حکایت سعدی ،سچا بہادر

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,720
5,726
1,313
Lahore,Pakistan
حکایت سعدی ،سچا بہادر
115452

بیان کیا جاتا ہے، ایک شریف اور دانا شخص بازار سے گزر رہا تھا۔ ایک فاتر العقل مست نے راستہ روک کر اس کا گریبان پکڑ لیا اور اس کے منہ پر کئی مکے رسید کر دیے۔ اس نے یہ تشدد نہایت صبر سے برداشت کیا، نہ جواب میں اس مست کو مارا اور نہ جھڑکا۔ ایک شخص یہ تماشا دیکھ رہا تھا۔ اس نے عقل مند سے کہا، کیا تو مرد نہیں ہے جو یوں بزدلوں کی طرح مار کھا رہا ہے؟ یہ بات سن کر عقل مند نے کہا، بھائی! ایسا خیال نہ کر، بلکہ میری طرح اس راز سے آگاہ ہو جا کہ ظلم کرنے کے مقابلے میں برداشت کرنا زیادہ عظمت کی بات ہے۔ شریف کی پہچان ہی یہ ہے کہ ظلم سہہ لیتا ہے، ظلم کرتا نہیں، بلکہ ہو سکے تو ظلم کے مقابلے میں مہربانی کا برتاؤ کرتا ہے مردِ ناداں سے جو الجھے اسے دانا نہ کہو شیر گیدڑ کو نہ سمجھے گا کبھی اپنا حریف قوتِ ضبط و تحمل ہے شجاعت کا نشاں خود کو قابو میں جو رکھے، ہے وہی مردِ شریف حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں حقیقی شجاعت کی جھلک دکھائی ہے۔ عام لوگ اس خصلت کو شجاعت خیال کرتے ہیں کہ انسان ناک پر مکھی نہ بیٹھنے دے اور اینٹ کا جواب پتھر سے دے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس خصلت کا شجاعت سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔ یہ تو جانوروں کا سا وحشی پن ہے۔ شجاعت اس پاکیزہ خصلت کا نام ہے جس میں عدل، ضبط اور درگزر کے جذبے شامل ہوتے ہیں۔

 
Top
Forgot your password?