ترقی کے چند اصول

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
ترقی کے چند اصول
115889

سہیل بابر

کامیاب، اصول پسند اور حقیقی رہنماؤں میں عام طور پر آٹھ خوبیاں یا خصوصیات پائی جاتی ہیں جو نہ صرف ان رہنماؤں کا کردار متعین کرتی ہیں بلکہ دیگر لوگوں کی ترقی کے لیے بھی مشعل راہ ثابت ہوتی ہیں۔ یہ خوبیاں درج ذیل ہیں۔ علم کا مسلسل حصول ایک کامیاب رہنما زندگی بھر سیکھنے کے عمل سے گزرتا ہے اور مسلسل علم و آگہی کے حصول میں مگن رہتا ہے۔ وہ دنیا میں ہونے والی تازہ ترین تحقیق اور دوسروں کے تجربات سے مستفید ہونے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ اپنی آنکھوں اور کانوں کا بھرپور استعمال کرتا ہے۔ اسے سوال کرنے میں کوئی عار نہیں ہوتی، وہ متجسس ہوتا ہے، اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے اور اپنے علم کا دائرہ مشاہدات اور تجربات کے ذریعے وسیع کرتا چلا جاتا ہے۔ وہ نئی مہارتیں اور نیا ہنر حاصل کرنے کے لیے سرگرم رہتا ہے۔ جب اس کے علم و آگہی کا دائرہ وسیع ہوتا ہے تو اس کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہوتا ہے اور وہ پھر سیکھنے کے عمل میں مصروف ہو جاتا ہے۔ خود ترغیبی کے نتیجے میں اس کی توانائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ خدمت کے جذبے سے سرشار جو انسان حقیقی اور مخلص رہنما بننے کی لگن رکھتے ہیں اور اپنی زندگی کو دوسروں کے لیے وقف کرنا چاہتے ہیں، وہ ابتدا سے ہی خدمت خلق کے لیے کمربستہ رہتے ہیں۔ ان کے دن کا آغاز دوسروں کے لیے فکر کرنے سے ہوتا ہے۔ ایثار وقربانی ان کی نمایاں خوبی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ روزانہ خود کو دوسروں کے کام کے لیے تیار کرتے ہیں۔ جو کام ان کے سپرد کیا جائے وہ پوری توجہ اور جانفشانی سے کرتے ہیں۔ دوسرے لوگوںکو اپنے ساتھ ملا کر کام کرنے کا موقع دیتے ہیں۔ دوسروں کے کام آنے کے لیے روزمرہ کی زندگی میں بہت سے میدان ہوتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ آپ کوئی فلاحی تنظیم بنائیں۔ اگر ہم میں احساس ذمہ داری نہیں، خدمت خلق کا جذبہ نہیں تو پھر ہم زندگی میں جو کچھ بھی کرنا چاہتے ہیں، وہ ایک لاحاصل سعی ہو گی۔ مثبت سوچ رہنماؤں کی نمایاں خوبیاں زندہ دلی، مثبت رویہ، خندہ پیشانی اور خوش مزاجی ہوتی ہیں۔ ان کا رویہ حوصلہ افزا اور پُرامید ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ تصویر کا روشن پہلو دیکھتے ہیں۔ ناامیدی، مایوسی اور حوصلہ شکنی انہیں قریب سے بھی چھو کر نہیں گزرتی۔ ان کا جذبہ بلند حوصلگی، جوش اور عزم سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ مثبت سوچ ان کے اردگرد کے ماحول پر بھی حاوی رہتی ہے اور ان کے قریب لوگوں کی سوچوں پر بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔ مثبت سوچ کے ذریعے، پریشان ہونے یا تصادم کی راہ اپنانے کے بجائے ایک امن پسند اور صلح جُو کا کردار ادا کیا جائے تو منفی سوچ کے حامل افراد کی تباہ کاریوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ دوسروں پر اعتماد دوسروں کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت سے آراستہ لوگ دوسروں کے غلط رویوں کو نظر انداز کر کے خوش دلی سے معاف کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ دوسروں کی خامیوں سے آگاہ ہوتے ہیں لیکن منفی رویوں اور تنقید سے گھبراتے نہیں ہیں اور نہ ہی کینہ اور بغض رکھتے ہیں۔ وہ دوسروں کے بارے میں پہلے سے کوئی غلط رائے قائم نہیں کر لیتے بلکہ وہ اُن کے اَن دیکھے جوہر پر نظر رکھتے ہیں۔ وہ بیج میں درخت دیکھنے اور بیج کے درخت بننے کے مراحل سے بخوبی آشنا ہوتے ہیں اور ان مراحل میں ممدومعاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ نظر آنے والی ٹھوس شے پر ہی یقین کیا جاتا ہے لیکن ہمیں غیر مرئی اور نظر نہ آنے والی خوبیوں اور صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے۔ متوازن زندگی دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بننے والے انسان سماجی طور پر فعال زندگی گزارتے ہیں۔ وہ اچھی کتابیں پڑھتے ہیں، اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرتے ہیں اور گردوپیش کے واقعات و حالات سے باخبر ہوتے ہیں۔ وہ ذہنی اور جسمانی طور پر فعال ہوتے ہیں اور بہت سی دلچسپیاں رکھتے ہیں۔ گہرا مشاہدہ کرتے ہیں، نت نئی باتیں سیکھتے ہیں اور زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ وہ خود پر ہنس سکتے ہیں مگر دوسروں کا مذاق نہیں اڑاتے۔ وہ اپنی قدروقیمت سے آگاہ ہوتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال، حوصلے، جرأت اور خودداری سے کرتے ہیں مگر وہ ڈینگیں نہیں مارتے۔ وہ اپنے کارنامے سنا کر یا اپنی وابستگیوں کا اظہار کر کے دوسروں پر رعب نہیں جماتے۔ وہ اپنے مؤقف کا اظہار دو ٹوک انداز میں کرتے ہیں اور مبالغہ آرائی سے گریز کرتے ہوئے۔ انتہاپسندی کے بجائے اعتدال کا راستہ اپناتے ہیں لیکن بہادری کے ساتھ برائی کی مذمت کرتے ہیں اور اچھائی کا ساتھ دیتے ہیں۔ وہ سازشوں اور جوڑ توڑ کے ذریعے اپنے کام نہیں نکالتے۔ وہ خلوص دل کے ساتھ دوسروں کی کامیابیوں پر خوش ہوتے ہیں اور یہ محسوس نہیں کرتے کہ وہ کسی محرومی کا شکار ہو گئے ہیں۔ زندگی جہدِ مسلسل ایسے لوگوں کے لیے زندگی مسلسل جدوجہد سے عبارت ہوتی ہے۔ وہ بہادر مہم جوؤں کی طرح ہوتے ہیں جو انجانی راہوں پر جانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ وہ اتنے پُراعتماد ہوتے ہیں کہ آنے والے واقعات کے لیے متجسس ہوتے ہیں۔ انہیں نت نئی باتوں کا شوق ہوتا ہے۔ وہ آشنا چہروں اور پرانے مناظر کو اس طرح دیکھ رہے ہوتے ہیں جیسے پہلی بار دیکھ رہے ہوں۔ انہیں سہاروں، پناہ گاہوں اور محفوظ ٹھکانوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ خوف زدہ نہیں ہوتے اور مشکل صورت حال سے فرار کے بجائے اس کا سامنا بلند حوصلگی سے کرتے ہیں۔ وہ بڑے افسروں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں سے مرعوب نہیں ہوتے اور کسی کی پیروی کرنے کے بجائے اپنی راہ خود منتخب کرتے ہیں۔ وہ سخت گیر نہیں ہوتے بلکہ ان کے رویے میں لچک ہوتی ہے۔ انقلابی کردار وہ جس سے ملتے ہیں اس کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ وہ جہاں جاتے ہیں وہاں صورت حال تبدیل ہو جاتی ہے۔ وہ مؤثر طریقے سے کام کرتے ہیں۔ انہیں جو بھی صورت حال ملتی ہے وہ اس میں بہتری پیدا کر دیتے ہیں۔ وہ اجتماعی کوششوں پر یقین رکھتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ مل کر اپنی کمزوریوں کو دور کر لیتے ہیں۔ وہ دوسروں کی صلاحیتوں اور استعدادِ کار پر اعتماد کرتے ہیں اور اچھے نتائج کے لیے اختیارات سونپنے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ بدترین صورت حال میں بھی دوسروں سے بات چیت اور رابطے کرتے ہیں اور مناصب کے لیے لڑنے جھگڑنے کے بجائے دوسروں کے مفادات اور دلچسپیوں پر نگاہ رکھتے ہیں۔ ذاتی تجدیدِ نو وہ انسانی کردار کی ہمہ گیر صفات یعنی جسمانی، ذہنی، جذباتی اور روحانی کو بروئے کار لاتے ہیں۔ وہ کسی نہ کسی قسم کی جسمانی ورزش کے عادی ہوتے ہیں جو دل اور دورانِ خون کو صحت مند رکھتی ہے اور ان میں قوتِ برداشت اور قوتِ مزاحمت بڑھاتی ہے۔ ایسے لوگ اپنے ذہنوں کو بیدار اور چاق و چوبند رکھنے کے لیے مسلسل مطالعہ کرتے ہیں اور پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ اپنی معلومات میں اضافہ کرتے ہیں۔ دوسروں کی باتوں کو توجہ سے سنتے ہیں اور جذباتی طور پر صبروتحمل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ روحانی سطح پر وہ عبادات اور مذہبی لٹریچر کے مطالعہ پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ ان تمام عادات سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ ان سرگرمیوں میں سے بیشتر تو روزمرہ کے معمولات میں بھی سرانجام دی جا سکتی ہیں۔ باقی سرگرمیوں کے لیے روزانہ کچھ وقت نکالنا پڑتا ہے لیکن یہی کوشش آگے چل کر بہت زیادہ وقت بچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ذاتی تجدید کے مندرجہ بالا اصول ایک مضبوط اور صحت مند شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?