رسول اللہﷺ کی پاکیزہ خصوصیات، تحریر : ابو طلحٰہ اظہار الحسن محمود

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,493
10,879
1,313
Lahore,Pakistan
رسول اللہﷺ کی پاکیزہ خصوصیات، تحریر : ابو طلحٰہ اظہار الحسن محمود

آپ ﷺ کی روزمرہ کی زندگی سادہ سی تھی ۔آپﷺ اپنے کام کام خود کرتے تھے۔ مویشیوں کو چارہ ڈالتے ، بازار سے سامان خریدتے، کپڑوں کو پیوند لگاتے،اکٹھے کھاناکھاتے اور اگر بعض دفعہ کھانے کو کچھ بھی میسر نہ ہوتاتو خدا کا شکر ادا کرتے اور بھوکے ہی سوجاتے، کبھی کئی کئی ہفتے چولہے میں آگ نہ جلتی اور پانی اور کھجوروں پر گزارہ ہوتا۔

سادگی کا یہ عالم تھا کہ آپؐ کی غذا عموماً جو کی روٹی ہوتی تھی اور چونکہ نبی اکرم ؐ کے یہاں چھلنی نہیں تھی ‘اس لئے اس کی بھوسی پھونک مارکر ہٹا دی جاتی تھی۔ چنانچہ عمر بھر آپؐ نے نہ کبھی چھنے ہوئے باریک آٹے کی روٹی تناول فرمائی اور نہ ہی کبھی دسترخوان پر کھانا کھایا، آپؐ نے کبھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا۔ جو کچھ موجود ہوتا تھا وہ تناول فرما لیتے تھے اور بھوک نہیں ہوتی تھی تو چھوڑ دیتے تھے۔ آپ ﷺاپنے اہل وعیال سے زیادہ اپنی امت کی آسائش وسہولت کا خیال رکھتے تھے‘ چنانچہ لگان و خراج سے جو مال ودولت اور اشیا آپ کو موصول ہوتیں توآپ فوری طورپر لوگوں میں تقسیم کردیتے تھے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا کہ اپنے لئے کچھ نہ چھوڑتے۔ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ بسا اوقات تین تین روز تک گھر میں آگ نہ جلتی اور آل نبی ایک یا نصف کھجور کھا کر روزہ افطار کرلیتے۔ آپؐ نے بہت سادہ زندگی بسر کی اور وصال سے قبل فرمایا:

ترجمہ:’’کہ میرے ورثاء کو میرے ترکہ میں روپیہ پیسہ کچھ نہ ملے گا۔‘‘

حقیقت میں آپؐ کے پاس دنیوی سازوسامان میں سے کچھ تھا ہی نہیں جو کسی کو دیا جاتا۔ حالت تو یہ تھی کہ آپؐ کی زرہ مبارک ایک یہودی کے پاس 30 درہم کے عوض گروی رکھی ہوئی تھی اور آپؐ کے پاس اتنی رقم بھی نہ تھی کہ اسے چھڑا لیتے۔ حضرت نبی ؐ کے دستر خوان پر جب کوئی مہمان ہوتا تو آپﷺ بار بار اس سے فرماتے جاتے ، کھائیے اور کھائیے، جب مہمان خوب سیر ہوتا اور بے حد انکار کرتا تب آپ اپنے اصرار سے باز آجاتے۔آپؐ نے ترکہ میں صرف اپنے ہتھیار، ایک خچر اور تھوڑی سی مملوکہ زمین کے سوا کوئی چیز نہیں چھوڑی اور ان اشیا کی بابت بھی ارشاد فرمایا کہ یہ خیرات کردی جائیں۔حضرت حفصہ ؓ فرماتی ہیں گھر میں ایک ٹاٹ کا ٹکڑا تھاجسے ہم دہرا کردیا کرتے تھے۔ آنجنابؐ اسی پر آرام فرمایا کرتے ۔ ایک رات میں نے خیال کیا کہ اگر اس کی چارتہیں کردیں تو غالباً آپؐ کو زیادہ آرام ملے گا۔ چنانچہ ہم نے ایسا ہی کیا ۔ جب صبح ہوئی تو آپؐ نے پوچھا:

ترجمہ :’’رات کو تم نے میرے لیے کیا بچھایا تھا‘‘؟

میں نے کہا،ترجمہ :’’وہی آپؐ کا ٹاٹ تھا ، مگر اس کی چارتہیں کردی تھیںتاکہ آپؐ بہتر طریقے سے آرام کرسکیں۔‘‘

آپ ؐ نے فرمایا : ’’نہیں !اسے تو جیسا پہلے تھا ویسا ہی کردو۔ اس نے مجھے نماز شب سے بازرکھا۔‘‘

آپؐ راتوں کو اتنی دیرتک نماز میں کھڑے رہتے تھے کہ پائوں مبارک پر ورم آجاتا تھا‘ یہ دیکھ کر بعض صحابہؓ نے عرض کیا کہ ’’یارسول اللہؐ ! آپؐ کی مغفرت تو خدا کرچکا ہے۔ اب آپ ؐ کیوں یہ زحمت اٹھاتے ہیں؟‘‘ ارشاد ہوا:’’کیا میں خدا کا شکرگزار بندہ نہ بنوں ‘‘

ایک مرتبہ حضرت عائشہؓ کے دودھ شریک بھائی مسروق ان کے پاس آئے۔ حضرت عائشہؓ نے کھانا منگوایا اور فرمانے لگیں : ’’ جب سیر ہو کرکھانا کھاتی ہوں تو مجھے رونا آتا ہے۔‘‘انہوں نے پوچھا کہ کیوں؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا کہ مجھے آپؐ کا زمانہ یاد آ جاتا ہے کہ جب تک رسول اللہؐ حیات رہے ،خدا گواہ ہے کہ کبھی ایک دن میں دوبار سیر ہو کر روٹی نہیں کھائی اور بعض دفعہ گھر میں پورا مہینہ آگ نہیں جلتی تھی اور ہم صرف کھجوروں اور پانی پر گزارا کرتے تھے۔حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے کہ پیغمبر خداؐنے فرمایا کہ ایک بار مجھ پر 30 دن رات اس حالت میں گزرے کہ میرے پاس کھانے کو سوائے قلیل مقدار میں کوئی چیز ہوتی تھی۔آپؐ کے پاس کبھی صبح یا شام کا کھانا جمع نہیں ہوا کہ کھانے سے کھانے والے بھی زیادہ ہوئے۔

ایک مرتبہ نبیؐ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور بولا !یا رسول اللہ ؐ! میں بھوک سے بے تاب ہوں۔ آپؐ نے اپنی کسی بیوی کے ہاں پیغام بھیجاکہ کھانے کے لئے جو کچھ موجود ہو‘ بھیج دو۔ جواب آیا: اس خدا کی قسم جس نے آپؐ کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ یہاں تو پانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ پھر آپؐ نے دوسری بیوی کے ہاں معلوم کیا تو وہاں سے بھی یہی جواب آیا۔ یہاں تک کہ آپؐ نے ایک ایک کرکے اپنے تمام گھروں سے پتہ کیا تو سب کے ہاں سے اسی طرح کا جواب آیا۔

اب آپؐ اپنے صحابہ ؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’ آج رات کیلئے اس مہمان کی میزبانی کون قبول کرتا ہے؟‘‘ ایک انصاری نے کہا : ’’یا رسول اللہؐ! میں قبول کرتا ہوں۔‘‘ یہ انصاری ان کو اپنے گھر لے گئے اور گھرجا کر بیوی کو بتایاکہ میرے ساتھ رسول اللہ ؐ کے مہمان ہیں‘ ان کی خاطر داری کرو۔ بیوی نے کہا:’’ اس وقت تو گھر میں صرف بچوں کیلئے کھانا ہے۔‘‘ صحابیؓ نے کہا:’’ بچوں کو کسی طرح بہلا کر سلا دو اور جب مہمان کے سامنے کھانا رکھو تو کسی بہانے چراغ بجھا دینا اور کھانے پر مہمان کے ساتھ بیٹھ جانا تاکہ اس کو یہ محسوس ہو کہ ہم بھی کھانے میں شریک ہیں۔‘‘

اس طرح مہمان نے تو پیٹ بھر کرکھانا کھایا اور گھر والوں نے ساری رات فاقے سے گزاری۔ صبح جب صحابیؓ نبیؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے دیکھتے ہی فرمایا:’’ تم دونوں نے رات مہمان کے ساتھ جو حسن سلوک کیا، وہ خدا کو بہت ہی پسند آیا۔‘‘

آپ ﷺ کو حوضِ کوثر عطا ہوناہوئی۔یہ ایک خاص انعام ہے جو اﷲ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب ﷺ کو عطا کیا ہے۔ ایک بہت بڑا حوض جو کہ دنیا کی نہروں سے کہیں بڑا ہے اس کا دودھ نہایت سفید اور شفاف ہے، پینے میں بےحد لذیذ ہے، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی طرح لاتعداد ہیں۔ حضورﷺ اس سے اپنی امت کے خوش نصیبوں کو پلائیں گے۔رسول اﷲﷺ کا ارشاد ہے:

’’جس رات مجھے معراج کرائی گئی، میرا گزر ایسی نہر سے ہوا جس کے کنارے موتیوں کے خول سے بنے ہوئے تھے میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: یہ کوثر ہے۔‘‘

جوامع الکلم کا عطا ہونا:رسول کریمﷺکو اﷲ تعالیٰ نے ایسے کلمات سے نوازا ہے جو بظاہر بہت چھوٹے اور مختصر ہیں لیکن معانی کا سمندر ان میں موجود ہوتا ہے۔حضرت ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو خیر کے جامع کلمات، جن کے آغاز اور اختتام میں بھی خیر ہے، عطا فرمائے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے جامع ترین کلمات سے نوازا گیا ہے۔‘‘آپ ﷺ کی شخصیت میں خاص رعب کی کیفیت تھی۔ آپ ﷺکا ایک خاص وصف تھا کہ باہر سے آنے والے کئی دشمن آپ ﷺکو دیکھ کر ہی مرعوب ہو جاتے اور ان کے ناپاک عزائم خاک میں مل جاتے۔ سیّدنا جابر بن عبداﷲؓروایت کرتے ہیں کہ نبیﷺ نے فرمایا مجھے کئی چیزیں ایسی دی گئی ہیں، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ مجھے ایک مہینہ کی مسافت سے رعب کے ذریعہ مدد دی گئی۔پوری روئے زمین میرے لیے مسجد اور پاک بنا دی گئی، لہٰذا میری امت میں سے جس شخص پر جہاں کہیں نماز کا وقت آجائے، وہیں نماز پڑھ لے۔ میرے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا حالانکہ مجھ سے پہلے کسی (نبی) کے لیے حلال نہیں تھا۔مجھے شفاعت کی اجازت دی گئی۔ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا، اور میں (قیامت تک کے) تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ آپ ﷺپہلے سفارشی ہوں گے۔امت کے گنہگاروں کے لیے سب سے پہلے شفاعت کا جو حق دیا جائے گا وہ اﷲ کے آخری رسول حضرت محمدﷺ کو دیا جائے گا۔ سیّدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ ’’سارے لوگوں میں سے سب سے پہلے میں جنت کے لیے شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے زیادہ میرے تابعدار ہوں گے۔سب سے زیادہ پیروکارآپﷺ کے ہیں۔ کائنات میں جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں ان سب میں بڑا درجہ نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کا ہے۔چنانچہ آپ کا ارشاد ہے،ترجمہ :سیّدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ سارے لوگوں میں سے سب سے پہلے میں جنت کی شفاعت کروں گا اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے زیادہ میرے تابعدار ہوں گے۔آپ ﷺ خاتم الانبیاء ہیں۔بلا شبہ آپﷺ تمام انبیا میں سے آخری ہیں۔ آپ ﷺکے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ ہاں کئی جھوٹے لوگ دعویٰ نبوت ضرور کریں گے۔ حضرت ابوہریرہؓسے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل میں انبیاء حکومت کیا کرتے تھے جب ایک نبی کا وصال ہوتا تو دوسرا اس کا جانشین ہو جاتا اور میرے بعد تو کوئی نبی نہیں ہوگا البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے صحابہؓنے عرض کیا پھر آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا یکے بعد دیگرے ہر ایک کی بیعت پوری کرنا اور انہیں ان کا (وہ حق جو تم پر ہے) دیتے رہنا اور اﷲ نے انہیں جن پر حکمران بنایا ہے ان کے بارے میں وہی ان سے بازپرس کرے گا۔حضورپاکﷺ نے فرمایا، ترجمہ :’’میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی (نیا) نبی نہیں آئے گا‘‘۔ حضرت ابو قتیلہؓ فرماتے ہیں رسول اﷲﷺ نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا: نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا نہ تمہارے بعد کوئی امت آئے گی۔آپﷺ قیامت تک کے لوگوں کے لیے مبعوث ہوئے ۔پہلے نبی صرف اپنی قوم کے لیے آتے تھے اور اپنے زمانے کے لیے مبعوث ہوتے تھے۔ یہ رسول اﷲﷺ کا خاص وصف ہے کہ آپ کو قیامت تک کی ساری قوموں کے لیے اور سارے زمانوں کے لیے مبعوث فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ :’’ اور ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔‘‘(سباء ۳۴: ۲۸)

حضور نبی اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا، اور میں (قیامت تک کے) تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔آپ ﷺکی آل پر زکوٰۃ کا حرام کی گئی ۔رسول اﷲ ﷺ کی ذات پر اور آپ ﷺکی آل پر ان کی شرافت و عزت کی خاطر اﷲ تعالیٰ نے اموالِ زکوٰۃ کو روک دیا ہے۔ علماء محققین نے لکھا ہے کہ اگر کوئی صحیح النسب سیّد غریب ونادار ہو تو لوگوں پر لازم ہے کہ ہدیہ وعطیات سے اس کی اعانت کرتے رہیں کیونکہ مالِ زکوٰۃ ان کے لیے ممنوع ہے۔حضرت ابوہریرہؓروایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کے پاس کھجور کے کٹنے کے وقت کھجور کا پھل لایا جاتا، کبھی ایک شخص اپنی کھجور لے کر آتا اور کبھی دوسرا شخص اپنی کھجور لے آتا، یہاں تک کہ کھجور کا ڈھیر لگ جاتا۔ سیّدنا حسن ؓاور سیّدنا حسینؓان کھجوروں سے کھیلنے لگے اور ان میں سے ایک نے کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی۔ رسول اﷲﷺ نے دیکھا تو کھجور ان کے منہ سے نکال لی اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آلِ محمدﷺ صدقہ نہیں کھاتے۔

ہواؤں کے ذریعے مددفرمائی گئی۔اﷲ کریم نے اپنے محبوب نبیﷺ کے لیے دین کی سربلندی کی خاطر ہر طرح سے مدد فرمائی۔سیّدنا عبداﷲ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ بادِ صبا کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے جبکہ قوم عاد کو مغربی ہوا کے ذریعہ ہلاک کیا گیا۔اﷲ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں آپ پر اضافی طور پر نماز تہجد لازم کر دینے کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

(بنی اسرائیل ۱۷: ۷۹)

: ’’اور رات کے کچھ حصہ میں تہجد ادا کیجئے یہ آپ کے لیے اضافی حکم ہے۔‘‘حضرت عبداﷲ بن عباسؓسے مروی ہے کہ میں نے (حضرت )رسول اﷲ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں جو مجھ پر تو فرض ہیں لیکن تمہارے لیے وہ فرض نہیں، ایک وتر، دوسرے (صاحب نصاب نہ ہونے کے باوجود) قربانی اور تیسرے چاشت کی نماز۔حضرت رسولِ ہدیٰ، حضرت محمدﷺ کا یہ بھی ایک خاص وصف ہے کہ آپ ﷺکے اسماء گرامی بے شمار ہیں۔ ظاہر میں جو حدیثیں ہیں ان میں تو رسول کریمﷺ کے چند اسماء مبارک ذکر کیے گئے ہیں باقی سب نام معنوی ہیں، یعنی آپ ﷺکی صفات کو دیکھ کر احادیثِ مبارکہ اور سابقہ کتب کے حوالے سے مختلف علماء ومحققین نے جمع کیے ہیں۔حضرت رسول اﷲﷺ کا ارشاد گرامی ہے: میرے پانچ نام ہیں، میں محمد(ﷺ) ہوں اور میں احمد ہوں، میںماحی ہوں کہ خدا تعالیٰ میرے ذریعے سے کفر کو مٹاتا ہے اور میں حاشر ہوں (قیامت کے دن) سب لوگ میرے قدموں سے اٹھائے جائیں گے اور میں عاقب ہوں (کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا)۔امام صالحی الشامی فرماتے ہیں کہ رسولِ کریمﷺ کے سات سو چون نام اور چار کنیتیں (ابو القاسم، ابو ابراہیم، ابو الارامل، اور ابو المومنین) ہیں۔علامہ الشیخ محمد موسیٰ روحانی البازی نے اپنی کتاب البرکات المکیہ فی الصلوات النبویۃ میں رسول کریمﷺ کے آٹھ سو نام باحوالہ ذکر کیے ہیں۔ قاضی عیاض، علامہ سہیلی اور ابن قیم فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ کے ساتھ حمد یہ نام (جن میں حمد کا تذکرہ ہے) مخصوص ہیں کسی اور پیغمبر کو یہ خصوصیت حاصل نہیں۔آپ ﷺکے ذاتی نام احمد (اﷲ تعالیٰ کی بہت زیادہ تعریف کرنے والے) اور محمدﷺ (جن کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی) ہیں۔آپ ﷺ کی امت حمادون ہے یعنی بہت زیادہ تعریف کرنے والے، خوشی اور رنج میں یعنی ہر حال میں۔آپ ﷺکا خطبہ بھی اﷲ کی حمد سے شروع ہوتا ہے۔آپ ﷺپر نازل ہونے والی کتاب بھی الحمد سے شروع ہوتی ہے۔آپﷺ کھانے پینے میں اور دعا میں بھی الحمد کا تذکرہ بکثرت فرماتے تھے۔آپ ﷺکے ہاتھ میں روزِ قیامت لواء الحمد (حمد والا پرچم) ہوگا۔آپ ﷺروزِ محشر عرش الٰہی کے سامنے سجدے میں اﷲ کی بے حد حمد بیان کریں گے۔آپ ﷺکو مقامِ محمود عطا کیا جائے گا۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?