تعلیم ،انسانی رویے اور’’ پڑھے لکھے جاہل‘‘ تحریر : افتخار شوکت ایڈوکیٹ

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,409
7,434
1,313
Lahore,Pakistan
تعلیم ،انسانی رویے اور’’ پڑھے لکھے جاہل‘‘ تحریر : افتخار شوکت ایڈوکیٹ

ایک دن اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک صاحب اپنے کئی ملازمین کو گائیڈ کر رہے ہیں۔ایک ملازم کے ہاتھ میں لمبا سا پائپ ہے جس سے فوارے کی طرح پانی نکل رہا ہے۔ وہ نہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ پانی کے چھینٹے ہر راہگیر پر پڑ رہے ہیں اور نہ یہ سوچ رہے ہیں کہ پانی کی دولت ضائع نہ کی جائے ۔

نظام تعلیم پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہے،اعلیٰ تعلیم پر پنجاب حکومت نے 5ارب،خیبر پختونخوا نے 4.1ارب،سندھ نے تین ارب اور بلوچستان نے 75کروڑ روپے خرچ کئے تھے

میں کچھ دیر تک یہ منظر دیکھتا رہا، پھر مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں ان سے مخاطب ہوا ۔۔’’بھائی پانی کے چھینٹے دوسروں پر پڑے رہے ہیں‘‘۔۔انہوں نے بے فکری سے جواب دیاکہ لوگ سائڈ سے گزر جائیں آگے بہت جگہ ہے‘‘۔انہوں نے میری طرف ایسے دیکھا جیسے کہہ رہے ہو ںکہ اپنے کام سے کام رکھو۔ میں نے سوچاکہ واقعی مجھے اپنے کام سے کام رکھنا چاہیے ۔



ایک دن میں اپنی کار میںشہر میں داخل ہوا تو ساری سڑک بلاک تھی، لوگ تنگ ہو رہے تھے۔ میں سمجھا کہ آگے کوئی حادثہ پیش آ گیا ہو گا،اسی لئے پوری نہر پر ہی ٹریفک بہت سلو ہو گئی تھی۔کافی دیرر ینگتے رینگتے ٹریفک جب نہر کے عین درمیان میں پہنچی تو دو کاریں کھڑی دیکھیں ۔دونوں کے سوار آپس میں خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ مجھ سے رہا نہ گیا، میں ان دونوں کے پاس گیا۔ میں نے کہا کہ،’’ بھائی آپ فلائی اوور کے اوپر کھڑے ہو کر دیکھیں ، ٹریفک کتنی دور سے متاثر ہو رہی ہے صرف آپ کی دو کاروں کی وجہ سے ۔ انہوں نے میری بات سنی ان سنی کر دی، کوئی دھیان دینے کی بجائے دوبارہ آپس میں مصروف ہو گئے۔ ایک نے سگریٹ سلگائی اور قدرے ناگوار لہجے میں دوسرے کی طرف منہ قریب کرتے ہوئے کچھ کہا کہ جو میںسمجھ نہ سکا۔اتنا ضرور جان گیا کہ دونوں میرا ہی تمسخراڑارہے ہیں ۔ میں نے ذرا ناراضگی کے عالم میں انہیں دوبارہ کہا کہ کاریں سائیڈ پر کرلیں ورنہ میں پولیس کو فون گھما دوں گا کیونکہ آپ دونوں کی سگریٹ نوشی اور خوش گپیوں نے ٹریفک بلاک کر رکھی ہے۔انہوں نے بادل نخواستہ کاریں ایک سائیڈ پر کرلیں۔

ایسا ہی ایک اور اتفاق اس وقت ہوا جب میں نے ایک بینک میں دیکھا کہ ایک کائونٹر پر موجودافسر صارف سے بات چیت کر رہا تھا کہ اچانک ایک خوش لباس شخص داخل ہوتا ہے اور تیز قدموں سے کائونٹر کی جانب بڑھتا ہے۔ابھی وہ دونوں باتیں کر رہی رہے تھے ،نو وارد نے بیچ میں ان کی بات کاٹ کربولنا شروع دیا۔ بینک والے نے یہ جانا کہ شائد کوئی بڑا افسر ہو گا، وہ بھی اسی کی جانب متوجہ ہو گیا۔پہلے سے موجود صارف منہ دیکھتا رہ گیا ۔مگر قانون کی سمجھ اسے تھی۔ اگلے ہی لمحے اس شخص نے ذرا ترش لہجے میں افسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔’’آپ نے مجھے چھوڑ کر دوسرے کی بات سنی ہے ۔میرا کام ادھورا چھوڑا ہے۔ میں آپ کی شکایت کرنے سٹیٹ بینک جا رہا ہوں‘‘ ۔ اس وقت مجھے پتہ چلا کہ غافل اور لاپرواہ قسم کے بینک افسران سٹیٹ بینک کے نام سے بہت چالو ہوتے ہیں۔بینک میں سے ہی ایک آدمی فوراََاٹھا اور اسی شخص کا ہاتھ پکڑ کر اس سے کاغذ لے لئے ، جو بھی معاملہ تھا، اسے حل کرنے لگا۔

ہم نے بارہا دیکھا ہو گا کہ عالم فاضل فرد کی تعلیم یافتہ بیوی کسی جاہل قسم کے فراڈیئے کے چنگل میں پھنس کر اپنی تمام دولت گنوا بیٹھی ہو گی ۔ میں ایسے کئی افراد کو جانتا ہوں جوجنوں بھوتوں اور جادو ٹونے سے بچنے کے لئے شہر شہر بھٹکتے رہتے ہیں مگر انہیں کوئی سچا عالم ملتا ہی نہیں۔بہت سوں کو ملتا بھی ہے اور وہ خود بھی اسی کے مرید ہو کر رہ جاتے ہیں اور پھر ان کی زندگی اس جعلی پیر کے مطابق ہی چلتی ہے۔میں اکثر حیران ہوتا ہوں کہ جو لوگ اپنا جن نہیں اتار سکتے ، خود درجنوں مسائل میں جکڑتے ہوئے یہ جعلی پیر دوسروں کا جن کیا اتاریں گے ، وہ دوسروں کی کیا مدد کر سکتے ہیں ۔لیکن کیا کریں ،یہ بیماری ہماری ایلیٹ کلاس میں کچھ زیادہ ہی پائی جاتی ہے۔ جب پڑھے لکھے مرید بن جاتے ہیں تو ان پڑھ کیوں نہیں بن سکتے ان پر پابندی ہے کیا! عوام بے چارے کیا کریں، اپنے لیڈروں کی پیروی میںوہ بھی اسی چکر میں پھنس جاتے ہیں۔

ایک دن انتظامیہ نے ایک بڑی منڈی میں اجناس کے میعار چیک کرنے کے لئے چھاپے مارنا تھے، وہاں ہر بوری کے اوپر خوبصورت سی پرچی لگی تھی کہ ’’یہ جنس برائے فروخت نہیں ہے‘‘۔منڈی پر چھاپے مارنے والوںنے یہ نہیں سوچا اور نہ ہی کسی کو پوچھا کہ بھائی اگر یہ اجناس برائے فروخت نہیں ہیں تو بوریوں میں بھر کریہاں جگہ گھیرنے کیلئے کیوں سجا رکھی ہیں؟۔ کیا ہم ملاوٹ ذخیرہ اندوزی اورلوگوں کی جانوں سے کھیلنے والوں کو بھی پڑھے لکھے جاہل کے زمرے میں شامل کر سکتے ہیں یا نہیں؟انسانیت سے کھیلنے والے درندے تو ہیں ہی لیکن ان کا یہ عمل جہالت اور مائنڈ سیٹ کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ ’’ہم نے تو اسی طرح سے پیسہ کمانا ہے اور یہ بزنس ہے‘‘۔ہمارے ہاں ایک یہ بھی مائنڈ بن گیا ہے کہ بزنس میں سب جائز ہے۔پیسہ آنا چاہیے ،چاہے جیسے بھی ملے۔

لاہور میں افسروں نے ایک ’’جم‘‘ بنا رکھا ہے، یہاں گھسنے کے بھی کچھ الگ ہی اصول ہیں۔قومی لباس پر یہاں پابندیاں ہیں۔ اس پر واسکٹ کا تڑکا لگانا پڑتا ہے ورنہ باہر نکلنے کا دروازہ بھی تو کھلا رہتا ہے۔ جیسے داخل ہوئے تھے ویسے ہی نکل بھی سکتے ہیں۔ سوٹ کے ساتھ ٹائی لازم ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ اصول بھی تو جہالت کی نشانیاں ہیں۔اس جہالت کی جس میں انہی لوگوں نے انگریزوں کی غلامی کا طوق گلے میں سجا رکھا تھا اور خوش خوش پھرتے تھے۔ اس وقت اسے انگریزوں کی سروس کہاجاتا تھا بعد ازاں یہ ادارہ انڈین سول سروس میں تبدیل ہوگیا۔ان اداروں سے ٹائی کی بیماری اس قدر پھیل گئی کہ ہم نے ٹائی کے بغیر شخص کو انسان اور معزز آدمی سمجھنا چھوڑ دیا۔ ان کے خیال میں معتبر اور پڑھا لکھا شخص وہی رہ گیا جو انگریزوں کی طرح ٹائی لگاتا، سوٹ بوٹ میں ملبوس ہو تا،اور فر فر انگریزی بولتا۔ انہوں نے اپنے ہی قومی لباس کو جہالت اور ان پڑھ ہونے کی نشانی بنا دیا۔ کیا ہماری یہ حرکت درست تھی؟

کچھ لوگ اپنے باپ کی عمر والے سے ایسے باتیں کرتے ہیںجیسے وہ ان کے غلام ہوں۔آپ دفاتر میں چلے جائیں ،کئی جگہ کرسیاں دور دور رکھی ہوں گی جن کا مقصد ملاقاتیوں کو ذلیل کرنا ہوتا ہے۔ یہ کرسی صاحب کی میز سے کافی فاصلے پر رکھی جاتی ہیں تاکہ ملاقاتی ہاتھ آگے بڑھانے کی جرات ہی نہ کر سکے، دفتر کے ماحول میں آدم بو کی سی کیفیت ہو گی ،ہردفتر میں ملاقاتی کو افسر کے رعب میں رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پروٹوکول سے ہٹ کر بات کرنے والوں کو بدتمیز کہہ کردھتکار دیا جاتا ہے۔ بڑے چھوٹے کی تمیزختم ہو گئی ہے،صاحب حیثیت کو مرتبہ دینا اور غریب کو دھتکارنا جہالت کی نشانی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟

انہی لوگوں نے زندہ رہنے کے میعار اور اصول بھی بدل دیئے ۔انہوں نے ارسطو اور افلاطون کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق شرفاء کے معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ جس میں اصل حیثیت شرفا ہی کو حاصل ہوتی تھی ،حاکمیت ان کے لئے ہی مخصوص تھی۔ عام آدمی ان کے ملازموں کی طرح جینے کے لئے پیدا ہوئے تھے؟ کیا ہم ان لوگوں کوپڑھا لکھا جاہل کہہ سکتے ہیں جنہوں نے معاشرتی میعار ہی بدل ڈالے ؟اسی لئے آج بہترین کپڑوں میں ملبوس شخص کو معزز اورکھدر میں آنے والے کو کمی کمین سمجھا جاتا ہے۔معزز اور غیر معزز کی پہچان مہنگے کپڑوں اور اچھے لباس سے مشروط ہو گئی۔ گائوں سے آنے والے سادہ آدمی کو پینڈو اورمکار کو سیانا کہا جانے لگا ہے۔ یہ لفظ کتنا عام ہے کہ یار ۔۔۔’’فلاں آدمی تو پینڈو ہے، میں اس سے کیا بات کروں‘‘۔اب اسے ہم کیا نام دیں ؟جہالت کہیں یا تعصب ۔یاپھرغیر انسانی رویہ؟

اسی عادت یا رویے نے خاندان کے خاندان برباد کر دیئے ہیں،ہمیں اپنے خاندان پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہو گا کہ ہم کن لوگوں سے مل رہے ہیں اور کن لوگوں سے دور ہوتے جارہے ہیں۔مجھے ایک بزنس مین نے فخریہ انداز میں کہا کہ ۔۔۔۔’’میں اپنے رشتے داروں سے ملتا ہی نہیں ، وہ تو شریکے ہوتے ہیں ،میں تو ملتا ہی دوستوں سے ہوں ۔‘‘

جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم جوں جوں تعلیم یافتہ ہوتے جا رہے ہیںہم میں پیسے کی ہوس بڑھتی جا رہی ہے،یہ پیسہ ہی ہے جس نے خاندانوں کے حصے بخرے کر دیئے ہیں۔ ہمارے پاس پیسے کی بارش ہونے لگی تو ہمیں اپنے ہی رشتے دار سانپ کی مانند ڈستے ہوئے دکھائی دینے لگے ہیں ۔حالانکہ کبھی یہی رشتے دار خوشی غمی کے ساتھی ہوا کرتے تھے آج شریکے بن گئے ہیں۔یہ سمجھنے لگے ہیں کہ شائد ان کی نظریں ہماری دولت پر ہیں۔ہمیں ان کی نیت پر بھی شک ہی ہونے لگا ہے۔میں ایسے کئی بھائیوںکو جانتا ہوں جنہوں نے اپنے بیمار باپ کی بیماری سے بچنے کے لئے دوسرے بھائی سے کہا کہ ’’آپ ہمیں ابو کی بیماری کے بارے میں کچھ نہ بتایا کرو کیونکہ ہمیں بہت تکلیف ہوتی ہے، ہم سے دیکھی نہیں جاتی ۔آپ انہیں خود ہی ہسپتال لے جایا کرو‘‘۔پھرباپ کی موت کے دن وہی بھائی سب سے پہلے آگئے کہ’’ ہمیں جائیداد میں سے حصہ چاہیے‘‘۔اس بات کو بے حسی کہیں یا خود غرضی؟تعلیم کا اس رویے کی تشکیل میں بھی کوئی حصہ ہے یا نہیں؟ تعلیم انہیں معاشرے میں انسانوں کی طرح جینا کیوں نہیں سکھا سکی؟

مجھے کئی لوگوں نے کہا یہی جہالت کی سب سے بڑی نشانی ہے کہ ہم نے اپنی معاشرتی روایات، بھائی چارہ اورخاندانی میل ملاپ ہی کو نہیں،قانون او ر اصولوں کو بھی پس پشت ڈال دیا ہے۔ ہم نے ملنے ملانے کے پیمانے بدل ڈالے ہیں۔اب ہم شادی بیاہ کے موقع پر بھی یہی دیکھتے ہیں کہ دولہے کے پاس دولت کتنی ہے؟ اگر دولت نہیں تو پھر اختیارات کتنے ہیں کتنا بڑا افسر ہے؟ اختیارات بھی دولت کا اچھانعم البدل ہے ۔ یہ دولت کے حصول کا اہم ترین ذریعہ بھی ہے۔

میں نے معمولی باتوں پر لوگوں کو سر بازار لڑتے جھگڑتے دیکھاہے۔لوگ کہتے ہیں کہ انہیں دیکھو کتنے پڑھے لکھے ہیںاور حرکتیں کیسی کر رہی ہیں۔معمولی سے معمولی بات پر تکرار شروع کر دیتے ہیں ۔ایسے ہی لوگوں کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ تو پڑھے لکھے ہیں،ہمیں آپ سے ہرگز اس بات کی امید نہ تھی۔ غیر ملکی سماجی ماہرین ایسی باتوں کومائنڈ سیٹ کا نام بھی دیتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی نہیں بدلتا، اور اسی ماینڈ سیٹ کے مطابق بولتے رہتے ہیں۔یہ لوگ ایک دائرے میں گھومتے رہتے ہیں،جس سے باہر آ ہی نہیں سکتے ۔ ان ماہرین کے مطابق مائنڈ سیٹ ہی کی کوکھ سے اس طرح کے رویے جنم لیتے ہیں ،اور پھر یہ عادت میں بدل جاتے ہیں۔عادت کو اگرچہ بدلا بھی جا سکتا ہے مگر اس کے لئے بہت ہمت اور محنت چاہیے۔اس کے لئے خود پر جبر کرناپڑتا ہے۔

اب ہم اپنے مدعا کی جانب آتے ہیں۔تعلیم ہمیں کیا دیتی ہے اور ہمیں اس سے کیا سیکھنا چاہیے۔ایک پڑھے لکھے آدمی کے طور پر ہمیں معاشرے میں کس طرح رہنا چاہیے ،یہی ہمارا آج کا موضوع ہے۔ ہمارے دین اسلام میں اخلاق اور اور معاشرتی میل ملاپ کو بے حد اہمیت حاصل ہے۔ ہمیںتعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت حاصل کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ انسانیت اور اخلاق ہی سب سے بڑا سبق ہے۔ ایک وقت تھا جب تعلیم کے ساتھ تربیت بھی دی جاتی تھی ، دونوں لازم و ملزوم ہیں ،انہیں جدا نہیں کیا جا سکتا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ تربیتی نظام کو بھی بہتر اور موثر ہونا چاہیے۔ہمیں اخلاقی قدروں کو بھی ابھارنا چاہیے ۔دوسروں کی عزت نہ سکھانے والی تعلیم محض کا غذ کا ٹکڑا بن کر رہ جاتی ہیں۔تربیت میں ماں اور باپ کے کردار کو نظرانداز کیا ہی نہیں جا سکتا کیونکہ اچھی تربیت کا آغازگھر کے اندر سے ہی ہوتاہے، اسی لئے کہتے ہیں کہ اچھی ماں بہتر معاشرے کی تشکیل کر سکتی ہے۔

اگر ہم اپنے نظام تعلیم پر ایک نظر ڈالیں تو پتہ چلے گا کہ یہ پہلے ہی زبوں حالی کا شکار ہے۔پچھلے مالی سال میںپنجاب حکومت نے اعلیٰ تعلیم پر 5ارب،خیبر پختونخوا نے 4.1ارب،سندھ حکومت نے تین ارب اور بلوچستان نے 75کروڑ روپے اعلیٰ تعلیم پر خرچ کئے تھے ۔صرف سات فیصد کے قریب طلبا اعلیٰ تعلیم تک پہنچ پاتے ہیں۔مالی سال 2018ء ملک میںاعلیٰ تعلیم ( 15سال یا اس سے زائد)حاصل کرنے والوں کی تعداد ملک بھر میں15لاکھ،77ہزارتھی۔ اسلام آباد میں اعلیٰ تعلیم حاصل کے والوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی اور یہ 5.91لاکھ تھی۔ پنجاب میں 5.15لاکھ، سندھ میں2.63لاکھ،خیبرپختوانخوا میں1.43لاکھ ،بلوچستان میں32ہزار،آزاد کشمیر میں27ہزار اور گلگت بلتستان میں 4344طلبہ اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے تھے۔دیکھنے میں تو ہر سال لاکھوں لوگ زیور تعلیم سے آراستہ ہورہے ہیں لیکن یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا اصل چیز اخلاقیات بھی ان میں آرہی ہے ۔ تربیت بہت ضروری ہے ۔ا ن حالات میں سب سے پہلے ہمیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد میں اضافے پر توجہ دینا چاہیے ۔اس کے بعد میعار تعلیم ہماری ترجیح ہونا چاہیے ۔اور اگرممکن ہو تو تربیت کو بھی تعلیم کا ہی حصہ بنا دینا چاہیے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?