جامنی بند گوبھی کے طبی فوائد

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,493
10,879
1,313
Lahore,Pakistan
جامنی بند گوبھی کے طبی فوائد
1564607798998.jpeg


محمد شاہد

جامنی بند گوبھی غذائیت سے بھر پور سبزی ہے۔ اس کا ذائقہ سبز بندگوبھی سے ملتا جلتا ہے تاہم اس کے طبی فوائد زیادہ ہیں جن کے نتیجے میں صحت بہتر ہوتی ہے، ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور دل کی حالت اچھی ہوتی ہے۔ اس سے سوزش میں کمی ہوتی ہے اور فرد بعض اقسام کے کینسر سے محفوظ رہتا ہے۔ اسے کچا بھی کھایا جا سکتا ہے اور پکا کر بھی۔ ذیل میں سائنس کی روشنی میں اس کے طبی فوائد اور اجزا کو بیان کیا جا رہا ہے۔ غذائی اجزا جامنی بند گوبھی میں حرارے کم ہوتے ہیں اس کے باوجود اس میں غذائی اجزا کی مقدار حیران کن حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ کٹی ہوئے کچی یا خام ایک کپ (89 گرام) جامنی بند گوبھی میں غذائی اجزا کی تفصیل کچھ یوں ہے؛ حرارے 28، پروٹین ایک گرام، کارب سات گرام، ریشہ دو گرام۔ اس مقدار میں وٹامن سی روزانہ کی ضرورت کا 56 فیصد، وٹامن ’’کے‘‘ 28 ، وٹامن بی ۶؍ 11، وٹامن اے چھ، پوٹاشیم پانچ ، تھیامین پانچ اور ریبوفلاوین روزانہ کی ضرورت کا پانچ فیصد شامل ہوتا ہے۔ جامنی بند گوبھی میں تھوڑی مقدار میں فولاد، کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس، کاپر اور زنک ہوتا ہے۔ طاقت ور جامنی بند گوبھی اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ وہ مرکب ہوتے ہیں جو خلیوں کو ضرر سے بچاتے ہیں۔ اس میں وٹامن سی، کیروٹینائیڈز اور فلاوونائیڈ جیسے اینٹی آکسیڈنٹس شامل ہیں۔ اس میں انتھوسیانینز اور کائمپ فیرول ہوتے ہیں۔ یہ سبز بندگوبھی سے زیادہ ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جامنی بند گوبھی میں اینٹی آکسیڈنٹس کی سطح سبز بند گوبھی سے ساڑھے چار گنا زیادہ ہوتی ہے۔ یہ سلفورافین کا بھی اچھا ذریعہ ہے۔ سلفر سے بھر پور یہ مرکب دل کی صحت اور کینسر سے لڑنے کیلئے مفید ہے۔ سوزش سوزش بہت سی بیماریاں پیدا کرتی ہے اور اس سے لڑنے کے لیے جامنی بند گوبھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ایک تجربے سے معلوم ہوا کہ انسانی گَٹ میں جامنی بند گوبھی کی بعض اقسام سوزش کو 22 سے 40 فیصد کم کر دیتی ہیں۔ جانوروں پر ہونے والے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ سلفورافین بھی سوزش کو کم کرتا ہے جو اس سبزی میں پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بندگوبھی کو جلد پر لگانے سے جلد کی سوزش کم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ بالغ افراد جنہیں جوڑوں کے درد کی شکایت ہوتی ہے اگر وہ دن میں ایک بار اپنے گھٹنوں پر بند گوبھی لپیٹیں تو چار ہفتوں کے اختتام پر ان کے درد میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ کمی درد رفع کرنے والی جل کی نسبت کم ہوتی ہے۔ دل کی صحت جامنی بند گوبھی دل کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اس کی وجہ انتھوسیانینز ہوتی ہیں۔ یہ فلاوونائیڈ اینٹی آکسیڈنٹس کہے جاتے ہیں ہیں جن کی وجہ سے بندگوبھی کو اپنا مخصوص رنگ ملتا ہے۔ ایک وسیع تحقیق کے مطابق جو عورتیں باقاعدگی سے انتھوسیانینز والی غذائیں زیادہ مقدار میں کھاتی ہیں ان میں دل کے دورے کا خطرہ کم کھانے والیوں کی نسبت 11 سے 32 فیصد گھٹ جاتا ہے۔ انتھوسیانینز کی زیادہ مقدار سے فشار خون (بلڈ پریشر) میں بھی کمی ہوتی ہے اور دل کے امراض کا خطرہ بھی گھٹ جاتا ہے۔ جامنی بندگوبھی میں انتھوسیانینز کی 36 سے زائد اقسام ہوتی ہیں جو دل کے لیے فائدہ ہی فائدہ ہیں۔ ہڈیاں جامنی بندگوبھی میں ہڈیوں کو مضبوط بنانے والے بہت سے غذائی اجزا ہوتے ہیں۔ ان میں وٹامن سی اور ’’کے‘‘ کے علاوہ کیلشیم، میگنیشیم اور زنک کی تھوڑی مقدار شامل ہے۔ مثال کے طور پر ایک کپ (89 گرام) جامنی بند گوبھی سے دن کی وٹامن سی کی 56 فیصد ضرورت پوری ہوتی ہے، یہ ہڈیوں کی تشکیل میں کردار ادا کرتا ہے اور ہڈیوں کے خلیوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔ جامنی بندگوبھی میں وٹامن ’’کے۱‘‘ بھی بہت مقدار میں ہوتا ہے۔ یہ وٹامن زیادہ تر پودوں سے حاصل ہونے والی غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔ یہ وٹامن ’’کے۲‘‘ سے مختلف ہوتا ہے جو جانوروں سے حاصل ہونے والی اور خمیر شدہ غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔ دونوں طرح کے وٹامن ’’کے‘‘ ہڈیوں کی مضبوطی اور صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ کینسر جامنی بندگوبھی آپ کو بعض اقسام کے کینسر سے بچا سکتی ہے۔ ماہرین کے خیال میں اس کا سبب دو مرکبات ہیں جو کینسر سے لڑتے ہیں۔ یہ سلفورا فین اور انتھوسیانین ہیں۔ گوبھی کی نسل کی سبزیاں کھانے سے کولون کینسر کا خطرہ 18 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ ان سے سینے کے کینسر کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ سلفورا فین سے کینسر زدہ خلیوں کو مارنے میں مدد ملتی ہے اور ان کا پھیلاؤ کم ہوتا ہے۔ اسی طرح انتھوسیانین میں کینسر سے لڑنے کی طاقت ہوتی ہے۔ یہ عنصر سرخ، جامنی اور نیلے رنگ کے پھلوں اور سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ گَٹ جامنی سبز گوبھی سے گٹ کی صحت بہتر ہوتی ہے اور بڑی آنت میں mucositis کا مسئلہ کم ہوتا ہے۔ یہ گوبھی ریشے کا شاندار ذریعہ ہے جس سے گٹ صحت مند رہتا ہے اور غذا کے ہاضمے میں مددگار ہوتا ہے۔ اس میں غیر حل شدہ ریشہ 70 فیصد ہوتا ہے۔ اس سے قبض سے نجات ملتی ہے۔ باقی حل ہونے والا ریشہ گٹ میں موجود بیکٹیریا کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ آسان جامنی بند گوبھی کو خوراک میں شامل کرنا بہت آسان ہے۔ اسے خام حالت میں یعنی کچا کھایا جا سکتا ہے۔ اسے بہت سی ڈشز میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اسے سٹیم سے پکایا جا سکتا، روسٹ کیا جاسکتا ہے، ابالا جا سکتا، سوپ بنایا جا سکتا، سلاد میں شامل کیا جا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
 

Seemab_khan

ღ ƮɨƮŁɨɨɨ ღ
Moderator
Dec 7, 2012
7,653
5,504
1,113
✮hმΓἶρυΓ, ρმκἶჰནმῆ✮
جامنی بند گوبھی کے طبی فوائد
View attachment 114891

محمد شاہد

جامنی بند گوبھی غذائیت سے بھر پور سبزی ہے۔ اس کا ذائقہ سبز بندگوبھی سے ملتا جلتا ہے تاہم اس کے طبی فوائد زیادہ ہیں جن کے نتیجے میں صحت بہتر ہوتی ہے، ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور دل کی حالت اچھی ہوتی ہے۔ اس سے سوزش میں کمی ہوتی ہے اور فرد بعض اقسام کے کینسر سے محفوظ رہتا ہے۔ اسے کچا بھی کھایا جا سکتا ہے اور پکا کر بھی۔ ذیل میں سائنس کی روشنی میں اس کے طبی فوائد اور اجزا کو بیان کیا جا رہا ہے۔ غذائی اجزا جامنی بند گوبھی میں حرارے کم ہوتے ہیں اس کے باوجود اس میں غذائی اجزا کی مقدار حیران کن حد تک زیادہ ہوتی ہے۔ کٹی ہوئے کچی یا خام ایک کپ (89 گرام) جامنی بند گوبھی میں غذائی اجزا کی تفصیل کچھ یوں ہے؛ حرارے 28، پروٹین ایک گرام، کارب سات گرام، ریشہ دو گرام۔ اس مقدار میں وٹامن سی روزانہ کی ضرورت کا 56 فیصد، وٹامن ’’کے‘‘ 28 ، وٹامن بی ۶؍ 11، وٹامن اے چھ، پوٹاشیم پانچ ، تھیامین پانچ اور ریبوفلاوین روزانہ کی ضرورت کا پانچ فیصد شامل ہوتا ہے۔ جامنی بند گوبھی میں تھوڑی مقدار میں فولاد، کیلشیم، میگنیشیم، فاسفورس، کاپر اور زنک ہوتا ہے۔ طاقت ور جامنی بند گوبھی اینٹی آکسیڈنٹس کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ وہ مرکب ہوتے ہیں جو خلیوں کو ضرر سے بچاتے ہیں۔ اس میں وٹامن سی، کیروٹینائیڈز اور فلاوونائیڈ جیسے اینٹی آکسیڈنٹس شامل ہیں۔ اس میں انتھوسیانینز اور کائمپ فیرول ہوتے ہیں۔ یہ سبز بندگوبھی سے زیادہ ہوتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ جامنی بند گوبھی میں اینٹی آکسیڈنٹس کی سطح سبز بند گوبھی سے ساڑھے چار گنا زیادہ ہوتی ہے۔ یہ سلفورافین کا بھی اچھا ذریعہ ہے۔ سلفر سے بھر پور یہ مرکب دل کی صحت اور کینسر سے لڑنے کیلئے مفید ہے۔ سوزش سوزش بہت سی بیماریاں پیدا کرتی ہے اور اس سے لڑنے کے لیے جامنی بند گوبھی فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ ایک تجربے سے معلوم ہوا کہ انسانی گَٹ میں جامنی بند گوبھی کی بعض اقسام سوزش کو 22 سے 40 فیصد کم کر دیتی ہیں۔ جانوروں پر ہونے والے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ سلفورافین بھی سوزش کو کم کرتا ہے جو اس سبزی میں پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بندگوبھی کو جلد پر لگانے سے جلد کی سوزش کم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ بالغ افراد جنہیں جوڑوں کے درد کی شکایت ہوتی ہے اگر وہ دن میں ایک بار اپنے گھٹنوں پر بند گوبھی لپیٹیں تو چار ہفتوں کے اختتام پر ان کے درد میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ کمی درد رفع کرنے والی جل کی نسبت کم ہوتی ہے۔ دل کی صحت جامنی بند گوبھی دل کو فائدہ پہنچاتی ہے۔ اس کی وجہ انتھوسیانینز ہوتی ہیں۔ یہ فلاوونائیڈ اینٹی آکسیڈنٹس کہے جاتے ہیں ہیں جن کی وجہ سے بندگوبھی کو اپنا مخصوص رنگ ملتا ہے۔ ایک وسیع تحقیق کے مطابق جو عورتیں باقاعدگی سے انتھوسیانینز والی غذائیں زیادہ مقدار میں کھاتی ہیں ان میں دل کے دورے کا خطرہ کم کھانے والیوں کی نسبت 11 سے 32 فیصد گھٹ جاتا ہے۔ انتھوسیانینز کی زیادہ مقدار سے فشار خون (بلڈ پریشر) میں بھی کمی ہوتی ہے اور دل کے امراض کا خطرہ بھی گھٹ جاتا ہے۔ جامنی بندگوبھی میں انتھوسیانینز کی 36 سے زائد اقسام ہوتی ہیں جو دل کے لیے فائدہ ہی فائدہ ہیں۔ ہڈیاں جامنی بندگوبھی میں ہڈیوں کو مضبوط بنانے والے بہت سے غذائی اجزا ہوتے ہیں۔ ان میں وٹامن سی اور ’’کے‘‘ کے علاوہ کیلشیم، میگنیشیم اور زنک کی تھوڑی مقدار شامل ہے۔ مثال کے طور پر ایک کپ (89 گرام) جامنی بند گوبھی سے دن کی وٹامن سی کی 56 فیصد ضرورت پوری ہوتی ہے، یہ ہڈیوں کی تشکیل میں کردار ادا کرتا ہے اور ہڈیوں کے خلیوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔ جامنی بندگوبھی میں وٹامن ’’کے۱‘‘ بھی بہت مقدار میں ہوتا ہے۔ یہ وٹامن زیادہ تر پودوں سے حاصل ہونے والی غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔ یہ وٹامن ’’کے۲‘‘ سے مختلف ہوتا ہے جو جانوروں سے حاصل ہونے والی اور خمیر شدہ غذاؤں میں پایا جاتا ہے۔ دونوں طرح کے وٹامن ’’کے‘‘ ہڈیوں کی مضبوطی اور صحت کے لیے فائدہ مند ہیں۔ کینسر جامنی بندگوبھی آپ کو بعض اقسام کے کینسر سے بچا سکتی ہے۔ ماہرین کے خیال میں اس کا سبب دو مرکبات ہیں جو کینسر سے لڑتے ہیں۔ یہ سلفورا فین اور انتھوسیانین ہیں۔ گوبھی کی نسل کی سبزیاں کھانے سے کولون کینسر کا خطرہ 18 فیصد کم ہو جاتا ہے۔ ان سے سینے کے کینسر کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ سلفورا فین سے کینسر زدہ خلیوں کو مارنے میں مدد ملتی ہے اور ان کا پھیلاؤ کم ہوتا ہے۔ اسی طرح انتھوسیانین میں کینسر سے لڑنے کی طاقت ہوتی ہے۔ یہ عنصر سرخ، جامنی اور نیلے رنگ کے پھلوں اور سبزیوں میں پایا جاتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں زیادہ تحقیق کی ضرورت ہے۔ گَٹ جامنی سبز گوبھی سے گٹ کی صحت بہتر ہوتی ہے اور بڑی آنت میں mucositis کا مسئلہ کم ہوتا ہے۔ یہ گوبھی ریشے کا شاندار ذریعہ ہے جس سے گٹ صحت مند رہتا ہے اور غذا کے ہاضمے میں مددگار ہوتا ہے۔ اس میں غیر حل شدہ ریشہ 70 فیصد ہوتا ہے۔ اس سے قبض سے نجات ملتی ہے۔ باقی حل ہونے والا ریشہ گٹ میں موجود بیکٹیریا کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ آسان جامنی بند گوبھی کو خوراک میں شامل کرنا بہت آسان ہے۔ اسے خام حالت میں یعنی کچا کھایا جا سکتا ہے۔ اسے بہت سی ڈشز میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اسے سٹیم سے پکایا جا سکتا، روسٹ کیا جاسکتا ہے، ابالا جا سکتا، سوپ بنایا جا سکتا، سلاد میں شامل کیا جا سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
arey wahh :-bd
dykhny me b achii lgti hy ye wese...
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?