ذوالحجہ کے فضائل واعمال علامہ ابتسام الہٰی ظہیر

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,871
3,839
1,313
Lahore,Pakistan
ذوالحجہ کے فضائل واعمال علامہ ابتسام الہٰی ظہیر
اللہ تعالیٰ نے جب زمین وآسمان کو تخلیق کیا‘ اس وقت سے چار مہینوں کو حرمت والا قرار دیا: محرم ‘ رجب ‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ۔ ان مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی فضیلت دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ اور نافرمانی کا وبال بھی دوسرے مہینوں سے زیادہ ہے ؛ چنانچہ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ِایمان کو حکم دیا کہ ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ ان حرمت والے مہینوں میں سے بھی اللہ تعالیٰ نے ذوالحجہ کے پہلے دس دنوںکو ایک امتیازی شان عطا فرمائی۔ اس مہینے کی نو تاریخ کو عرفات میں وقوف ‘جبکہ دس تاریخ کو منیٰ میں یوم نحر اوردنیا بھر میں عیدالاضحی ہوتی ہے ۔ وقوفِ عرفات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ لاکھوں حاجیوں کی خطائیں معاف فرماتے ہیں‘ جبکہ دنیا کے دیگر مقامات پر 9ذوالحجہ کا روزہ رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے گزشتہ ایک برس اورآئندہ آنے والے ایک سال کی خطاؤں کو معاف فرمادیتے ہیں۔ اگرہم نزول قرآن کی تاریخ پر غور کریں تو اس حقیقت کو سمجھنا مشکل نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے یوم عرفہ دین اسلام کو مکمل فرما کر انسانیت کی فلاح کے لیے اسے واحد راستے کے طور پر پسند فرمایا۔ سورہ مائدہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں ''آج میں نے تمہارا دین تمہارے لیے مکمل کر دیا‘ اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند فرما لیا‘‘۔ یوم نحر یا عیدالاضحی کے موقع پر دنیا بھرمیں کروڑوں کی تعدادمیں اونٹ‘ گائے ‘ بھیڑ‘ بکریاں‘ دنبے اور چھترے ذبح کیے جاتے ہیںاور اللہ تعالیٰ کا نام ان جانوروںکے گلے پر چھری چلاتے ہوئے لیا جاتا ہے اور عبادت کی اس خاص قسم کو بجا لانے کی وجہ سے جہاںاخروی کامیابیوں کے دروازے کھلتے ہیں‘ وہیں غریب غربا کی بھوک مٹانے اور دوست احباب‘ اعزہ واقارب کو خوش دلی سے کھانا کھلانے کے امکانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔
جس طرح لوحِ محفوظ سے آسمان دنیا پر قرآن مجیدکے نزول کی وجہ سے رمضان المبارک کا پورا مہینہ محترم و مکرم و مبارک ٹھہرا اسی طرح حج اور قربانی کی بابرکت عبادات کی وجہ سے جہاں اللہ تبارک وتعالیٰ نے نویں ودسویں ذوالحجہ کو مقام عطا فرمایا‘ وہیں پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے پورے عشرے ہی کو محترم ومعززبنا دیا۔ قرآن مجید کی سورہ فجر کی پہلی دوآیات میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا''قسم ہے فجر کی اوردس راتوں کی‘‘۔ مفسر امت حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سمیت مفسرین کی اکثریت کے نزدیک ان دس راتوں سے مراد عشرہ ٔ ذوالحجہ ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک زمانے بھر میں عشرۂ ذوالحجہ سے افضل کوئی دن نہیں ہے ۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں بیان ہوا کہ دنیا کے سب سے افضل یہ دس دن‘ یعنی عشرۂ ذوالحجہ ہیں۔
شب ِقدرکو نزول قرآن کی وجہ سے یہ مقام حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس اکیلی رات کو ہزار مہینوں سے افضل بنا دیا اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ مقام ان دس دنوں کو عطا فرمایا۔ حضرت انس ابن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین فرمایا کرتے تھے کہ اس عشرے کا ہر دن ایک ہزار دن‘ جبکہ تنہا یوم عرفہ دس ہزار دنوں کے برابر ہے ۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ نزول قرآن مجیدکی یاد دلاتا ہے‘ جبکہ عشرہ ٔ ذوالحجہ سے تکمیل دین کی یادیں وابستہ ہیں۔ رمضان المبارک کے اختتام پر عید الفطر ‘جبکہ عشرۂ ذوالحجہ کے اختتام پر عیدالاضحی ہے اور شریعت نے انہی دو ایام کو مسلمانوں کے لیے خوشی والے دن قراردیا ہے ۔
بخاری شریف میں روایت ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا کہ نیکی ‘جس قدر ان ایام میں فضیلت والی ہوتی ہے ‘اتنی دیگر ایام میں نہیں ہوتی۔ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا جہاد فی السبیل ا للہ بھی نہیں؟ توآپ نے ارشاد فرمایا :جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں‘ سوائے اس شخص کے جو اپنی جان اور مال کے ساتھ جہاد کے لیے روانہ ہوا اور اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لایا۔
عشرۂ ذوالحجہ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم سیرت کی یاد بھی دلاتا ہے کہ جن کی سنت کا احیا کرتے ہوئے مسلمان حج اورقربانی جیسا مقدس فریضہ انجام دیتے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید باری تعالیٰ کے ساتھ والہانہ وابستگی کا اظہار فرمایا۔ جوانی کے عالم میں بت کدے میں کلہاڑاچلادیا‘ اجرام سماویہ کی بے بسی اور بے بصاعتی کو واضح کیا اور انسانی زندگی پر ان کے اثرات کی کلی نفی کی۔ آپ ؑنے نمرود کی جلتی ہوئی آگ میں اترنا گوارا کرلیا‘ دربارِ نمرود میں علم توحیدکو اُٹھالیا‘ بڑھاپے کے عالم میں اپنی شریک ِحیات سیدہ ہاجرہ کو اپنے شیر خوار بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ہمراہ وادیٔ غیر ذی زرع میں چھوڑنا گوارا کرلیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے لخت ِجگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری چلانے پر تیار ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی اور عبادت کے اہتمام کے لیے زمین پر اللہ تعالیٰ کے پہلے گھرکی باقاعدہ تعمیرکا فریضہ انجام دیااور اپنے کردار‘ عمل‘گفتار اور رفتار سے انسانیت کو اللہ تعالیٰ کی کامل بندگی کا سبق دیا اوراپنی عظیم قربانی کے سبب آپ توحید پرستوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے ۔
عشرۂ ذوالحجہ کے دوران ہمیں اللہ تعالیٰ کی بندگی کا بھر پوراہتمام کرنا چاہیے ۔ مسند احمد میں ایک حدیث کے راوی حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا''اللہ کی نظروں میں ان ایام سے زیادہ افضل کوئی بھی دن نہیں کہ جن میں کیے جانے والے نیکی کے کام ان ایام میں کیے جانے والے نیکی کے کاموں سے زیادہ اللہ کو محبوب ہوں‘‘؛ چنانچہ ان دنوں میں بکثرت تہلیل‘ تکبیر اور تحمیدکرنی چاہیے۔ خاص یوم عرفہ کے حوالے سے یہ بات ثابت ہے کہ اس دن کی بہترین دعا جو نبی کریم اورآپ سے پہلے انبیاء کا ذکر ہے‘ وہ ''لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ‘ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر‘‘ ہے ۔
یوم عرفہ کی فضیلت تو واضح ہے کہ اس دن روزہ رکھنے والے کے گزشتہ اورآئندہ آنے والے برس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ‘لیکن باقی ایام ذوالحجہ میں بھی روزہ رکھنا باعث ثواب ہے ۔ سنن نسائی اور سنن ابی داؤد میں حدیث مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کے نو دن اور یوم عاشورکا روزہ رکھا کرتے تھے ۔
ان ایام میںکثرت سے توبہ واستغفارکا اہتمام کرنا چاہیے‘ تاکہ ہماری زندگی میں ہمارے گناہوںکی وجہ سے آنے والی تکالیف اور پریشانیوںکا خاتمہ ہو جائے اور اخروی فلاح ونجات بھی ہمارا مقدر بن جائے ۔ ان ایام میں کیے جانے والے نیکی کے کاموں میں سرفہرست عمرہ اور حج ہیں۔ عمرہ اور حج بکثرت کرنے سے جہاں انسان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ‘وہیں اس کے رزق میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ ان ایام میں کیے جانے والا آخری اور اہم کام جانوروں کی قربانی ہے ۔ قربانی کا مقصد دکھلاوے کی بجائے اللہ کی خوشنودی کا حصول ہوناچاہیے ۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الحج میں اعلان فرمایاکہ ''اللہ تعالیٰ کو ہرگز جانوں کا گوشت اور لہو نہیں پہنچتا ‘بلکہ اس کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ‘‘۔
سنت ِنبوی شریف صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ عشرۂ ذوالحجہ کی آمدکے بعد‘ جس نے قربانی کرنی ہو‘ اس کو اپنے بال اور ناخن نہیں کاٹنے چاہئیں۔ صحیح مسلم شریف ‘ سنن ابی داؤد اور سنن نسائی میں حدیث مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''جس شخص کے پاس قربانی کا جانور ہو ‘جسے وہ ذبح کرنے کا ارادہ رکھتا ہو ‘جب ذوالحج کا چاند نظر آجائے ‘تو وہ اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے‘ یہاں تک کہ اللہ کی راہ میں قربانی کر لے ۔
ایام ذوالحجہ اپنے جلو میں برکات ‘ مغفرت اور رحمت باری کا پیغام لے کر آتے ہیں۔ ہمیں ان ایام میں زیادہ سے زیادہ بندگی اور عبادت کا اہتمام کرکے اپنے پروردگارکو راضی کرنا چاہیے‘ تاکہ ہماری دنیا اور آخرت سنور جائے ۔(آمین)
اللہ تعالیٰ نے جب زمین وآسمان کو تخلیق کیا‘ اس وقت سے چار مہینوں کو حرمت والا قرار دیا: محرم ‘ رجب ‘ ذوالقعدہ اور ذوالحجہ۔ ان مہینوں میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی فضیلت دوسرے مہینوں کے مقابلے میں زیادہ اور نافرمانی کا وبال بھی دوسرے مہینوں سے زیادہ ہے ؛ چنانچہ سورہ توبہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ِایمان کو حکم دیا کہ ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?