جب غصہ بے قابو کر دے

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,607
8,598
1,313
Lahore,Pakistan
جب غصہ بے قابو کر دے
117154

رضوانہ کوثر
کیا آپ کو بہت غصہ آتا ہے؟ کیا آپ بعض اوقات غصے میں آپے سے باہر ہو جاتے ہیں؟ کیا آپ کا بچہ غصے میں بپھرے ہوئے شیر کی طرح ہو جاتا ہے؟ کیا غصہ اسے بے قابو کر دیتا ہے کہ وہ کچھ بھی سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا! تو اس کا سامنا کریں کیونکہ غصہ تو کسی کو کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔ غصہ عام انسانی جذبات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے ذریعے انسان کا شعور اس کے دماغ سے ذہنی اور جذباتی دباؤ کو خارج کرتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ عام سا نفسیاتی عمل کسی کو اس حد تک بے قابو بھی کر دیتا ہے کہ اس پر پاگل پن کے دورے کا گمان ہونے لگتا ہے اور غصے کی یہ انتہائی شدت یقینا درست نہیں، نہ ہی صحت کے لیے اور نہ ہی اچھی شخصیت کے لیے۔ اگر آپ اس طرح کی صورت حال سے گزر رہے ہوں تو سمجھ لیں کہ آپ غصے کی بے پناہ شدت سے گزر رہے ہیں اور غصے نے آپ کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کر لیا ہے۔ یہ یقینا عام غصہ نہیں، کیونکہ عام غصے کی کیفیت عارضی ہوا کرتی ہے اور وہ غیر متعلقہ معاملات پر پریشانی کا باعث نہیں بنتی۔ بے قابو غصے کی کیفیت میں عموماً فرد خود کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔ مثلاً تیز رفتار ڈرائیونگ، دوسروں سے لڑنا جھگڑنا، بے تحاشا سگریٹ پھونکنا، نشہ آور چیزوں کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔ اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟ اس کے لیے سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ آپ اس فرق کو پہچانیے کہ آپ کس وقت عام جذباتی کیفیت میں ہیں اور کب انتہائی شدت کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ اکثر لوگ بہت معمولی باتوں کا بہت گہرا اثر لیتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی ایسے شخص سے کوئی معمولی غلطی ہو جائے جس کا آپ بہت خیال رکھتے ہیں یا کوئی آپ کی کسی عزیز ترین یا محبوب چیز کو استعمال کرے، غلطی سے توڑ بیٹھے اور یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ یہ بات فقط آپ کے لیے اہم ہے، دوسرے کے لیے نہیں، آپ یک دم غصے کی غیر معمولی اور شدید ترین کیفیت میں مبتلا ہو جائیں تو یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ جب کبھی غصہ آئے تو ایک گہری سانس لیں اور فوری طور پر اس جگہ کو چھوڑ دیں جہاں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا اور پھر دماغ کو پُرسکون کر کے خود سے پوچھیں ’’میں کیوں اس قدر غصے میں ہوں؟‘‘ یہ سوال خود سے کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ اکثر لوگ اپنے غصے کا اظہار غلط کر جاتے ہیں، یعنی غصہ آنے کی وجہ کوئی اور ہوتی ہے اور غصہ نکل کسی اور بات پر جاتا ہے تو اپنی پریشانیوں کو پہچانیے اور اگر کوئی خاص چیز یا صورت حال آپ کو اس انتہائی کیفیت میں مبتلا کرتی ہے تو اس سے دور رہنے کی کوشش کریں تاکہ کچھ بہتر حل سوچ سکیں۔ کیونکہ زندگی میں دکھ سکھ تو آتے ہی رہتے ہیں۔ شاید زندگی کا حقیقی مزہ ہی انہیں دکھ سکھ میں ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اپنے وقت کی اچھی منصوبہ بندی کریں کیونکہ غصے کی کیفیت میں مبتلا ہونے کا ایک عام سا سبب عموماً وقت پر کام نہ کرنا یا وقت کی کمی ہے۔ آپ غور کریں کہ کیا اکثر ایسا تو نہیں ہوتا کہ جب کبھی آپ کوئی کام جلدی نمٹانا چاہتے ہوں اور ایسے میں کوئی آپ کو روک دے تو آپ کسی بم کی طرح پھٹ پڑتے ہیں۔ اس ضمن میں آسان طریقہ یہ ہے کہ بہت عقل مندی کے ساتھ اپنے وقت کی مناسب منصوبہ بندی کریں۔ روزانہ ورزش کریں۔ کہا جاتا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ورزش آپ کے اندر تناؤ کو کم کرنے میں کافی ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ ذہن اور جسم دونوں کو پُرسکون رکھتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں وہ زیادہ ٹھنڈے مزاج کے حامل ہوتے ہیں اور غـصے کی کیفیت میں بے قابو بھی نہیں ہوتے۔ آخری بات یہ ہے کہ جو بھی مسئلہ یا پریشانی ہو اس پر متعلقہ فرد سے بات کریں کیونکہ خاموش رہنے سے لاوا اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے اور پھر ایک دن کسی معمولی سی بات پر آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑتا ہے۔ بہتر ہے کہ بات چیت اور گفت و شنید سے مسئلے کا حل نکالا جائے اور خود کو غصے کی انتہائی کیفیت تک پہنچنے سے روکا جائے۔ اسلام میں بھی غصے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ آپ بھی اپنے غصے پر قابو پانا سیکھ لیں تاکہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ خود سے متعلق دیگر افراد کی زندگی میں بھی امن و سکون کی ضمانت بن سکیں۔ گھر جیسی چھوٹی سی جنت کو غصے کی گرم ہواؤں سے آلودہ کرنے کی بجائے امن و آشتی کی روشنی سے منور رکھیں کہ زندگی بڑی مختصر ہے اسے لڑتے جھگڑتے نہ گزاریں بلکہ ہنستے کھیلتے بسر کریں۔

 

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
4,260
4,437
213
کی طرح ہو جاتا ہے؟ کیا غصہ اسے بے قابو کر دیتا ہے کہ وہ کچھ بھی سننے اور سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا! تو اس کا سامنا کریں کیونکہ غصہ تو کسی کو کسی بھی وقت آ سکتا ہے۔ غصہ عام انسانی جذبات میں سے ایک ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے ذریعے انسان کا شعور اس کے دماغ سے ذہنی اور جذباتی دباؤ کو خارج کرتا ہے۔ لیکن کبھی کبھی یہ عام سا نفسیاتی عمل کسی کو اس حد تک بے قابو بھی کر دیتا ہے کہ اس پر پاگل پن کے دورے کا گمان ہونے لگتا ہے اور غصے کی یہ انتہائی شدت یقینا درست نہیں، نہ ہی صحت کے لیے اور نہ ہی اچھی شخصیت کے لیے۔ اگر آپ اس طرح کی صورت حال سے گزر رہے ہوں تو سمجھ لیں کہ آپ غصے کی بے پناہ شدت سے گزر رہے ہیں اور غصے نے آپ کو مکمل طور پر اپنے قابو میں کر لیا ہے۔ یہ یقینا عام غصہ نہیں، کیونکہ عام غصے کی کیفیت عارضی ہوا کرتی ہے اور وہ غیر متعلقہ معاملات پر پریشانی کا باعث نہیں بنتی۔ بے قابو غصے کی کیفیت میں عموماً فرد خود کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کا بھی شکار ہو جاتا ہے۔ مثلاً تیز رفتار ڈرائیونگ، دوسروں سے لڑنا جھگڑنا، بے تحاشا سگریٹ پھونکنا، نشہ آور چیزوں کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔ اس صورت حال میں کیا کیا جائے؟ اس کے لیے سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ آپ اس فرق کو پہچانیے کہ آپ کس وقت عام جذباتی کیفیت میں ہیں اور کب انتہائی شدت کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔ اکثر لوگ بہت معمولی باتوں کا بہت گہرا اثر لیتے ہیں۔ مثلاً اگر کسی ایسے شخص سے کوئی معمولی غلطی ہو جائے جس کا آپ بہت خیال رکھتے ہیں یا کوئی آپ کی کسی عزیز ترین یا محبوب چیز کو استعمال کرے، غلطی سے توڑ بیٹھے اور یہ سب جانتے ہوئے بھی کہ یہ بات فقط آپ کے لیے اہم ہے، دوسرے کے لیے نہیں، آپ یک دم غصے کی غیر معمولی اور شدید ترین کیفیت میں مبتلا ہو جائیں تو یہ کوئی اچھی بات نہیں۔ جب کبھی غصہ آئے تو ایک گہری سانس لیں اور فوری طور پر اس جگہ کو چھوڑ دیں جہاں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا اور پھر دماغ کو پُرسکون کر کے خود سے پوچھیں ’’میں کیوں اس قدر غصے میں ہوں؟‘‘ یہ سوال خود سے کرنا بہت ضروری ہے کیونکہ اکثر لوگ اپنے غصے کا اظہار غلط کر جاتے ہیں، یعنی غصہ آنے کی وجہ کوئی اور ہوتی ہے اور غصہ نکل کسی اور بات پر جاتا ہے تو اپنی پریشانیوں کو پہچانیے اور اگر کوئی خاص چیز یا صورت حال آپ کو اس انتہائی کیفیت میں مبتلا کرتی ہے تو اس سے دور رہنے کی کوشش کریں تاکہ کچھ بہتر حل سوچ سکیں۔ کیونکہ زندگی میں دکھ سکھ تو آتے ہی رہتے ہیں۔ شاید زندگی کا حقیقی مزہ ہی انہیں دکھ سکھ میں ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اپنے وقت کی اچھی منصوبہ بندی کریں کیونکہ غصے کی کیفیت میں مبتلا ہونے کا ایک عام سا سبب عموماً وقت پر کام نہ کرنا یا وقت کی کمی ہے۔ آپ غور کریں کہ کیا اکثر ایسا تو نہیں ہوتا کہ جب کبھی آپ کوئی کام جلدی نمٹانا چاہتے ہوں اور ایسے میں کوئی آپ کو روک دے تو آپ کسی بم کی طرح پھٹ پڑتے ہیں۔ اس ضمن میں آسان طریقہ یہ ہے کہ بہت عقل مندی کے ساتھ اپنے وقت کی مناسب منصوبہ بندی کریں۔ روزانہ ورزش کریں۔ کہا جاتا ہے اور حقیقت بھی یہی ہے کہ ورزش آپ کے اندر تناؤ کو کم کرنے میں کافی ممدومعاون ثابت ہوتی ہے۔ یہ ذہن اور جسم دونوں کو پُرسکون رکھتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں وہ زیادہ ٹھنڈے مزاج کے حامل ہوتے ہیں اور غـصے کی کیفیت میں بے قابو بھی نہیں ہوتے۔ آخری بات یہ ہے کہ جو بھی مسئلہ یا پریشانی ہو اس پر متعلقہ فرد سے بات کریں کیونکہ خاموش رہنے سے لاوا اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے اور پھر ایک دن کسی معمولی سی بات پر آتش فشاں کی طرح پھٹ پڑتا ہے۔ بہتر ہے کہ بات چیت اور گفت و شنید سے مسئلے کا حل نکالا جائے اور خود کو غصے کی انتہائی کیفیت تک پہنچنے سے روکا جائے۔ اسلام میں بھی غصے کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ آپ بھی اپنے غصے پر قابو پانا سیکھ لیں تاکہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ خود سے متعلق دیگر افراد کی زندگی میں بھی امن و سکون کی ضمانت بن سکیں۔ گھر جیسی چھوٹی سی جنت کو غصے کی گرم ہواؤں سے آلودہ کرنے کی بجائے امن و آشتی کی روشنی سے منور رکھیں کہ زندگی بڑی مختصر ہے اسے لڑتے جھگڑتے نہ گزاریں بلکہ ہنستے کھیلتے بسر کریں۔م
بہت عمدہ
 
Top
Forgot your password?