حکایتِ سعدیؒ ، حضرت حاتم اصمؒ اور مکھّی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,720
5,726
1,313
Lahore,Pakistan
115566


بیان کیا جاتا ہے، حضرت حاتم اصمؒ اپنے مکان کے جس حصے میں بیٹھا کرتے تھے اس کی چھت میں مکڑی نے جالا تن رکھا تھا۔ ایک دن آپؒ اپنے مریدوں اور عقیدت مندوں کے حلقے میں بیٹھے ہوئے ان سے گفتگو فرما رہے تھے کہ ایک مکھی، مکڑی کے جالے میں پھنس کر بھنبھنانے لگی۔ حضرت نے اس کی بھنبھناہٹ سنی تو اس طرف دیکھ کر فرمایا، اے لالچی! اب یونہی پھنسی رہ۔ نادان! ہر جگہ شہد اور قند نہیں ہوتی۔ دنیا تو وہ جگہ ہے کہ اس کے اکثر مقامات پر مکروفریب کے جال پھیلے ہوئے ہیں۔ حضرت کی زبان سے یہ بات سنی تو ایک مرید نے حیران ہو کر کہا، یا حضرت! آپ نے اتنے فاصلے سے مکھی کی بھنبھناہٹ کیسے سن لی؟ مرید کی یہ حیرت دراصل اس وجہ سے تھی کہ لوگ آپؒ کو بہرا خیال کرتے تھے۔ اصم عربی زبان میں بہرے ہی کو کہتے ہیں۔ حضرت نے جواب دیا، تم مجھے بہرا ہی سمجھو کیونکہ میں نے باطل گفتگو اور اپنی بڑائی کی باتیں سننے سے اپنے کانوں کو بہرا بنا لیا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ لوگ میری خوبیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے ہیں اور میرے عیبوں کو مجھ سے چھپاتے ہیں لیکن اب کہ میں بہرا مشہور ہو گیا ہوں، وہ اکثر میرے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کے دل میں ہوتا ہے سن کے جو اپنی بڑائی خوش ہوا جان لو پھندے میں شیطاں کے پھنسا خودستائی کیا ہے، اک اندھا کنواں کیسا بدقسمت ہے جو اس میں گرا حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں غرور اور خود ستائی کی مذمت کی ہے۔ آپؒ نے حضرت حاتم اصمؒ کے حوالے سے یہ ثابت کیا ہے کہ غلط باتیں سننے سے بہتر ہے کہ انسان بہرا ہو۔ یہ حکایت پڑھتے ہوئے دل میں یہ وہم آ سکتا ہے کہ یہ تو کوئی اچھی بات نہیں کہ اچھی بھلی سماعت رکھنے والا شخص بہرا بن جائے۔ لیکن حضرت حاتم اصمؒ کے بارے میں اس قسم کے خیال دل میں آنا مناسب نہ ہو گا۔ اس سلسلے میں یقینی بات یہ ہے کہ اخلاق سے گری ہوئی باتوں پر توجہ نہ دینے کے باعث لوگ آپؒ کو بہرا خیال کرنے لگے ہوں گے اور آپؒ کا ایسا کرنا اسلام کی تعلیمات کے عین مطابق تھا۔ مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس قسم کی باتیں سنیں تو ایسی گفتگو میں شامل نہ ہوں۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?