1. This site uses cookies. By continuing to use this site, you are agreeing to our use of cookies. Learn More.

جام شرمائے، صراحی کو پسینہ آگیا

Discussion in 'Ghazal' started by Untamed-Heart, May 18, 2018.

  1. Untamed-Heart

    Untamed-Heart
    Expand Collapse
    ❤HEART❤
    UpComing Staff

    Joined:
    Sep 21, 2015
    Messages:
    23,282
    Likes Received:
    7,247
    جام شرمائے، صراحی کو پسینہ آگیا
    آپ کو بھی بات کرنے کا قرینہ آگیا

    آ ترے ایمان کو پھولوں کے رس میں غسل دوں
    محتسب! برسات کا رنگیں مہینہ آگیا

    مڑ کے دیکھا تھا کہ دریا ایک قطرہ بن گیا
    آنکھ جھپکی تھی کہ ساحل پر سفینہ آگیا

    ہائے اُن مخمور آنکھوں کی پشیمانی کا حسن
    میں نے یہ سمجھا بہاروں کو پسینہ آگیا

    ہوگئی پیوست دل میں اس طرح اسکی نظر
    جس طرح خالی انگوٹھی میں نگینہ آگیا

    ہو نہیں سکتا کہ شیشہ آئے اور صہبا نہ آئے
    مے بھی آئے گی عدمؔ جب آبگینہ آگیا​

    عبد الحمید عدمؔ
     

Share This Page