جماعت اسلامی کا یوم تاسیس نئے عزم و یقیں اور تجدید عہد کا دن !

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
جماعت اسلامی کا یوم تاسیس نئے عزم و یقیں اور تجدید عہد کا دن !
115546


سینیٹر سراج الحق

قرآن کریم کے مطابق انسان کا بنیادی مقصد حیات اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی رضا کی طلب ہے جس کے نتیجے میں اسے آخرت کی ابدی زندگی میں راحت اور فلاح ملے گی اور اللہ کو راضی کرنے کا راستہ وہی ہے جس کی نشاندہی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اور جس کا نمونہ آپ ؐ نے اپنی حیات طیبہ سے عملاً پیش کیاہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے تمام انسانوں کو اللہ کی طرف بلایا ۔ جنہوں نے آپؐ کی دعوت قبول کی ان کی سیرت سازی کی ، ان کا تزکیہ کیا ، انہیں کتاب و سنت کی تعلیم دی اور انہیں ایک منظم امت میں ڈھال لیا جس میں سمع و طاعت اور مشاورت کا نظام قائم تھا ۔ انہوں نے اس پوری امت کو اللہ کے راستے میں جدوجہد کے راستے پر ڈال دیا تاکہ اللہ کا کلمہ سربلند ہو ۔ انہوں نے ایک اسلامی حکومت اور ایک اسلامی معاشرہ قائم کیا ۔ جماعت اسلامی کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھاکہ امت مسلمہ کواسلام کے لئے منظم اور متحدکرناتھا۔ اس جدوجہد میں وہی طریق کار اختیار کیا جائے جس طریق کار کے مطابق حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قائم اور منظم کیا تھا ۔بعینہ یہی طریق کار جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی اور اس وقت کے بعض جید علمائے کرام کے مشورے سے اختیار کیا ۔ جماعت اسلامی منصئہ ظہورپر تو 26اگست 1941ء میں آئی مگر یہ اس تحریک ظہور اسلام کے وقت سے ہی جاری ہے ، آج یہ تحریک جماعت اسلامی کے نام سے آگے بڑھ رہی ہے۔ بقول علامہ محمد اقبال بہار ہو کہ خزاں لا الہ الا اللہ اس کے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے ہیں ، جماعت اسلامی میں شورائی نظام ہے جس میںکارکنان کی مشاورت کو ہمیشہ بڑی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ جماعت اسی منہج پر کاربند ہے جس کی تعلیم حضور پاکﷺ نے اپنی سنت مبارک سے دی تھی ۔جماعت اسلامی واحد جماعت ہے جس میں موروثیت کا کوئی شائبہ تک نہیں ،یہاں ہر کارکن قائد اور قائد کارکن ہے ۔ کوئی کارکن بھی قیادت کے منصب تک پہنچ سکتا ہے ۔دیگر جماعتوں خواہ وہ سیاسی ہوں یا دینی، ان میںجمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ،موروثیت نے پارٹیوں پر قبضہ جما کر انہیں خاندانی پراپرٹی بنا رکھا ہے ،ایک طبقہ اشرافیہ نے ان پارٹیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے ، کہیں جاگیردار ہیں کہیں وڈیرے اور سرمایہ دار! جماعت اسلامی نے ان موروثی خرابیوں اور خاندانی تسلط سے پاک ایک آئینی و جمہوری راستے پر چلتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھا ہوا ہے ۔ بانیٔ جماعت اسلامی سید مودودیؒ ،میاں طفیل محمد ؒ ، قاضی حسین احمد ؒ اور سید منور حسن کے کسی بیٹے ، بیٹی ، پوتے یا نواسے نے کبھی خواب میں بھی جماعت اسلامی کا امیر بننے کے متعلق نہیں سوچا ۔ جماعت اسلامی کی دعوت کا مرکزو محور ہی اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہے ۔ اس کی دعوت کا مرکزی نقطہ ہی یہ ہے کہ ـ ’’اللہ کی بندگی کے ساتھ دوسری بندگیا ں جمع نہ کرو‘‘ ہم کسی کو اپنے امیر کی طرف نہیں بلاتے اور نہ کسی خاص شخصیت کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کارکن اپنے امیر کی اطاعت بھی معروف میں کرتے ہیں ،مجہول اور منکر کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتے ۔ ( سید مودودی ؒ )۔ جماعت اسلامی عالمی اسلامی تحریکوں کی سرخیل کا کردار ادا کررہی ہے۔ اندرون ملک جماعت اسلامی کے شاندا رماضی نے اس کے تابناک مستقبل کی راہ متعین کردی ہے۔ آج ایک زمانہ جماعت اسلامی کی خدمات، خواہ وہ خدمت خلق کے حوالے سے ہوں ، دفاع وطن کے حوالے سے ہوں، جمہوریت کی بحالی اور اسلامی نظام حکومت کے قیام اور آئین پاکستان کی تدوین کے لئے ہوں یا ملک میں سیکولرزم اور فاشزم کا راستہ روکنے کے حوالے سے ہوں کا معترف ہے۔ جماعت اسلامی کی تنظیم ’طریقہ کار ‘ اپنے کاز سے کمٹمنٹ ، خدمت و اخلاص اور صلاحیتوں کا دشمن بھی اعتراف کرتے ہیں۔ جہاد کشمیر اور جہاد افغانستان میں جماعت اسلامی نے بنیادی کردار ادا کیاہے۔یہ جماعت اسلامی کی عوامی مقبولیت اور جدوجہد کا بین ثبوت ہے کہ آج بھی مسئلہ کشمیر کو ایک قومی مسئلہ کی حیثیت حاصل ہے اور حکمران تمام تر عالمی دبائو کے باوجود اس سے انحراف کی جرأت نہیں کرسکتے ۔ جماعت اسلامی کی تنظیم قابل رشک ہے ۔ اس کے کارکنان کے نظم و ضبط کی مثالیں دی جاتی ہیں ،جس پر ہم اللہ کے شکر گزار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکنان کے سامنے ایک واضح نصب العین ہے جس کو وہ کسی بھی صورت نظروں سے اوجھل نہیں ہونے دیتے ۔ جماعت اسلامی کے سینکڑوں ارکان و کارکنان سینیٹ ،قومی و صوبائی اسمبلیوں اور بلدیاتی اداروں کے ممبر رہے مگر کسی کے دامن پر کرپشن ،کمیشن ، اقربا پروری کا کوئی داغ نہیں ،یہ محض اللہ تعالیٰ کی کرم نواز ی اوراس کے سامنے جواب دہی کا احساس ہے ، ورنہ وہ بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جس میں سیاستدان دونوں ہاتھوں سے قومی دولت لوٹ رہے ہیں۔پانامہ کیس میں ملک کے 436 لوگوںکے نام آتے ہیں جو آف شور کمپنیوں کے مالک ہیں ،بنکوں سے اربوں کھربوں روپے کے قرضے لے کر ہڑپ کرجاتے ہیںاور عوام کی خوشیوں کا قتل عام کرتے ہیں ۔ جماعت اسلامی مظلوم طبقہ کی جنگ لڑ رہی ہے ۔ہم اقتدار کے ایوانوں کے دروازے عام آدمی پر کھولنے کی جدوجہد کررہے ہیں تاکہ غریب مزدور ،ہاری اور کسان کے بیٹے کو بھی زندگی گزارنے کی وہی سہولتیں مل سکیں جن سے وزیروںمشیروں اور حکمرانوں کے بیٹے لطف اندوز ہورہے ہیں ۔ ہماری سیاست کا بنیادی مقصد ملک میں شریعت کا نفاذہے ،ہم سمجھتے ہیں کہ وہ عظیم مقصد جس کیلئے ہمارے بڑوں نے بے انتہا قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا تھا اس وقت تک پورا نہیں ہوگا جب تک کہ یہاں مدینہ کی طرز پر ایک اسلامی و فلاحی حکومت قائم نہیں ہوجاتی ۔ایک ایسی حکومت جس کے پیش نظر معاشرے کے پسے ہوئے طبقہ کی فلاح و بہبود ہو ،جس میں یتیموں ، بیوائوں، مسکینوں اور غریبوں کو کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑیں اور ریاست ان کی کفالت کی ذمہ داری پوری کرے ۔یہ خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک کہ عوام اس کے حصول کیلئے ایک بڑی جدوجہد کیلئے تیار نہ ہوں۔ خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی۔۔نہ ہو خیال جس کو آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔ چار سال قبل نومبر میں جماعت نے مینار پاکستان لاہور کے سبزہ زار میں کل پاکستان اجتماع منعقد کیا ،اور ملک بھر سے عوام کو اسی میدان میں اکٹھا کیا جس میں کھڑے ہوکر ہمارے آبائو و اجداد نے ایک اسلامی ریاست کے حصول کا عہد کیا تھا ۔ہم نے قوم کو ’’اسلامی پاکستان ۔۔خوشحال پاکستان کا ایجنڈا دیا ۔جس میں یہ عہد کیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے جماعت اسلامی کو اقتدار دیا اور عوام نے ہم پر اعتماد کیا تو ہم پاکستان کو مدینہ کی اسلامی و فلاحی ریاست کا نمونہ بنا ئیں گے ۔سودی معیشت کا خاتمہ کیا جائے گا ،عورتوں اور طالبعلموں کو غیر سودی قرضے مہیا کئے جائیں گے ۔عام آدمی کے حقوق کا تحفظ کریں گے ،مزدوروں کسانوں اور محنت کشوں کو ان کا جائز مقام دلائیں گے ۔ مدارس کو بھی وہی سہولتیں دیں گے جو بڑے تعلیمی اداروں کالجوں اور یونیورسٹیوں کو حاصل ہیں ۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
2,800
2,784
213
پاکستان کی سب سے منظم سیاسی جماعت
کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا شکریہ
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?