سرطان سے خبردار رہیں

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,158
10,446
1,313
Lahore,Pakistan
سرطان سے خبردار رہیں
117694

ڈاکٹر قنبر رضا
سر درد ایک عام بیماری مانی جاتی ہے۔ مردوں کے مقابلے میں یہ عورتوں کو زیادہ ہوتا ہے۔ جب بھی کسی فرد کے سر میں درد ہوتا ہے تو اس کی توجہ اپنی مصروفیات، تھکن یا کسی بھی سوچ و فکر کی جانب مرکوز ہو جاتی ہے، وہ ان کو درد کی وجہ سمجھتا ہے، حقیقت بھی یہی ہے، مگر ہر سر درد کی وجہ یہی نہیں ہوتی۔ زیادہ تر لوگ اسے دماغی تھکن سمجھتے ہوئے بازار سے کوئی سستی سی دافع درد دوا خرید لاتے ہیں۔ درد وقتی طور پر ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن کچھ عرصے بعد پھر شروع ہو جاتا ہے۔ عام طور پر سردرد کا شکار مریض کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا اور اپنا باقاعدہ معائنہ نہیں کرواتا۔ سر درد کی چھوٹی موٹی دوائیں استعمال ہوتی رہتی ہیں، جن کی وجہ سے وقتی طور پر مرض کی علامتیں غائب ہو جاتی ہیں، مگر وجہ ختم نہیں ہوتی۔ وجۂ درد ختم نہ ہونے سے وقفے وقفے سے درد دوبارہ ہونے لگتا ہے۔ اس صورت میں سر درد کے مریض کو فوراً سر اور گردن کے کسی ماہر معالج سے رجوع کرنا چاہیے۔ معالج ہی بیماری کی صحیح تشخیص کر کے اصل وجہ کو ختم کر سکتا ہے۔ سر کے درد کو کبھی معمولی نہ سمجھیں۔ سر میں درد ہونا، آنکھوں سے پانی، مسلسل چکر آنا، یہ سب برین ٹیومر کی علامات بھی ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ جتنی بھی موسمی بیماریاں ہیں مثلاً نزلہ، زکام، بخار اور کھانسی وغیرہ، ان کا بھی مکمل علاج کسی ماہر ڈاکٹر سے کروانا چاہیے کہ یہ بیماریاں اگر مسلسل تنگ کرتی رہیں تو بعد میں سرطان کا روپ دھار سکتی ہیں۔ پھر جسم کے کسی بھی حصے میں کسی بھی قسم کا دانا، کوئی دھبہ یا کسی طرح کا غیر معمولی ابھار ظاہر ہو تو اسے معمولی نہ سمجھیں، نہ ہی اسے نظر انداز کریں۔ فوراً جلد کے کسی ماہر معالج کو دکھائیں تاکہ اس چھوٹی سی بیماری کو ابتدائی مرحلے ہی میں ختم کر دیا جائے ورنہ یہ معمولی تکلیف مختلف تبدیلیوں کے بعد سرطان میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ سرطان کی سب سے عام اقسام میں سے ایک چھاتی کا سرطان ہے۔ اس کے مریض جنوبی ایشیا میں بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ امریکی تحقیق کے مطابق امریکا میں ہر آٹھویں عورت کو اس مرض کا خطرہ ہے۔ اس کی بروقت تشخیص نہ ہونے کی متعدد وجوہ ہیں، خصوصاً کم علمی، لاپروائی اور غیرضروری شرم۔ متعدد خواتین اس کی علامات کو ابتداً نظرانداز کرتی ہیں یا اظہار نہیں کر پاتیں، نتیجتاً مرض بگڑتا چلا جاتا ہے۔ ماہواری کے دوران شدید قسم کا درد چھاتی کے سرطان کی علامت ہو سکتی ہے، لہٰذا ایسے میں خواتین کو دیسی ٹوٹکوں کی بجائے فوراً کسی اچھی گائناکالوجسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔ علاج بروقت نہ کرایا جائے تو مرض بگڑ کر خطرناک ہو سکتا ہے۔ جن لڑکیوںکی شادی 18 سال سے کم عمر یا 35 سال سے زائد عمر میں ہو، ان میں بھی سرطان کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ تمام خواتین خواہ وہ شادی شدہ ہوں یا کنواری، انہیں باقاعدگی سے معائنہ کرانا چاہیے۔ یہ سرطان ابتدائی مرحلے پر مشکل سے تشخیص ہوتا ہے کیونکہ ابتدا میں Lump بنتا ہے اور کسی بھی قسم کا درد نہیں ہوتا، درد اگلے مراحل میں شروع ہوتا ہے۔ چھاتی کے سرطان سے ہونے والی بہت ساری اموات صرف غیرضروری شرم اور کم علمی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ وہ افراد، جو کسی ایسے ادارے میں کام کرتے ہوں جہاں روئی سے کپڑا بنتا ہے یا ریشے کا کام ہوتا ہے یا پھر سیمنٹ، بجری وغیرہ استعمال ہوتی ہے یا ایسی جگہ کام کرتے ہوں جہاں گرد آلود ماحول ہو تو انہیں کام کے دوران چہرے پر ایسا ماسک استعمال کرنا چاہیے جس سے ان کی ناک، منہ اور دونوں کان ڈھک جائیں۔ احتیاط نہ کی جائے تو پھیپھڑوں کی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جو بروقت اور درست علاج نہ ہونے کی وجہ سے سرطان میں بھی تبدیل ہو سکتی ہیں۔ پھیپھڑوں کے سرطان کے مریض دنیا بھر کی طرح جنوبی ایشیا میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ اس سرطان کی ایک وجہ تمباکو نوشی بھی ہے۔ جو افراد سرخ مرچوں اور مصالحے دار روغنی غذاؤں کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں، ان کے معدے کی دیواریں بھی زخمی ہو جاتی ہیں۔ معدے میں ہونے والی بیماری کو اہمیت نہ دی جائے اور کسی اچھے معالج سے علاج نہ کرایا جائے تو یہ بیماری بھی آگے جا کر سرطان میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ جو لوگ اعتدال سے زندگی بسر کرتے ہیں اور سادہ غذا استعمال کرتے ہیں، وہ خوف ناک بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔ یہ سرطان کی وہ اقسام ہیں جو دنیا بھر میں عام ہیں۔ زیادہ تر سرطان ہماری اپنی لاپرواہی، بے احتیاطی اور کم علمی کی وجہ سے پھلتے پھولتے ہیں۔ پہلے پہل معالجین کی تعداد بہت کم تھی، مگر آج ڈاکٹروں کے ساتھ ماہرین کی بھی فراوانی ہے، لہٰذا جسم کے کسی بھی حصے میں اگر تکلیف محسوس ہو تو اس عضو کے ماہر معالج سے فوری رجوع کیا جائے۔ سرطان کا مرض لاحق ہو جانے کے بعد تشخیص و علاج اتنا مہنگا ہے کہ ایک عام آدمی اس کا متحمل ہی نہیں ہو سکتا۔ سی ٹی اسکین، ایم آر آئی اور بائی آپسی جیسے ٹیسٹ کافی مہنگے ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں سرکاری ہسپتالوں کی سہولیات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ سرطان کے علاج کے مؤثر طریقوں میں سرجری، کیموتھراپی اور ریڈیو تھراپی سرفہرست ہیں۔ سرجری میں بیمار عضو یا اس کا کچھ حصہ کاٹ کر نکال دیا جاتا ہے۔ دوسرا طریقہ کیموتھراپی کا ہے۔ اس علاج میں مریض کو کافی کمزوری لاحق ہو جاتی ہے اور جسم کے تقریباً تمام بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں، جس سے مریض اور اہل خانہ خوفزدہ ہو جاتے ہیں لیکن یہ حالت صرف دوران علاج تک رہتی ہے، بعد میں مریض دوبارہ پرانی حالت میں واپس آ جاتا ہے۔ دراصل کیموتھراپی سرطان کے خلیوں کی نشوونما کو روکتی ہے۔ اس علاج میں مریض کو کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ مثلاً پانی ہمیشہ ابال کر یا فلٹر شدہ پئیں۔ ہر کام سے پہلے ہاتھ دھوئیں، خصوصاً کچھ کھانے پینے سے پہلے تو لازماً ہاتھ صابن سے اچھی طرح دھوئیں۔ مریض کے استعمال کی تمام اشیا کپڑے، بستر اور کمرے وغیرہ کی صفائی پر بھرپور توجہ دینی چاہیے۔ پوری کوشش کریں کہ مریض گھر کی بنی تازہ غذا استعمال کرے۔ مریض کو ایسی جگہ نہ جانے دیں جہاں زیادہ ہجوم ہو۔ اسے ایسی جگہ نہ لے جائیں، جہاں خسرہ اور یرقان کا کوئی مریض موجود ہو۔ مریض کو پالتو جانوروں کے قریب نہ جانے دیا جائے۔ اگر مریض کی جلد پر نیلے نشان نمایاں ہوں یا کسی بھی حصے سے خون نکلے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ سوئمنگ پول میں نہانے کے لیے نہ جانے دیں۔ ایسے مریض جن کی ریڈیو تھراپی ہو، درج ذیل احتیاطی تدابیر اپنائیں؛ شعاعوں کے دوران مذکورہ حصے کو صابن سے نہ رگڑیں۔ جہاں شعاعیں دی جا رہی ہوں، اس جگہ کو نہ کھجائیں۔ نہاتے وقت شعاعوں والی جگہ پر تولیہ نہ رگڑیں۔ اگر شعاعیں چہرے پر استعمال ہو رہی ہیں تو کوشش کریں کہ بلیڈکا استعمال نہ کریں۔ اگر مذکورہ جگہ پر کوئی جلن ہو یا کسی قسم کی تبدیلی آ رہی ہو تو شعاعیں دینے والے معالج سے رابطہ کریں۔ دوران علاج معالج کی ہدایات پر پوری طرح عمل کریں۔ اگر دوران علاج حد سے زیادہ کمزوری ہو جائے یا دست لگ جائیں تو فوراً معالج کو بتائیں۔ کوشش کریں کہ علاج میں کسی بھی قسم کا وقفہ نہ آنے پائے۔ یاد رہے، ریڈیوتھراپی کیموتھراپی کے بعد یا پہلے اور ساتھ بھی دی جاتی ہے۔ یہ طریقہ علاج پر منحصر ہے۔ حکومت اور غیرسرکاری اداروں کو چاہیے کہ وقتاً فوقتاً مختلف اقسام کے سرطان کی آگاہی کے بارے میں مہم چلاتے رہیں۔ ہر عام و خاص کو مختلف ذرائع سے ان تمام علاجوں کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا جائے۔ ایک شہری ہونے کے ناتے جتنی معلومات آپ کو حاصل ہوں، کوشش کریں کہ دوسروں تک بھی پہنچائیں، تاکہ غلطیاں، کوتاہیاں کم سے کم ہوں۔ زندگی کا خیال رکھیں، یہ آپ کا خیال رکھے گی۔ یاد رکھیں، زندگی اللہ کا دیا ہوا وہ انمول تحفہ ہے جو صرف ایک بار ملتا ہے، اس تحفے کی قدر اور حفاظت کیجیے۔

 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?