حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,445
7,464
1,313
Lahore,Pakistan
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
بچے کی ولادت پرگھٹی دینا والدین کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔عام طور پر شہد یا کھجور یا کوئی اور چیز ڈال دی جاتی ہے ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضرات صحابہ ؓکے ہاں جب بچے پیدا ہوتے تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے گھٹی ڈلوائی جاتی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سیدنا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں جب یہ پیدا ہوئے تو حضرت عباس رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اپنے اس بیٹے کوحضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ،اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب مبارک انکے منہ میں ڈال دیا اور دعادی
{ اَللّٰہُمَّ عَلِّمْہُ الْقُرْآن۔ اَللّٰہُمَّ وَفَقِّھْہُّ فِیْ الدِّیْن۔ }
مفہوم: اللہ اس بچے کو قرآن کا علم دینا اور اسکو دین کی سمجھ دینا
اللہ نے اپنے نبی کی اس دعا کو قبول فرمایا، اسی وجہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ چھوٹے سے بچے تھے یعنی دس بارہ سال کے بچے تھے تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے حضرات ان کو اپنی مجلس میں اپنے ساتھ رکھتے ،بڑی بڑی عمر والے حضرات موجود ہوتے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی یہ اللہ کے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا اثر تھا کہ قرآن مجیدکو سمجھنے کاا للہ تعالیٰ نے انکو وہ شرف عطاء کیا کہ جن باتوں کا جواب بڑے بڑے حضرات نہیں دے سکتے تھے ان باتوں کا جواب حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بڑی آسانی سے دے دیا کرتے تھے۔

 
  • Like
Reactions: Angela and maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
3,713
3,788
213
ماشاءاللہ
بہت عمدہ انتخاب
شیئر کرنے کا شکریہ
جزاک اللہ خیراً کثیرا
 
  • Like
Reactions: intelligent086

Angela

~LONELINESS FOREVER~
TM Star
Apr 29, 2019
2,692
2,814
213
~Dasht e Tanhaayi~
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
بچے کی ولادت پرگھٹی دینا والدین کی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔عام طور پر شہد یا کھجور یا کوئی اور چیز ڈال دی جاتی ہے ،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضرات صحابہ ؓکے ہاں جب بچے پیدا ہوتے تو رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے گھٹی ڈلوائی جاتی۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سیدنا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے بیٹے ہیں جب یہ پیدا ہوئے تو حضرت عباس رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ہیں اپنے اس بیٹے کوحضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے ،اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب مبارک انکے منہ میں ڈال دیا اور دعادی
{ اَللّٰہُمَّ عَلِّمْہُ الْقُرْآن۔ اَللّٰہُمَّ وَفَقِّھْہُّ فِیْ الدِّیْن۔ }
مفہوم: اللہ اس بچے کو قرآن کا علم دینا اور اسکو دین کی سمجھ دینا
اللہ نے اپنے نبی کی اس دعا کو قبول فرمایا، اسی وجہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ چھوٹے سے بچے تھے یعنی دس بارہ سال کے بچے تھے تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ جیسے حضرات ان کو اپنی مجلس میں اپنے ساتھ رکھتے ،بڑی بڑی عمر والے حضرات موجود ہوتے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی یہ اللہ کے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کا اثر تھا کہ قرآن مجیدکو سمجھنے کاا للہ تعالیٰ نے انکو وہ شرف عطاء کیا کہ جن باتوں کا جواب بڑے بڑے حضرات نہیں دے سکتے تھے ان باتوں کا جواب حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بڑی آسانی سے دے دیا کرتے تھے۔


عمدہ تحریر۔۔جزاک اللہ خیرا و کثیرا۔۔۔
بے شک انہوں نے اپنی کم سنی اور نو عمری کے باوجود حصولِ علم کے ہر طریقے کو اختیار کیا اور اس راہ میں انتہائی جاں فشانی اور ان تھک محنت سے کام لیا۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چشمہ صافی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھر سیراب ہوتے رہے۔ آپ کے وصال کے بعد وہ باقی ماندہ علما صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے بھرپور استفادہ فرمایا۔ وہ اپنے شوقِ علم کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ک
جب کسی صحابی کے متعلق مجھے معلوم ہوتا کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث ہے تو میں قیلولہ کے وقت دوپہر میں ان کے دروازے پر پہنچ جاتا اور اپنی چادر کو سرہانے رکھ کر ان کے گھر کی چوکھٹ پر لیٹ جاتا۔ اس وقت دوپہر کی تیز اور گرم ہوائیں بہت سا گردو غبار اڑا کر میرے اوپر ڈال دیتیں۔ حالانکہ اگر میں ان کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگتا تو مجھے اجازت مل جاتی۔ لیکن میں ایسا اس لیے کرتا تھا کہ ان کی طبیعت مجھ سے خوش ہو جائے، جب وہ صحابی گھر سے نکلتے اور مجھے اس حال میں دیکھتے تو کہتے؛ ابن عمِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! آپ نے کیوں یہ زحمت گوارا کی، آپ نے میرے یہاں اطلاع بھجوا دی ہوتی، میں خود حاضر ہو جاتا لیکن میں جواب دیتا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ حصول علم کے لیے صاحب علم کے پاس جایا جاتا ہے۔صاحب علم خود طالب علم کے پاس نہیں جایا کرتے۔ پھر میں ان سے حدیث پوچھتا
 

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,445
7,464
1,313
Lahore,Pakistan
عمدہ تحریر۔۔جزاک اللہ خیرا و کثیرا۔۔۔
بے شک انہوں نے اپنی کم سنی اور نو عمری کے باوجود حصولِ علم کے ہر طریقے کو اختیار کیا اور اس راہ میں انتہائی جاں فشانی اور ان تھک محنت سے کام لیا۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چشمہ صافی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھر سیراب ہوتے رہے۔ آپ کے وصال کے بعد وہ باقی ماندہ علما صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے بھرپور استفادہ فرمایا۔ وہ اپنے شوقِ علم کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ک

جب کسی صحابی کے متعلق مجھے معلوم ہوتا کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث ہے تو میں قیلولہ کے وقت دوپہر میں ان کے دروازے پر پہنچ جاتا اور اپنی چادر کو سرہانے رکھ کر ان کے گھر کی چوکھٹ پر لیٹ جاتا۔ اس وقت دوپہر کی تیز اور گرم ہوائیں بہت سا گردو غبار اڑا کر میرے اوپر ڈال دیتیں۔ حالانکہ اگر میں ان کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگتا تو مجھے اجازت مل جاتی۔ لیکن میں ایسا اس لیے کرتا تھا کہ ان کی طبیعت مجھ سے خوش ہو جائے، جب وہ صحابی گھر سے نکلتے اور مجھے اس حال میں دیکھتے تو کہتے؛ ابن عمِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! آپ نے کیوں یہ زحمت گوارا کی، آپ نے میرے یہاں اطلاع بھجوا دی ہوتی، میں خود حاضر ہو جاتا لیکن میں جواب دیتا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ حصول علم کے لیے صاحب علم کے پاس جایا جاتا ہے۔صاحب علم خود طالب علم کے پاس نہیں جایا کرتے۔ پھر میں ان سے حدیث پوچھتا
ماشاءاللہ
خوب صورت اضافہ
جزاک اللہ خیراً کثیرا
 
  • Like
Reactions: Angela and maria_1
Top
Forgot your password?