خوشگوار ازدواجی زندگی کے راز

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,445
7,464
1,313
Lahore,Pakistan
خوشگوار ازدواجی زندگی کے راز
116542

سہیل بابر

بیوی بچوں اور عزیز و اقارب سے تعلقات میں اگر مناسب دلچسپی نہ لی جائے اور اقدامات نہ کیے جائیں تو علیحدگی اور کشیدگی کا خطرہ موجود ہوتا ہے۔ اس خطرے کو دور کرنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے گھر کے اندر اور باہر کی زندگی اور مصروفیات میں توازن برقرار رکھے ورنہ نتائج ناکام شادی اور قطع تعلق کی صورت میں نکلتے ہیں۔ گھریلو اور ازدواجی زندگی کو خوشگوار بنانے کے سلسلے میں آٹھ اہم اصول دیے جاتے ہیں۔ طویل مدت منصوبہ بندی: ازدواجی زندگی اور خاندانی تعلقات عارضی نوعیت یا مختصر مدت کی توجہ کے متقاضی نہیں ہوتے بلکہ زندگی بھر کی توجہ چاہتے ہیں، اگر گھریلو تعلقات خوشگوار نہ ہوں اور ذہنی سکون میسر نہ ہو تو زندگی کے دیگر شعبوں میں مسائل کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ آپ اپنی ازدواجی اور گھریلو زندگی میں مختصر مدت اور طویل مدت مسائل اور ایسے امور کی فہرست بنائیں جو آپ کو مسلسل پریشان کر رہے ہیں۔ آپ اس فہرست میں خاوند اور بیوی، یا باپ اور ماں کے کردار کے متعلق معاملات نوٹ کر سکتے ہیں۔ اب ان مسائل کا باری باری جائزہ لیں۔ مختصر مدت کے مسائل سے شروع ہو کر طویل مدت معاملات اور وابستگیوں کی جانب آئیں۔ اس فہرست سے آپ کو اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سوچنے کا موقع ملے گا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ خیال اور حقیقت کے درمیان فاصلے کو مٹائے اور دو الگ الگ دنیاؤں میں رہنے سے گریز کرے۔ اچھی مثال: انسان بچپن میں اپنے بزرگوں بالخصوص والدین کی محبت، رہنمائی، مدد اور تعاون کا محتاج ہوتا ہے۔ اس کے بچپن کے تجربات اس کی زندگی کا رخ متعین کرتے ہیں۔ والدین اور ان کے قریب پائے جانے والے دوسرے بڑے لوگ انسان کے لیے مثال کا درجہ رکھتے ہیں۔ اچھائی اور برائی کی شناخت انہیں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ وہ لاشعوری طور پر بچوں کے لیے رول ماڈل کا درجہ اختیار کر لیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اعلیٰ اخلاقی اقدار کے بارے میں تقریریں اور نصیحتیں کرنے کے بجائے عملی طور پر اچھی مثال قائم کرے اور زندگی میں بے جا تنقید، ڈینگیں مارنے، بے حسی اور محبت سے عاری ہونے کا مظاہرہ کرنے سے مکمل طور پر اجتناب کرے۔ ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے خاوند اور بیوی مختلف معاملات میں فرائض اور حقوق کے حوالہ سے ایک دوسرے سے پیار ومحبت سے بات چیت کر کے اپنا اپنا کردار متعین کر سکتے ہیں ورنہ دونوں ایک دوسرے پر الزام تراشی کر کے اپنی زندگی اجیرن کر لیں گے۔ اپنے کردار پر غور:میاں بیوی اور والدین تین طرح کے مختلف کردار ادا کرتے ہیں… کام کرنے والا، منتظم اور رہنما۔اول الذکر کردار میں وہ ایسے کام سرانجام دیتے ہیں جو مطلوبہ نتائج کے حصول کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ بچے چاہے وہ لڑکیاں ہوں یا لڑکے، اپنے کمرے خود صاف کرتے ہیں، باپ کما کر لاتا ہے اور دیگر بیرونی کام انجام دیتا ہے، ماں شیرخوار بچے کو سنبھالتی ہے، گھر میں کھانا پکاتی ہے اور بڑے بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ بچے تربیت یافتہ نہیں ہوتے اور عام طور پر اپنے حصے کا کام کرنے سے گریزاں ہوتے ہیں جبکہ بہت سے والدین بھی اپنے اختیارات اور ذمہ داریاں دوسروں کو نہیں سونپتے اور سارا کام خود کرتے ہیں۔ بالآخر خود کو نڈھال کر لیتے ہیں اور رات کو بستر پر اس طرح جاتے ہیں کہ وہ تھکاوٹ سے چور چور ہوتے ہیں۔ ان کا یہ شکوہ ہوتا ہے کہ دوسرے افراد ان کی مدد نہیں کرتے۔ منتظم کے کردار میں ماں باپ گھر اور باغیچے کی ذمہ داریاں بچوں کو سونپتے ہیں۔ اس سے والدین کو سہولت میسر آتی ہے اور کام میں مستعدی آ جاتی ہے۔ لیکن والدین بچوں کی کمزوریوں اور کوتاہیوں کی تلافی کرتے ہیں اور کچھ مدت بعد مستعدی کے ساتھ ساتھ کام درست انداز میں کرنے پر زور دینے لگتے ہیں جس سے کام کا معیار بہتر ہو جاتا ہے۔ ایک رہنما کے کردار کے ذریعہ والدین مثبت تبدیلیاں متعارف کرا سکتے ہیں لیکن تبدیلیاں لوگوں کو پریشان کر سکتی ہیں۔ ان میں خوف اور غیریقینی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے اور لوگ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر باپ منتظم کے رول میں ہو اور ماں کام کرنے والے کے کردار میں لیکن رہنمائی کا فریضہ کوئی بھی انجام نہ دے تو پھر بچے زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوتے۔ ان میں باہمی تناؤ رہتا ہے۔رہنما عقل مندی کے ساتھ منزل کا تعین کرتا ہے۔ اہداف کا ازسرِنو تعین:ازدواجی اور خانگی زندگی میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ایسے وسائل اور اثاثوں کو محفوظ اور وسیع تر کرنا چاہیے جو ہمارے لیے آگے چل کر سود مند ثابت ہوں، اگر والدین نوجوان بچوں کو نظر انداز کرتے ہیں تو باہمی اعتماد ختم ہو جائے گا اور ابلاغ کی سطح کم ہو جائے گی۔ بیٹاباپ سے ان معاملات پر مشورہ نہیں کرے گا جن کے لیے تجربے اور ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ محدود اور عارضی جذباتی کیفیت میں رہ کر فیصلے کرے گا جن کے منفی نتائج نکلیں گے۔ ازدواجی تعلقات اور خاندانی رشے ناتوں کو فروغ دینے کے لیے شارٹ کٹ، منافقت اور تحریص و ترغیب عارضی طور پر تو شاید کردار کی خامیوں کی چھپا دیتے ہیں لیکن آنے والی زندگی میں کوئی بھی طوفان ان خامیوں کو عیاں کر دیتا ہے۔ مزیدبرآں خودغرضی ازدواجی اختلافات کا ایک بڑا سبب ہے۔ اسی طرح دھمکی، خوف اور لالچ جیسے منفی حربوں کے ذریعے والدین بچوں سے، جب وہ چھوٹے ہوتے ہیں، اپنی بات منوا لیتے ہیں۔ لیکن یہی بچے جب بڑے ہوتے ہیں تو والدین کی دھمکیاں بے اثر ہو جاتی ہیں اور وہ نتائج نہیں ملتے جو والدین چاہتے ہیں، والدین کا اثرونفوذ بچوں پر ختم ہو جاتا ہے۔ بقا کے لیے ہم آہنگی: ایک خاندان کی بقا کے لیے انسان کو چار ذیلی نظاموں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اول، اہداف اور منصوبے، دوم، رہنمائی اور رہنما اصول، سوم تعلیم و تربیت، چہارم، ابلاغ اور مسائل حل کرنے کا طریقہ کار۔ اگر انسان کے خاندان میں تعلیم و تربیت کا کوئی پروگرام نہیں ہے تو پھر ابلاغ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیتوں کو کیسے نشوونما دیں گے اور اگر آپ کے پاس مسائل حل کرنے اور باہمی ابلاغ کا کوئی میکنزم نہیں ہے پھر آپ اخلاقی اقدار کی وضاحت، اہداف کا چناؤ اور ان کے حصول کی منصوبہ بندی کیسے کریں گے۔ رہنمائی کیسے کریں گے اور نظم و ضبط کیسے قائم کریں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ یہ چاروں نظام ہر سطح پر بیک وقت مگر بتدریج متعارف کرائے جائیں کیونکہ یہ ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ تین ضروری مہارتیں: وقت کے منظم انداز میں استعمال، ابلاغ اور مسائل کو بروقت مؤثر انداز میں حل کرنا ایسی مہارتیں ہیں جو خانگی اور ازدواجی زندگی میں ہر مرحلے میں درکار ہوتی ہیں۔ ہم دوسروں کے رویہ کے لیے تو کچھ نہیں کر سکتے لیکن اپنے رویہ کو تو بہتر بنا سکتے ہیں۔ خصوصاً ہم اپنا وقت کس طرح منظم کرتے ہیں ہم کس طرح دوسروں کے ساتھ ابلاغ کرتے ہیں، کس طرح زندگی کے مسائل اور پریشانیوں سے نمٹتے ہیں، اہم ہیں۔ تحفظ کا حصول: بیشتر لوگ اپنا احساسِ تحفظ خارجی ذریعہ سے حاصل کرتے ہیں۔ ان ذریعوں میں ماحول، اثاثے اور شریک حیات سمیت دوسروں کی رائے شامل ہوتی ہے۔ خارجی ذرائع پر انحصار کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ ان کی زندگیاں حالات کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس ہمیں چاہیے کہ ہم ان ذرائع سے احساسِ تحفظ اور خوداعتمادی حاصل کریں جو حالات میں تغیر و تبدل کے باوجود مستحکم اور معاون رہتے ہیں۔ اپنی زندگی کو ازسرنو مرتب کرنے کی قابلیت جرأت اور حوصلہ مانگتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو مسلسل تعلیم دے اور ضمیر کی آواز سنے۔ غوروفکر اور عبادت کی عادت اپنائے اور مذہبی و نظریاتی لٹریچر کا باقاعدگی سے مطالعہ کرے۔ فطرت کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہونا سیکھے۔ خوبصورت پہاڑوں، ساحل سمندر، حسین وادیوں، دریاؤں اور جھیلوں کے حسین مناظر سے حظ اٹھائے۔ فطرت ہماری زندگی کو ازسرِ نو مرتب کرنے کے عمل میں شاندار مہمیز کا کام کرتی ہے۔ باقاعدگی سے ورزش کی عادت کی اہمیت پر کوئی دو رائے نہیں۔ خاندان کا نصب العین: اگر انسان طویل مدت مقاصد کا حصول چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ مرکزی اقدار اور اہداف کی نشاندہی کرے اور پھر اپنے نظام کو ان اقدار اور اہداف سے ہم آہنگ اور مربوط کرے۔ کسی خاندان کا مرکز تبدیل نہ ہونے والا ہونا چاہیے اور اسے اپنے مقام پر متعین رہنا چاہیے۔ بہت سے خاندان فوری تسکین کی بنیاد پر متحد ہوتے ہیں اور اتحاد کی بنیاد ٹھوس اعلیٰ اقدار اور مثبت جذبات نہیں ہوتے۔ اس لیے جب دباؤ اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو لوگ ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے لگتے ہیں اور ایک دوسرے پر کڑی تنقید کرنے لگتے ہیں۔ بعض افراد خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ بچے اس پورے عمل کا بغور مشاہدہ کر رہے ہوتے ہیں کہ ان کے بڑے مسائل کو کس طرح حل کرتے ہیں۔ پھر یہی سلسلہ آنے والی نسلوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ ایک آئیڈیل خاندان کا مشن سچائی، نظم و ضبط، خوشی، محبت اور آرام کرنے والی جگہ یعنی گھر کی تعمیر ہونی چاہیے، جہاں ہر فرد کو ایسے مواقع میسر آئیں کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ ایک دوسرے پر انحصار کرے اور کارآمد اور مفید مقاصد حاصل کرے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?