حکایت سعدی ، مغرور نجومی

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
حکایت سعدی ، مغرور نجومی

طاقت، دولت، علم اور عہدے کی وجہ سے خود کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا غرور کہلاتا ہے۔ غرور ایک ایسی حالت کا نام ہے جس میں انسان خود کو دوسروں سے اعلیٰ و افضل سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ غرور اور تکبر کو ناپسند فرماتا ہے۔ کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو طاقت، دولت، علم اور عہدہ نہ رکھتے ہوئے بھی غرورمیں مبتلا ہوتے ہیں۔ مغرور افراد کا سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ ایسا ہی حال حضرت شیخ سعدیؒ کی اس حکایت میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نصیحت آموز حکایت غرور اور دوسروں کو حقیر جاننے کے ذہنی مرض میں مبتلا افراد سمیت ہر خاص و عام کو دعوتِ فکر دیتی ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے، ایک نجومی نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ جس باکمال عالم نے مشہور حکیم الرئیس بو علی سینا کو تعلیم دی ہے، اس کا شاگرد بنے اور اس سے علم حاصل کرے۔ چنانچہ وہ طویل فاصلہ طے کر کے شیخ کے استاد حکیم کوشیار کے پاس پہنچ گیا۔ یہ نجومی علم کے لحاظ سے بالکل معمولی درجہ رکھتا تھا لیکن اسے غلط فہمی یہ تھی کہ وہ بہت بڑا عالم فاضل ہے۔ استاد کو پہلی نظر ہی میں اندازہ ہو گیا کہ یہ شخص بہت مغرور اور خودپسند ہے اور اسی وجہ سے اس نے اسے یوں نظرانداز کر دیا گویا اس کے وہاں آنے سے باخبر ہی نہ ہو۔ نجومی کئی دن وہاں ٹھہرا رہا اور جب استاد کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو وہاں سے چلنے کی ٹھانی۔ جب وہ رخصت ہونے لگا تو استاد کوشیار نے اس سے کہا، تو یہاں سے اس لیے کچھ حاصل کیے بغیر جا رہا ہے کہ تیرے دماغ میں غرور بھرا ہوا تھا کہ تو بہت کچھ جانتا ہے۔ یاد رکھ! اسی پیالے میں کوئی چیز بھری جا سکتی ہے جو خالی ہو ہر طرح ناکارہ کر دیتا ہے انساں کو غرور دوڑ میں خرگوش کی مانند کھا جاتا ہے مات کس طرح دل میں سمائے اس کے دانائی کی بات ظرف خالی ہو تو ڈالا جا سکے آبِ حیات اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے علم اور حق کے طالبوں کو ایک زریں اصول بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کو چاہیے بڑی سے بڑی حیثیت حاصل کرنے کے باوجود اپنے آپ کو طالب علم خیال کرے۔ جو انسان خود کو کامل خیال کرتا ہے اس کے بارے میں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ مزید سیکھنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکا ہے اور شیطان نے اسے گمراہ کر دیا ہے۔
 
  • Like
Reactions: me-back and maria_1

ROHAAN

LOVE IS LIFE
TM Star
Aug 14, 2016
2,651
1,970
513
سبق آموز حکایت
سدا خوش رہیں
 

me-back

Regular Member
Jul 11, 2019
103
73
28
حکایت سعدی ، مغرور نجومی

طاقت، دولت، علم اور عہدے کی وجہ سے خود کو بڑا اور دوسروں کو حقیر سمجھنا غرور کہلاتا ہے۔ غرور ایک ایسی حالت کا نام ہے جس میں انسان خود کو دوسروں سے اعلیٰ و افضل سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ غرور اور تکبر کو ناپسند فرماتا ہے۔ کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں جو طاقت، دولت، علم اور عہدہ نہ رکھتے ہوئے بھی غرورمیں مبتلا ہوتے ہیں۔ مغرور افراد کا سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ ایسا ہی حال حضرت شیخ سعدیؒ کی اس حکایت میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ نصیحت آموز حکایت غرور اور دوسروں کو حقیر جاننے کے ذہنی مرض میں مبتلا افراد سمیت ہر خاص و عام کو دعوتِ فکر دیتی ہے ۔ بیان کیا جاتا ہے، ایک نجومی نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ جس باکمال عالم نے مشہور حکیم الرئیس بو علی سینا کو تعلیم دی ہے، اس کا شاگرد بنے اور اس سے علم حاصل کرے۔ چنانچہ وہ طویل فاصلہ طے کر کے شیخ کے استاد حکیم کوشیار کے پاس پہنچ گیا۔ یہ نجومی علم کے لحاظ سے بالکل معمولی درجہ رکھتا تھا لیکن اسے غلط فہمی یہ تھی کہ وہ بہت بڑا عالم فاضل ہے۔ استاد کو پہلی نظر ہی میں اندازہ ہو گیا کہ یہ شخص بہت مغرور اور خودپسند ہے اور اسی وجہ سے اس نے اسے یوں نظرانداز کر دیا گویا اس کے وہاں آنے سے باخبر ہی نہ ہو۔ نجومی کئی دن وہاں ٹھہرا رہا اور جب استاد کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو وہاں سے چلنے کی ٹھانی۔ جب وہ رخصت ہونے لگا تو استاد کوشیار نے اس سے کہا، تو یہاں سے اس لیے کچھ حاصل کیے بغیر جا رہا ہے کہ تیرے دماغ میں غرور بھرا ہوا تھا کہ تو بہت کچھ جانتا ہے۔ یاد رکھ! اسی پیالے میں کوئی چیز بھری جا سکتی ہے جو خالی ہو ہر طرح ناکارہ کر دیتا ہے انساں کو غرور دوڑ میں خرگوش کی مانند کھا جاتا ہے مات کس طرح دل میں سمائے اس کے دانائی کی بات ظرف خالی ہو تو ڈالا جا سکے آبِ حیات اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے علم اور حق کے طالبوں کو ایک زریں اصول بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان کو چاہیے بڑی سے بڑی حیثیت حاصل کرنے کے باوجود اپنے آپ کو طالب علم خیال کرے۔ جو انسان خود کو کامل خیال کرتا ہے اس کے بارے میں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ مزید سیکھنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکا ہے اور شیطان نے اسے گمراہ کر دیا ہے۔

nice sharing ...bro ..
keep sharing
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?