دنیا کے اولین شہر

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
دنیا کے اولین شہر
115591

جوشا مارک

قدیم دنیا کے مطالعے میں شہر کی تعریف عموماً بڑی آبادی والے تجارتی اور انتظامی مرکز کے طور پر کی جاتی ہے، ایسا مرکز جس میں قانون کا نفاذ اور نکاسی کا اہتمام ہو۔ البتہ شہر کی یہ ایک تعریف ہے اور کسی کو ’’شہر‘‘ کا درجہ دینے کے لیے ان عوامل کو بنیاد بنایا جاسکتا ہے؛ آبادی، عمارتوں کی بلندی، آبادی اور عمارتوں کا گنجان پن، سیوریج کا کوئی نظام، انتظامی حکومت ، فصیلوں یا قلعے کی موجودگی، آبادی کا جغرافیائی علاقہ، یا یہ کہ آبادی دورِ قدیم میں شہر کہلاتی تھی اور مندرجہ بالا میں سے کم از کم کسی ایک شرط کو پوراکرتی تھی۔ قدیم دنیا میں شہر عموماً زیادہ آبادی اور عمارتوں کے تسلسل سے عبارت ہوتے اور ایک مرکزی مذہبی نوعیت کی عمارت کے گرد عمارات ہوا کرتیں۔ انگریزی کا لفظ ’’سٹی‘‘ لاطینی کے لفظ ’’سیویٹاس‘‘ سے نکلا ہے، تاہم سلطنتِ روم سے کئی صدیاں قبل شہروں کی نمو ہو چکی تھی۔ اریزونا سٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ایم ای سمتھ کے مطابق شہر کی تعریف یہ کی گئی کہ یہ بڑی اور گنجان آبادی پر مشتمل ہوتا ہے اور اس میں سماجی تنوع پایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہاں بہت سی کمیونٹیاں ایک مشترکہ مقصد اور قانون کے تحت رہتی ہیں۔ البتہ یہ تعریف بڑے شہروں کے ساتھ بڑے گاؤں پر بھی لاگو ہو سکتی ہے۔ پہلا شہرکون سا تھا؟ بیشتر ماہرین کی جانب سے شہر کی تعریف پر پورا اترنے والا دنیا کا پہلا شہر 4500 ق م سے 3100 ق م کے درمیان اس علاقے میں قائم ہوا جو میسوپوٹامیا کہلاتا ہے۔ آج اوروک کا شہر دنیا کا قدیم ترین شہر سمجھا جاتاہے۔ یہاں 4500 ق م میں آبادی قائم ہوئی ۔ 2900 ق م تک شہروں کے گرد فصیلیں تعمیر کرنے کا رواج اس خطے میں عام ہو چکا تھا۔ اوروک شہر کے قریب اریدو سومیریوں کی جانب سے قائم کیا جانے والا دنیا کا پہلا شہر تھا۔ اس کے علاوہ دنیا کے پہلے شہر کا لقب پانے کی دوڑ میں جبیل، اریحا، دمشق، حلب، یروشلم، صیدا،لویانگ، ایتھنز، ارگوس اور وراناسی شامل ہیں۔ یقینا یہ تمام شہر قدیم ہیں اور ان خطوں میں واقع ہیں جہاں انسانی آبادی بہت پہلے سے ہے۔ البتہ قدیم ترین شہر وں میں صرف اوروک ہی وہ شہر ہے جس کے ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوت موجود ہیں جن میں وہاں کی کمیونٹی کی سرگرمیوں کا ذکر ہے۔ جبیل، صیدا، اور یہاں تک کہ اریدو میں آبادی بلاشبہ اوروک سے پہلے قائم ہوئی لیکن اس کے دستاویزی ثبوت نہیں ہیں۔دیگر شہروں میں آبادی کی قدامت اور تسلسل کا پتا کھودی گئی عمارتوں کی بنیاد پر ہے، ان کے ہاں سے دستاویزی ثبوت نہیں ملے۔ قدیم شہروں میں آبادی قدیم شہروں میں آبادی کا انحصار اس تعریف پر ہے جو ہم شہر کے لیے استعمال میں لاتے ہیں کیونکہ ماہرین آبادی کی ایک مخصوص حد کو شہر بننے کے لیے ضروری خیال کرتے ہیں۔ پروفیسر سمتھ کا دعویٰ ہے ’’بہت سے قدیم شہروں کی آبادی زیادہ نہ تھی، اور عموماً یہ پانچ ہزار نفوس سے کم ہوتی۔ جبکہ دوسرے سکالر جیسا کہ موڈیلسکی آبادی اس سے زیادہ اور 10 سے 80 ہزار کے درمیان بتلاتے ہیں۔آبادی میں کمی بیشی کا انحصار زمانے پر بھی ہوتا۔ مثال کے طور پر موڈیلسکی کے مطابق 3700 ق م میں اوروک شہر کی آبادی 14 ہزار تھی تاہم 2800 ق م میں یہ 80 ہزار ہو گئی۔ اگر اس کا تقابل آج کے دور سے کیا جائے تو سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرگ کی آبادی 2011ء میں 495,360 تھی، 2011ء میں انگلستان کے شہر لندن کی 81 لاکھ 74 ہزار اور 2012ء میں ریاست ہائے متحدہ امریکا کے شہر نیویارک کی آبادی 83 لاکھ 37 ہزار تھی۔ دوسری جانب تاریخ دان لوئس ممفورڈ کا خیال ہے کہ ’’عہدعتیق میں غالباً کسی شہر کی آبادی 10 لاکھ سے زیادہ نہیں تھی، روم کی بھی نہیں، سوائے چین کے، روم جیسے شہر انیسویں صدی تک قائم نہیں ہو سکے۔‘‘ شہر کے گرد فصیلیں میسوپوٹامیا میں شہروں کے گرد فصیلیں عام تھیں۔ آج دورِ قدیم کا سب سے معروف اور شاید سب سے متنازع شہر بابل ہے کیونکہ اس کے بارے میں کچھ ایسا لکھا گیا ہے۔ اس کے متنازع ہونے کی وہی وجہ ہے جو اس کے مشہور ہونے کی ہے۔ تاہم یہ برائی کا شہر نہیں تھا۔ بابل ثقافت اور دانش کا مرکز، عظیم اور خوش حال شہر تھا۔ اس کی کامیابیوں میں سے ایک یہاں شیشہ بنانے کے فن میں 1500 ق م کے لگ بھگ مہارت کا حصول ہے۔ اس کے علاوہ یہاں آرٹ اور فن کے ان علوم کو ترقی ملی جنہیں آج فلکیات، نجوم، قدیم طبیعات، ریاضی، قانون، ادب، طرزتعمیر اور مجسمہ سازی کہا جاتا ہے۔ معروف بادشاہ ہمورابی نے اس شہر کے گرد 1792 ق م میں فصیلیں تعمیر کیں۔ اس نے یہاں دیوتا مردوک کا بہت بڑا عبادت خانہ اور ایک بڑا سیڑھیوں والا مینار زیگورات تعمیر کیا اور یہ سب دریائے فرات کے گرد تھا۔ البتہ بابل کو عروج بخت نصر دوم کے دور میں ملا۔ وہ 634-562 ق م میں زندہ رہا اور اس کا دور 605-562 ق م ہے۔ اس نے شہر کے گرد تین دائروں میں فصیلیں بنوائیں جو 40 فٹ اونچی اور بہت چوڑی تھیں۔ بابل کی دیواریں اور اس کاعشتار دروازہ بعض ماہرین کے مطابق دور قدیم کے سات عجائبات میں شامل ہے۔ میسوپوٹامیا کے بعد یونان اور روم کے شہروں کی پہچان فصیلیں بننے لگیں۔ دوسری تہذیبوں کیلئے بھی یہ بات سچ ہے۔ ’’عظیم زمبابوے‘‘ کے نام سے مشہور شہر جو موجودہ زمبابوے اور بینن جو موجودہ نائیجیریا میں ہے، فصیلوں ہی سے پہچانے جاتے تھے۔بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ دوسری ثقافتوں پر میسوپوٹامیا براہ راست اثرانداز ہوابلکہ کسی دوسرے ثقافتی اثر کے بغیر دنیا بھر میں شہروں کے گرد فصیلوں کی تعمیر حملوں اور قدرتی آفات کے خلاف فطری ردعمل تھی۔ چین میں شہروں کے گرد فصیلیں قائم کرنا ریت رہی، سوائے انگیانگ کے، جس کے گرد کبھی فصیل نہیں بنائی گئی۔ ایسے شہر بھی تھے جن کے گرد دیواریں نہیں تھیں یا اگر تھیں بھی تو کم اونچی اور کم طویل۔ مایا تہذیب کے شہر میسوامریکا میں کوئی قابل ذکر فصیل نہیں تھی البتہ دروازے بنائے گئے تھے۔ مصریوں نے فصیل والے شہر نہیں بسائے۔ فصیلوں والے شہر قدیم میسوپوٹامیا میں زندگی کی گہما گہمی سے بھرپور ہوا کرتے تھے۔ بابل کی آبادی (جو نصربخت دوم کے دور میں دو لاکھ تھی) کا ان فصیلوں پر دارومدار دوسری شہری ریاستوں کی طرح ہی تھا ۔ یہ انہیں خارجی غیریقینی اور خطرے سے بچاتی تھیں۔ فصیلوں سے باہر طویل کھیت اور چراگاہیں ہوا کرتیں۔ شہروں کے فوائد اور نقصانات سکالرز کا اس امر پر اتفاق نہیں ہو سکا کہ میسوپوٹامیا میں شہر کیوں قائم ہونا شروع ہوئے۔ اس بارے میں مختلف قیاس کیے جاتے ہیں جن میں خطے میں بارش کی کمی، بڑا اور کھلا میدانی علاقہ ،جس کے سبب لوگ حالات اور حملہ آوروں کے رحم وکرم پر ہوتے، شامل ہیں۔ یہ سادہ وجہ بھی بتائی جاتی ہے کہ خوش حال دیہات لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرنے لگے اور ان کی آبادی تیزی سے بڑھ گئی۔ لوئس ممفورڈ کے مطابق’’ جسمانی تحفظ اور سماجی تسلسل شہروں کی دو عظیم دین ہیں۔ ان حالات میں کسی قسم کا تنازع اور چیلنج ہو بھی جاتا تو اس سے سماجی نظام میں رخنے نہیں پڑتا تھا… چیزیں ذخیرہ کرنے کی استعداد، نہروں کے نظام اور آب پاشی کے بل بوتے پر مشرق قریب میں سب سے پہلے نمودار ہونے والے شہر اپنے قیام کا جواز لیے ہوئے تھے۔ انہوں نے کمیونٹی کو فطرت کی ہنگامہ خیزی اور تشدد سے آزاد کیا۔‘‘ قدرتی ماحول سے بنی نوع انسان کی علیٰحدگی نے ایک مصنوعی دنیا پیدا کی جس میں اپنی بقا کیلئے لوگوں کونظام قدرت کی پروا نہ ہوتی۔ بارش کے پانی کو بعدازاں استعمال کیلئے ذخیرہ کرلیا جاتا۔ آب پاشی کے نظام کے باعث بارش کا انتظار کیے بغیر فصلوں کو پانی دیا جا سکتا تھا۔ جب شہر بڑے ہونے لگے، ان کی طاقت بھی بڑھنے لگی۔ سمتھ کے مطابق ’’حکمرانوں نے شہری طرزتعمیر کو اختیار، دولت، اقتدار کے جواز اور دوسرے نظریاتی موضوعات کیلئے برتا۔‘‘ پرانا دیہی طرززندگی، جس میں انسانی کمیونٹی کا انحصار زمین سے تعلق پر تھا، شہری مراکز کے ابھار کے بعد تبدیل ہو گیا۔ اب انسان قدرتی ماحول کو کنٹرول کرنے لگے اور ارد گرد کی زمین کو اپنی مرضی سے استعمال میں لانے لگے۔ ممفورڈ کے مطابق صحت اور ذہنی توازن کیلئے لازمی بہت سے عناصر جو قدرت کی جانب سے میسر آتے تھے، شہروں میں ان کی کمی تھی۔ شہروں کے بہت سے فوائد تھے تاہم شہری ماحول کے مصنوعی پن کی وجہ سے بہت سے قدیم شہر فتح ہو کر تباہ ہوئے یا ان کے اپنے لوگوں نے انہیں برباد کر دیا یا پھر چھوڑ گئے۔ براعظم امریکا کی مایا تہذیب کے تمام شہری مراکز 900ء تک خالی ہو گئے۔ میسوپوٹامیا کے بہت سے شہر جیسا کہ اوروک اور اریدو، ان سے بھی پہلے خالی ہوئے۔ حد سے زیادہ آبادی اور وسائل کی کمی نے قدیم شہروں کو انحطاط کا شکار کیا۔کوپان سمیت مایا تہذیب کے دوسرے شہروں میں آبادی کی ضروریات کے مطابق پانی کی فراہمی نہ رہی۔ پانی اور دوسرے وسائل کی کمی سے قدیم دنیا کے بہت سے شہر برباد ہو گئے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?