنکھ کو بیکٹیریا کے اثرات سے بچاتی ہے۔ اگر جِلد پر خراش آ جائے یا زخم ہو جائے تو بیکٹیریا کو جسم میں داخل ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک رکاوٹ آڑے آتی ہے۔ بہتا ہوا خون بیکٹیریا کو فوری طور پر بدن کے اندر داخل نہیں ہونے دیتا۔ اس لیے اگر زخم کو فوری طور پر کسی جراثیم کش دوا سے دھو کر محفوظ کر لیا جائے تو بیکٹیریا کے داخل ہونے کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر بیکٹیریا جسم میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہماری اندرونی قوتِ مدافعت ان کا مقابلہ کرتی ہے۔ ہمارے خون میں سفید خلیے بیکٹیریا کو ہڑپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے ہی بیکٹیریا جسم میں داخل ہوتے ہیں، ہمارا مدافعتی ’’عملہ‘‘ حرکت میں آ جاتا ہے۔ سفید خلیے زیادہ تعداد میں پیدا ہونے لگتے ہیں، خاص طور پر زخم کی جگہ سفید خلیے جمع ہو کر بیکٹیریا کا مقابلہ کرتے ہیں۔ بیکٹیریا بھی اپنے بچاؤ کے لیے زہریلا مادہ بنا لیتا ہے جس سے کچھ خلیے مر جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زخم کی جگہ پر سفید مواد بننے لگتا ہے۔ یہ سفید مواد عام زبان میں پِیپ کہلاتا ہے۔ اس مقام کی جگہ کو ہاتھ لگایا جائے تو درد محسوس ہوتا ہے۔ قدرت نے ہمارے بدن کی ساخت میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ باہر سے داخل ہونے والے تقریباً ہر قسم کے جرثومے کو بدن میں محسوس کر لیا جاتا ہے۔ ان کے خلاف ہمارے خون میں خاص قسم کے کیمیائی اجزا بننے لگتے ہیں جن کو ضدِ جراثیم یا اینٹی باڈیز کہتے ہیں۔ مختلف قسم کے جراثیم جن کو انٹیجن بھی کہا جاتا ہے، کے لیے خاص قسم کی اینٹی باڈیز بنتی ہے جو ان کو یا تو ہلاک کر دیتی ہیں یا ناکارہ بنا دیتی ہیں۔ بعد میں بھی اینٹی باڈی بننے کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور بہت عرصے تک ہم اس بیماری سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس عمل کو امنیت یا امیونٹی کہتے ہیں۔ اب یہ مصنوعی طور پر ادویات سے بھی ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہت سی مہلک بیماریوں مثلاً تپ دق، چیچک، خناق وغیرہ کے حملے بچوں پر نہیں ہوتے۔ ان کے خطرے سے بچے نجات پا گئے ہیں۔ ان باتوں سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہ ہو گا کہ تمام بیکٹیریا نقصان دہ ہوتے ہیں۔ بہت سے بیکٹیریا کسی نہ کسی طور پر فائدہ مند بھی ہوتے ہیں۔ خاص کر وہ بیکٹیریا جو انسانی جسم میں رہتے ہیں، صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ انسانی جسم کو ہضم کرنے کے لیے بیکٹیریا کی مدد درکار ہوتی ہے، جو چھوٹی اور بڑی آنت میں رہتے ہیں، یعنی ان کی موجودگی کے بغیر ہاضمے کا کام مکمل نہیں ہو سکتا۔

informative... thnx for sharing
 
  • Like
Reactions: intelligent086

Zunaira_Gul

*GUL*
TM Star
May 16, 2017
2,481
1,668
363
بیکٹیریا سے مقابلہ
View attachment 114591




رفعت اقبال

ہماری دنیا دو بڑے حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک حصہ خشکی اور دوسرا پانی۔ ان دونوں حصوں میں چھوٹے بڑے طرح طرح کے جانور پائے جاتے ہیں۔ خشکی کے جانوروں میں شیر سب سے طاقت ور اور خطرناک سمجھا جاتا ہے اور پانی کے جانوروں میں مگر مچھ بھی شیر ہی کی طرح خطرناک خیال کیا جاتا ہے۔ لیکن اس دنیا میں بعض بہت چھوٹے چھوٹے جاندار ان سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔ ان میں ایک بیکٹیریا ہے۔ بیکٹیریا حد درجہ چھوٹا ہونے کے سبب ہمیں نظر بھی نہیں آتا۔ لیکن بعض اوقات وہ اتنا خطرناک ثابت ہوتا ہے کہ شیر اور مگر مچھ کی طرح آدمی کو جان سے مار دیتا ہے اور بہت جلد مار دیتا ہے۔ دنیا میں کم و بیش ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں بیکٹیریا موجود نہ ہوں۔ برفانی پہاڑوں کی چوٹیوں سے لے کر ابلتے ہوئے گرم پانی کے چشموں تک ہر جگہ کسی نہ کسی قسم کے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ سمندر کی گہری تہیں اور فضا میں سرگرداں گرد و غبار کے بگولے بھی ان کی موجودگی سے خالی نہیں ہیں۔ بیکٹیریا حد درجہ چھوٹے ہونے کے سبب ہمیں نظر نہیں آتے لیکن ہم سے بہت ہی قریب ہوتے ہیں، حتیٰ کہ ہمارے جسموں پر موجود رہتے ہیں اور سانس کے ذریعے جسم کے اندر بھی داخل ہوتے رہتے ہیں۔ انہیں جراثیم بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم ہر وقت ان سے خوف زدہ ہی رہیں۔ قدرت نے ہمیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو بیکٹیریا سے محفوظ رکھنے کے لیے کئی طریقے اختیار کر لیے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے جسم میں قدرت نے ایسی طاقت رکھی ہے جو خودبخود بیکٹیریا کے خلاف ہمارا دفاع کرتی رہتی ہے۔ ہمارے اندر دفاع کی جو قوت ہے اسے ہم دو سطحوں پر رکھ سکتے ہیں۔ ایک بیرونی جن کے ذریعہ بیکٹیریا ہمارے جسم میں داخل ہی نہیں ہونے پاتے۔ دوسری اندرونی مدافعتی قوت جس کے ذریعے جسم کے اندر داخل ہونے والے بیکٹیریا ختم کر دیے جاتے ہیں۔ ہماری جِلد ہمیں ظاہری خوبصورتی دینے کے علاوہ ایک بہت ضروری کام سرانجام دیتی ہے۔ ہماری جِلد کی ساخت کچھ اس قسم کی ہے کہ بیکٹیریا ہمارے جسم کے اندر آسانی سے داخل نہیں ہو سکتے ہیں۔ جِلد کی طرح جسم کے بعض دوسرے حصے بھی بیکٹیریا کو اندر داخل ہونے سے روکتے ہیں مثلاً آنکھیں جو خدا کی طرف سے ایک بیش بہا عطیہ ہیں، ان کی حفاظت بھی قدرت نے اس طرح کی ہے کہ ایک باریک جھلی جو اس کو باہر سے ڈھکتی ہے، وہ نم رہتی اور ہماری آنکھ کو بیکٹیریا کے اثرات سے بچاتی ہے۔ اگر جِلد پر خراش آ جائے یا زخم ہو جائے تو بیکٹیریا کو جسم میں داخل ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک رکاوٹ آڑے آتی ہے۔ بہتا ہوا خون بیکٹیریا کو فوری طور پر بدن کے اندر داخل نہیں ہونے دیتا۔ اس لیے اگر زخم کو فوری طور پر کسی جراثیم کش دوا سے دھو کر محفوظ کر لیا جائے تو بیکٹیریا کے داخل ہونے کا خطرہ بہت کم ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر بیکٹیریا جسم میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ہماری اندرونی قوتِ مدافعت ان کا مقابلہ کرتی ہے۔ ہمارے خون میں سفید خلیے بیکٹیریا کو ہڑپ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جیسے ہی بیکٹیریا جسم میں داخل ہوتے ہیں، ہمارا مدافعتی ’’عملہ‘‘ حرکت میں آ جاتا ہے۔ سفید خلیے زیادہ تعداد میں پیدا ہونے لگتے ہیں، خاص طور پر زخم کی جگہ سفید خلیے جمع ہو کر بیکٹیریا کا مقابلہ کرتے ہیں۔ بیکٹیریا بھی اپنے بچاؤ کے لیے زہریلا مادہ بنا لیتا ہے جس سے کچھ خلیے مر جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ زخم کی جگہ پر سفید مواد بننے لگتا ہے۔ یہ سفید مواد عام زبان میں پِیپ کہلاتا ہے۔ اس مقام کی جگہ کو ہاتھ لگایا جائے تو درد محسوس ہوتا ہے۔ قدرت نے ہمارے بدن کی ساخت میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ باہر سے داخل ہونے والے تقریباً ہر قسم کے جرثومے کو بدن میں محسوس کر لیا جاتا ہے۔ ان کے خلاف ہمارے خون میں خاص قسم کے کیمیائی اجزا بننے لگتے ہیں جن کو ضدِ جراثیم یا اینٹی باڈیز کہتے ہیں۔ مختلف قسم کے جراثیم جن کو انٹیجن بھی کہا جاتا ہے، کے لیے خاص قسم کی اینٹی باڈیز بنتی ہے جو ان کو یا تو ہلاک کر دیتی ہیں یا ناکارہ بنا دیتی ہیں۔ بعد میں بھی اینٹی باڈی بننے کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور بہت عرصے تک ہم اس بیماری سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس عمل کو امنیت یا امیونٹی کہتے ہیں۔ اب یہ مصنوعی طور پر ادویات سے بھی ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ بہت سی مہلک بیماریوں مثلاً تپ دق، چیچک، خناق وغیرہ کے حملے بچوں پر نہیں ہوتے۔ ان کے خطرے سے بچے نجات پا گئے ہیں۔ ان باتوں سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہ ہو گا کہ تمام بیکٹیریا نقصان دہ ہوتے ہیں۔ بہت سے بیکٹیریا کسی نہ کسی طور پر فائدہ مند بھی ہوتے ہیں۔ خاص کر وہ بیکٹیریا جو انسانی جسم میں رہتے ہیں، صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ انسانی جسم کو ہضم کرنے کے لیے بیکٹیریا کی مدد درکار ہوتی ہے، جو چھوٹی اور بڑی آنت میں رہتے ہیں، یعنی ان کی موجودگی کے بغیر ہاضمے کا کام مکمل نہیں ہو سکتا۔

عمدہ لڑی ہے
بہت بہت شکریہ
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?