خطاطی کا پہلا دور

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
8,607
8,598
1,313
Lahore,Pakistan
خطاطی کا پہلا دور
116999

ڈاکٹر محمد اقبال بھٹہ
سلطان محمود غزنوی کے زمانہ میں عروس البلاد لاہور ایک اہم فوجی اور سیاسی مرکز تھا، غزنی کی علمی و ادبی محفلوں میں لاہور برابر شریک رہا۔ اس عہد میں ایک فوجی جرنیل ساروغ کے زیرانتظام لاہور میں باقاعدہ دفتر دیوانی قائم ہوا اور یہاں پر باقاعدہ کاغذ، قلم دوات میسر آنے لگا۔ اس سے قبل یہاں کاغذ کی کمی تھی۔ اس فوجی جرنیل نے دریائے اٹک سے لاہور تک باقاعدہ اسلامی تعلیم اور خطاطی کے مدرسے قائم کئے۔ بہت سی ہندی کتابوں کے فارسی تراجم ہوئے۔ اس دور میں کوفی سے ثلث کا سفر شروع ہو چکا تھا، جس کے نتیجہ میں ایک مکمل عمارتی خط وجود میں آیا جسے کوفی آمیز ثلث کا نام دیا گیا۔ یہ خط 1200ء سے 1500ء تک اپنی کسی نہ کسی شکل میں رائج رہا۔ عوفی نے ’’لباب اللباب‘‘ میں سید الکتاب جمال الدین لاہوری کو ابن مقلہ کی طرز کا مقلد لکھا ہے۔ نجیب الدین ابوبکر الترمذی اور سید جمال الدین لاہوری اس دور کے اعلیٰ خطاط تھے، ان ہر دو کاتبوں کے بیشتر شاگرد ہوئے۔ اسی دور میں لاہور ہی میں ابو حامد نامی کاتب نے ’’کشف المحجوب‘‘ کی کتابت کی جو غالباً اسلامی حکومت کے بعد لاہور میں تیار ہونے والا پہلا مخطوطہ ہے۔ سلطان ابراہیم غزنوی خود ایک اعلیٰ خطاط تھا۔ اس نے خطاطی کی عملاً سرپرستی کی اور اپنے ہاتھ سے قرآن پاک کتابت کر کے مدینہ اور مکہ مکرمہ بھیجے۔ غزنوی دور کی معارف پروری اور علم نوازی کی کئی داستانیں زبان زدعام تھیں، غزنی تو علم و فضل کا منبع تھا ہی لیکن اسی سلطنت کا دوسرا صوبہ اور پنجاب کا صدر مقام ہونے کے سبب لاہور بھی علما اور فضلا کا مسکن بن گیا۔ ابراہیم غزنوی کا ایک وزیر ابو نصر فارسی جو ادبی دلچسپیوں کی وجہ سے ادیب مشہور تھا، علم و فضل کا مربی تھا، اس نے لاہور میں ایک خانقاہ قائم کی جو اہل علم و ہنر اور خطاطوں کی جائے پناہ تھی۔ یہ سلسلہ سلطان ابراہیم غزنوی سے چل کر بابر تک یعنی سولہویں صدی تک چلتا ہے اور پھر بہت سے نامور خطاطین نے اس سرزمین پر خطاطی کی خدمت انجام دی۔ اسی زمانہ میں بے شمار مسلم خاندان دوسرے ممالک سے تلاش معاش یا تبلیغی مقاصد کے لیے لاہور آ کر آباد ہونے لگے۔ یہاں کے حکام کے درباروں میں علما اور اہل فنون کی کثیر تعداد نظر آنے لگی۔ پنجاب 1100ء تک غزنوی سلطنت کے ماتحت رہا۔ غزنوی خاندان کے آخری تین حکمرانوں نے لاہور کو صدر مقام قرار دے کر یہیں اقامت اختیار کر لی۔ اس دور میں جہاں دوسرے علما، صلحا اور بزرگان دین لاہور آئے، وہاں خطاطین اور دیگر علوم و فنون کے ماہرین کی جماعتیں یہاں آ کر آباد ہوئیں۔ خانقاہ ابو نصر فارسی میں اسلامی تعلیم کے ساتھ ساتھ دیگر علوم و فنون کی تربیت بھی دی جاتی تھی۔ اس مدرسے کے ساتھ ایک عالی شان لائبریری بھی تھی، یہاں بیش بہا کتابیں تیار ہوئیں۔ ابراہیم غزنوی کی وفات کے بعد علاؤالدولہ مسعود تخت نشین ہوا تو اس نے اپنے فرزند مشیر زاد کو پنجاب کا حاکم اور ابونصر فارسی کو نائب حاکم اور سپہ سالار مقرر کیا۔ غزنوی خاندان کے زوال کے بعد محمد غوری نے لاہور کی حکومت حاصل کی تو قطب الدین ایبک کو فتوحات ہند کا وائسرائے مقرر کیا۔ اس کے دور میں لاہور علم و فنون میں اس قدر ترقی کر چکا تھا کہ ایبک دور میں جب فخر مدبر نے اپنی کتاب ’’شجرہ انساب‘‘ 12 سالہ محنت اور ایک ہزار کتب کے مطالعے سے لاہور میں تالیف کر کے قطب الدین ایبک کو پیش کی تو ایبک نے حکم دیا کہ اس کتاب کا ایک نسخہ خاص اہتمام سے شاہی کتب خانہ کے لیے تیار کرایا جائے۔ یہ واقعہ جہاں ایبک کی علم پروری کی روشن دلیل ہے وہاں یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس زمانہ میں لاہور میں اس قدر کتب خانے موجود تھے جہاں فخر مدبر کو اپنے مطلب کی ایک ہزار کتابیں میسر آ گئیں اور ظاہر ہے کہ اتنی لائبریریوں کے لیے مخطوطات تیار کرنے کا کارخانہ یہاں موجود ہو گا۔ اس کارخانے میں صد ہا خوش نویس مخطوطات تیار کرتے ہوں گے۔ التمش (دورحکمرانی 1210؍1236ء) علما و فضلا کا قدردان اور مربی تھا بلکہ خود بھی ایک عالم فاضل اور بابغہ روزگار خطاط تھا۔ اس کے دور میں نہ صرف خطاطی کی شاہانہ سرپرستی کی گئی بلکہ اس کا بیٹا ناصر الدین محمود قرآن پاک کی کتابت کے ذریعے اپنی روزی مہیا کرتا تھا۔ غیاث الدین بلبن بھی علوم و فنون کا مربی ثابت ہوا۔ اس کا بیٹا شہزادہ محمد سلطان اور اس کے مصاحب امیر خسرو بھی اچھے خطاط تھے۔ یہ دونوں لاہور کے قریب دریائے راوی کے کنارے منگولوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے۔ منگولوں نے شہزادہ محمد کو شہید کر دیا۔ اس دور میں لاہور اور دہلی میں اعلیٰ خطاطی کی روایات کو فروغ حاصل ہوا۔ التمش نے دو مدرسے مغزیہ اور ناصریہ قائم کئے جن میں عربی فارسی قرآنی تعلیمات کے ساتھ ساتھ خطاطی کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ سلطان کی تقلید میں اس کے صوبائی گورنر بختیار خلجی نے رنگ پورہ بہار میں اس قسم کا ایک مدرسہ قائم کیا۔ برصغیر میں یہ روایت جاری رہی۔ گولکنڈہ میں سلطان محمد قطب شاہ ترویج علوم میں عالی مرتبہ رکھتا تھا، اس نے حیدرآباد کے وسط میں چار مینار کی عمارت اور مسجد تعمیر کی، یہ ایک بہت عظیم الشان مدرسہ تھا اور اس میں مصلحین و متعلمین رہتے تھے۔ اس کے علاوہ سلطان نے اور بھی بہت سے مدرسے اور علوم و فنون کے مراکز قائم کئے۔ ایک مدرسہ حیدرآباد کے مضافات میں بھی تعمیر کیا۔ ان بڑے مدارس کے علاوہ جنوبی ہند میں بے شمار ابتدائی مکاتب بھی موجود تھے جو استادوں کے مکانوں میں قائم ہوتے تھے۔ ان مکتبوں میں شاگرد آلتی پالتی مار کر بنچ یا چٹائی پر بیٹھتے تھے اور سرکنڈے یا واسطین کے قلم سے کاغذ پر لکھتے تھے۔ کاغذ زیادہ تر چین سے درآمد کیا جاتا تھا لیکن وہ یورپی کاغذ کے مقابلے میں اچھا نہ ہوتا، یورپ کا کاغذ صاف اور پتلا تھا۔ شہاب الدین غوری کے زمانے میں ایبک نے علم و فن کی سرپرستی کی اور یہاں پر مدارس قائم کئے۔ اس کے نتیجے میں ایک عمارتی خط کوفی آمیز ثلث وجود میں آیا۔ یہ 1200ء سے 1500ء تک عمارتی خطاطی کے طور پر رائج رہا، جس کی مثال دہلی میں مسجد قوت الاسلام، التمش کا مزار اور اجمیر میں مسجد اڑھائی دن کا جھونپڑا ہے۔ ایران، عراق اور مصر میں بھی یہی خط رائج تھا۔ التمش محمد تغلق ناصرالدین محمود وغیرہ نہ صرف خود اعلیٰ خطاط تھے بلکہ خطاطوں کے سرپرست بھی رہے۔ سلاطین کے دور کے بعد مغلیہ دور میں بھی نہ صرف معیاری کتابوں کی کتابت کا سلسلہ جاری رہا بلکہ بہت سے خطاطین لاہور میں بس گئے۔ بابر سے قبل ہندوستان میں مفت تعلیم کا رواج تھا۔ طلبہ سے کسی قسم کی فیس یا اجرت نہیں لی جاتی تھی اور انہیں ابتدائی تعلیم خاص اہتمام سے دی جاتی۔ چنانچہ کوئی گاؤں ایسا نہ تھا جہاں مسجد نہ ہو اور ہر مسجد کے ساتھ مکتب ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ چھوٹے چھوٹے قصبوں میں بھی مکتب اور مدرسے تھے اور مسجد کا امام عموماً امامت کے علاوہ کتابت اور حکمت کرتا تھا۔ بڑے شہروں میں سرکاری سرپرستی میں مکاتب قائم تھے جن سے ہزاروں کی تعداد میں طلبا مستفید ہوتے۔ مساجد اور صوفیائے کرام کی خانقاہیں ملک بھر میں قائم تھیں، جہاں عبادت اور ریاضت کے ساتھ ساتھ خطاطی اور کتب سازی پر بھی توجہ دی جاتی رہی، جہاں صوفیا کے ملفوظات بڑے اہتمام سے کتابت کئے جاتے تھے۔ اس مقصد کے لیے مصارف کے طور پر بادشاہ اور امرا جاگیریں اور تعلیمی وظائف جاری کرتے۔ بابر جب ہندوستان پر حملہ آور ہوا تو اس کے ہمراہ وسط ایشیا بالخصوص ہرات کے فضلا، نقاش اور خطاط بھی آئے جن کی وجہ سے لاہور میں نستعلیق کا آغاز ہوا۔ ان خطاطین میں ملا زاہد اور خود بابر قابل ذکر ہیں۔ بابر اور ہمایوں کے عہد میں شیخ محمد منجو اور ملا سرخ کے زیر سایہ بہت سے خطاط لاہور میں کتابوں کی تیاری کا کام کرتے رہے، جن کی سرپرستی اور توجہ سے فن کتابت اور کتب خانوں کی ترویج میں جن شہروں اور علاقوں کا دخل رہا ان میں لاہور سرفہرست تھا۔ یہاں بڑے بڑے علما فضلا اور ماہرین فن پیدا ہوئے۔ مولانا شہاب الدین ہروی بابر کے عہد کے مشہور خطاط لاہور سے دہلی گئے اور حضرت نظام الدین اولیاؒ کے مزار کے بعض کتبات لکھے۔ ہمایوں ہر وقت اپنے ہمراہ اپنا کتب خانہ رکھتا، اس کے کتب خانے میں نادر کتابیں ایرانی اثرات کے تحت تیار کی گئیں جو معروف خطاطین کی خطاطی اور عظیم مصوروں کے فن کا ثبوت ہیں جو آج دنیا کے عجائب گھروں کی زینت ہیں۔ ہمایوں کے زمانے میں یہاں مولانا شہاب الدین کے بیٹے کمال ابن شہاب اعلیٰ درجہ کے خطاط تھے جن کی ثلث طرز میں خطاطی کا ایک نمونہ لاہور عجائب گھر کی مخطوطات گیلری کی زینت ہے۔ اس کے علاوہ میر منصور استرآبادی اور اس کا بیٹا مولانا قاسم، مرزا احمد حسین، میرزا حسین، خواجہ محمد مومن، مولانا شمس الدین کاشانی وابستہ رہے۔ شیر شاہ سوری اور اس کے جانشین اسلام شاہ سوری کے دور میں خطاطی کا عروج برقرار رہا۔ بہر حال مغلوں کی سرپرستی میں یہ فن لاہور سے ہوتا ہوا دہلی پہنچا۔ انہوں نے اس فن کی ترقی کے لیے بہت زیادہ اقدامات کئے۔ اکثر مغل حکمران یا تو خود خطاط تھے یا انہوں نے ماہرین فن کو مراتب پر فائز کیا اور اساتذہ کے فن پاروں کو شاہی لائبریریوں کی زینت بنایا۔ آرائش عمارات کے لیے اس عہد میں خطاطی جس پیمانے پر استعمال ہوئی وہ اپنی مثال آپ ہے۔ دھات، روغنی برتنوں، روغنی ٹائیلوں اور لکڑی وغیرہ کی بنی ہوئی اشیا کے ظاہری حسن کو خطاطی کے مختلف نمونوں سے آراستہ کیا گیا۔ اگرچہ اکبری دور میں پریس وجود میں آ چکا تھا اور اس ابتدائی دور کی چند مطبوعات اکبر کے سامنے پیش کی گئیں لیکن یہاں مغلوں کی روایتی نزاکت آڑے آئی اور یہ رد کر دی گئیں۔ دیکھا جائے تو اکبر کا فن خطاطی، نقاشی، چھوٹی تصاویر (مینی ایچر پینٹنگ)، جلد سازی، قلمسازی، کاغذ سازی پر یہ احسان تھا، اس پابندی کی وجہ سے کاتبوں کی کثیر جماعتیں ہر وقت موجود رہیں جو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ کتابوں کی نقول مہیا کرتیں۔ اس عہد میں عنایت اللہ اور خواجہ شریف کے تحت بہت سے کاتب مخطوطات تیار کرتے۔ اکبری دور میں لاہور میں مدرسہ ہائے خطاطی قائم تھے۔ برٹش میوزیم لندن میں ایک مخطوطہ رسالہ در تاریخ خوشنویساں موجود ہے جس میں اکبر اعظم سے لے کر اکبر ثانی کے خوشنویسوں کا ذکر زمانی اعتبار سے کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق نستعلیق نویسوں میں محمد حسین کشمیری زریں قلم، میر خلیل اللہ شاہ بادشاہ قلم، جعفر علی مقید، مولانا خواجہ محمود، عبدالمجید شیریں قلم، ملا سید سمرقندی، میر فتح اللہ شیرازی، خنجر بیگ چغتائی، خان عالم، اشرف خان میر منشی، مظفر خان، عبداللہ مشکیں قلم، میر صالح، میر مومن، عبدالرحیم خانخاناں، میرزا عزیز اور میرزا داراب، خواجہ سلطان علی، زین الدین کوکہ، ملا عبدالقادر، رائے منوہر، محمد شریف راجہ ٹوڈرمل، مرزا، عزیز کوکلتاش، محمد یوسف کابلی حسین بن احمد چشتی میر معصوم قندھاری،حکیم رکنا، مولانا علی احمد نشانی، میر دوری اور عبدالرحیم عنبرین قلم جیسے خطاطوں کے نام مذکورہ ہیں۔ اکبر کے قیام لاہور کے دوران خطاط محمد حسین کشمیری زریں قلم دربار سے منسلک تھا، اس لیے لاہور میں موجود رہا۔ یہاں پر اس نے بہت سے شاگرد چھوڑے۔ کتبہ ہرن مینار شیخوپورہ محمد حسین نے ہی لکھا تھا۔ اکبر نے شاہی کاتبوں کی نگرانی میں اپنے کارخانہ جات شاہی میں ایک خاص شعبے کا اضافہ کیا جس میں کتاب سازی کے متعلق تمام جملہ فنون سکھائے جاتے تھے۔ اس کارخانہ میں 100 سے زائد مصور تھے اور بے شمار نقاش جو خطاطوں کے ساتھ مل کر مخطوطات تیار کرتے، نتیجہ کے طور پر 1641ء تک کتب خانہ شاہی میں 24 ہزار نسخے محفوظ ہو چکے تھے۔ محمد حسین کشمیری نے مخطوطہ ’’بہارستان جامی‘‘ لاہور میں کتابت کیا جسے بہت سے مصوروں نے مصور کیا۔ اس کے علاوہ ’’دیوان انوری‘‘ مصور لاہور ہی میں تیار ہوا۔ جس کی نزاکت اور رعنائی لاہور میں خطاطی کی اعلیٰ روایات کی شہادت ہے۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?