سات خطرناک کچھوے اور لزرڈز

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
5,671
5,716
1,313
Lahore,Pakistan
سات خطرناک کچھوے اور لزرڈز
115576

جان ریفرٹی

بہت سے افراد لزرڈز (lizards) اور کچھوؤں کو عجیب و غریب مخلوق سمجھتے ہیں۔ احساسات سے عاری چہرے، پنجوں اور دانتوں کے سبب بہت سے لزرڈز خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ کچھوؤں کو سست رفتار اور دب جانے والا سمجھا جاتا ہے۔ دراصل زیادہ تر لزرڈز اور کچھوے انسانوں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔ البتہ ان دونوں گروہوں کے کچھ ارکان شکار بننے والے بدنصیبوں کو جان سے مارنے، زخمی اور بیمار کرتے یا کم ازکم اوسط درجے کی تکلیف پہنچا سکتے ہیں۔ دراصل بعض لزرڈز میں زہر بھرا ہوتا ہے اور وہ خاصے جارح ہوتے ہیں۔ گیلا مونسٹر گیلا مونسٹر امریکا کی ریاستوں اریزونا، کیلیفورنیا، نیواڈا، یوٹا، نیومیکسیکو اور میکسیکو کی ریاستوں سونورا اور سینالوا میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی لمبائی کم و بیش 20 انچ ہوتی ہے۔ ان ہٹے کٹے لزرڈز کے جسم پر سیاہ اور گلابی دھبے ہوتے ہیں۔ یہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں پائے جانے والے سب سے بڑے لزرڈز ہیں۔ گرم موسم میں گیلا مونسٹر رات کے وقت چھوٹے میملز، پرندوں اور انڈوں کو کھانے کے لیے نکلتے ہیں۔ اس دوران ان کی دم اور پیٹ میں ذخیرہ ہونے والی چربی سردیوں کے مہینوں میں کام آتی ہے۔ بڑا سر اور مضبوط جبڑا انہیں بہت زور سے کاٹنے کے قابل بناتا ہے۔ اس دوران وہ زخم میں زہر بھی داخل کر دیتے ہیں۔ اگرچہ ایسا کم ہوتا ہے لیکن اگر یہ کاٹ لیں تو انسان کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔ خاطف کچھوا سنیپنگ یا خاطف کچھوے کا نام اس کے کاٹنے کے طریقے پر رکھا گیا ہے۔ تازہ پانی کے یہ کچھوے اپنی بڑی جسامت اور جارحانہ فطرت کے سبب مشہور ہیں۔ خاطف کچھوے براعظم شمالی امریکا کے ’’راکی سلسلۂ کوہ‘‘ کے جنوب کے علاوہ میکسیکو اور وسطی امریکا سے ایکواڈور تک مختلف مقامات پر پائے جاتے ہیں۔ ان کا رنگ نخودی سے سیاہ ہوتا ہے۔ ان کا بیرونی خول کھردرا ہوتا ہے اور ایک چھوٹا متقاطع زیریں خول ہوتا ہے۔ دم لمبی ہوتی ہے، سر بڑا ہوتا ہے اور جبڑا ایسا کہ فوراً جکڑ لے۔ عام خاطف کچھوا کم گہرے پانی کے گارے کے اندر رہتا ہے۔ یہ پودے اور جانور دونوں کھاتا ہے لیکن جانوروں کا شکار زیادہ پسند کرتا ہے۔ پانی میں یہ عموماً جارحانہ رویہ نہیں اپناتا، تاہم خشکی پر یہ اچانک بڑھ کر کاٹ سکتا ہے۔ ایلیگیٹر خاطف کچھوا ریاست ہائے متحدہ امریکا میں پایا جانے والا تازہ پانی کا سب سے بڑا کچھوا ہے۔ جنوبی اور وسطی علاقوں میں پایا جانے والا یہ کچھوا سست ہوتا ہے۔ ان کچھوؤں کے خول کی لمبائی 16 سے 28 انچ ہو سکتی ہے۔ ان کچھوؤں کا وزن مختلف ہوتا ہے جو 18 کلوگرام سے 70 کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ ان کا سب سے زیادہ وزن 100 کلو گرام ریکارڈ کیا گیا۔ خاطف کچھوا عام طور پر تہ میں منہ کھول کر چپکے سے بیٹھا رہتا ہے۔ اس کے منہ کے فرش پر کیڑے نما ایک اضافی عضو ہوتا ہے جس کی مدد سے یہ مچھلیوں کو لبھاتا اور قریب آنے پر پکڑتا ہے۔ فاسل خاطف کچھوا یورپ اور شمالی امریکا کے کچھ علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ میکسیکی منکے دار لزرڈ یہ گیلا مونسٹر کا رشتہ دار، اس سے تھوڑا سا بڑا اور گہرے رنگ کا ہوتا ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 32 انچ ہوتی ہے۔ یہ بحرالکاہل کے میکسیکی ساحلوں پر پایا جاتا ہے۔ اس کی عادات بھی گیلا مونسٹر سے ملتی جلتی ہیں۔ یہ اپنے اندر چربی جمع کر کے موسم سرما میں بقا یقینی بناتا ہے۔ یہ اپنے جبڑوں کومقفل کر کے دشمن کو کاٹتا ہے۔ اس دوران اس کے دانتوں میں پائی جانی والی نالیاں اعصابی زہر زخم میں انڈیل دیتی ہیں۔ اس کے کاٹنے سے بہت تکلیف ہوتی ہے، تاہم نوبت مرنے تک نہیں آتی۔ اگر کوئی مرا بھی ہے تو اس کا علم نہیں ہو سکا۔ اس کی غیرقانونی عالمی تجارت بھی ہوتی ہے۔ اگونا اگوناکی مشہور قسم سبزاگوانا کہلاتی ہے، جو میکسیکو کے جنوب سے برازیل تک پائی جاتی ہے۔ اس قسم کا نر6.6 فٹ لمبا اور چھ کلوگرام وزن کا ہو سکتا ہے۔ اسے عام طور پر درختوں کی شاخوں پر دھوپ سینگتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔ اس کی عام قسم کے جسمانی سبز رنگ پر گہرے دھبے ہوتے ہیں جو دم پر دائروی صورت اختیار کرتے ہیں۔ مادہ نر کی نسبت نصف وزن کی ہوتی ہے۔ اس کی دیگر اقسام میں ویسٹ انڈین اگونا اور صحرائی اگونا شامل ہیں جو کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے جنوب مغرب اور میکسیکو میں پائی جاتی ہیں۔ ان کے زہر کا اثر زیادہ شدید نہیں ہوتا۔ بہرحال ان میں درجنوں تیز اور چھوٹے دانت ہوتے ہیں۔ اگرچہ یہ کاٹتے کم ہیں لیکن اگر کاٹ لیں تو چہرے، انگلیوں، کلائی اور ٹخنے کو شدید زخمی کر سکتے ہیں۔ اگر یہ چاروں پاؤں پر کھڑے ہو جائیں، گہرا سانس لیں اور اپنے جسم کو بڑا کر لیں تو سمجھ جائیں کہ حملہ کرنے والے ہیں۔ شجری یا مونیٹر گھڑیال یہ نیوگنی کے جزیرے میں پائے جاتے ہیں۔ یہ زیادہ تر زیریں ساحلی علاقوں میں ہوتے ہیں، تاہم بعض 2100 فٹ بلند پہاڑوں پر بھی رہتے ہیں۔ ان کا بنیادی رنگ سیاہ ہے، جبکہ ان پرسبز، زرد اور سفید رنگ بھی ہوتا ہے۔ مونیٹر گھڑیال یا کروکوڈائل کا وزن 90 کلوگرام کے قریب ہوتا ہے۔ اگرچہ کوموڈو ڈریگن وزن میں ان سے بڑا ہوتا ہے لیکن بالغ مونیٹر گھڑیال 16 فٹ تک لمبا ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات گوشت اور چمڑے کے لیے ان کا شکار کیا جاتا ہے، چمڑا لباس اور ڈھول میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ اپنی جارحیت کی وجہ سے مشہور ہیں، اس لیے ان کا شکار خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔ کامن یا ملائی آبی مونیٹر یہ گریٹر سونڈا جزائر، بے آف بنگال کے ساحلی علاقوں اوربحیرہ جنوبی چین میں سری لنکا سے جنوبی چین تک پایا جاتا ہے۔ اس کا سر اور گردن دونوں اوپر اٹھے ہوتے ہیں۔ اس کا جسم وزنی اور دم لمبی ہوتی ہے۔ اس کی ٹانگیں مضبوط ہوتی ہیں۔ اس کی زبان لمبی اور سانپ کی طرح ہوتی ہے۔ ایک بالغ نو فٹ لمبا ہو سکا ہے۔ یہ گھڑیال عموماً بڑے حشرات، مکڑیوں اور دوسرے لزرڈز، چھوٹے میمل، مچھلیوں اور پرندوں وغیرہ کو کھاتے ہیں۔ یہ اپنے شکار کا پیچھا تیر، دوڑ اور چڑھائی چڑھ کر جفاکشی سے کرتے ہیں۔ یہ انسانوں اور دوسرے جانوروں کے مردہ جسم کو کھا جاتے ہیں۔ یہ کھدائی کر کے مردہ جسم نکالنے میں مشہور ہیں۔ گوشت اور چمڑے کے لیے ان کا شکار کیا جاتا ہے اور انہیں دیسی ادویات اور لیدر پراڈکٹس میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر یہ انسان کو کاٹ لیں تو اس میں اپنا زہر داخل کر دیتے ہیں۔ یہ زہر شدید نہیں ہوتا اس لیے اس سے موت واقع نہیں ہوتی لیکن زخم میں انفیکشن ہونے کا امکان ہوتا ہے۔ یہ اپنی دم کی مار اور تیکھے جبڑوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتا ہے۔ ایسے قصے مشہور ہیںجن میں ان بڑے جانوروں سے ہونے والی انسانی ہلاکتوں کا ذکر ہے تاہم ان میں سچائی کتنی ہے، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔ کوموڈو ڈریگن کوموڈو لزرڈ ڈریگن دنیا کا سب سے بڑا لزرڈ ہے۔ یہ کوموڈو اور آس پاس کے جزائر میں پایا جاتا ہے۔ بڑے جسم اور شکار کرنے کے طریقے کی وجہ سے یہ معروف ہے۔ یہ 10 فٹ لمبا اور 135 کلوگرام وزنی ہوتا ہے۔ یہ نو میٹر گہرا گڑھا کھود کر اس میں انڈے دیتا ہے ۔ اپریل اور مئی میں ان میں سے بچے نکل آتے ہیں۔ بالغ کوموڈو ڈریگن اپنی ہی نسل کے چھوٹے ڈریگن کھاتا ہے اور بعض اوقات بڑوں کو بھی نہیں چھوڑتا۔ کوموڈو ڈریگن اتنے تیز رفتار ہوتے ہیں کہ انسان پر دوڑ کرحملہ کرسکتے ہیں اور انہیں مار سکتے ہیں۔ان کی بنیادی غذا مرے ہوئے جانوروں کا گوشت ہے۔ یہ خنزیر، ہرن اور مویشیوں کا شکار بھی کرتے ہیں۔ یہ اپنے شکار کو زندہ کم ہی پکڑتے ہیں کیونکہ ان کا زہر خون میں لوتھڑے بنا دیتا ہے۔ خون کی کمی سے شکار بے سدھ ہو جاتا ہے۔ کاٹنے کی شدت اور زہر کا اثرانہیں مار ڈالتا ہے۔ (ترجمہ و تلخیص: رضوان عطا)
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

TM Star
Jul 7, 2019
2,800
2,784
213
کچھوے اور چھپکلیاں
معلوماتی مضمون ہے
ان کو زیادہ خطرناک آن کازہرکرتا ہے
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?