حکایت سعدی ، درویشوں سے سمجھوتا

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
حکایت سعدی ، درویشوں سے سمجھوتا
115466

بیان کیا جاتا ہے، ایک عادل اور خدا ترس سلطان رعایا کے حالات سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے بھیس بدل کر رات کے وقت گشت کیا کرتا تھا۔ ایک شب وہ ایک مسجد کے قریب سے گزرا تو اس نے دو درویشوں کو دیکھا جو سردی کی وجہ سے ٹھٹھر رہے تھے۔ سلطان ان کے حالات سے پوری طرح آگاہ ہونے کے لئے وہاں رک گیا۔ ایک درویش نے دوسرے سے کہا اگر قیامت کے دن خدا نے ان بادشاہوں کو بھی بخش دیا تو میں اپنی قبر سے باہر نکلنے سے انکار کردوں گا۔ آخر یہ کہاں کا انصاف ہوگا کہ یہ دنیا میں بھی عیش کریں اور آخرت کی زندگی میں جنت کے حقدار بن جائیں۔ سچ کہتا ہوں اگر ہمارا بادشاہ جو مَلکِ صالح کہلاتا ہے، جنت کی دیوار تک بھی آیا تو جوتے مار کر اس کا بھیجا پلپلا کر دوں گا۔ سلطان سردی کے ستائے ہوئے ان درویشوں کی یہ گفتگو سن کر وہاں سے چلا آیا اور سورج طلوع ہوتے ہی پیادے بھیج کرانہیں دربار میں بلوایا، انہیں عزت کی جگہ بٹھایا اور انعام واکرام سے نوازا۔ درویش اس حسنِ سلوک پر حیران تھے۔ ایک درویش سے نہ رہا گیا۔ اس نے بادشاہ کی طرف جھک کر رازداری کے انداز میں پوچھا کہ خداوند نعمت کا اقبال بلند ہو۔ درویش یہ بات نہ سمجھ سکے آخر انہیں کس وجہ سے اس قدر عزت و اکرام کے قابل سمجھا گیا؟ درویش کی یہ بات سن کر سلطان ہنس پڑا۔ پھر بولا، بھائی میں ان مغروروں میں سے نہیں ہوں جو کمزوروں اور غریبوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ تمہیں چاہیے کہ اپنے دل سے یہ خیال نکال دو کہ قیامت کے دن میری مخالفت کرو گے۔ میں نے اس دنیا ہی میں تم سے صلح کرلی ہے۔ امید ہے اب تم مجھ پر بہشت کا دروازہ بند نہ کرو گے۔ حضرت سعدیؒ فرماتے ہیں، اے صاحبِ اختیار شخص تجھے یہی طریقہ اختیار کرنا چاہیے جو شخص درویشوں کی سیوا کرے گا وہی بہشت کا میوہ کھائے گا۔ حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں حاکموں اور صاحبِ ثروت لوگوں کو یہ درس دیا ہے کہ انہیں غریبوں کے حالات سے باخبر رہنا چاہیے اور ان کی امداد و اعانت پر کمربستہ رہنا چاہیے۔ یہ خیال کرنا شیطان کے فریب میں مبتلا ہونا ہے کہ ہمارے پاس جو دولت ہے وہ ہماری اہلیتوں اور قابلیتوں کا ثمر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح کسی موزوں شخص کو خزانچی کے عہدے پر مقرر کیا جاتا ہے اور یہ بات اس کے فرائض میں شامل ہوتی ہے کہ مستحق لوگوں کو سرکاری خزانے میں سے بلاعذر رقوم ادا کرے۔ بالکل اسی طرح اللہ پاک اپنے بعض بندوں کو ان کی ضرورت سے زیادہ مال دے دیتا ہے یہ بھی گویا سرکاری خزانہ ہوتا ہے جسے وہ اپنی ذات پر بلاکسی شرط کے خرچ نہیں کر سکتے۔ اگر بدقسمتی سے کوئی ایسا کرے تو وہ خیانت کا مرتکب ہوگا اور آخرت میں سخت سزا پائے گا۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?