ذہنی دباؤ سے نپٹنے کے سادہ طریقے

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,158
10,446
1,313
Lahore,Pakistan
ذہنی دباؤ سے نپٹنے کے سادہ طریقے
117711

ڈاکٹر سٹتھ گلیہان
کیا آپ تشویش سے بھرے رہتے ہیں اور دباؤ آپ پر حاوی رہتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو آپ اکیلے نہیں۔ تشویش ایک عام نفسیاتی حالت ہے جس سے لوگ نپٹنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں، اس کے بعد اکثر شدید ذہنی دباؤ کا مرحلہ آتا ہے۔ آپ غالباً شدید تشویش کے منفی اثرات سے واقف ہوں… پورے جسم میں کھچاؤ، سونے میں مشکل، مسلسل پریشانی اور تشویش کی طرف مائل کرنے والی چیزوں سے دور بھاگنا۔ اکثر نظرانداز ہونے والی علامات میں اپنی ذات پر شکوک و شبہات، بڑی مصیبت کا خوف، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل اور چڑچڑا پن شامل ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ بعض طریقے اپنا کر آپ اپنی تشویش کم کر سکتے ہیں اور زندگی میں ذہنی دباؤ سے بہتر انداز میں نپٹ سکتے ہیں۔ سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ ایسا کرنے کے لیے زیادہ وقت بھی درکار نہیں ہوتا۔ بہت سے ایسے مختصر اور آسان طریقے ہیں جوبہتری لا سکتے ہیں۔ یہاں جنہیں پیش کیا جا رہا ہے، ان کی بنیاد تحقیقی شواہد پر ہے۔ روزمرہ کے ذہنی دباؤ اور تشویش سے نپٹنے کے لیے میں نے ذاتی طور پر بھی انہیں مفید پایا ہے۔ علی الصبح، اپنے دن کا آغاز حال سے (30 سیکنڈ): دن بھر کے رخ کا تعین کرنے کے لیے اپنی صبح کا آغاز حال سے جوڑنے والی ورزش سے کریں۔ آپ اس کی شروعات جاگنے کے ساتھ کر سکتے ہیں… اپنی آنکھ کھولنے سے قبل بھی… یا صبح کی روٹین میں (شاور کے نیچے، چائے کی تیاری کے دوران وغیرہ وغیرہ۔) اپنی آنکھیں بند کریں اور اندر جانے اور باہر آنے والی سانسوں کی طرف توجہ دیں۔ جوں ہی آپ سانس اندر لیں، اپنے بارے میں سوچیں، ’’میں ہوں‘‘۔ جب آپ سانس باہر نکالیں تو سوچیں ’’یہاں‘‘۔ سانس لیتے ہوئے اسے دہراتے جائیں: ’’میں …یہاں ہوں۔ میں یہاں ہوں۔‘‘ آپ کے جسم اور ذہن کے اس سادہ اعلان سے پیداشدہ ردعمل پر توجہ دیں۔ بند آنکھوں کے ساتھ دن کے دوران یہ طریقہ پھر آزمائیں۔ صبح اور دوپہر کا درمیانی وقت، سانسوں کا ساتھ (60 سیکنڈ): سانسوں پر توجہ مرکوز کرنا اپنی تشویش کم کرنے اور ذہنی دباؤ سے نپٹنے کے سب سے قابلِ بھروسہ طریقوں میں سے ایک ہے، اور اس کی وجہ بھی ہے۔ سانس کے ساتھ ہو لینے سے عصبِ شش و معدہ (vagus nerve) سے ربط قائم ہوتا ہے، جس سے نظام اعصاب کا وہ حصہ متحرک ہوتا ہے جس کا تعلق پُرسکون کرنے سے ہے۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آ پ کو پُرسکون ہونے کا جتن کرنے کی ضرورت نہیں، آپ نے صرف سانسیں لینی ہیں۔ آپ کا نظامِ اعصاب باقی کام خود کرے گا۔ ایک منٹ کا ٹائمر لگائیں۔ ایک اچھا تسکین دینے والا سانس لیں، باہر نکالنے کا عمل آہستہ ہو۔ ایک منٹ میں کتنی بار سانس لیا، اسے شمار کریں۔ تعداد جو بھی نکلے یہ آپ کا ’’سانس نمبر‘‘ ہو گا۔ مثلاً میرا نمبر سات ہے۔ دن میں جب بھی آپ کو ذہنی دباؤ کا احساس ہو، رکیں اور اسی نمبر میں تسکین آور سانسیں لیں۔ اس میں ایک منٹ لگے گا اور آپ کو ٹائمر کی ضرورت بھی نہیں ہو گی۔ یہ بات نوٹس کریں کہ صرف سانس لینے سے ذہن میں ٹھہراؤ آ رہا ہے۔ یہ طریقہ اس وقت بالخصوص معاون ہے جب آپ کو لگے کہ آپ دباؤ میں ہیں یا پریشان ہیں۔ اسے کہیں بھی آزمایا جا سکتا ہے…گھر اور کام کے دوران۔ لنچ ٹائم، آرام اور انہضام (30 سیکنڈ): کھانے کے دوران ہمارے نظام اعصاب کے اس حصے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جو لڑنے مرنے یا بھاگنے کے دوران متحرک ہوتا ہے اور دباؤ کے ہارمونز کے اخراج کا ذمہ دار ہے۔ لیکن ہم اکثر جلدی جلدی کھانا کھانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہماری توجہ ادھر اُدھر پریشان کن امور پر رہتی ہے، جیسا کہ کام یا کوئی ہنگامی خبر۔ کھانا پُرسکون حالت میں کھانے سے دباؤ کو کم کریں اور ہاضمے کو بہتر بنائیں۔ جس حد تک ممکن ہو کھانا میز یا دسترخوان پر کھائیں اور کام اور دوسری نوع کے دباؤ کو ایک طرف رکھ دیں۔ اس سادہ طریقے پر عمل کریں اور اپنے جسم اور ذہن کو کھانے کے لیے تیار کریں۔ جب آپ کھانے کے لیے بیٹھیں، تین آہستہ، بیٹھ کر سانسیں لیں۔ ٭ پہلی سانس کے ساتھ اپنے پاؤں کو فرش پر اور وزن کو کرسی پر پڑا ہوا محسوس کریں۔ یہ محسوس کریں کہ جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر آپ کہاں ہیں۔ ٭ دوسری سانس کے ساتھ اپنے اردگرد کو سمجھیں، زندگی میں شامل چیزوں کو نوٹس کریں ۔ پھر اس فرد کی طرف توجہ دیں جس کے ساتھ مل کر آپ کھانا کھا رہے ہیں۔ اپنے اردگرد کا جائزہ لیں۔ ٭ تیسری سانس کے ساتھ اپنے سامنے غذا پر توجہ دیں، اس کے رنگ، ساخت اور خوشبو پر۔ شام سے پہلے، کھچاؤ کو خیرباد کہیں (دو منٹ): ہمارا جسم بھی دن بھر دباؤ جمع کرتا رہتا ہے، جو تشویش میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ دن میں چند باراس دباؤ کو خارج کرنے کی پریکٹس کریں۔ ایک سے دوسرے کام میں قدم رکھتے ہوئے ایسا کرنا خاص طور پر مفید ہو گا جیسا کہ ملازمت سے گھر لوٹتے ہوئے گھروالوں سے ملاقات سے پہلے۔ اس ورزش میں آپ نے عضلات میں تناؤ پیدا کر کے انہیں پُرسکون کرنا ہے۔ کسی خاموش جگہ پر بیٹھیں۔ تین تسکین آور سانس لیں اور آہستہ باہر نکالیں۔ اپنے ہاتھوں کو اپنی مٹھی میں لمحہ بھر کے لیے دبائیں، پھر اسے مکمل ڈھیلا کر دیں۔ تین بار پھر تسکین آور سانس لیں۔ اب اپنے کندھوں کو اوپر کانوں کی طرف اٹھائیں، کھچاؤ پیدا کریں اور پھر کندھوں کو ڈھیلا کر دیں۔ توجہ دیں کہ آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں۔ سونے کا وقت، شب بخیر (تین منٹ): بستر پر جاتے وقت ہمارے اذہان دن میں غلط ہونے والے اور پریشان کن کاموں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ اس سے دباؤ اور تشویش ہمارے بستر میں گھس جاتی ہے۔ اس کے بجائے ان امور پر توجہ دیں جو ٹھیک رہے، وہ جن پر آپ کو شکرگزار ہونا چاہیے۔ اپنی زندگی کی اچھی چیزوں پر توجہ دیں۔ اپنے ساتھ کاغذ پنسل رکھیں۔ بتی بند کرنے سے پہلے تین ایسی چیزیں لکھیں جن کے لیے آپ شکرگزار ہیں، ان میں آپ کو چاہنے والے، اچھا کھانا، جو ٹھیک کیا وغیرہ شامل ہو سکتے ہیں۔ جو لکھا اسے ذہن میں لائیں اور بتی بجھا کر سو جائیں۔ (ترجمہ و تلخیص: رضوان عطا)

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?