جنگ میں سوپ,کیتلی اور شترمرغ کا انوکھا کردار

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,871
3,805
1,313
Lahore,Pakistan
جنگ میں سوپ,کیتلی اور شترمرغ کا انوکھا کردار

1564870997096.jpeg


رضوان عطا

جنگوں میں جان اور مال کا نقصان عموماً زیادہ اورکبھی کبھار کم ہوتا ہے۔ جنگوں میں ایسے واقعات بھی رونما ہوتے ہیں جو ان کے ’’مزاج‘‘ کے برخلاف، انوکھے اور مضحکہ خیز ہوں۔ ان میں سے تین کو ذیل میں بیان کیا جا رہا ہے۔ سوپ پر صلح: عہدِ وسطیٰ کے یورپ میں اصلاحِ مذہب کی تحریک کے ساتھ پروٹسٹنٹس اور کیتھولکس کے درمیان فرقہ وارانہ تنازعات بڑھ گئے۔ نتیجتاًلڑائیاں ممالک کے مابین بھی ہوئیں اور ان کے اندر بھی۔ دورِ حاضر میں امن پسند شمار ہونے والا یورپی ملک سوئٹزرلینڈ بھی اس مسئلے کی لپیٹ میں رہا۔ سولہویں صدی کے اوائل میں ملک کے دو دھڑے جنگ پر تُلے ہوئے تھے، دوسری طرف تنازعے کے پُرامن حل کرنے کے لیے قیادت مذاکرات کر رہی تھی البتہ دکھائی یہ دے رہا تھا کہ مذاکرات ناکام ہوں گے اور ہولناک جنگ شروع ہو جائے گی۔اس دوران وہ ہوا جس کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ دونوں دھڑوں کے سپاہی سوپ کے پیالوں پر اکٹھے ہو گئے۔ اس تنازعے کا پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ سولہویں صدی کے اوائل میں سوئٹزرلینڈ میں اصلاحِ مذہب کی تحریک پھیل چکی تھی۔ شمال میں زیورخ کے علاقے میں پروٹسٹنٹ حاوی تھے جن کی قیادت مارٹن لوتھر کی طرح کا مصلح الرک زونگلی کر رہا تھا۔ جنوب میں زُگ کے علاقے پر کیتھولک غالب تھے۔ دونوں کے درمیان بداعتمادی بہت بڑھ چکی تھی اور 1529ء کے گرما میں دونوں علاقوں کے درمیان سفارت کاری کم و بیش ناکام ہو چکی تھی۔ زیورخ کے سپاہیوں نے اسلحہ اٹھایا اور جنوب کی طرف چل دیے۔ اس دوران اگرچہ مذاکرات کا عمل پوری طرح ختم نہیں ہوا لیکن جنگ کے رکنے کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ زیورخ میں بریڈ اور نمک کی فراوانی ہوا کرتی تھی جبکہ زُگ میں فارمز سے دودھ کی پیداوار خاصی زیادہ تھی۔ ان دو عوامل نے ایک نئی کہانی کو جنم دیا۔ سپاہی چل چل کر بے حال ہو چکے تھے اور ان پر بھوک غالب آ چکی تھی۔دونوں سپاہ میدان جنگ میں بھوک مٹائے بغیر نہ رہ پائیں۔ ایک دھڑے نے بریڈ پیش کی اور دوسرے نے دودھ۔سوپ بنایا اورمل کر کھایا گیااور ساتھ ہی صلح کر لی۔ پیچیدہ حالات اتنی سادگی سے حل نہیں ہوا کرتے۔ لہٰذا سوپ نے اس وقت جنگ روک تو دی مگر کشیدگی برقرار رہی اور دو برس بعد دونوں میں جنگ ہوئی۔ بہرحال اس سوپ نے سوئس نفسیات میں اپنی جگہ بنا لی۔ آج بھی اگر سوئس سیاست دانوں میں جھگڑا ہو تو وہ اپنے اختلافات نپٹانے کے لیے اس سوپ کی میز پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ اس سوپ کو مِلک سوپی یا دودھ کا سوپ کہا جاتا ہے۔ اس کے دو بنیادی اجزا ہیں، بریڈ اور دودھ۔ عہدوسطیٰ کے سوئس کسانوں میں یہ عام غذا تھی لیکن آج سوئٹزرلینڈ میں اس کا استعمال کم ہو چکا ہے۔ اسے یاد کرنے کی کم از کم ایک وجہ ضرور موجود ہے اور وہ ہے خانہ جنگی روکنے میں بنیادی کردار۔ صرف کیتلی کا نقصان: اب آتے ہیں دوسری لڑائی کی طرف۔ ہولی رومن ایمپائر مغربی اور وسطی یورپ کے مختلف علاقوں پر مشتمل تھی۔ یہ عہدوسطیٰ کے اوائل میں وجود میں آئی اور نپولین کی جنگوں میں تحلیل ہو گئی۔ آٹھ اکتوبر 1784ء کو ہولی رومن ایمپائر اور ولندیزی جمہوریہ کے درمیان جنگ ہوئی۔ اسے ’’کیتلی کی جنگ‘‘ کہنے کا سبب یہ ہے کہ اس میں صرف ایک گولی چلی اور لگی بھی ایک کیتلی کو۔ ولندیزیوں نے ہسپانیہ سے آزادی کی طویل جنگ 1568ء سے 1648ء تک لڑی۔ اس کے نتیجے میں شمالی نیدرلینڈز میں ایک جمہوریہ وجود میں آئی۔ اس جنگ کے دوران ہی انہوں نے دریائے شیلٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔ جنوبی نیدرلینڈز بالآخر ہولی رومن ایمپائر کا حصہ بن گیا۔ آزاد شمالی نیدرلینڈز نے دریائے شیلٹ پر بحری تجارت پر پابندی لگا دی۔ اس سے نئی جمہوریہ کی معیشت کو بہت فائدہ ہوا لیکن جنوب کے شہروں کی تجارت خاک میں مل گئی۔ ان میں وہ شہر شامل تھے جو آج بلجیئم کا حصہ ہیں۔ 1648ء میں ہونے والے ’’پیس آف ویسٹ فالیا‘‘ کے تحت اس دریا کی تجارتی بندش کو تسلیم کر لیا گیا۔ ہولی رومن ایمپائر کے جوزف دوم نے 1781ء میں ولندیزی جمہوریہ اور سلطنتِ برطانیہ کے مابین لڑائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض علاقے حوالے کرنے اور دریا کو دوبارہ بحری تجارت کے لیے کھولنے کا مطالبہ کیا۔ ہولی رومن ایمپائر کو برطانیہ کی حمایت حاصل تھی۔ فرانس نے ولندیزیوں کی حمایت کی۔ اگرچہ علاقائی فوج معیاری اسلحے سے لیس نہیں تھی اور اسے آرٹلری اور سپلائی کی کمیابی کا سامنا تھا لیکن بادشاہ نے جنگ کی دھمکی دے ڈالی۔ اسے یقین تھا کہ ولندیزی جمہوریہ جواب دینے کی ہمت نہیں کرے گی۔ جوزف دوم نے اپنے تین بحری جہاز بھیجنے کا حکم دیا۔ وہ دریا کے پانیوں پر اپنی فرمانروائی قائم کرنا چاہتا تھا۔ بحری جہازوں میں سے سب سے آگے لی لوئس تھا۔ تینوں اینٹویرپ (موجودہ بلجیئم کا ایک قدیم شہر) سے نکلے اور دریائے شیلٹ کے پانیوں پر جنگ کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ ولندیزی بحری جہاز ڈولفیجن کو شاہی بحری جہازوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ اس کی طرف سے صرف ایک گولی چلی اور ایک کیتلی کو جا لگی۔ اس سے جانے کون سا ایسا تاثر پیدا ہوا کہ لی لوئس نے ہتھیار ڈال دیے اور ساتھ دوسروں نے۔ اس پر شہنشاہ جوزف دوم کو بہت غصہ آیا۔ 30 اکتوبر کو بادشاہ نے جنگ کا اعلان کر دیا۔لیکن یہ جنگ خاصی مہنگی ہو سکتی تھی اور پہلے حملے کا نتیجہ بھی اچھا نہیں نکلا تھا۔ دوسری جانب شہنشاہ کے اعلان پر ابتداً خاموشی اختیارکرنے کے بعد مخالفین نے تیاری شروع کر دی۔ تاہم دوسرا معرکہ نہ ہوا۔ اس چھوٹی سی لڑائی کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا اور معاہدہ فونٹین بلیو طے پایا۔ اس میں فیصلہ ہوا کہ دریائے شیلٹ پر تجارتی جہاز رانی بند رہے گی لیکن ولندیزی جمہوریہ جنوبی نیدرلینڈز کو اس کا ازالہ کرے گی۔ ایک خام اندازے کے مطابق جمہوریہ نے 10 سے 20 لاکھ گلڈر ادائیگی کی۔ خاصے عرصے بعد، بیلجیئم اور نیدرلینڈز کے درمیان دریا کی رسائی کا حتمی معاہدہ ہوا۔اس جنگ میں کیتلی کو لگنے والی گولی کے علاوہ کوئی دوسرا فائر نہ ہوا۔ آسٹریلوی شترمرغ کی جنگی حکمتِ عملی: آسٹریلیا ترقی یافتہ اور خوش حال ملک ہے لیکن 1930ء کی دہائی میں اس کی معیشت دگرگوں تھی اور اس کا ایک نتیجہ ایمو کہلانے والے مقامی شترمرغوں کے خلاف ’’جنگ‘‘ کی شکل میں نمودار ہوا۔اسے’’جنگِ شتر مرغ‘‘ کے نام سے یاد کیاجاتا ہے جس میں اپنی حکمتِ عملی سے آسٹریلوی شترمرغوں نے آسٹریلوی فوج کو واپسی پر مجبور کر دیا ۔ اس جنگ کا پسِ منظر کچھ یوں ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے بعد آسٹریلیا کے بہت سے سابق سپاہیوں اور کچھ برطانوی سپاہیوں کو مغربی آسٹریلیا میں کاشت کے لیے زمین دی گئی۔ 1929ء میں عالمی معاشی بحران کے شروع ہونے پر انہیں اس وعدے کے ساتھ گندم اگانے کا کہا گیا کہ حکومت سبسڈی فراہم کرے گی۔ حکومت ایسا کرنے میں ناکام رہی۔ گندم کی قیمت روز بروز کم ہونے لگی۔ 1932ء تک صورت حال بہت کشیدہ ہو گئی اور کسانوں نے گندم کی فراہمی روکنے کی دھمکی دے دی۔ کسانوں کی مشکل اس وقت دوچند ہو گئی جب 20 ہزار کے قریب آسٹریلوی شترمرغ ہجرت کر کے ان کے علاقوں میں آن پہنچے۔ شترمرغوں کو علاقہ پسند آ گیا کیونکہ ایک تو کسان زمین ہموار کر چکے تھے اور دوسرے مویشیوں وغیرہ کے لیے کیے گئے پانی کے انتظام تک ان کی رسائی ممکن تھی۔ انہیں تیار فصلیں بھی اچھی لگیں۔ پس وہ ان پر چڑھ دوڑے۔ انہوں نے وہ رکاوٹیں بھی توڑ ڈالیں جوفصلیں اجاڑنے والے خرگوشوں کی آمد روکنے کے لیے تھیں۔ اس مسئلے کا ایک حل یہ تھا کہ کسانوں کو اسلحے کے اجازت نامے زیادہ دے دیے جاتے، وہ شترمرغ اور خرگوش مار ڈالتے اور شاید پکا کر کھا بھی لیتے۔ حکومت نے متاثرہ مغربی آسٹریلیا میں 1932ء میں ’’جنگ‘‘ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اکتوبر میں شروع ہونے ’’جنگ‘‘ کی سربراہی رائل آسٹریلین آرٹلری کی سیونتھ ہیوی بیٹری کے میجر جی پی ڈبلیو میریڈتھ نے کی۔ لیکن اس دوران بارشیں شروع ہو گئیں اور ’’جنگ‘‘ روکنا پڑی۔ بارش کے نتیجے میں آسٹریلوی شتر مرغ وسیع علاقے میں پھیل گئے۔ ہوا یہ کہ مشین گنوں سے ان پرندوں کو مارنے کی کوششیں جزوی طور پر کامیاب ہوتیں۔ زیادہ تر بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے۔ چند ہی دنوں میں شترمرغوں نے حملے کی نوعیت کو سمجھ لیا۔ وہ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں بٹ گئے۔ ہر ٹولی کا ایک رہنما اور نگران بن گیا۔ ایک شترمرغ گردن اونچی کر کے اردگرد نظر رکھتا اور باقی فصلوں کی تباہی کا کام نپٹاتے۔ جوںہی انہیں ’’دشمن‘‘ کی آمد کا احساس ہوتا وہ دوڑ پڑتے۔ حملہ آور فوج چند ہفتوں میں تھک گئی اور بالآخر اسے واپس بلا لیا گیا۔ اس دوران اندازاً چند سو شترمرغ ہلاک ہوئے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
1,771
1,753
213
معاہدے فونٹین بلیو اور سندھ طاس معاہدے کا موازنہ کیا جائے تو مہزب اور باوقار قوموں کے عروج کا پتہ چلتا ہے ہمارے خطے میں بد امنی اور زوال کی وجوہات اخلاقیات کو پامال کرنا ہے
 
  • Like
Reactions: intelligent086

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,871
3,805
1,313
Lahore,Pakistan
معاہدے فونٹین بلیو اور سندھ طاس معاہدے کا موازنہ کیا جائے تو مہزب اور باوقار قوموں کے عروج کا پتہ چلتا ہے ہمارے خطے میں بد امنی اور زوال کی وجوہات اخلاقیات کو پامال کرنا ہے
یہ گھٹیا پن انڈین میں ہی پایا جاتا ہے ، پاکستان تو اپنی بات کا پاس کرتا ہے
 
Top
Forgot your password?