جے شری رام کے نعرے لگائو ۔۔۔جان بچائو

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,663
1,591
1,213
Lahore,Pakistan
جے شری رام کے نعرے لگائو ۔۔۔جان بچائو

یہاں آپ کو بھارتی گجرات کے بوتاد ضلع کے ایک گاؤں لئے چلتے ہیں جہاں کے نائب سرپنچ جنکا تعلق ہندوئوں کی نچلی ذات دلت برادری سے تھا کو 6 افراد نے لاٹھیوں اور لوہے کے پائپ سے مار مار کر قتل کر دیا۔یہ واقعہ اس وقت ہوا جب نائب سرپنچ اپنی موٹرسائیکل سے رنپورا۔بروالا سڑک سے گزر رہے تھے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ مرنے والے نائب سرپنچ کی بیوی گاؤں کی سرپنچ ہیں۔مرنے سے پہلے نائب سرپنچ مان جی بھائی سولنکی نے اپنے ایک رشتہ دار کو فون پر بتایاکہ ان کی بائیک کو کار نے ٹکر مار ی اور اس کے بعد کار میں سوار پانچ سے چھ افراد نے ان پر بے رحمانہ تشدد کیا ۔ سولنکی کا ایک ویڈیو بھی سامنے آیا ہے جس میں وہ تقریباً بے ہوشی کی حالت میں ہیں۔کچھ دن پہلے ہی متاثرہ اور ان کی بیوی نے پولیس سے تحفظ مانگا تھا۔مقتول کے بیٹے کا کہنا ہے کہ’’ پچھلے 20 سال سے میری فیملی کے لوگ گاؤں کے سرپنچ منتخب ہوتے چلے آ رہے ہیں، ابھی میری ماں سرپنچ ہیں اور والد نائب سرپنچ تھے۔ 2010ء سے میرے والد اور اشرافیہ کیکاٹھی دربار کمیونٹی کے لوگوں کے درمیان تنازعہ تھا۔ دربار کمیونٹی (شتریہ ) کے لوگ اس بات کو ہضم نہیں کر پا رہے ہیں کہ دلت گاؤں کے سر پنچ بن رہے ہیں۔‘‘

گجرات کے بعد چلتے ہیں آسام جہاں مسلم نو جوانوں کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور جبراً جئے شری رام اورپاکستان مردہ باد کے نعرے لگوائے گئے۔۔۔یہ معاملہ آسام کے بارپیٹا کا ہے۔ 18 جون کو رکشہ روک کر اس میں سوار مسلم کمیونٹی کے نوجوانوں کومبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔آل آسام مائنارٹی سٹوڈنٹ یونین (اے اے ایم ایس یو) اور نارتھ ایسٹ مائنارٹی سٹوڈنٹ یونین(این ای ایم ایس یو)کے بانی نے 2 ایف آئی آر درج کرائی ہیں ۔ پولیس کے مطابق؎حملہ آوروں نے متاثرین پر تشدد کے دوران ویڈیو بھی بنائی اور اس کو بعد میں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیا تاکہ دیکھنے والوں کو عبرت ہو ۔

اب چلتے ہیں راجدھانی دہلی جہاں کے علاقے روہنی میںمبینہ طور پر’’جئے شری رام‘‘کا نعرہ نہ لگانے پر3 کار سواروں نے مدرسے کے مولوی پر حملہ کیااورکار سے ٹکر مار دی۔ اس حملے میں مولوی کے سر چہرے اور ہاتھ پرشدید چوٹیں آئی ہیں۔پولیس میں درج شکایت میں شکایت گزار مولانا مومن جنکی عمر 40برس ہے نے کہا کہ یہ واقعہ شام کو اس وقت ہوا جب وہ مسجد کے مدرسے کے پاس ٹہل رہے تھے۔مولانا مومن کے مطابق’’جب میں شام کو تقریباً 6بج کر 45 منٹ پر مسجد کی طرف جا رہا تھا تو ایک کار نے پیچھے سے ٹکر مار دی۔ 3افراد نے مجھ سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی۔ مجھے ان کے ارادوں پر شک تھا پھر بھی میں نے ہاتھ ملایاتینوں نے حال چال کے بارے میں پوچھا،میں نے جواب دیا، اللہ کے فضل سے اچھا ہوں ۔ ان لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور جئے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا۔میں نے انکار کر دیا واپس مسجد جانے لگا لیکن مجھے گاڑی نے ٹکر ماری۔ زمین پر گرتے ہی میں ہوش کھو بیٹھا۔‘‘

دوسری جانب مظفر پور میں 100انسانی ڈھانچے ملنے سے خوف و ہراس اور سنسنی پھیلی ہوئی ہے ،شری کرشن میڈیکل کالج ہسپتال میں جہاں بچوں کی اموات کا سلسلہ نہیں تھم رہا وہیں ہسپتال کے احاطے کے باہر جھاڑیوں میں انسانی ڈھانچے ملنے سے پورے بھارت میں سنسنی پھیل گئی ہے ۔ ایسا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ لاوارث لاشوں کا پوسٹ مارٹم کر کے آخری رسوم ادا کئے بغیر ہی انہیںہسپتال کے پیچھے پھینک دیا گیا ہے۔

اور اب ذکر کریں بھارت کی بڑی ریاست اتر پردیش کے آگرہ کا جہاں گاؤں چاہ پوکھر میں قبرستان کیلئے کوئی جگہ نہیں اور مسلمان میتوں کو اپنے گھر میں ہی دفن کرنے پر مجبور ہیں ۔ ۔ اس گاؤں کے لوگوں کے پاس زمین نہیں ہے اور و ہ بے حد غریب ہیں۔ زیادہ تر مسلمان مرد ٹھیکے پر مزدوری کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ گاؤں میں مٹھی بھر مکانوں میں رہنے والے ان مسلمانوں کے گھر قبرستان بن چکے ہیں۔ عورتیں جہاں کھانا بناتی ہیںاس کے پاس ہی ان کے بچوں کی قبریں ہیں۔ گھر کے پیچھے والے حصے میں جہاں بزرگ آرام کر تے ہیں وہاں بھی قبریں ہی قبریں ہیں۔مقامی افرادکا کہنا ہے کہ برسوں سے ان کے قبرستان کے مطالبے کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹر کو ایک مسلم نوجوان نے کہا ’’آپ میری دادی کی قبر پر بیٹھی ہیں۔ ان کو یہیں دفن کیا گیا تھا۔‘‘فیکٹری میں کام کرنے والے منیم خان کہتے ہیں ’’ہم اپنے آبائو اجداد کیلئے کچھ زمین ہی تو مانگ رہے ہیں۔گاؤں کے پاس ہی ہندو کمیونٹی کیلئے شمشان گھاٹ ہے لیکن ہم اپنی میت کے ساتھ رہنے کو مجبو رہیں۔‘‘اسی گاؤں کی رہنے والی رنکی بیگم کے مطابق انہوں نے اپنے گھر کے پیچھے ہی خاندان کے 5 لوگوں کو دفن کیا اس میں ان کا 10 مہینے کا بیٹا بھی شامل ہے،جس کی موت وقت پر علاج نہیں کرا پانے کی وجہ سے ہوگئی تھی۔ ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ ’’ہم جیسے غریب لوگ عزت سے مر بھی نہیں پاتے گھر میں جگہ کی کمی وجہ سے ہم قبر پر ہی بیٹھنے اور چلنے کو مجبور ہیں یہ بہت شرمناک صورتحال ہے ۔‘‘ گاؤں کے پردھان سندر کمار کہتے ہیں کہ میں نے کئی بار اس بارے میں افسروں سے بات کی اور مسلمانوں کے قبرستان کیلیے جگہ کے بارے میں پوچھا لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?