سلطان عبدالحمید اور یورپ

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
1,663
1,591
1,213
Lahore,Pakistan
سلطان عبدالحمید اور یورپ

ڈاکٹر علی محمد

سلطان عبدالحمید (ثانی) دولت عثمانیہ کے سلاطین میں چونتیسویں سلطان تھے۔ چونتیس سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے۔ دس سال کی عمر تھی کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا۔ ان کی سوتیلی ماں نے ان کی دیکھ بھال کی۔ ان کی سوتیلی ماں کی اولاد نہیں تھی۔ سو انہوں نے بہترین اور سگی ماں کی طرح ان کی پرورش کرنے کی کوشش کی۔ سلطان عبدالحمید ان کی تربیت سے بہت متاثر تھے۔ سلطان عبدالحمید نے قصر سلطان میں اپنے دور کے اخلاق اور علم میں مایہ ناز اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے عربی اور فارسی زبانوں کی تحصیل کی۔ تاریخ کا مطالعہ کیا۔ علم و ادب میں دسترس حاصل کی۔ تصوف کے رموز و معارف سے آگاہی حاصل کی اور ترکی عثمانی زبان میں اشعار بھی کہے اور ان میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسلحہ کے استعمال کا تجربہ حاصل کیا۔ وہ تلوار زنی اور تیر اندازی میں کمال مہارت رکھتے تھے۔ بدنی مشق ہمیشہ کرتے تھے۔ عالمی سیاست پر گہری نظر تھی اور اپنے ملک کے طول و عرض کے حالات و واقعات سے پوری طرح باخبر رہتے تھے۔ عثمانی سلطان عبدالعزیز نے یورپ کا دورہ کیا۔ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ان کے ہم راہ تھا۔ اس عثمانی وفد میں ایک شخص امیر عبدالحمید بھی تھا جو یورپیوں کے سامنے اپنے سادہ لباس اور قابل تعریف سیرت کے ساتھ ظاہر ہوا۔ امیر عبدالحمید نے اس دورے میں خصوصی تیاری کی اور اس کے لیے خصوصی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مغرب میں جو کچھ دیکھا اس کے بارے میں گہرے مشاہدات اور صحیح مؤقف کا اظہار کیا۔ اس عثمانی وفد نے اس دور کی اہم یورپی سیاسی شخصیات سے ملاقات کی۔ جیسے فرانس کے نپولین ثالث، انگلینڈ کی ملکہ وکٹوریا، بلجیئم کے لیو بلٹ ثانی، جرمنی کے گلیوم اول اور آسٹریا کے فرانسوا جوزف وغیرہ۔ اس سے پہلے یہ وفد سلطان عبدالعزیز کی معیت میں مصر کا دورہ بھی کر چکا تھا۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ کس طرح مصریوں نے یورپی تعلقات کو اپنایا ہے جس کی بدولت ان کو بیرونی قرضوں کی ضرورت پیش آئی ہے اور وہ قرضوں میں بری طرح جکڑ دیے گئے ہیں۔ اس یورپی سیاحت کے دوران عبدالحمید نے کئی تجربات حاصل کیے اور بعد میں اپنے دور حکومت میں ان سے پوری طرح استفادہ کرنے کی کوشش کی۔ امیر عبدالحمید کو اپنے اس دورہ کے دوران اس بات کا یقین ہو گیا کہ فرانس لہو و لعب کا ملک ہے۔ انگلستان ثروت، زراعت اور صنعت و حرفت کا جبکہ جرمنی تنظیم، عسکریت اور نظم و ضبط کا ملک ہے۔ امیر عبدالحمید سب سے زیادہ جرمنی سے متاثر ہوئے۔ اسی لیے انہوں نے اپنے دل میں اس بات کا پختہ ارادہ کر لیا کہ جب وہ زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لیں گے تو عثمانی لشکر کی تربیت کے لیے جرمنی روانہ کریں گے۔ امیر عبدالحمید اس دور کے دوران مغرب سے بہت متاثر ہوئے اور اسی چیز نے انہیں اس بات پر ابھارا کہ وہ ملک کے اندر مختلف شعبوں مثلاً تعلیم، صنعت، نقل و حمل اور فوج میں نئی اصلاحات کو متعارف کرائیں۔ انہوں نے بحریہ کے لیے خریداری کی۔ اپنے ذاتی خرچ پر ملک کے طول و عرض میں ٹیلی گراف کا اہتمام کیا۔ جدید سکولوں کی بنیاد رکھی۔ ان میں عصری علوم کی تدریس کو لازم کیا۔ انہی کی کوششوں سے پہلی بار دولت عثمانیہ میں بس سروس شروع ہوئی اور سائیکل متعارف ہوا۔ انہوں نے ناپ تول کے لیے نئے پیمانے میٹر کا اجرا کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ کوشش کی کہ کسی طرح مغربی فکر ملک میں رائج نہ ہونے پائے۔ یورپ کے اس دورے سے متاثر ہو کر انہوں نے یورپ کے بارے میں آزادانہ اور خودمختارانہ پالیسی اختیار کی۔ لیکن وہ کسی یورپی شخصیت سے قطعاً متاثر نہ ہوئے، خواہ اس کی صداقت جس درجہ کی تھی اور دولت عثمانیہ سے کتنا ہی قریب کیوں نہ تھا۔

 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

Senior Member
Jul 7, 2019
601
481
63
سلطان عبدالحمید اور یورپ

ڈاکٹر علی محمد

سلطان عبدالحمید (ثانی) دولت عثمانیہ کے سلاطین میں چونتیسویں سلطان تھے۔ چونتیس سال کی عمر میں تخت نشین ہوئے۔ دس سال کی عمر تھی کہ والدہ ماجدہ کا انتقال ہو گیا۔ ان کی سوتیلی ماں نے ان کی دیکھ بھال کی۔ ان کی سوتیلی ماں کی اولاد نہیں تھی۔ سو انہوں نے بہترین اور سگی ماں کی طرح ان کی پرورش کرنے کی کوشش کی۔ سلطان عبدالحمید ان کی تربیت سے بہت متاثر تھے۔ سلطان عبدالحمید نے قصر سلطان میں اپنے دور کے اخلاق اور علم میں مایہ ناز اساتذہ سے تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے عربی اور فارسی زبانوں کی تحصیل کی۔ تاریخ کا مطالعہ کیا۔ علم و ادب میں دسترس حاصل کی۔ تصوف کے رموز و معارف سے آگاہی حاصل کی اور ترکی عثمانی زبان میں اشعار بھی کہے اور ان میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسلحہ کے استعمال کا تجربہ حاصل کیا۔ وہ تلوار زنی اور تیر اندازی میں کمال مہارت رکھتے تھے۔ بدنی مشق ہمیشہ کرتے تھے۔ عالمی سیاست پر گہری نظر تھی اور اپنے ملک کے طول و عرض کے حالات و واقعات سے پوری طرح باخبر رہتے تھے۔ عثمانی سلطان عبدالعزیز نے یورپ کا دورہ کیا۔ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی ان کے ہم راہ تھا۔ اس عثمانی وفد میں ایک شخص امیر عبدالحمید بھی تھا جو یورپیوں کے سامنے اپنے سادہ لباس اور قابل تعریف سیرت کے ساتھ ظاہر ہوا۔ امیر عبدالحمید نے اس دورے میں خصوصی تیاری کی اور اس کے لیے خصوصی معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے مغرب میں جو کچھ دیکھا اس کے بارے میں گہرے مشاہدات اور صحیح مؤقف کا اظہار کیا۔ اس عثمانی وفد نے اس دور کی اہم یورپی سیاسی شخصیات سے ملاقات کی۔ جیسے فرانس کے نپولین ثالث، انگلینڈ کی ملکہ وکٹوریا، بلجیئم کے لیو بلٹ ثانی، جرمنی کے گلیوم اول اور آسٹریا کے فرانسوا جوزف وغیرہ۔ اس سے پہلے یہ وفد سلطان عبدالعزیز کی معیت میں مصر کا دورہ بھی کر چکا تھا۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ کس طرح مصریوں نے یورپی تعلقات کو اپنایا ہے جس کی بدولت ان کو بیرونی قرضوں کی ضرورت پیش آئی ہے اور وہ قرضوں میں بری طرح جکڑ دیے گئے ہیں۔ اس یورپی سیاحت کے دوران عبدالحمید نے کئی تجربات حاصل کیے اور بعد میں اپنے دور حکومت میں ان سے پوری طرح استفادہ کرنے کی کوشش کی۔ امیر عبدالحمید کو اپنے اس دورہ کے دوران اس بات کا یقین ہو گیا کہ فرانس لہو و لعب کا ملک ہے۔ انگلستان ثروت، زراعت اور صنعت و حرفت کا جبکہ جرمنی تنظیم، عسکریت اور نظم و ضبط کا ملک ہے۔ امیر عبدالحمید سب سے زیادہ جرمنی سے متاثر ہوئے۔ اسی لیے انہوں نے اپنے دل میں اس بات کا پختہ ارادہ کر لیا کہ جب وہ زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لیں گے تو عثمانی لشکر کی تربیت کے لیے جرمنی روانہ کریں گے۔ امیر عبدالحمید اس دور کے دوران مغرب سے بہت متاثر ہوئے اور اسی چیز نے انہیں اس بات پر ابھارا کہ وہ ملک کے اندر مختلف شعبوں مثلاً تعلیم، صنعت، نقل و حمل اور فوج میں نئی اصلاحات کو متعارف کرائیں۔ انہوں نے بحریہ کے لیے خریداری کی۔ اپنے ذاتی خرچ پر ملک کے طول و عرض میں ٹیلی گراف کا اہتمام کیا۔ جدید سکولوں کی بنیاد رکھی۔ ان میں عصری علوم کی تدریس کو لازم کیا۔ انہی کی کوششوں سے پہلی بار دولت عثمانیہ میں بس سروس شروع ہوئی اور سائیکل متعارف ہوا۔ انہوں نے ناپ تول کے لیے نئے پیمانے میٹر کا اجرا کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ کوشش کی کہ کسی طرح مغربی فکر ملک میں رائج نہ ہونے پائے۔ یورپ کے اس دورے سے متاثر ہو کر انہوں نے یورپ کے بارے میں آزادانہ اور خودمختارانہ پالیسی اختیار کی۔ لیکن وہ کسی یورپی شخصیت سے قطعاً متاثر نہ ہوئے، خواہ اس کی صداقت جس درجہ کی تھی اور دولت عثمانیہ سے کتنا ہی قریب کیوں نہ تھا۔

Thanks 4 informative and useful sharing
 
  • Like
Reactions: intelligent086
Top
Forgot your password?