رومن گلیڈی ایٹرز اپنی جان پرکھیل کر لوگوں کو خوش کرنا ان کا فرض تھا

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
7,445
7,464
1,313
Lahore,Pakistan
رومن گلیڈی ایٹرز اپنی جان پرکھیل کر لوگوں کو خوش کرنا ان کا فرض تھا
116524

عبدالحفیظ ظفر
سلطنتِ روم کا مجموعی عرصہ 500سال بنتا ہے۔ اس عرصے میں اس سلطنت میں کئی رسموں نے جنم لیا۔ کچھ رسموں کو سرکاری طور پر متعارف کرایا گیا اور ان میں سے ایک خونی رسم بھی شامل تھی جس کا بنیادی کردار گلیڈی ایٹرز ادا کرتے تھے۔ یہ گلیڈی ایٹرز غلام یا سابق غلام ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ سزا یافتہ مجرم بھی یہ کردار ادا کرتے تھے۔ یہ جنگجو تھے اور ان کا مقابلہ اپنے حریفوں سے یا خونخوار جانوروں سے ہوتا تھا اور یہ مقابلہ موت تک جاری رہتا تھا۔ اس کا مقصد لوگوں کو تفریح مہیا کرنا ہوتا تھا۔ لوگ بڑی تعداد میں اردگرد کھڑے ہو جاتے اور گلیڈی ایٹرز کے خونی کھیل پر انہیں داد دیتے۔ ان کا پرجوش استقبال کیا جاتا تھا۔ انہیں تفریح کا بادشاہ (King of entertainment)بھی کہا جاتا تھا۔ یہ پیشہ ور جنگجو تھے جنہیں مخصوص ہتھیاروں کے استعمال میں مہارت حاصل ہوتی تھی۔ ان کی اوسط عمر بھی کم ہوتی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے مقابلوں کا اختتام موت پر ہوتا تھا۔ روم کے لوگوں پر اپنے پیشرو کا بہت اثر تھا۔ مثال کے طور پر مستقبل کا تعین کرنے کے لئے وہ جانوروں کی قربانی دیتے تھے اور گلیڈی ایٹرز گیمز بھی اسی کا حصہ تھیں۔ یہ ایک خونی تفریح ہوا کرتی تھی۔ یہ گیمز رومن شہنشاہوں اور رؤسا کو یہ موقع فراہم کرتی تھیں کہ وہ لوگوں کے سامنے اپنی دولت کی نمائش کریں۔ اس کے علاوہ وہ اپنی فوجی فتوحات کو یاد کر کے جشن بھی مناتے تھے۔ اس کا ایک اور مقصد یہ تھا کہ لوگوں کی توجہ سیاسی اور معاشی مسائل سے ہٹا دی جائے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان کے مقابلے دیکھتے تھے۔ ایک زمانے میں عورتیں بھی گلیڈی ایٹرز کا کردار ادا کرتی تھیں۔ بعض اوقات وہ رؤسا جو دیوالیہ ہو جاتے تھے، تلوار کے ذریعے لڑائی کر کے روزی کماتے تھے۔ پورے روم میں گلیڈی ایٹرز سکول قائم کئے گئے تھے۔ ان کا مقصد زیادہ سے زیادہ جنگجو پیدا کرنا تھا۔ ان کو بہترین خوراک مہیا کی جاتی تھی اور تربیت حاصل کرنے والے گلیڈی ایٹرز کی طبی سہولتوں کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا تھا۔ گلیڈی ایٹرز کی اصطلاح دراصل لاطینی لفظ گلیڈیاٹورز سے ماخوذ ہے اور اس کا حوالہ ان کے خاص ہتھیار گلیڈیس سے دیا گیا تھا جس کا مطلب چھوٹی تلوار سے ہے جو ان کے ہاتھ میں ہوتی تھی۔ لیکن اس تلوار کے علاوہ جنگجو کے پاس اور بھی بڑے ہتھیار ہوتے تھے جو مقابلوں میں استعمال ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ گلیڈی ایٹرز اپنی حفاظت کے لئے لوہے کا لباس پہنتے تھے۔ خاص طور ان کے ہیلمٹ بڑی مہارت سے تیار کیے جاتے تھے۔ یہ بات البتہ بڑی اہم ہے کہ ہتھیاروں اور لوہے کا لباس دیتے وقت اس بات کو مدنظر رکھا جاتا تھا کہ گلیڈی ایٹر کا تعلق کس طبقے سے ہے۔ یعنی یہاں بھی طبقاتی حوالے سے دیکھا جاتا تھا۔ گلیڈی ایٹرز کے چار اہم طبقات تھے۔ سیمنائٹ تھریکس، مائر ملو اور ریٹایئرس۔ سیمنائٹ طبقے کا نام ان عظیم سیمنائٹ جنگجوؤں کے نام پر رکھا گیا جن سے رومیوں کی لڑائی ہوئی اورجنہوں نے شکست کھائی۔ یہ لڑائی ری پبلک دور کے شروع کے برسوں میں ہوئی تھی۔ تھریکیئن گلیڈی ایٹرز کے پاس ایک تلوار، ایک بڑی شیلڈ (ڈھال) اور حفاظتی لباس ہوتا تھا۔ ان کے پاس ایک خم دار چھوٹی تلوار ہوتی تھی اور ایک بہت چھوٹی شیلڈ ہوتی تھی جسے پارما کہا جاتا تھا۔ ریٹایئرس نے ہیلمٹ پہنا ہوتا تھا نہ ہی لوہے کا لباس۔ یہ جنگجو اپنے حریف کو جال پھینک کر پھنسانے کی کوشش کرتا تھا۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی قسم کے گلیڈی ایٹرز تھے جنہیں مختلف قسم کے ہتھیار اور لباس دیئے جاتے تھے۔ پھر ایسے گلیڈی ایٹرز بھی تھے جو خونخوار جانوروں سے لڑتے تھے۔ اگر کسی گلیڈی ایٹر کا جوش کم پڑتا دکھائی دے تو منیجر اور اس کے غلاموں کی ٹیم اسے بڑے پیار سے سمجھاتی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہزاروں تماشائیوں کا شور اور حریف کے مسلسل حملے بہت سے گلیڈی ایٹرز کو اس بات پر قائل کرتے تھے کہ وہ آخر تک لڑیں۔ کئی ایسے واقعات بھی ہوئے جب گلیڈی ایٹرز نے لڑنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے لوگوں کو ’’خونی تفریح‘‘ مہیا کرنے کی بجائے ایک دوسرے کا گلا گھونٹ دیا اور زندگی سے نجات حاصل کرلی۔ اگر کوئی گلیڈی ایٹر ہار جاتا لیکن ہلاک ہونے سے بچ جاتا تو اکثر وہ اپنے ہتھیار پھینک کر رحم کی اپیل کرتا۔ اب یہ اس کے حریف پر منحصر ہوتا کہ وہ نرم رویہ اختیار کرتا ہے یا نہیں۔ اگر وہ رحم دلی کا مظاہرہ کرتا ہے اور اپنے حریف کو چھوڑ دیتا ہے تو اس میں اسے یہ خطرہ مول لینا پڑتا ہے کہ اس کا دوبارہ اسی حریف سے میدان میں مقابلہ ہوگا۔ اگر روم کا شہنشاہ خود موجود ہوتا تو پھر فیصلہ وہ خود کرتا۔ لیکن تماشائی بھی شہنشاہ کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے۔ اس کے لئے وہ کپڑے لہراتے یا ہاتھوں سے اشارے کرتے۔ اگر وہ اپنے انگوٹھوں کو اوپر کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اسے جانے دو۔ اور اگر وہ شور مچاتے ہوئے انگوٹھوں کو نیچا کرتے تو اس کا مطلب ہوتا کہ اسے ہلاک کر دو۔ ہالی وڈ میں ’’گلیڈی ایٹر‘‘ کے نام سے چند برس پہلے فلم بنائی گئی تھی جو پاکستان میں بھی ریلیز ہوئی تھی۔ اس میں رسل کرو نے گلیڈی ایٹر کا کردار ادا کیا تھا۔ یہ فلم سپرہٹ ثابت ہوئی تھی۔ یہ بات البتہ بہت المناک ہے کہ قدیم زمانے میں شہنشاہ غلاموں کے ساتھ کیا سلوک کرتے تھے۔ محض اپنے لوگوں کی تفریح کیلئے سزا یافتہ مجرموں اور غلاموں کو خونی کھیل پر مجبور کرنا سراسر ایک غیر انسانی فعل تھا بلکہ یہ انسانیت کی تذلیل تھی لیکن روم کے شہنشاہوں نے تفریح کے نام پر انسانی اقدار کا خون کر دیا۔ بہرحال یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے اور تاریخ بدلی نہیں جا سکتی۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
3,713
3,788
213
اَللّٰہُ اَکْبَرْ کَبیرًا وَّ الحَمْدُ لِلّٰہِ کَثِیرًا وَّ سُبْحَانَ اللّٰہِ بَکْرَ ۃً وَّ اصِیلاً
دیکھو جی اتنی لمبی عربی تحریر کا میرے پاس تو جواب نہیں میری طرف سے بس جزاک اللہ
 
Top
Forgot your password?