خرابیٔ معدہ میں مفید غذائیں

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
خرابیٔ معدہ میں مفید غذائیں
115295


اریکا جلسن

ہم میں سے ہر ایک کبھی کبھار معدے میں خرابی یا گڑبڑ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کی عام علامات میں متلی، بدہضمی، قے، اَپھارا، اسہال یا قبض شامل ہیں۔ معدے میں خرابی کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں اور علاج بھی انہیں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ معدے کی عام خرابی کے لیے مندرجہ ذیل غذائیں مفید ہیں۔ ان سے آپ کو بہتری کا احساس ہوتا ہے اور جلد بحالی ہوتی ہے۔ ادرک: معدے میں گڑ بڑ کی صورت میں ، متلی اور قے عام علامات ہیں۔ ان دونوں کے لیے ادرک ایک قدرتی تدارک ہے۔ ادرک کچی، پکی ہوئی اور ابلی ہوئی، ہر حالت میں مؤثر ہے۔ یہ عورتوں میں صبح کے وقت متلی اور قے کے مسئلے کا ایک حل ہے۔ کیموتھراپی یا بڑی سرجری کرانے والوں کو متلی اور قے کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ کیمو اور سرجری سے قبل روزانہ ایک گرام ادرک کھانے سے ان علامات کی شدت خاصی کم ہو جاتی ہے۔ جن افراد کو دورانِ سفر متلی کی شکایت ہوتی ہے وہ بھی ادرک استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر اسے سفر سے قبل کھا لیا جائے تو قے کی علامات میںکمی لانے میں مدد ملتی ہے اور بحالی جلد ہوتی ہے۔ اس کا سبب پوری طرح سمجھا نہیں جا سکا تاہم مفروضہ یہ ہے کہ ادرک معدے کو پیغامات دینے والے اعصابی نظام میں باقاعدگی لاتی ہے جس سے معدہ خالی ہونے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور یوں متلی اور قے کی علامات میں کمی ہوتی ہے۔ ادرک عام طور پر محفوظ ہوتی ہے لیکن اگر اسے روزانہ پانچ گرام سے زیادہ کھایا جائے تو جلن، معدے میں درد اور اسہال کی شکایت ہو سکتی ہے۔ بابونہ: بابونہ (Chamomile) ایک جنگلی پودا ہے جس کے چھوٹے سفید پھول ہوتے ہیں۔ معدے میں گڑبڑ ہونے پر اس کا استعمال ایک روایت ہے۔ بابونہ کو سُکھا کر چائے میں استعمال کیا یا کھایا جا سکتا ہے۔ تاریخی طور پر بابونہ انہضام کے مسائل مثلاً گیس، بدہضمی، اسہال، متلی اور قے کے لیے مستعمل ہے۔ پودینہ: بعض لوگوں کے معدے میں گڑبڑ کا سبب ’’اری ٹیبل باؤل سینڈروم (آئی بی ایس)‘‘ یا خراش آور معائی علامیہ ہوتا ہے۔ یہ گٹ (gut) کا دیرینہ مسئلہ ہے جو معدے میں درد، اپھارے، قبض اور اسہال کا سبب بنتا ہے۔ اس مسئلے سے نبردآزما ہونا آسان نہیں لیکن تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ پودینہ (peppermint ) ان پریشان کن علامات کو کم کرتا ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ پودینے کا تیل انہضام کے راستے کی بافتوں کو ڈھیلا کرتا ہے اور ان کی سختی سے پیدا ہونے والے مسائل جیسا کہ درد اور اسہال کو کم کرتا ہے۔ اگرچہ پودینے کے پتوں یا اس کی چائے کو مفید پایا گیا ہے لیکن اس بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے لیے پودینہ محفوظ ہے، لیکن جنہیں جلن(ریفلکس) ، حجاب حاجز کا ہرنیا ( hernias hiatal) ، گردے یا جگر میں پتھری، مثانے کے خلل ہوں انہیں استعمال میں احتیاط کا مشورہ دیا جاتا کیونکہ اس سے مسئلہ بڑھ بھی سکتا ہے۔ ملٹھی: بدہضمی کے لیے ملٹھی خاصی مشہور ہے اور یہ معدے کے تکلیف دہ السر سے بچا سکتی ہے۔ روایتی طور پر اس جڑ کو مکمل استعمال کیا جاتا ہے لیکن آج کل اسے ایک سپلی منٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جسے ڈی گلیسیرائزنیٹڈ لیکورائس یا ڈی جی ایل کہتے ہیں۔ اسے مکمل ملٹھی پر ترجیح دینے کی ایک وجہ اس میں سے گلیسیرائزن کا اخراج ہے۔ یہ ملٹھی میں پایا جانے والا قدرتی کیمیکل ہے جو جسمانی مائع میں عدم توازن، بلند فشار خون اور پوٹاشیم کی سطح میں کمی کا سبب بن سکتا ہے۔ جانوروں پر اور ٹیسٹ ٹیوب میں ہونے والے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ ڈی جی ایل سوزش گھٹا کر معدے کے درد اور بے چینی میں کمی کرتا ہے۔ یہ معدے کے تیزابوں سے بافتوں کو بچانے کے لیے مکس (mucus) کی پیداوار بڑھاتا ہے۔ یہ معدے میں تیزابیت سے پیدا ہونے والی خرابی کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔ السی کے بیج: السی کا چھوٹا اور ریشے سے بھرپور بیج آنتوں کی حرکت کو باقاعدہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ دیرینہ قبض سے پیٹ میں درد اور بے چینی ہوتی ہے۔ السی کے بیجوں کو پیس کر یا اس کے تیل کو نکال کر کھانے سے قبض کی پریشان کن علامات دور ہوتی ہیں۔ جو بالغ افراد دو ہفتے تک روزانہ السی کے بیج کا ایک اونس یا چار ملی لیٹر تیل کھاتے ہیں، ان میں رفع حاجت کے معاملے میں باقاعدگی پیدا ہوتی ہے۔ پپیتا: بدہضمی کے لیے پپیتا کھایا جا سکتا ہے۔ اس میں موجود پاپین ایک طاقت ور خامرہ ہے جو کھائی جانے والی غذا کے لحمیات کو تحلیل کرتا ہے اور ان کے انہضام و انجذاب میں معاون ہوتا ہے۔ بعض افراد کے جسم غذا کے انہضام کے لیے مطلوبہ مقدار میں خامرے پیدا نہیں کرتے، اس لیے پاپین جیسے اضافی خامرے بدہضمی کی علامات میں باعثِ راحت ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ قبض اور اپھارے کو کم کرتی ہے۔ مغربی افریقہ میں پپیتا معدے کے السر کے لیے قدرتی علاج تصور ہوتا ہے۔ جانوروں پر کی جانے والی متعدد تحقیقات سے بھی یہ ثابت ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں نظامِ انہضام میں پائے جانے والے کیڑوں کے خاتمے کے لیے پپیتے کے بیجوں کو کھایا جاتا ہے۔ یہ گَٹ میں رہتے ہیں۔ ان سے بے چینی ہوتی ہے اور جسم غذائی کمی میں مبتلا ہوتا ہے۔ بہت ساری تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان بیجوں میں کیڑے مار خصوصیات ہوتی ہیں اور بچوں میں ان کی مدد سے طفیلی کیڑوں کو خارج کیا جا سکتا ہے۔ سبز کیلا: انفیکشن یا غذائی زہریت (فوڈ پوائزنگ) کے باعث معدے میں خرابی کے ساتھ اسہال بھی ہوتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ متعدد تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ پکائے گئے سبز کیلے بچوں کو کھلانے سے اسہال کی مقدار، شدت اور دورانیہ کم ہو جاتے ہیں۔ دراصل ایک تحقیق میں پایا گیا کہ بچوں کے اسہال میں پکائے گئے سبز کیلے چاول والے کھانوں کی نسبت چار گنا زیادہ مؤثر ہیں۔ سبز کیلوں یعنی نسبتاً کچے کیلوں کے اسہال کے خلاف مؤثر ہونے کی وجہ ان میں شامل ہضم نہ ہونے والا نشاستہ (ریزیسٹنٹ سٹارچ) ہے۔ پروبائیوٹک: بعض اوقات معدے میں خرابی گٹ میں بیکٹیریا کی اقسام اور تعداد میں عدم توازن سے ہوتی ہے جسے ’’ڈیس بائیوسس‘‘ (dysbiosis) کہا جاتا ہے۔ پروبائیوٹک سے بھرپور غذائیں آپ کے گٹ کے لیے مفید ہیں اور مذکورہ عدم توازن کو ٹھیک کر سکتی ہیں۔ یہ گیس، اپھارے اور رفع حاجت میں بے قاعدگی کو بہتر بناتی ہیں۔ اس میں شامل ہیں؛ دہی… بہت سی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اچھی دہی قبض اور اسہال دنوں میں مفید ہے۔ بٹرمِلک… اینٹی بائیوٹک کے باعث اسہال میں مفید ہے اور قبض دور کرنے میں بھی معاون ہے۔ بعض دیگر غذاؤں میں بھی پروبائیوٹک ہوتے ہیں۔ نرم نشاستہ: چاول، جئی کا آٹا، کریکر اور ٹوسٹ جیسے نرم نشاستے معدے کی خرابی میں تجویز کیے جاتے ہیں۔ معدے کی خرابی میں زیادہ ٹھوس غذا کھانے کو جی نہیں کرتا اس لیے ایسی غذاؤں کو پسند کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ غذا میں تنوع ضروری ہوتا ہے اس لیے صرف انہیں پر گزارہ نہیں کرنا چاہیے۔ جسم کی بحالی کے لیے ضروری مقدار میں حیاتین اور معدنیات ہونی چاہئیں۔ صاف مائع: خرابیٔ معدہ میں قے یا اسہال عموماً ساتھ ہوتے ہیں اس لیے جسم میں پانی کی کمی کا خاصا امکان ہوتا ہے۔ قے اور اسہال سے الیکٹرولائٹ، یعنی جسم میں مائع کے توازن کو قائم کرنے اور نظام اعصاب کو فعال رکھنے والے معدنیات ضائع ہو جاتے ہیں۔ اگر جسم میں پانی اور الیکٹرولائٹ (جیسے سوڈیم اور پوٹاشیم) کی کمی زیادہ نہ ہو تو اسے صاف پانی پی کر اور معدنیات سے بھرپور غذا کھا کر پور ا کیا جا سکتا ہے۔ پانی، پھلوں کا رس، ناریل کا پانی وغیرہ مائع اور الیکٹرولائٹ کی کمی کو دور کرنے کا اچھا ذریعہ ہیں۔ جسم میں پانی کی شدید کمی میں خصوصی طور پر تیار کردہ محلول پینے چاہئیں۔ بشکریہ ’’ہیلتھ لائن‘‘/ ترجمہ: رضوان عطا
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?