سموگ :بیماریاں اور علاج ،تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,158
10,446
1,313
Lahore,Pakistan
سموگ :بیماریاں اور علاج ،تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ
آج کل پرائیوٹ پریکٹس میں ہر دوسرا مریض ، سر درد، ناک سے پانی بہنا اور خارش، سانس میں رکاوٹ، ذرا سے چلنے سے سانس کا پھول جانا جس میں دردیں، جسم پہ خارش اور دانے کی علامات کے ساتھ آرہے ہیں۔ اکثر مریض کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب پچھلے ہفتے سے اینٹی بائیوٹک ادویات بھی لی ہیںالرجی دور کرنے والی بھی استعمال کی ہیں۔ مگر کوئی دوا کارگر ثابت نہ ہوئی۔یہ سب شاخسانہ ہیں آج کل زیادہ تر لاہور میں چھائی ہوئی ہے اسموگ کے جو دھند کی ایک شکل جدید ہے۔ جونہی خشک سردی آئی ہے۔ اسموگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لاہور کی فضائوں میں سانس لینا دو بھر ہوتا جا رہاہے۔اسموگ کیا ہے،کیوں اورکیسے ہوتی ہے؟اس کے صحت پر کیا اثرات ہوتے ہیں اور ان سے کیسے بچاجا سکتاہے؟۔

اس مضمون میں عوام الناس کی رہنمائی کے لیے ان سارے سوالوں کا جواب دیا جا رہاہے۔لاہور میں آلودگی کی وجہ سے جونہی ٹمپریچر میں کمی ہوتی ہے تو گرم ہوا اوپر جانے کی بجائے فضا میں معلق ہو جاتی ہے۔ اور اس میں دھواں ، بھوسے اور کوڑا کرکٹ جلنے سے پیدا ہونے والے ذرات، گاڑیوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں سے پیدا ہونے والی گیسیں اور ذرات فضا میںمعلق ہو جاتے ہیں جس سے فضا نیچے سے اوپر تک آلودہ نظر آتی ہے۔ صبح سویرے تو حد نگاہ تک فضا آلودہ اور ذرات سے معلق نظر آتی ہے۔ ہوا میں مضر صحت گیس نائٹریٹ، کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور بیماریاں پھیلانے والے جراثیم ہوتے ہیں۔ اکتوبر کے آخر میں اور نومبر کے شروع میں اسموگ شروع ہو جاتی ہے تو یہ فضا آلودہ ہونے کے ساتھ صحت کے لیے نہایت خطرناک بھی ہو جاتی ہے۔ اس آلودہ فضا میں سانس لینا دو بھر ہو جاتا ہے۔ پچھلے دو تین سال سے اسموگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے اسموگ کا کبھی نام نہ سنا ہے۔ 2016 میں اسموگ سے پاکستان اور ہندوستان کے بڑے شہر متاثر ہوئے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق راولپنڈی ،کراچی اور پشاور دنیا کے 30 آلودہ ترین شہروں میں شامل ہیں۔ پچھلے سال سموگ کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک میں کمی ہوئی بلکہ کئی پروازیں بھی منسوخ ہوئیں۔ اس سال ہندوستان کے کئی شہروں میں بھی اسموگ شروع ہو گئی ہیں۔ دلی میں انتظامیہ نے اس کا ایک حل یہ نکالا ہے کہ گاڑیوں کے چلنے کے لیے اوقات مختص کر دیے ہیں۔یعنی گاڑیوں کے نمبروں کے ساتھ سڑکوں پر آنے کے اوقات مقرر کر دیئے ہیں۔

اسموگ سے پیدا شدہ بیماریوںکی علامات :

مضر صحت ذرات اور گیسوں کی وجہ سے سانس لینا دو بھر ہو جاتاہے۔ جن لوگوں کو پہلے سے دمہ کی تکلیف ہوتی ہے۔ ان کی بیماری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔سینے کے انفیکشن کا بھی خطرہ ہو جاتا ہے۔ آلودہ فضا میں سانس لینے سے طبیعت مضمحل رہتی ہے۔ کسی کا دل نہیں لگتا۔ ہر وقت سر میں درد ہوتا ہے۔ آنکھوں میںسخت جلن ہوتی ہے۔ آنکھوں اور ناک سے پانی جاری رہتا ہے۔ جسم پر سرخ دانے نمودار ہوجاتے ہیں۔ جب مریض ان تکالیف کا ذکر کرتے ہیں تو ڈاکٹر مختلف قسم کی دوائیاں بشمول اینٹی بائیوٹک تجویز کرتے ہیں لیکن یہ دوائیں کچھ کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ اسموگ کے ساتھ ساتھ جونہی سردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بچوں بڑوں اور بوڑھوں میں چیسٹ انفیکشن اور نمونیہ جیسے خطر ناک امراض کا سامنا ہو سکتا ہے۔اسموگ والی آلودہ فضا میں سانس لینے سے مضر اثرات ذرات اور سانس کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کے جراثیم جسم کے اندر جا کر بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ آلودہ فضا اور فضا میں سانس لینا کئی سگریٹیں پھونکنے کے برابر ہے کیونکہ دونوں کے مضر اثرات تقریباََ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ آبادی میں بے پناہ اضافے، جگہہ جگہہ فیکٹریوں کی بھر مار اور ان سے نکلنے والے دھوئیں کی وجہ سے سموگ میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لاہور شہروں میں درختوں کی کٹائی اور مضافات میں جنگلوں کے خاتمے کی وجہ سے بھی اسموگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حاملہ عورتوں کو اسموگ کے دنوں میں گھر سے باہر نکلنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے بچے کی وقت سے پہلے پیدائش کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والے کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اسموگ اور سردی میں مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس کے خطرات اور بد اثرات سے بچاجا سکتاہے۔

اسموگ میں احتیاطیں اور ابتدائی علاج :

٭اسموگ کے دوران اگر دیکھنے کی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہو تو اس دوران ڈرائیونگ سے پرہیز کیا جائے۔

٭گاڑیوں میں اسپیشل اسموگ لائیٹس کا لگانا ضروری ہے۔

٭اسموگ کے دنوں میں منہ اور ناک پرماسک کا استعمال آلودگی سے بچاتا ہے۔ آنکھوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کالے شیشے کی عینک استعمال کریں۔

٭صبح سویرے گرم پانی میں ایک چمچ شہد ڈال کر چائے کی طرح چسکیاں لے کر پیئں۔

٭جب بھی باہر سے آئیں تو آنکھوں اور چہروں کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں۔

٭اسمو گ کے دنوں میں مچھلی کے تیل کے کیپسول ضرور لے لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صبح سویرے زیتون کے تیل کا ایک چمچ لے لیں تو اس سے آپ کا نظام تنفس آلودگی سے بچا رہے گا۔ اسموگ کی وجہ سے ہونے والی علامات میں مختلف قسم کی اینٹی بئیوٹک اور دوائوں کے بے جا استعمال کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ اس لیے ادویات کے بے جا اور مخیر ضروری استعمال سے بچیں۔

٭صبح شام لیمن گراس قہوہ استعمال کریں۔

٭سردیوں میں اسموگ کے اثرات کم کرنے کے لیے ڈرائی فروٹ استعمال کریں۔ گرما گرم چائے کے ساتھ میوے والا گڑ یا گرما گرم سوجی کا حلوہ بھی صحت کے لیے مفید ہے۔ جیسا کہ آج کل اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکاء صبح سویرے سردے بھگانے کے لیے گرما گرم چائے کی چسکیوں کے ساتھ میوہ والا گڑ اور ساتھ ساتھ سوجی کا گرما گرم حلوہ کھاتے نظر آتے ہیں۔

٭اسموگ کے دوران اور سردیوں میں خاص طور پر چھوٹے بچوں کو اچھی طرح کور کر کے رکھیں کیونکہ سردی کے اثرات بچوں پہ زیادہ ہوتے ہیں۔

حکومت کیا کرے؟ :

٭حکومت کے لیے ضروری کہ حکومت پر 2017 میں ایک اسموگ کمیشن بنایا گیا جاتا ہے جس نے اینٹوں کے بھٹوں، فیکٹریوں اور گاڑیوں کے لیے 17 سفارشات پیش کی تھیں۔ ان تمام سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تا کہ اسموگ کے خطرات سے مناسب حد تک بچا جا سکے۔ نومبر اور دسمبر کے مہینے میں فیکٹریوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ان سفارشات پر عمل کریں۔ اینٹوں کے بھٹوں کو بھی دو ماہ کے لیے بند رکھا جانا چاہیے۔

٭اسموگ کے خطرے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ زیادہ درخت لگانے سے فضا میں الودگی کم ہو گی اور اسموگ میں بھی کمی ہوگی۔

٭عوام الناس کی رہنمائی کے لیے ضروری ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرونکس میڈیا کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر اسموگ کے خطرات سے بچائو کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے اور جابجا کوڑااور فصلوں کا بھوسہ چلانے پر پابندی لگائی جائے۔ اور اس پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے۔
 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

Super Star
Jul 7, 2019
5,094
5,421
213
سموگ :بیماریاں اور علاج ،تحریر : ڈاکٹر آصف محمود جاہ
آج کل پرائیوٹ پریکٹس میں ہر دوسرا مریض ، سر درد، ناک سے پانی بہنا اور خارش، سانس میں رکاوٹ، ذرا سے چلنے سے سانس کا پھول جانا جس میں دردیں، جسم پہ خارش اور دانے کی علامات کے ساتھ آرہے ہیں۔ اکثر مریض کہتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب پچھلے ہفتے سے اینٹی بائیوٹک ادویات بھی لی ہیںالرجی دور کرنے والی بھی استعمال کی ہیں۔ مگر کوئی دوا کارگر ثابت نہ ہوئی۔یہ سب شاخسانہ ہیں آج کل زیادہ تر لاہور میں چھائی ہوئی ہے اسموگ کے جو دھند کی ایک شکل جدید ہے۔ جونہی خشک سردی آئی ہے۔ اسموگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لاہور کی فضائوں میں سانس لینا دو بھر ہوتا جا رہاہے۔اسموگ کیا ہے،کیوں اورکیسے ہوتی ہے؟اس کے صحت پر کیا اثرات ہوتے ہیں اور ان سے کیسے بچاجا سکتاہے؟۔

اس مضمون میں عوام الناس کی رہنمائی کے لیے ان سارے سوالوں کا جواب دیا جا رہاہے۔لاہور میں آلودگی کی وجہ سے جونہی ٹمپریچر میں کمی ہوتی ہے تو گرم ہوا اوپر جانے کی بجائے فضا میں معلق ہو جاتی ہے۔ اور اس میں دھواں ، بھوسے اور کوڑا کرکٹ جلنے سے پیدا ہونے والے ذرات، گاڑیوں اور فیکٹریوں سے نکلنے والے دھوئیں سے پیدا ہونے والی گیسیں اور ذرات فضا میںمعلق ہو جاتے ہیں جس سے فضا نیچے سے اوپر تک آلودہ نظر آتی ہے۔ صبح سویرے تو حد نگاہ تک فضا آلودہ اور ذرات سے معلق نظر آتی ہے۔ ہوا میں مضر صحت گیس نائٹریٹ، کاربن ڈائی آکسائیڈ، کاربن مونو آکسائیڈ اور بیماریاں پھیلانے والے جراثیم ہوتے ہیں۔ اکتوبر کے آخر میں اور نومبر کے شروع میں اسموگ شروع ہو جاتی ہے تو یہ فضا آلودہ ہونے کے ساتھ صحت کے لیے نہایت خطرناک بھی ہو جاتی ہے۔ اس آلودہ فضا میں سانس لینا دو بھر ہو جاتا ہے۔ پچھلے دو تین سال سے اسموگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سے پہلے اسموگ کا کبھی نام نہ سنا ہے۔ 2016 میں اسموگ سے پاکستان اور ہندوستان کے بڑے شہر متاثر ہوئے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق راولپنڈی ،کراچی اور پشاور دنیا کے 30 آلودہ ترین شہروں میں شامل ہیں۔ پچھلے سال سموگ کی وجہ سے نہ صرف ٹریفک میں کمی ہوئی بلکہ کئی پروازیں بھی منسوخ ہوئیں۔ اس سال ہندوستان کے کئی شہروں میں بھی اسموگ شروع ہو گئی ہیں۔ دلی میں انتظامیہ نے اس کا ایک حل یہ نکالا ہے کہ گاڑیوں کے چلنے کے لیے اوقات مختص کر دیے ہیں۔یعنی گاڑیوں کے نمبروں کے ساتھ سڑکوں پر آنے کے اوقات مقرر کر دیئے ہیں۔

اسموگ سے پیدا شدہ بیماریوںکی علامات :

مضر صحت ذرات اور گیسوں کی وجہ سے سانس لینا دو بھر ہو جاتاہے۔ جن لوگوں کو پہلے سے دمہ کی تکلیف ہوتی ہے۔ ان کی بیماری میں اضافہ ہو جاتا ہے۔سینے کے انفیکشن کا بھی خطرہ ہو جاتا ہے۔ آلودہ فضا میں سانس لینے سے طبیعت مضمحل رہتی ہے۔ کسی کا دل نہیں لگتا۔ ہر وقت سر میں درد ہوتا ہے۔ آنکھوں میںسخت جلن ہوتی ہے۔ آنکھوں اور ناک سے پانی جاری رہتا ہے۔ جسم پر سرخ دانے نمودار ہوجاتے ہیں۔ جب مریض ان تکالیف کا ذکر کرتے ہیں تو ڈاکٹر مختلف قسم کی دوائیاں بشمول اینٹی بائیوٹک تجویز کرتے ہیں لیکن یہ دوائیں کچھ کارگر ثابت نہیں ہوتی۔ اسموگ کے ساتھ ساتھ جونہی سردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بچوں بڑوں اور بوڑھوں میں چیسٹ انفیکشن اور نمونیہ جیسے خطر ناک امراض کا سامنا ہو سکتا ہے۔اسموگ والی آلودہ فضا میں سانس لینے سے مضر اثرات ذرات اور سانس کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کے جراثیم جسم کے اندر جا کر بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ آلودہ فضا اور فضا میں سانس لینا کئی سگریٹیں پھونکنے کے برابر ہے کیونکہ دونوں کے مضر اثرات تقریباََ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ آبادی میں بے پناہ اضافے، جگہہ جگہہ فیکٹریوں کی بھر مار اور ان سے نکلنے والے دھوئیں کی وجہ سے سموگ میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ لاہور شہروں میں درختوں کی کٹائی اور مضافات میں جنگلوں کے خاتمے کی وجہ سے بھی اسموگ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حاملہ عورتوں کو اسموگ کے دنوں میں گھر سے باہر نکلنے سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے بچے کی وقت سے پہلے پیدائش کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والے کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ اسموگ اور سردی میں مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس کے خطرات اور بد اثرات سے بچاجا سکتاہے۔

اسموگ میں احتیاطیں اور ابتدائی علاج :

٭اسموگ کے دوران اگر دیکھنے کی صلاحیت خطرناک حد تک کم ہو تو اس دوران ڈرائیونگ سے پرہیز کیا جائے۔

٭گاڑیوں میں اسپیشل اسموگ لائیٹس کا لگانا ضروری ہے۔

٭اسموگ کے دنوں میں منہ اور ناک پرماسک کا استعمال آلودگی سے بچاتا ہے۔ آنکھوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کالے شیشے کی عینک استعمال کریں۔

٭صبح سویرے گرم پانی میں ایک چمچ شہد ڈال کر چائے کی طرح چسکیاں لے کر پیئں۔

٭جب بھی باہر سے آئیں تو آنکھوں اور چہروں کو ٹھنڈے پانی سے دھوئیں۔

٭اسمو گ کے دنوں میں مچھلی کے تیل کے کیپسول ضرور لے لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ صبح سویرے زیتون کے تیل کا ایک چمچ لے لیں تو اس سے آپ کا نظام تنفس آلودگی سے بچا رہے گا۔ اسموگ کی وجہ سے ہونے والی علامات میں مختلف قسم کی اینٹی بئیوٹک اور دوائوں کے بے جا استعمال کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ اس لیے ادویات کے بے جا اور مخیر ضروری استعمال سے بچیں۔

٭صبح شام لیمن گراس قہوہ استعمال کریں۔

٭سردیوں میں اسموگ کے اثرات کم کرنے کے لیے ڈرائی فروٹ استعمال کریں۔ گرما گرم چائے کے ساتھ میوے والا گڑ یا گرما گرم سوجی کا حلوہ بھی صحت کے لیے مفید ہے۔ جیسا کہ آج کل اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکاء صبح سویرے سردے بھگانے کے لیے گرما گرم چائے کی چسکیوں کے ساتھ میوہ والا گڑ اور ساتھ ساتھ سوجی کا گرما گرم حلوہ کھاتے نظر آتے ہیں۔

٭اسموگ کے دوران اور سردیوں میں خاص طور پر چھوٹے بچوں کو اچھی طرح کور کر کے رکھیں کیونکہ سردی کے اثرات بچوں پہ زیادہ ہوتے ہیں۔

حکومت کیا کرے؟ :

٭حکومت کے لیے ضروری کہ حکومت پر 2017 میں ایک اسموگ کمیشن بنایا گیا جاتا ہے جس نے اینٹوں کے بھٹوں، فیکٹریوں اور گاڑیوں کے لیے 17 سفارشات پیش کی تھیں۔ ان تمام سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تا کہ اسموگ کے خطرات سے مناسب حد تک بچا جا سکے۔ نومبر اور دسمبر کے مہینے میں فیکٹریوں کو پابند کیا جائے کہ وہ ان سفارشات پر عمل کریں۔ اینٹوں کے بھٹوں کو بھی دو ماہ کے لیے بند رکھا جانا چاہیے۔

٭اسموگ کے خطرے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔ زیادہ درخت لگانے سے فضا میں الودگی کم ہو گی اور اسموگ میں بھی کمی ہوگی۔

٭عوام الناس کی رہنمائی کے لیے ضروری ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرونکس میڈیا کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر اسموگ کے خطرات سے بچائو کے بارے میں آگاہی پیدا کی جائے اور جابجا کوڑااور فصلوں کا بھوسہ چلانے پر پابندی لگائی جائے۔ اور اس پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے۔
اہم اور مفید معلومات فراہم کرنے کا شکریہ
@shehr-e-tanhayi
اسے سٹکی کر لیں
 
  • Like
Reactions: intelligent086

shehr-e-tanhayi

ایسی محبت کیا کرنی جو نیند چرا لے آنکھوں سے
Co Manager
Jul 20, 2015
36,746
11,474
713
Informative thread
 

intelligent086

Super Star
Nov 10, 2010
10,158
10,446
1,313
Lahore,Pakistan
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی لاہور کی سموگ پر ہنگامی تنبیہ جاری
117598

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی لاہور کی سموگ پر ہنگامی تنبیہ جاری

لاہور: (دنیا یوز) ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے پاکستان کے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی سموگ پر "ہنگامی تنبیہ" جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں سموگ کے باعث ہر شہری کی صحت کو خطرہ ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان ہوا کی کوالٹی کے جانچ جن اقدامات سے کر رہی ہے وہ عالمی معیارات کے مطابق نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ لوگوں کو سموگ سے نمٹنے کے لئے درکار جانکاری اور آگاہی نہیں دی گئی۔عالمی ادارے کے مطابق حکومت پاکستان اپنی عوام کو آلودہ آب و ہوا سے بچانے کے لئے ہنگامی اقدامات کرے، آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے بڑے صوبے پنجاب میں آب و ہوا زہریلی ہو گئی ہے۔ زہریلی آب و ہوا کے باعث لوگوں کی صحت اور زندگیاں شدید خطرے میں ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مزید کہنا ہے کہ سکول بند کردیئے گئے، سانس کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں، لوگوں کو سانس لینے میں دشواری ہے، 13 نومبر کو لاہور کی ائیر کوالٹی خطرناک حد 300 سے بھی تجاوز کرکے 556 ہو گئی۔


ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے حامیوں کو لاہور کی آبادی کے لیے مہم چلانے پر بھی اکسایا، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے وزیر ماحولیات کے نام سیمپل خط بھی جاری کیا ہے تاکہ اس کے دیکھا دیکھی دنیا بھر سے افراد اپنے خدشات زرتاج گل تک پہنچائیں۔


 
  • Like
Reactions: maria_1

maria_1

Super Star
Jul 7, 2019
5,094
5,421
213
زرتاج گل کیا کرے گی اس کے تو معاملات متنازعہ کی خبریں پھیلی ہوئی ہیں
 
Top
Forgot your password?