داعش اور طالبان کے مسلح گروہ - ٹھگوں کی آپس کی لڑائ

fawad DOT

Active Member

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

داعش اور طالبان کے مسلح گروہ - ٹھگوں کی آپس کی لڑائ




افغانستان سے حاليہ دنوں ميں سامنے آنے والی کچھ رپورٹس جن سے خطے ميں داعش اور طالبان کے مختلف دھڑوں کے درميان شديد کشيدگی اور باہمی چپقلش بے نقاب ہو رہی ہے۔



افغانستان ميں طالبان پر داعش کے خود کش بمبار کا حملہ – 20 ہلاک




افغانستان کے صوبہ جازوان ميں داعش اور طالبان کے درميان شديد لڑائ جس کے نتيجے ميں دس افراد ہلاک ہو گۓ۔


https://twitter.com/thenews_intl/status/1019218915761590272

داعش کے حملے کے نتيجے ميں 15 افغان طالبان ہلاک۔


دہشت گرد تنظيموں اور ان کے سرغناؤں نے متعدد بار اپنی پرتشدد کاروائيوں سے يہ ثابت کيا ہے کہ ان کا ہدف عام لوگوں پر اپنی مرضی مسلط کرنا ہے۔ امن اور عام شہريوں کے ليے تحفظ کا حصول ان کی حکمت عملی ميں شامل نہيں ہے۔


چاہے وہ داعش ہو يا طالبان کے مسلح گروہ – يہ دہشت گرد اور انتہا پسند اس بات کا دعوی تو کرتے ہيں کہ وہ بيرونی قوتوں کے خلاف عام لوگوں کی آزادی کے ليے اپنی "جدوجہد" جاری رکھے ہوۓ ہيں۔ تاہم جب انھيں اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ کوئ اور گروہ سياسی اثرورسوخ حاصل کر رہا ہے تو پھر يہ اپنی اصليت سب پر واضح کر ديتے ہيں اور اپنے مخالف دھڑوں کو منظر سے ہٹانے کے ليے وہی خونی حربے استعمال کرتے ہيں جو ان کی ترجيحی حکمت عملی رہی ہے۔


اس حوالے سے کوئ ابہام نہيں رہنا چاہيے۔ يہ عناصر خود کو سياسی فريق کے طور پر پيش کرنے کی خواہش تو رکھتے ہيں تاہم اختلافات اور تنازعات کو ختم کرنے کے ليے ان کے طريقہ کار اور سوچ سے يہ واضح ہے کہ ان کے اعمال ان کے بيانات اور دعوؤں سے مطابقت نہيں رکھتے ہيں۔


يہ کوئ اچنبے کی بات نہيں ہے کہ پرتشدد انتہا پسندوں کے مختلف گروہوں کے درميان سياسی اثر، طاقت کے حصول اور اپنی اجارہ داری کے ليے جاری مسلسل مڈبھيڑ بالآخر ايک خون آشام لڑائ کی صورت اختيار کر گئ اور اس کے ساتھ ہی ان مجرموں اور ان کی خود ساختہ مقدس جدوجہد کی حقيقت بھی سب پر آشکار ہو گئ۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

 

fawad DOT

Active Member

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

داعش کی جانب سے اپنی کاروائيوں کے حوالے سے خود ساختہ "مقدس جدوجہد" اور "مذہبی فريضہ" جيسے الفاظ کا استعمال تو بہت کيا جاتا ہے مگر درحقيقت يہ تنظيم مجرموں کا ايک ايسا ٹولہ ہے جو اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنے تسلط کو برقرار رکھنے کے ليے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔

ايک حاليہ رپورٹ ميں داعش کے سرغنہ کی جانب سے تنظيم پر اپنی گرفت برقرار رکھنے کے ليے حاليہ فيصلے کو اجاگر کيا گيا ہے جس کے مطابق البغدادی نے اپنے ہی 300 ساتھیوں کے قتل کا حکم جاری کيا ہے۔

https://www.iraqinews.com/iraq-war/is-chief-baghdadi-orders-320-followers-to-be-killed-for-disloyalty-reports/


يہ بھی کوئ اچنبے کی بات نہيں ہے کہ دہشت گرد تنظيموں کے مختلف دھڑوں کے درميان سياسی اثر، طاقت کے حصول اور اپنی اجارہ داری کے ليے جاری مسلسل مڈبھيڑ بالآخر ايک خون آشام لڑائ کی صورت اختيار کر جاۓ اور اس کے ساتھ ہی ان مجرموں اور ان کی خود ساختہ مقدس جدوجہد کی حقيقت بھی سب پر آشکار ہو جاۓ گئ۔


داعش کی قيادت کے مابين بڑھتی ہوئ چپقلش کسی کے ليے بھی باعث حيرت نہيں ہونی چاہيے کيونکہ جس محرک اور سوچ نے انھيں اس بات پر قائل کيا تھا کہ وہ اپنے اہداف يکجا کر ليں وہی يہی تھی کہ اپنے مفادات کا تحفظ کيا جاۓ اور خوف اور دہشت کے ذريعے عوامی سطح پر اپنی سوچ مسلط کی جاۓ۔


اب يہ بات واضح ہو چکی ہے کہ ان کے خود ساختہ دعوؤں کے برعکس ان کی پرتشدد مہم کے پيچھے صرف يہی سوچ کارفرما ہے کہ عوام پر خوف کے ذريعے سے اپنی مرضی چلائ جاۓ۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/
 

Museebat

Newbie
امریکا جہاں بھی جانا چاہتا ہے وہاں پہلے ایسے ٹھگ تیار کرتا ہے تا کہ علامی برادی کو پھدو لگا سکے اور وہاں پر قبضہ کر سکے
 

fawad DOT

Active Member
امریکا جہاں بھی جانا چاہتا ہے وہاں پہلے ایسے ٹھگ تیار کرتا ہے تا کہ علامی برادی کو پھدو لگا سکے اور وہاں پر قبضہ کر سکے

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


آپ کا بے بنياد الزام حقائق اور فہم کی کسوٹی پر پورا نہيں اترتا ہے۔

سوال يہ ہے کہ ايک عالمی دہشت گرد تنظيم اور اس گروہ سے منسلک دہشت گرد ہمارے ايماء پر اپنی جانيں داؤ پر کيوں لگائيں گے جبکہ وہ اس حقيقت سے بخوبی واقف ہيں کہ ہم ان کے سرغناؤں اور محفوظ ٹھکانوں کو نيست و نابود کرنے کے ليے ہر ممکن وسائل بروۓ کار لا رہے ہيں؟

علاوہ ازيں ہم اپنے اسٹريجک اتحاديوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو يقينی بنا رہے ہيں کہ ان گروہوں کے خاتمے کے ليے مقامی حکومتوں کو ہر ممکن وسائل دستياب ہوں اور آپ انھی گروہوں اور تنظيموں کو ہمارا اثاثہ قرار دے رہے ہيں۔

امريکی حکومت کيونکر اپنے وسائل اور بے پناہ امداد کسی بھی دہشت گرد گروہ کو فعال کرنے کے ليے صرف کرے گی جبکہ ہم پہلے ہی اپنے فوجيوں سميت بے شمار وسائل انھی دہشت گردوں کو ختم کرنے کے ليے مختص کر چکے ہيں؟

يقينی طور پر يہ توقع نہيں کی جا سکتی کہ امريکی حکومت اپنے ٹيکس دہندگان کے پيسے سے ايک ايسی حکمت عملی تشکيل دے گی جو عملی طور پر افغانستان ميں ہمارے ہی فوجيوں کو خطرات سے دوچار کر دے گی اور وہ بھی ايسی صورت حال ميں جب وہ ميدان جنگ ميں دہشت گرد گروہوں کے خلاف نبرد آزما ہيں۔

کونسی منطق يا دانش کے کس پہلو کے تحت کچھ راۓ دہندگان اس بات پر يقين کر ليتے ہيں کہ کوئ بھی دہشت گرد گروہ افغانستان میں امريکی اہداف کے حصول ميں معاون ثابت ہو سکتا ہے کيونکہ حقيقت تو يہ ہے کہ قريب تمام ہی دہشت گرد گروہوں نے عوامی سطح پر امريکہ مخالف ايجنڈے کو اپنی بنيادی سوچ کے طور پر متعارف کروايا ہے۔ يہی نہيں بلکہ امريکہ سے نفرت کے جذبات کو يہ لوگ اپنی صفوں ميں نۓ دہشت گردوں کی بھرتی کے ليے برملا استعمال کرتے ہيں۔ ايسے گروہوں کو مضبوط کر کے يا انھيں وسائل فراہم کر کے امريکہ اپنا کون سا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

 

Museebat

Newbie
امریکا ایک تیر سے دو شکار کرتا ہے .. میڈیا پر اپنی معصومیت ثابت کرتا رہتا ہے تا کہ عالمی برادی اس کی مدد کرتی رہے اور ساتھ ساتھ اپنے عزائم بھی حاصل کرتا رہتا ہے .. اس مقصد کے لئے وہ اپنے ہی بنانے ہوے ٹھگوں کو لڑوا دیتا ہے تا کے عالمی برادری کو شک نہ ہو ... مزید یہ کہ طالبان کو امریکی صدر نے رشیا جنگ میں اپنے باپ دادوں سے تشبی دی تھی ... اور داعش جیسے ٹھگ کا کس کو نہیں پتا ان سے وہ شام کی حکومت پر حملے کرواتا ہے تا کہ شام پر رشیا کا اثر و رسوخ ختم ہو جاے اور وہاں وہ اپنی مرضی کی حکومت قائم کر سکے
 

fawad DOT

Active Member

... اور داعش جیسے ٹھگ کا کس کو نہیں پتا ان سے وہ شام کی حکومت پر حملے کرواتا ہے تا کہ شام پر رشیا کا اثر و رسوخ ختم ہو جاے اور وہاں وہ اپنی مرضی کی حکومت قائم کر سکے


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ريکارڈ کی درستگی کے ليے واضح کر دوں کہ اکتوبر 21 اور اکتوبر 27 کے درميان امريکی اور اس کے اتحاديوں کی داعش کے خلاف جاری فضائ بمباری کے مہم کے دوران دہشت گردوں کے اہم ٹھکانوں پر 188 حملے کيے گۓ۔

http://www.centcom.mil/MEDIA/PRESS-RELEASES/Press-Release-View/Article/1676020/october-30-operation-roundup-targets-isis-remnants/

يہ زمينی حقائق اور اعداد وشمار عراق اور شام ميں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف ہماری کاوشيں کو واضح کرتے ہيں۔۔

ہم تمام تر وسائل کو بروۓ کار لا کر ان کے خاتمے کی کاوشيں کر رہے ہيں۔

چند ماہ قبل داعش کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف امريکی فضائ بمباری کے نتيجے ميں 150 اہم دہشت گرد ہلاک ہوۓ۔

https://www.bbc.com/news/world-middle-east-42802151

اور پھر يہ بھی ياد رہے کہ يہ بھی امريکی کاوشيں ہی تھيں جن کی وجہ سے شام ميں رقہ کا شہر داعش کے دہشت گردوں سے آزاد کروايا گيا تھا۔

https://www.nytimes.com/2017/10/17/world/middleeast/isis-syria-raqqa.html


امریکہ کو اس کوشش میں مدد دینے والے 73 رکنی عالمی اتحاد کی قیادت پر فخر ہے۔ اس کوشش کے نتیجے میں عراق و شام میں داعش کی نام نہاد خلافت ریزہ ریزہ ہو گئی۔ ابھی ہمارا بہت سا کام باقی ہے مگر رقہ کی آزادی داعش کے خلاف عالمگیر جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل ہے جس سے ان دہشت گردوں کو شکست دینے کے لیے عالمی اور شامی کوششوں کی کامیابی نمایاں ہوتی ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

 

fawad DOT

Active Member
امریکا ایک تیر سے دو شکار کرتا ہے .. میڈیا پر اپنی معصومیت ثابت کرتا رہتا ہے تا کہ عالمی برادی اس کی مدد کرتی رہے اور ساتھ ساتھ اپنے عزائم بھی حاصل کرتا رہتا ہے .. اس مقصد کے لئے وہ اپنے ہی بنانے ہوے ٹھگوں کو لڑوا دیتا ہے تا کے عالمی برادری کو شک نہ ہو ...

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

کسی بھی متوازن سوچ کے حامل شخص کے ليے يہ واضح ہے کہ دہشت گردوں کے سرغناؤں اور ان کے جنگجوؤں کا طريقہ کار ہی يہ ہے کہ وہ اپنا قبضہ جمانے کے ليے مخالفين کو ٹارگٹ کرتے ہيں اور انھيں منظر سے ہٹانے کے ليے ہر ممکن کاروائ کرتے ہيں۔ افغانستان ميں داعش اور طالبان کے مختلف گروہوں کی جانب سے ايک دوسرے پر حملوں کی حاليہ خبريں اسی مخصوص اور جانی مانی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

آپ امريکہ کو اس بات کے ليے مورد الزام قرار نہيں دے سکتے کہ افغانستان ميں داعش اور طالبان کے جنگجو مختلف علاقوں پر قبضے، وسائل کے حصول اور عوام پر اپنا تسلط زبردستی جمانے کے ليے ايک دوسرے کے خون کے پياسے ہو چکے ہيں۔

ميرا سوال يہ ہے کہ امريکی حکومت کيونکر اپنے وسائل اور بے پناہ امداد کسی بھی دہشت گرد گروہ کو فعال کرنے کے ليے صرف کرے گی جبکہ ہم پہلے ہی اپنے فوجيوں سميت بے شمار وسائل انھی دہشت گردوں کو ختم کرنے کے ليے مختص کر چکے ہيں؟

يقينی طور پر يہ توقع نہيں کی جا سکتی کہ امريکی حکومت اپنے ٹيکس دہندگان کے پيسے سے ايک ايسی حکمت عملی تشکيل دے گی جو عملی طور پر افغانستان ميں ہمارے ہی فوجيوں کو خطرات سے دوچار کر دے گی اور وہ بھی ايسی صورت حال ميں جب وہ ميدان جنگ ميں دہشت گرد گروہوں کے خلاف نبرد آزما ہيں۔

کونسی منطق يا دانش کے کس پہلو کے تحت کچھ راۓ دہندگان اس بات پر يقين کر ليتے ہيں کہ کوئ بھی دہشت گرد گروہ افغانستان میں امريکی اہداف کے حصول ميں معاون ثابت ہو سکتا ہے کيونکہ حقيقت تو يہ ہے کہ قريب تمام ہی دہشت گرد گروہوں نے عوامی سطح پر امريکہ مخالف ايجنڈے کو اپنی بنيادی سوچ کے طور پر متعارف کروايا ہے۔ يہی نہيں بلکہ امريکہ سے نفرت کے جذبات کو يہ لوگ اپنی صفوں ميں نۓ دہشت گردوں کی بھرتی کے ليے برملا استعمال کرتے ہيں۔ ايسے گروہوں کو مضبوط کر کے يا انھيں وسائل فراہم کر کے امريکہ اپنا کون سا فائدہ حاصل کر سکتا ہے؟


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

 

fawad DOT

Active Member
مزید یہ کہ طالبان کو امریکی صدر نے رشیا جنگ میں اپنے باپ دادوں سے تشبی دی تھی ...


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


افغانستان اور پاکستان ميں دہشت گردی کے سبب کشت وخون کا جو بازار گرم ہے، اس تناظر ميں يہ بحث کہ 80 کی دہائ ميں امريکی حکومت کے افغانستان ميں کسی مخصوص گروہ کے ساتھ کس نوعيت کے تعلقات رہے ہوں گے خاصی بے مقصد اور بے معنی ہے۔ اگر امريکہ سميت عالمی برادری بشمول اقوام متحدہ نے ايک قابض فوج کے مقابلے ميں افغانستان کے عوام کی مدد کا فيصلہ کيا تھا تو اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ دو دہائيوں کے بعد اسی ملک کے کچھ گروہوں اور افراد کو اس بات کا لائسنس اور کھلی چھٹی مل جانی چاہيے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی مدد کريں اور دنيا بھر ميں اپنی سوچ اور نقطہ نظر کو مسلط کرنے کے لیے بے گناہ انسانوں کو قتل کرتے پھریں۔


کيا اس دليل ميں منطق کا کوئ پہلو ہے کہ چونکہ 30 برس قبل امريکہ نے دنيا کے ساتھ مل کر افغانستان پر ہونے والی جارحيت کی مذمت کی تھی اور افغان عوام کے درست موقف کی حمايت کی تھی چنانچہ اب ہميں طالبان کی سوچ اور ان کی فکر کی بھی حمايت کرنی چاہيے، وہی طالبان جنھوں نے القائدہ اور اس کی قيادت کو محفوظ ٹھکانے فراہم کيے۔ ايک ايسی تنظيم جس نے امريکہ کے خلاف جنگ کا باقاعدہ اعلان کر رکھا تھا۔

امريکہ نے 30 برس قبل جو کيا، اسے ہر لحاظ سے ايک درست خارجہ پاليسی قرار ديا جا سکتا ہے جسے دنيا کی تمام اہم اقوام نے درست قرار دے کر اس کی حمايت کی تھی۔ ليکن يہ نہيں بھولنا چاہیے کہ اس وقت بھی امريکی حکومت افغانستان میں مختلف افراد اور گروہوں کو براہراست کنٹرول کرنے اور ہدايات دينے کے عمل کا حصہ نہيں تھی۔ يہ ايک ايسی حقيقت ہے جسے پاکستان ميں امريکہ کے سخت ترين نقاد بھی تسليم کر چکے ہیں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu
 

Museebat

Newbie

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

ريکارڈ کی درستگی کے ليے واضح کر دوں کہ اکتوبر 21 اور اکتوبر 27 کے درميان امريکی اور اس کے اتحاديوں کی داعش کے خلاف جاری فضائ بمباری کے مہم کے دوران دہشت گردوں کے اہم ٹھکانوں پر 188 حملے کيے گۓ۔

http://www.centcom.mil/MEDIA/PRESS-RELEASES/Press-Release-View/Article/1676020/october-30-operation-roundup-targets-isis-remnants/

يہ زمينی حقائق اور اعداد وشمار عراق اور شام ميں داعش کے دہشت گردوں کے خلاف ہماری کاوشيں کو واضح کرتے ہيں۔۔

ہم تمام تر وسائل کو بروۓ کار لا کر ان کے خاتمے کی کاوشيں کر رہے ہيں۔

چند ماہ قبل داعش کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف امريکی فضائ بمباری کے نتيجے ميں 150 اہم دہشت گرد ہلاک ہوۓ۔

https://www.bbc.com/news/world-middle-east-42802151

اور پھر يہ بھی ياد رہے کہ يہ بھی امريکی کاوشيں ہی تھيں جن کی وجہ سے شام ميں رقہ کا شہر داعش کے دہشت گردوں سے آزاد کروايا گيا تھا۔

https://www.nytimes.com/2017/10/17/world/middleeast/isis-syria-raqqa.html


امریکہ کو اس کوشش میں مدد دینے والے 73 رکنی عالمی اتحاد کی قیادت پر فخر ہے۔ اس کوشش کے نتیجے میں عراق و شام میں داعش کی نام نہاد خلافت ریزہ ریزہ ہو گئی۔ ابھی ہمارا بہت سا کام باقی ہے مگر رقہ کی آزادی داعش کے خلاف عالمگیر جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل ہے جس سے ان دہشت گردوں کو شکست دینے کے لیے عالمی اور شامی کوششوں کی کامیابی نمایاں ہوتی ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

یار فواد بھائی اپ بھی بہت بھولے ہو .. امریکا اگر دائش کے دہشت گردوں پر حملہ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ تو نہیں وہ ان سپورٹ نہیں کر رہا ہے .. انٹرنیشنل سیاست اسی کو کہتے ہیں ... تا کہ کسی کو شک نہ ہو .. یہ دائش اور القاعدہ کا وجود بھی نہیں تھا جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا .... اب اپ کہو گے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ہے یہ غریب غریب دہشت گرد امریکا جانے کے لئے ترستے ہیں کہ وہاں اچھی زندگی گزار سکیں اور ویزا نہیں لگتا اور انہوں نے ہوائی جہاز اغوا کر لئے اور امریکا کو تباہ کر دیا ... بہت ہی بیوقوفی والی بات ہے ... بات یہی ہے ایسے کاموں سے سب سے زیادہ عالمی معشیت میں امریکا کو فائدہ ہوا ہے ... تھوڑا سا نقصان کروا کے اگر کسی کو بڑا فائدہ مل جاے تو کوئی بری بات نہیں
 

fawad DOT

Active Member
.. بات یہی ہے ایسے کاموں سے سب سے زیادہ عالمی معشیت میں امریکا کو فائدہ ہوا ہے ... تھوڑا سا نقصان کروا کے اگر کسی کو بڑا فائدہ مل جاے تو کوئی بری بات نہیں

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


ميں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ کس منطق اور معيار کے مطابق آپ يہ دعوی کر رہے ہيں کہ عالمی دہشت گردی کا عفريت امريکہ سميت کسی بھی ملک کے ليے معاشی استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔ ياد رہے کہ سينکڑوں کی تعداد ميں امريکی فوجی بھی عراق اور افغانستان ميں انھی افراد اور گروہوں کے خلاف لڑتے ہوۓ اپنی جان سے ہاتھ دھو بيٹھے ہيں جن کے اعمال اور وجود آپ کی دليل کے مطابق ہمارے ليے معاشی فوائد کا سبب ہيں۔


کيا ايسا ممکن ہے کہ امريکہ جانتے بوجھتے ہوۓ اپنے ہی فوجيوں کی جانوں کو خطرے ميں ڈالے گا، اور وہ بھی دہشت گردی کے ان محفوظ ٹھکانوں کے خاتمے کے ليے جو آپ کی دانست ميں ہمارے معاشی مفادات کے ليے کاروائياں کر رہے ہيں۔



کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ جو امريکی عوام ہر سال کئ بلين ڈالرز کی رقم انسانيت کی خدمت اور دنيا بھر ميں انسانی زندگی کو بہتر بنانے کے ليے وقف کرتی ہے وہ اپنی حکومت کو اس بات کی اجازت دے گی کہ ان کے ٹيکس سے حاصل شدہ آمدنی کو ذريعہ بنا کر دنيا بھر ميں فسادات کو ہوا دی جاۓ اور جنگوں کی آگ لگائ جاۓ؟ اس دليل ميں کسی کے ليے بھی دانش اور فہم کا کوئ پہلو ہے؟


آپ دنيا ميں امريکہ کے مثبت کردار کو يکسر فراموش کر رہے ہيں جس ميں دنيا کے بے شمار ممالک کے ليے مستقل بنيادوں پر امدادی پيکج اور تعميری منصوبوں ميں مدد بھی شامل ہے۔ تکنيکی مہارت، طب، تعليم اور زراعت کے ميدانوں ميں معجزانہ ترقی کے علاوہ ہر شعبہ زندگی ميں امريکی ترقی سے دنيا بھر کے لاکھوں لوگوں کی زندگيوں ميں بہتری کا عمل جاری رہتا ہے۔

ماضی بعيد ميں مختلف اقوام کی دنيا ميں حيثيت اور اثر رسوخ کا دارومدار جنگوں اور معرکوں کے نتيجے ميں پيدا ہونے والے حالات اور نتائج کے تناظر ميں ہوتا تھا جبکہ جديد دور ميں کسی بھی قوم کی برتری کا انحصار سائنس اور ٹيکنالوجی کے ميدان ميں کاميابی، کاروبار اور معاش کے مواقعوں اور نت نۓ امکانات کی دستيابی پر مرکوز ہوتا ہے۔ اس تناظر ميں امريکہ يا کسی اور ملک کے ليے "سپر پاور" کی اصطلاح اس بنيادی اصول کی مرہون منت ہوتی ہے کہ عام انسانوں کے معيار زندگی ميں بہتری لانے کے لیے کتنے تخليقی ذرائع اور مواقعے مہيا کيے گۓ ہيں۔

آج کے جديد دور ميں جنگيں اور فسادات اجتماعی انسانی ترقی اور کاميابی کی راہ ميں رکاوٹ ہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

 

fawad DOT

Active Member
یہ غریب غریب دہشت گرد امریکا جانے کے لئے ترستے ہیں کہ وہاں اچھی زندگی گزار سکیں اور ویزا نہیں لگتا اور انہوں نے ہوائی جہاز اغوا کر لئے اور امریکا کو تباہ کر دیا ...


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی ايک نظريہ ہے جسے مجرموں اور قاتلوں کے گروہ اپنی مکروہ سوچ اور سياسی عزائم کی تکميل کے ليے استعمال کرتے ہيں۔ چاہے وہ داعش ہو، القائدہ يا ٹی ٹی پی – يہ ايک حقيقت ہے کہ ان گروہوں کی آمدن کا بڑا ذريعہ چوری چکاری، بھتہ خوری، تيل کی غير قانونی فروخت، اغوا براۓ تاوان اور خيرات کی وصولی ہيں۔ تاہم اب عالمی برادری ايسے موثر اقدامات اٹھا رہی ہے جن کے نتيجے ميں دہشت گردی کے ان نيٹ ورکس کا اس حد تک خاتمہ ممکن ہو سکے گا کہ ان کی وجہ سے ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کو روکا جا سکے۔

خود کش حملہ آور، اجرتی قاتل اور ان دہشت گرد گروہوں ميں شامل انتہا پسند جو اپنی خونی کاروائيوں کے لیے اپنی جانيں دينے سے بھی دريخ نہيں کرتے درحقيقت ايسے افراد ہيں جن کی باقاعدہ برين واشنگ کی گئ ہے اور يہ افراد نا تو مالی مفادات کو خاطر ميں لاتے ہيں اور نا ہی مالی وسائل ميں تنگی ان کے راستے کی رکاوٹ بنتی ہے۔ کئ واقعات ميں تو دہشت گرد حملے کمسن بچوں سے کروا‎ۓ جاتے ہيں جنھيں دہشت گرد گروہوں کے سرغنہ اپنے مکروہ مقاصد کی تکميل کے ليے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت استعمال کرتے ہيں۔

علاوہ ازيں خودکش حملوں کے ليے ذہنی طور پر معذور بچوں اور لڑکيوں کا استعمال بھی ريکارڈ کا حصہ ہے۔

دہشت گردی کے عفريت اور اس کے خطرات سے نبردآزما ہونے کے ليے عالمی کاوشیں اور خطے ميں ہماری عسکری موجودگی کا بنيادی محرک ايسے ٹھکانوں کا خاتمہ ہے جہاں پر ايسے دہشت گرد تيار کيے جاتے ہيں جو ان دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں ميں کھيلتے ہيں۔ خطے ميں ہماری موجودگی اور کاوشوں کا مقصد انتقامی کاروائ يا کسی فرد واحد کا تعاقب نہيں ہے بلکہ دہشت گرد گروہوں کی اس صلاحيت کو ختم کرنا ہے جس کے ذريعے وہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے حملے کرتے ہيں۔

ياد رہے کہ داعش اور القائدہ کے تو عالمی عزائم اور اہداف ہيں جن کا برملا اظہار بھی کيا جا چکا ہے۔ ان تنظیموں کی جانب سے جغرافيائ حدود سے قطع نظر دنيا کے بے شمار ممالک ميں دہشت گردی کے حملے کيے گۓ ہيں۔ اسی طرح طالبان کی اگرچہ اکثر کاروائياں افغانستان کے اندر تک ہی محدود رہی ہيں، تاہم افغانستان ميں موجود دہشت گردی کے ٹھکانوں ميں تشکيل پانے والے منصوبوں کے سبب دنيا کے کئ علاقوں ميں دہشت گردی کے حملے کيے گۓ ہيں جن ميں امريکی سرزمين پر نو گيارہ کے حملے بھی شامل ہيں جن ہزاروں بے گناہ امريکی شہری ہلاک ہوۓ تھے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/

 

Museebat

Newbie
ارے بھائی امریکا کا ڈیفنس بجٹ چیک کرو ... امریکا کو دیش اور القاعدہ سے سب سے فائدہ ہوا ہے .. امریکا ان کو استعمال کر کے دنیا کے ملکوں میں اسلحہ فروخت کرتا ہے .. اگر دیش اور القاعدہ کو ختم کر دو .. تو دنیا میں سکون ہو جاے گا .. پھر امریکا کی فوج اور اس کا اسلحہ کس کام کا .. اپ کو شائد لکھنے کے پیسے ملتے ہوں پر جو حقیقت ہے وہ حقیقت ہے
 

alricbasil

Newbie
ap sub muslmanon ko target q krty ho, ap wo dekhty ho jo media dekhata hy. agr ap k countary pr koi attack kry to ap keya kro gy?
 

fawad DOT

Active Member
ارے بھائی امریکا کا ڈیفنس بجٹ چیک کرو ... امریکا کو دیش اور القاعدہ سے سب سے فائدہ ہوا ہے .. امریکا ان کو استعمال کر کے دنیا کے ملکوں میں اسلحہ فروخت کرتا ہے .. اگر دیش اور القاعدہ کو ختم کر دو .. تو دنیا میں سکون ہو جاے گا .. پھر امریکا کی فوج اور اس کا اسلحہ کس کام کا .. اپ کو شائد لکھنے کے پیسے ملتے ہوں پر جو حقیقت ہے وہ حقیقت ہے



فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


آپ اپنی ہی دليل کی نفی کر رہے ہيں۔ ايک جانب تو آپ اس بات پر يقين رکھتے ہيں کہ دنيا ميں پائيدار امن کے ليے ضروری ہے کہ داعش اور القائدہ جيسی دہشت گرد تنظيموں کا خاتمہ يقينی بنايا جاۓ ليکن دوسری جانب جب امريکی حکومت انھی عناصر کے خاتمے کے ليے وسائل فراہم کرتی ہے تو پھر آپ اپنی ہی دليل کو ايک طرف رکھ کر يہ الزام لگاتے ہيں کہ امريکی عسکری وسائل کا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ ان تنظيموں کا وجود امريکی مفاد ميں ہے۔

جب آپ امريکی دفاعی بجٹ کا حوالہ ديتے ہيں تو پھر آپ ان اعدادوشمار کو بھی گفتگو کا حصہ بنائيں جو امريکی حکومت نے عسکری امداد اور وسائل کی صورت ميں گزشتہ چند برسوں کے دوران اپنے شراکت داروں اور اسٹريجک اتحاديوں کو فراہم کيے ہيں، اور اس امداد کا مقصد اور اہداف انھی تنظيموں کا خاتمہ ہے جو آپ کی دانست ميں اپنے وجود اور دہشت گرد کاروائيوں سے ہمارے ليے مفيد ثابت ہو رہے ہيں۔

کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ يہ ايک دانش مندانہ دليل ہو سکتی ہے کہ امريکہ اپنے ہی مبينہ اہم ترين اثاثوں کو ختم کرنے کے ليے اپنے ہی بيش بہا وسائل فراہم کرتا رہے؟

امريکی حکومت کيونکر داعش جيسی دہشت گرد تنطيم کو کسی بھی قسم کی مدد فراہم کرے گی، يہ جانتے ہوۓ کہ اس گروہ نے دہشت گردی کی جس مہم کا آغاز کیا ہے اس کے نتيجے ميں نا صرف يہ امريکی شہری بھی ہلاک ہو رہے ہيں بلکہ ہمارے شراکت دار اور اتحادی بھی اس کے شر سے محفوظ نہيں ہيں۔ فرانس، بيلجيم، سعودی عرب اور دنيا کے دیگر کئ ممالک ميں ہونے والے دہشت گردی کے حاليہ حملے اس کا واضح ثبوت ہيں۔

اس ضمن ميں کوئ ابہام نہيں ہونا چاہيے کہ دنيا ميں دہشت گردی کی حاليہ لہر اور اس کے نتيجے ميں انسانيت کے خلاف ہونے والے ظلم کے ليے داعش اور اس سے منسلک افراد قصوروار ہيں، نا کہ وہ قوتيں جو اس مشترکہ عالمی کاوشوں کا حصہ بنيں جن کا مقصد انسانی جانوں کی حفاظت کو يقينی بنانا اور اس خون خرابے کا خاتمہ کرنا ہے جسے عالمی منظرنامے پر روشناس کروانے کا سہرا داعش جيسی دہشت گرد تنظيموں کے سر ہے۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu




 

Museebat

Newbie
فواد بھائی آپ جو ڈیجیٹل اوٹ ریچ ٹیم والے پیسے دیتے ہیں امریکا کے حق میں لکھنے ... ایسی جاب ہمیں بھی لگوا دو تو ہم امریکا کی تعریف میں لکھیں ..... پر فلحال تو ہم کوئی پیسے نہیں لے رہے اس لئے سچ ہی لکھیں گے ... چلو دہشت گرد تو معمولی پیمانے پر دہشت گردی کرتے ہیں .. لیکن امریکا انٹرنیشنل دہشت گرد ہے ... جس نے عراق سے لے کر افغانستان تک شہر کے شہر تباہ کر دیے ... اتنے لوگ تو دہشت گرد ایک صدی میں نہیں مارتے جتنے معصوم امریکا ایک دن میں مروا دیتا ہے .... باقی دنیا کا کوئی بھی ملک امریکا کی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ... وہ جہاں بھی دیکھتا حکومت اس کے خلاف ہوتی جا رہی ہے اس کا تختہ الٹ دیتا ہے .... ایسی بہت سی مثالیں اپ کے سامنے ہیں صدام حسسیں جیسا بھی تھا پر آج جو حال امریکا نے عراق کا کیا اس سے تو کہیں بہتر وہ دور تھا
 

fawad DOT

Active Member
چلو دہشت گرد تو معمولی پیمانے پر دہشت گردی کرتے ہیں .. لیکن امریکا انٹرنیشنل دہشت گرد ہے ... جس نے عراق سے لے کر افغانستان تک شہر کے شہر تباہ کر دیے ...

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

سب سے پہلی بات تو يہ ہے کہ دنيا بھر ميں ہزاروں لواحقين جو اپنے چاہنے والوں اور عزيز واقارب کو دہشت گردی کے سبب موت کے منہ ميں جاتا ديکھ چکے ہيں، آپ کی اس دليل سے اتفاق نہيں کريں گے کہ دہشت گرد جو دانستہ اور جانتے ہوۓ باقاعدہ حکمت عملی کے تحت اپنی خوف اور دہشت پر مبنی مہم کو آگے بڑھانے کے ليے جو کاروائياں کرتے ہيں انھيں "معمولی" پيمانے کی دہشت گردی قرار ديا جا سکتا ہے۔


علاوہ ازيں، ان مجرموں اور قاتلوں کے برعکس ہم دانستہ عام شہريوں کو قتل کرنے کے درپے ہرگز نہيں ہيں۔ اگر اس الزام ميں صداقت ہوتی تو ہميں 70 سے زائد ممالک کی حمايت حاصل نہيں ہوتی جو دہشت گردی کے مشترکہ خطرے سے نبرد آزما ہونے کے ليے ہمارا ساتھ دے رہے ہيں اور اس اتحاد میں کئ سرکردہ اسلامی ممالک بھی شامل ہیں۔


http://theglobalcoalition.org/en/partners/

امريکی حکومت کو دنيا کے دور دراز علاقوں اور خطوں ميں دانستہ دہشت گردی کے شعلوں کو بھڑکانے سے کچھ حاصل نہيں ہوتا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس ہم نے ان بے شمار ممالک ميں شہری آباديوں کی مدد کے ليے اپنے بے شمار وسائل فراہم کيے ہيں۔ چاہے وہ شام ہو، عراق يا افغانستان – ہم اپنے الفاظ اور اقدامات کے ذريعے ہميشہ "حل" کا حصہ بننے کی سعی ہی کرتے ہيں، ان دہشت گرد تنطيموں کی طرح نہيں جو اپنی دہشت اور بربريت پر مبنی مہم کو جاری رکھنے کے ليے ہميشہ بے گناہ شہريوں کے خون کی متلاشی ہوتی ہیں۔


آپ ہم پر الزام لگاتے ہيں کہ ہم دہشت گردی کے جاری لہر سے فائدہ اٹھاتے ہيں، باوجود اس کے کہ عراق اور افغانستان ميں انھی مشترکہ دشمنوں سے لڑتے ہوۓ خود ہمارے ہی ہزاروں فوجی مارے گۓ ہيں جن کی حمايت کا الزام ہم پر لگايا جاتا ہے۔

امريکہ کی جانب سے اسلامی ممالک کی حکومتوں کو نا صرف يہ کہ ان دہشت گرد تنطيموں کے خاتمے کے لیے ہر ممکن تربيت، سازوسامان، لاجسٹک سپورٹ اور مالی امداد فراہم کی گئ بلکہ تشدد کی جس عالمی لہر کے حوالے سے آپ اپنے غم وغصے کا اظہار کر رہے ہيں، اس کو روکنے کے ليے ہم نے اپنے فوجی بھی ميدان ميں اتارے اور ہر ممکن وسائل بھی فراہم کيے۔

دنيا کے کسی بھی اور ملک نے دہشت گردی کے عالمی عفريت کے خاتمے کے ليے نا تو اتنے وسائل فراہم کيے ہيں اور نا ہی دنيا بھر ميں عام شہريوں کی حفاظت کو يقينی بنانے کے ليے اتنی کاوشيں کی ہيں۔ دہشت گردی کی يہ وبا ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے جسے غيرمنطقی تاويلوں اور سازشی نظريات کے ذريعے نا تو نظرانداز کيا جا سکتا ہے اور نا ہی اس سے جان چھڑائ جا سکتی ہے۔

علاوہ ازيں، اسلامی ممالک ميں تشدد ميں اضافے کی ہماری مبينہ خواہش کے ضمن ميں آپ نے نے امريکہ پر جو الزامات لگا‎ۓ ہیں وہ اس ليے بھی سمجھ سے بالاتر ہيں کہ گزشتہ ايک دہائ کے دوران پاکستان، افغانستان، عراق، شام اور ديگر بے شمار اسلامی ممالک میں انسانی بنيادوں پر امريکی حکومت کی جانب سے بے شمار وسائل فراہم کيے گۓ ہيں تا کہ ان عام شہريوں کی بحالی کے عمل ميں مقامی حکومتوں کو مدد فراہم کی جا سکے جو ان دہشت گردی کے واقعات سے متاثر ہوۓ ہيں جن کے ذمہ داران کی پشت پنائ کا الزام آپ امريکہ پر لگا رہے ہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

digitaloutreach@state.gov

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

https://www.instagram.com/doturdu/

https://www.flickr.com/photos/usdoturdu/


 
Top