بے وفا یوں تیرا مسکرانا

ROHAAN

TM Star
Aug 14, 2016
1,163
850
263


بے وفا یوں تیرا مسکرانا

بے وفا یوں تیرا مسکرانا
بھول جانے کے قابل نہیں ہے
میں نے جو زخم کھایا ہے دل پر
وہ دکھانے کے قابل نہیں ہے
۔۔۔۔۔
ترچھی ترچھی نظر کے میں قرباں
تیری آنکھیں ہیں یا مے کے پیالے
جس کو تونے نظر سے پلایا
ہوش پھراس کو آیا نہیں ہے
۔۔۔۔۔
میں نے خط لکھ کے ان کو بلایا
آکے قاصد نے دکھڑا سنایا
ان کے پاؤں میں مہندی لگی ہے
آنے جانے کے قابل نہیں ہے
۔۔۔۔۔
جب سے دیکھا ہے جلوہ تمہارا
کوئی آنکھوں میں جچتا نہیں ہے
لاکھ دیکھے جہاں حسن والے
کوئی عالم میں تجھ سا نہیں ہے
۔۔۔۔۔
آئے ہو آکے جانے لگے ہو
یہ بھی کیا دل لگی ،دل لگی ہے
میری نظریں ابھی تک ہیں پیاسی
میں نے جی بھر کے دیکھا نہیں ہے
۔۔۔۔۔
میں نے پوچھا کہ کل شب کہاں تھے
پہلے شرمائے پھر جل کے بولے
آپ وہ بات کیوں پوچھتے ہیں
جو بتانے کے قابل نہیں ہے
۔۔۔۔۔
تیر وتلوار تم مت اٹھاؤ
کیوں یہ کرتے ہو بے کار زحمت
جانتے ہیں تمہاری کلائی
بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ہے
۔۔۔۔۔
شیشہ پتھر سے ٹکرا کے ٹوٹا
ٹوٹنے کی صدا سب نے سن لی
دل کسی کا اگر ٹوٹ جائے
کوئی آواز سنتا نہیں ہے
۔۔۔۔۔
عاشقی کا تقاضہ یہی ہے
ہم نہ بدلیں نہ تم ہم سے بدلو
تم تو ایسے بدلنے لگے ہو
آج تک کوئی بدلا نہیں ہے
۔۔۔۔۔
میں نے پوچھا کہ پھر کب ملوگے
پہلے شرمائے پھر ہنس کے بولے
تم تو دل میں سمائے ہوئے ہو
ملنے کی ضرورت نہیں ہے
۔۔۔۔۔
سوچ لو دل لگانے سے پہلے
لوگ کردیں گے بدنام تجھ کو
پیار کو چاہے جتنا چھپاؤ
یہ چھپانے سے چھپتا نہیں ہے
۔۔۔۔۔
میں جب بھی کی عرضِ تمنا
زلف کی طرح بل کھا کے بولے
ایسے عاشق کو سولی چڑھا دو
رحم کھانے کے قابل نہیں ہے
۔۔۔۔۔
 
  • Like
Reactions: Seemab_khan
Top
Forgot your password?