سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کوآدابِ فرزندی۔، تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی

intelligent086

TM Star
Nov 10, 2010
3,936
3,916
1,313
Lahore,Pakistan
سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کوآدابِ فرزندی۔،
تحریر : حافظ کریم اللہ چشتی

ارشاد باری تعالیٰ ہے۔سَتَجِدُنِیْ اِنْ شَآئَ اللّٰہُ مِنْ الصبَّرِیْنَ۔’’اللّٰہ نے چاہاتوقریب ہے کہ آپ مجھے صابر کرنے والوں میں سے پائیں گے‘‘

ذوالحجہ اسلامی سال کابارہواں مہینہ ہے اسی مہینہ کی دسویں تاریخ کوحضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی اللہ پاک کی بارگاہ میں پیش کی گئی ۔ذوالحجہ کا مہینہ نہایت ہی عظمت اورمرتبے والامہینہ ہے اس مہینہ کاچاندنظرآتے ہی ہردل میں اس عظیم الشان قربانی کی یادتازہ ہوجاتی ہے جسکی مثال تاریخ انسانی پیش کرنے سے قاصرہے۔



ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذی الحجہ کی پہلی شب کوخواب دیکھاجس سے آپ کوندادی جارہی ہے کہ اے ابراہیم علیہ السلام اپنے رب کی بارگاہ میںقربانی کروجب صبح ہوئی حضرت ابراہیم علیہ السلام بیدارہوئے اوربہت سی بکریاں خداکی راہ میں قربان کیں پھردوسری رات کوبھی یہی خواب دیکھاجس میں آپ علیہ السلام کوحکم مل رہاہے اے خلیل علیہ السلام قربانی کروصبح ہوئی توحضرت ابراہیم علیہ السلام نے بہت سی گائیں اوربکریاں اللہ کی راہ میں قربان کیںجب تیسری رات ہوئی توآپ علیہ السلام نے وہی خواب دیکھاصبح بیدارہوکربہت سے اونٹ خداکی راہ میں قربان کیے آٹھویں ذی الحج تک یہی خواب کاسلسلہ جاری رہاکہ رات کوخواب میں حکم ہوتاکہ قربانی کروہر صبح بیدارہوکرراہ خدامیں جانورقربان کردیتے جب آٹھویں شب میں خواب دیکھااورقربانی کاحکم ہواتوآپ علیہ السّلام نے عرض کی اے میرے پروردگارکیاشے قربان کروںحکم ملاکہ اپنے لخت جگرپیارے فرزندارجمندحضرت اسماعیل علیہ السّلام کی قربانی کرویہ حکم پاکرخلیل علیہ السّلام متفکرہوگئے نویں ذی الحج کوخواب دیکھاکہ آپ علیہ السلام اپنے ہاتھ سے اپنے فرزندکوذبح کررہے ہیں صبح بیدارہوئے اوریقین کرلیاکہ یہ حکم خداوندی ہے جس کی تعمیل ضروری ہے دسویں ذی الحج کی رات کوپھریہی خواب دیکھادسویں ذی الحجہ کی صبح کوآپ علیہ السلام سیدہ ہاجرہ علیہاالسلام کے پاس تشریف لے گئے اورسیدہ ہاجرہ علیہاالسلام کوحکم دیاکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کونہلادھلاکرتیارکروسیدہ ہاجرہ علیہاالسلام نے اپنے بیٹے کونہلادھلاکرخوشبولگائی اورتیارکرکے اپنے والدحضرت ابراہیم علیہاالسلام کے حوالے کردیاحضرت ابراہیم علیہاالسلام نے انکاہاتھ پکڑاباپ بیٹاچھری اوررسی لے کرجبل عرفا ت کی طرف چل پڑے کعبہ شریف سے کچھ دورپہنچے توشیطان لعین نے آپ علیہ السلام کواس عظیم قربانی سے روکناچاہاسب سے پہلے شیطان لعین حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ سیدہ ہاجرہ علیہاالسلام کے پاس آیااورکہنے لگااے ہاجرہ! آپکومعلوم ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ،حضرت اسماعیل علیہ السلام کوذبح کرنے کے لئے لے گئے ہیںسیدہ ہاجرہ علیہاالسلام نے کہایہ کیسے ہوسکتاہے کہ باپ اپنے بیٹے کوذبح کرے؟شیطان بولاحضرت ابراہیم علیہ السلام کواللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ملاہے کہ اپنے بیٹے کی قربانی کر۔سیدہ ہاجرہ علیہاالسلام نے کہااے شخص اگرخداکاحکم اسی طرح ہے تومیں اورمیرابیٹاخداکے حکم پرراضی ہیں۔شیطان جب مایوس ہوکرواپس ہواتوحضرت اسماعیل علیہ السلام کے دل میںوسوسہ ڈالنے لگاقریب جاکرکہاتجھے تیرے والدذبح کرنے کے لئے لے جارہے ہیںحضرت اسماعیل علیہ السلام نے فرمایاکیوں؟شیطان نے کہاوہ سمجھتے ہیں کہ ا للہ تعالیٰ نے انہیں ایساکرنے کا حکم دیاہے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیااگراللہ تعالیٰ میری جان کی قربانی قبول فرمالے تومیرے لئے اس سے بڑھ کرکیاسعادت ہوگی ۔شاعرنے کیاخوب کہا۔

؎جان دی ہوئی اسی کی تھی

حق تویہ ہے کہ حق ادانہ ہوا

شیطان نے ہرممکن کوشش کی کہ حضرت ابراہیم ؑ کسی نہ کسی طرح اس عظیم قربانی سے رک جائیں۔مگراللہ تعالیٰ کے خلیل کے عزم سے بے بس ہوگیا ۔اسکے بعدشیطان نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں وسوسہ ڈالناشروع کیاحضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ پاک کے خلیل تھے فوراََ پہچان گئے کہ یہ کارنامہ شیطان کاہے جواس عظیم قربانی سے روکنے کامشن پوراکررہاہے آپ علیہ السلام نے اسکودھتکارنے کے لئے پتھراٹھاکراسے مارناشروع کیااورفرمایااے شیطان لعین دورہوجامیری نظروں کے سامنے سے اللہ تعالی کویہ ادائے ابراہیمی اتنی پسندآئی کہ قیامت تک حج کرنے والے حاجیوں کے لئے حکم فرمادیاکہ میرے پیارے خلیل علیہ السلام کی سنت کوزندہ رکھنے کے لئے یہاں پرشیطان کوسات کنکرماریں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت اسماعیل علیہ السلام ایک پہاڑکے قریب پہنچے توحضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے کہا۔جوبات آپ علیہ السلام نے کہی اسکی گواہی اللہ پاک کی کتاب قرآن مجیدکاپارہ ۲۳دیتاہے ۔ترجمہ: ـ"اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھاکہ تم کواپنے ہاتھ سے ذبح کررہاہوں اب بتاتیری کیارائے ہے ۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جواب دیااے اباجان!آپکوجوحکم ملاہے وہ پوراکیجیے مجھے آپؑ ان شاء اللہ صبرکرنے والاپائیں گے ۔علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے کیاخوب کہا۔

؎یہ فیضان نظرتھایامکتب کی کرامت تھی

سکھائے کس نے اسماعیل ؑ کوآداب فرزندی

جب باپ بیٹادونوں رضائے الٰہی پرراضی ہوگئے توباپ نے بیٹے کوزمین پرجبین کے بل لٹایاقرآن مجیدمیں ارشادباری تعالیٰ ہے ۔فَلَمَّآ اَسْلَمَآوَتَلَّہُ لِلْجَبِیْن(پارہ ۲۳)جب وہ دونوں تیارہوگئے توباپ نے بیٹے کوپیشانی کے بل لٹادیا"چھری چلانے سے پہلے بیٹے نے کہااباجان میری کچھ وصیتیں ہیں قبول فرمائیں وہ وصیتیں یہ تھیں۔اباجان پہلی وصیت تویہ ہے کہ میرے ہاتھ پائوں رسی سے باندھ دیں تاکہ اگر میں تڑپوںتوآپکے لباس پرخون کاچھینٹانہ پڑے ذبح کرنے سے پہلے چھری کوتیزکرلیناتاکہ یہ فریضہ اداکرنے میں تاخیرنہ ہوجائے۔اپنی آنکھوں پرپٹی باندھ لیناکہیں محبت پدری کی وجہ سے آپ علیہ السلام اس فریضہ سے رہ نہ جائیں۔اورمیراخون آلودہ کُرتامیری والدہ کے پاس پہنچادیجیے تاکہ وہ اس کُرتے کودیکھ کر اپنے دل کوتسلی دے لیاکریں۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حکم خداوندی کوپوراکرتے ہوئے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے نازک حلق پرچھری رکھی توچھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پرکندہوگئی ہے باربارچھری چلائی مگرایساہی ہواحضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھری کوایک پتھرپردے ماراپتھرکوچھری نے دوٹکڑے کردیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چھری سے مخاطب ہوکرفرمایاکیاوجہ ہے کہ اتنے نرم ونازک گلے کوبھی نہیں کاٹتی چھری پکاراٹھی اے اللہ تعالیٰ کے خلیل علیہ السلام جسوقت آپ علیہ السلام کوآگ میں ڈال دیا گیاتھاتوآگ نے آپ علیہ السلام کوکیوں نہ جلایا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایاکہ آگ کواللہ پاک نے حکم دیاتھاکہ وہ نہ جلائے چھری نے عرض کیااے حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ کوتوایک دفعہ حکم ہواکہ نہ جلانامجھے توسترمرتبہ حکم مل چکاہے کہ اسماعیل علیہ السلام کے حلقوم کونہ کاٹناحضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے حلقوم پرچھری چلائی گلے پر چھری چلنے سے پہلے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام جنت سے ایک مینڈھالے آئے اسکونیچے رکھ دیااورحضرت اسماعیل علیہ السلام کواٹھالیامینڈھا ذبح ہوگیاتواللہ تعالیٰ کی طرف سے آوازآئی ۔ترجمہ"بے شک ہم نے پکارااے ابراہیم تونے خواب سچ کردکھایاہم نیکوںکویونہی جزادیتے ہیں بے شک یہ صاف آزمائش ہے ہم نے اسکافدیہ ذبح عظیم کے ساتھ کردیااوراسے بعدوالوں میں باقی رکھا ـ"حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی اللہ تعالیٰ نے قبول فرمالی اور اسے یادگارکے طورپرقیامت تک باقی رکھااب ہرسال اسکی یادکوتازہ کیاجاتاہے۔اللہ رب العزت حضرت ابراہیم وحضرت اسماعیل علیہماالسلام کی اس عظیم قربانی کے صدقے ہم پرکرم فرمائے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شفقت اورغلامی نصیب فرمائے ۔عالمِ اسلام کی خیرفرمائے ۔
 
  • Like
Reactions: maria_1
Top
Forgot your password?