سب سے بڑے طوطے کے بارے میں جانیے

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,493
10,868
1,313
Lahore,Pakistan
سب سے بڑے طوطے کے بارے میں جانیے
116706

محمد شاہد

ایک میٹر قد کے طوطے کی ہڈیاں ملیں تو ماہرین نے انہیں عقاب کی باقیات سمجھ لیا مگر ایک طالبہ نے یہ گتھی سلجھا دی۔ نیوزی لینڈ کے علاقے سینٹ بیتھنز کی وجۂ شہرت زمانہ قبل از تاریخ کے فاسلز کا کثرت سے پایا جانا ہے۔ کسی زمانے میں یہ کان کنی کے سبب بھی اپنی مخصوص پہچان رکھتا تھا۔ 2008ء میں یہاں پرندے کی ٹانگوں کی ہڈیاں ملیں۔ ہڈیا ں اتنی بڑی تھیں کہ ماہرین نے اسے شکاری پرندہ سمجھا۔ عقابوں پر تحقیق کرنے والی ایک گریجوایٹ طالبہ ایلن میتھر نے سالِ رواں کے آغاز میں ان ہڈیوں کا جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچی کہ ماہرین نے ملنے والی ہڈیوں کے بارے میں غلط اندازہ لگایا ہے اور اس کے طوطا ہونے کا عندیہ دیا۔ اس کے بعد ماہرین نے ان باقیات کا ازسرنو جائزہ لیا۔ انہیں معلوم ہوا کہ دریافت ہونے والی ہڈیاں عقاب کے بجائے طوطے کی ہیں جو اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا طوطا ہے۔ محققین کے مطابق یہ پرندہ ایک کروڑ 90 لاکھ برس قبل نیوزی لینڈ میں رہا کرتا تھا۔ نیوزی لینڈ میں بڑے بڑے پرندوں کی دریافت باعث حیرت نہیں۔ الگ جزیرہ ہونے کے باعث شکار کرنے والے بڑے زمینی جانور یہاں نہیں پہنچ پائے۔ نتیجتاً ارتقائی عمل میں یہاں کے پرندوں کا جسم بڑا ہوتا گیا اور بعض کی اڑنے کی صلاحیت بھی ختم ہو گئی۔ ان میں ایک پرندہ ’’موا‘‘ تھا جو اڑ نہیں سکتا تھا اور اس کا قد 7 فٹ کے قریب تھا۔ لیکن اتنے بڑے پرندے کا شکار کرنے والا ایک اور پرندہ بھی تھا۔ یہ ایک بہت بڑا عقاب ’’ہاسٹس‘‘ تھا۔ یہاں کے جنگلوں میں عظیم الجثہ بطخیں پھرا کرتی تھیں۔ نیوزی لینڈ میں انسانوں کی آمد کے بعد پرندوں کی نصف کے قریب انواع ناپید ہو گئیں۔ یہ سب جاننے کے باوجود جب محققین کو طوطے کی جسامت کا اندازہ ہوا تو حیران رہ گئے۔ نئے دریافت ہونے والے طوطے کا وزن 7 کلوگرام کے قریب تھا۔ کچھ لوگوں نے اسے ’’سقواوکزیلا‘‘ کہنا شروع کر دیا ہے، تاہم محققین نے اس کا رسمی نام ’’ہیراکلس اِن ایکسپکٹاٹس‘‘ رکھا ہے۔ یہ نام یونانی دیومالا کے طاقت ور ہیرو ’’ہیرکولیس‘‘ اور غیرمتوقع اور حیران کن (اِن ایکسپکٹڈ) دریافت پر رکھا گیا ہے۔ محققین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ طوطا اڑ نہیں سکتا تھا اور جنگلوں میں پھل اور بیج کھاتا تھا۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ یہ گوشت بھی کھاتا تھا۔ دورِحاضر میں نیوزی لینڈ کے ’’کِیا‘‘ طوطے بھیڑوں پر حملہ کرنے کے باعث مشہور ہیں، وہ ان کی جِلد اور بافتوں کو پھاڑ کر گردوں کے گرد جمع چکنائی تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ طوطے دریافت شدہ طوطے سے بہت چھوٹے ہیں۔ جسیم طوطے کی چونچ نیچے کی جانب مڑی ہے۔ محققین نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ طوطا روایتی غذا کے علاوہ دوسرے طوطوں کو بھی کھاتا تھا۔ بڑی چونچ کی بدولت یہ مختلف طرح کی بہت سی چیزیں کھانے کے قابل تھا۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

Super Star
Jul 7, 2019
5,282
5,615
213
اللَّهُ آپ کا بھلا کرے
اس طوطے کا کیا جواب دوں
بہت عمدہ
شیئر کرنے کا شکریہ =))
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?